فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1821
1821 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ قَالَ: أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا لَقِيَ قُرَيْشٌ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لَقُوا بِالْبِشَارَةِ، وَإِذَا لَقِينَاهُمْ لَقُونَا بِوُجُوهٍ لَا نَعْرِفُهَا، فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ» ، أَوْ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَسُولِهِ» .
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ قریشی جب آپس میں ملتے ہیں تو بڑی خوشی سے ملتے ہیں تو بڑی خوشی سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو وہ خوش نہیں ہوتے اس پر رسول اللہ ﷺ شدید غصے میں آگئے اور فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میں محمد ﷺ کی جان ہے یا فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کسی بندے کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ آپ سے اللہ اور اس کے رسول کی وجہ سے محبت نہ کرے ۔ (1)
قُلْتُ ← الْعَبَّاسُ: ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قثنا إِسْمَاعِيلُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1821
