سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اپنے رب سے تین چیزوں میں موافقت کی ہے یا میرے رب نے میرے ساتھ تین چیزوں میں موافقت کی ہے ۔ 1۔ میں نے آپﷺ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کاش آپ مقام ابراہیم کو مصلیٰ بناتے ؟ اس پر اللہ نے اس حکم کو نازل فرمایا (واتخذو امن مقام ابراہیم مصلی)۔2۔میں نے عرض کیا یار سول اللہ ﷺ آپ کے پاس نیک و بد ہر طرح کے لوگوں کاآنا جانا لگا رہتا ہے ، کاش امہات المومنین ان سے پردہ میں رہا کریں ۔ اس پر آیت حجاب نازل ہوئی ۔ 3۔مجھے امہات المومنین کے متعلق یہ بات پہنچی کہ ان میں سے کسی پر نبی کریم ﷺ نے سختی کی ہے چنانچہ میں امہات المومنین میں سے ہر ایک کے پاس جا کر انہیں نبی کریم ﷺ کو تکلیف دینے سے روکتا رہا یہاں تک کہ میں نے ان میں کسی زوجہ محترمہ کے پاس آیا ۔ وہ کہنے لگیں کیا اللہ کے نبی ﷺ کی موجودگی میں آپ ہمیں نصیحت کررہے ہیں ؟ کیا نبی کریم ﷺ ہمیں نصیحت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں؟ آپ ہمیں نصحیت کیوں کرتے ہیں ؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازوجاخیر ا منکن ۔(1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 495
عمرو بن شعیب اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رئا ب بن حذیفہ کی شادی ام وائل بنت معمر بن حبیب جہمیہ سے ہوئی تو اس سے ان کے تین لڑکے ہوئے ۔وائل ، معمر اور ایک اور بچہ ، جب و ہ عورت فوت ہو گئی تو انہوں نے بطور ولاء اس کے بچوں کو وراثت میں لے لیا اور ان کے ساتھ سیدنا عمر وبن العاص رضی اللہ عنہ عصبہ تھے ۔ سیدنا عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ انہیں شام لے گئے ۔ وہاں طاعون کی بیماری میں سارے فوت ہو گئے ۔ پس جب سیدنا عمر و رضی اللہ شام سے واپس لوٹے تو بنو معمر یعنی ام وائل کے بھائی اپنی بہن کے موالی کی ولاء کے استحقاق کے بارے میں سیدنا عمر کی عدالت میں جھگڑالے کر آئے ۔ سیدنا عمر نے فرمایا: میں نے نبی کریم ﷺ سے جس طرح سنا تھا اسی طرح فیصلہ کروں گا آپ ﷺ کا ارشاد ہے جس طرح بھی ہو بیٹے سے بچا ہوا مال (ہر صورت میں ) عصبہ کو ملتا ہے سیدنا عمر نے خط لکھا جس میں سیدنا عبد الرحمان بن عوف اور سیدنا بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ایک دوسر ے شخص کی شہادت قلمبند تھی وہ خط عبدا لملک بن مروان کی خلافت کے بعد تک ہمیشہ کے لیے محفوظ رہا ۔ جب اسکا آقا دو ہزار دینار ترکہ چھوڑ کر فوت ہو گیا تب لوگوں کو معلوم ہوا کہ حجاج بن یوسف نے اس فیصلہ میں تبدیلیاں کی ہیں ۔ ان وارثوں نے فیصلہ ہشام بن اسماعیل سے کروانا چاہا تو انہوں نے اس مقدمہ کو عبدالملک بن مروان کے پاس بھیچ دیا پھر پھر قاضی کے پاس پہنچا یا گیا تو اس وقت میں اس خط کو لے آیا جو سیدنا عمر نےلکھا تھا یہ دیکھ کر عبد الملک نے قاضی کو ہدایت کی کہ سیدنا عمر کے فیصلے سے آگے مت جاؤ پھر کہا یہ وہ فیصلہ ہے جس میں کسی کو کوئی شک نہیں رہتا اور نہ مدینہ کے اہل الرائے اس میں کوئی اعتراض کریں گے اس کے بعد پھر اسی فیصلے کے مطابق فیصلہ ہوا کرتا تھا ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 496
زاذان سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی کو دیکھا کہ وہ ہاتھ میں جوتے کا تسمہ لیے بازار میں گھوم رہے تھے جس کا تسمہ ہوتا اسے دے دیتے کسی گمشدہ آدمی کو راستہ دکھا دیتے کسی کا بوجھ اٹھا کر سواری میں لادتے اوریہ آیات تلاوت کرتے (تلک الدار الا خرۃ نجعلھا لا یریدون علوافی الارض ولا فساد اوالعاقبۃ للمتقین) اور ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ یہ آیت بادشاہوں اور صاحب استطاعت لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ (2)
زَاذَانَ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 497
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے ۔ (3)
عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 498
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران سامنے سے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر تشریف لائے ۔ جب آپ ﷺ کی نگاہ ان پر پڑی تو فرمایا علی ! یہ دونوں ماسوائے انبیا اور رسولوں کے تمام جنتی عمر رسیدہ لوگوں کے سردار ہیں ، پھر فرمایا : علی ! انہیں یہ بات نہ بتانا ۔(1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 499
سیدنا ابو واقدالیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : میرے اس منبر کے پائے جنت میں بھی قائم ہوں گے بلا شبہ اللہ نے ایک بندے کو دنیا اور اس نعمتوں یا جو اس کے پاس ہے میں سے ایک اختیاردیا ہے مگراس بندے نے جو چیزاللہ تعالیٰ کے پاس ہے کو اختیار کر لیا ہے ۔ یہ بات سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے سوا لوگوں میں سے کسی کو سمجھ نہ آئی تو انہوں نے روتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم آپ پر اپنے مال و جان اور اولاد کو قربان کر دیں گے اس وقت نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھ پر ابو بکر صدیق جتنا کسی کا احسان نہیں اگر میں اللہ کے علاوہ کسی کو دوست بناتا تو ابو بکر کو ہی بناتا مگر میں نے اپنے اللہ عزوجل کو اپنا بنا لیا ہے۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 500
