فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1833
1833 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: نا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَاعِيًا فَأَتَى الْعَبَّاسَ فَسَأَلَهُ صَدَقَتَهُ فَأَغْلَظَ لَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَقَالَ: «يَا عُمَرُ إِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ، إِنَّا كُنَّا تَعَجَّلْنَا صَدَقَةَ مَالِهِ» .
حکم بن عتیبہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوۃ کی وصلی پر مقرر کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوۃ کی وصولی پر مقرر کیا ، وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس زکوۃ وصل کرنے کے لیے آئے تو دونوں میں تلخ کلامی ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو انکی شکایت لگائی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمر ! تم نہیں جانتے کہ چچا باپ کی جگہ ہوتا ہے اور ہم نے عباس سے وقت مقررہ سے قبل ایک سال جلدی زکوۃ وصول کی تھی ۔(1)
الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← أَبِي عَوَانَةَ، ← بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْعَزِيزِ، ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1833