سیدنا عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جب سیدناعمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو سیدنا جبرائیل ؑ نے آکر نبی کریم ﷺ کو بشارت دی کہ آسمان والے بھی سیدنا عمر کے اسلام لانے پر خوش ہیں ۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 501
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے اتنے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے کپڑوں کو سمیٹتے ہوئے اس حال میں حاضر ہوئے کہ ان کے گھٹنوں کی طرف سے کچھ کپڑا ہٹا ہوا تھا آپ ﷺ نے انکو دیکھ کر فریاما لگتا ہے تمہارے ساتھی کو کسی نے کچھ کہا ہے انہوں نے حاضر ہو کر سلام کیا اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ! میرے اور سیدنا عمر کے درمیان کچھ اختلاف ہوا ہے اور میں نےجلدبازی کا مظاہرہ کیا لیکن اب میں پشمان ہوں میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے معذرت بھی کی ہے ۔ مگر وہ نہ مانے اور اپنے گھر چلے گئے میں ان ہی کی طرف سے آرہا ہوں پھر ان کے سامنے گیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ابو بکر اللہ تجھے معاف کرے دوسری طرف سیدنا عمر سیدنا ابو بکر کے گھر گئے اور پوچھا یہاں ابو بکر ہیں آواز آئی :وہ یہاں نہیں ہیں تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ متغیر ہو گیا تو سیدنا ابو بکر گھبرا گئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو ! اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف معبوث فرمایا ہے مگر تم نے مجھے جھٹلایا اور صرف ابو بکر نے میری تصدیق کی اور مال و جان سے میری مدد کی پس کیا تم میرے ساتھی کو نظر اناز کرتے ہو۔ راوی کہتے ہیں : اس دن کے بعد انہیں کوئی تکلیف نہیں دی گئی ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 502
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک آدمی مقام علیین سے باقی جنتیوں کی طرف جھانکےگا تو اس کے چہرے کی چمک سے جنت روشن ہو جائے گی گویا کہ وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے ۔ (لفظ دری پر ضمہ بلا ہمزہ ہے ) آپ ﷺ نے پھر فرمایا : بلا شبہ ابو بکر اور عمر انہی میں سے ہیں اور دونوں آسودہ حال ہوں گے۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 503
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں اس وقت سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے خوف زدہ رہتی ہوں جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا کہ ایک دن میں نے حلوہ بنایا میرے پاس سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بیٹھی تھیں ۔ میں نے ان سے کہا کھاؤ وہ کہنے لگی : میرا دل نہیں کر رہا میں نہیں کھاتی میں نے کہا : کھاؤ ورنہ میں اسے تمہارے چہرے پر مل دو ں گی تو میں نے انکے چہرے پر مل دیا آپ ﷺ ہم دونوں کے درمیان میں تھے ۔ دیکھ کر مسکرائے پھر میں نے بھی اپنے چہرے پر مل لیا تو آپ ﷺ پھر سے مسکرائے اسی دوران اچانک ہم نے ایک آوازلگانے والے کی آواز سنی میں نے عبداللہ بن عمر ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اب تم دونوں اُٹھو اور اپنے چہرے دھولو عمر آرہا ہے ۔ تو سیدنا عمر نے کہا اسلام علیکم ایھا النبی و رحمۃ اللہ و برکاتہ السلام علیکم ۔ کیا میں آجاؤں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : آجاؤ ،آجاؤ۔(1)
يَحْيَى بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عِيسَى الْمَسْرُوقِيُّ قثنا أَبُو أُسَامَةَ ← علي بن الحسن القطيعي
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 504
سیدنا عمر بن عمر سے روایت ہے کہ میں نےسنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا میں نے وہ پیا یہاں تک کہ اس کی سیرابی میں نے اپنے ناخنوں سے نکلتی ہوئی محسوس کی پھر میں نے بچا ہوا عمر کو دیا صحابہ کرام نے عرض کیا : رسول اللہ ﷺ آپ اس کی کیا تعبیر کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اس کی تعبیر علم ہے ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 505
سیدنا عبدا للہ بن عباس سے روایت ہے کہ عیینہ بن حصن آکر اپنے بھتیجے سیدنا حربن قیس بن حصن رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرے وہ لوگوں کے اس گروہ میں سے تھے جن کوسیدنا عمر اپنے پاس بٹھاتے سیدنا عمر کے ہم مجلس اور شوریٰ کے ارکان قرائے کرام ہوتے تھے جن میں بوڑھے اور نوجوان دونوں شامل تھے ایک دن عینیہ بن حصن نے اپنے بھتیجے سیدنا حربن قیس بن حصن سے کہا میرے لیے خلفیہ اندر آنے کی اجازت لو انہوں نے اجازت لے دی وہ سیدنا عمر کے پاس آکر کہنے لگا ابن خطاب اللہ کی قسم ! آپ ہمیں انعامات سے محروم کر دیتے ہو اور تقسیم بھی انصاف سے نہیں کرتے ؟ سیدنا عمر کو بڑا غصہ آیا قریب تھا کہ انہیں سزا دیتے حربن قیس نے کہا امیر المومنین ! اللہ کا ارشاد ہے (خذالعفو و امر بالمعروف ۔۔۔) یہ شخص بھی ناواقف ہے یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہو ئے اسے کچھ بھی نہ کہا اور آپ احکامات الہیہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے تھے ۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 506