Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 184

184 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرٍّ أَوْ هِرَّةٍ، رَبَطَتْهُ فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهُ، وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهُ فَيَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، ثُمَّ مَاتَ وَشَهِدَ عَلَى ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَلَيْسَ ثَمَّ أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ، وَبَيْنَا رَجُلٌ رَاكِبٌ بَقَرَةً فَالْتَفَتَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ: إِنِّي لَسْتُ لِهَذَا خُلِقْتُ إِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ، وَيَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَلَيْسَ ثَمَّ أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ، وَبَيْنَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ جَاءَ الذِّئْبُ فَأَخَذَ شَاةً مِنْهَا، فَأَدْرَكَهُ الرَّجُلُ فَنَزَعَهَا مِنْهُ، وَالْتَفَتَ إِلَيْهِ الذِّئْبُ فَقَالَ: يَا هَذَا، نَزَعْتَهَا مِنِّي الْيَوْمَ، فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي؟ وَيَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَلَيْسَ ثَمَّ أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ ".

سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ابو القاسم (نبی کریم ﷺ کی کنیت )نے فرمایا : ایک عورت صر اس وجہ سے جہنم میں داخل کی گئی کہ اس نے ایک بلے یا بلی کو باندھے رکھا ، اے کچھ کھانے کے لیے دیا اور نہ ہی اسے آزاد کیا ،البتہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھاتی رہی ،بالاخر مر گئی ، اس پر ابو بکر اور عمر گواہ ہیں حالانکہ وہاں سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر موجود نہیں تھے۔اسی طر ح ایک آدمی بیل پر سوار ہو کر اسے ہانگے ہوئے لے جا رہا تھا جب وہ اس پر سوار ہوا تو ا سےمارا توبیل نے اسے کہا بلا شبہ مجھے بار برداری کے لیے تو پیدا نہیں کیا گیابلکہ مجھے تو کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔ لوگوں نے یہ سن کر تعجب کرتے ہوئے کہا : سبحان الللہ !(بڑی عجیب بات ہے ) کیا بیل بھی کلام کرتا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یقیناََ مین اس پر ایمان رکھتا ہوں ابو بکر اور عمر بھی اس پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ اس محفل میں وہ دونوں (ابو بکر صدیق اور عمر فاروق ) موجود نہیں تھے پھر مزید اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا :ایک چر واہا اپنی بکریوں میں موجود تھا اسی اثنا میں ایک بھڑیااس ے ریوڑ پر حملہ آور ہوا اور اس نے ان میں سے ایک بکری دبوچ لی۔ چرواہے نے بکری کے حصول کے لیے اس کا تعاقب کیا حتی کہ اس سے اپنی بکری چھڑالی ۔بھیڑیے نے اس کو کہا آج تو تم نے مجھ سے بکری چھین لی ۔درندوں کے دن ان کا محافظ کون ہوگا۔اس دن میرے علاوہ ان کا کوئی چروایا نہیں ہو گا؟ لوگوں نےپھر تعجب کرتے ہوئے کہا سبحان اللہ ! بھیڑیا بھی باتیں کرتا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یقیناََ مین اس پر ایمان رکھتا ہوں ابو بکر اور عمر بھی اس پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ اس محفل میں وہ دونوں (ابو بکر صدیق اور عمر فاروق ) موجود نہیں تھے(1)

أَبِيهِ ← أَبِي، قثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ أَبُو سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 184

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 185

185 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، رَجُلٌ مِنْ آلِ رَبِيعَةَ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ حِينَ اسْتُخْلِفَ قَعَدَ فِي بَيْتِهِ حَزِينًا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ، فَأَقْبَلَ عَلَى عُمَرَ يَلُومُهُ قَالَ: أَنْتَ كَلَّفْتَنِي هَذَا، وَشَكَا إِلَيْهِ الْحُكْمَ بَيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَوَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْوَالِيَ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ الْحَقَّ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ الْحَقَّ فَلَهُ أَجْرٌ وَاحِدٌ؟» قَالَ: فَكَأَنَّهُ سَهَّلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ حَدِيثُ عُمَرَ.

آل ربیعہ کے کسی آدمی سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابو بکر صدیق خلیفہ بنے تو اپنے گھرمیں غمگین بیٹھے تھے اسی دوران سیدنا عمر تشریف لائے ،سیدنا عمر کی سرزنش کرتے ہوئے فرمایا : آپ نے مجھے اس کلفت میں ڈالا اور لوگوں کے درمیان فیصل ہونے کا شکوہ کیا۔ سیدنا عمر نے فرمایا کیا آپ نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو حاکم فیصلہ کرے اور حق بات تک پہنچ جائے تو اس کے لیے دہرا اجر ہے اور اگر جو حاکم فیصلہ کرے مگر حق بات تک پہنچنے میں غلطی کرے تو ا کے لیے ایک اجر ہے ، گویا کہ سیدنا ابو بکر کو سیدنا عمر کی باتیں اچھی لگیں ۔(2)

مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، رَجُلٌ مِنْ آلِ رَبِيعَةَ، ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 185

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 186

186 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَقُولُونَ فِي هَؤُلَاءِ الْأَسْرَى؟» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَوْمُكَ وَأَهْلُكَ اسْتَبْقِهِمْ وَاسْتَتِبْهُمْ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا، فَقَالَ: فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَثَلُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: {فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [إبراهيم: 36] ، وَمَثَلُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ عِيسَى قَالَ: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [المائدة: 118] ".

سیدنا عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ جب غزوہ بدر ہو چکا تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟سیدنا ابو بکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ آپ ہی کی قوم اور گھرانے کے لوگ ہیں انہیں چھوڑ دیجیے ۔شاید اللہ انکی طرف متوجہ ہو جائے تو نبی کریم ﷺ نے اس پر کوئی جواب دیئے بغیر اندر چلے گئے پھر رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا : ابو بکر ! تیری مثال ابراہیم جیسی ہے جنہوں نے فرمایا تھا : (جو میری پیروی کرے گا تو وہ مجھ سے ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا تو آپ بڑے بخشنے والے اور مہربان ہیں) اور اے ابو بکر ! تیری مثال عیسیٰ ؑ جیسی ہے کہ جنہوں نے فرمایا تھا (اگر آ پ انہیں سزا دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں اور آپ انہیں معاف کر دیں تو آپ بڑے غالب ،حکمت والے ہیں )۔(1)

لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا الْأَعْمَشُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 186

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 187

187 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، نا مُعَاوِيَةُ، هُوَ ابْنُ عَمْرٍو، قَالَ: نا زَائِدَةُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

سیدنا عبداللہ بن عمر نے اسی کے مثل روایت کو بیان کیا ہے ۔(2)

زَائِدَةُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. ← مُعَاوِيَةُ، هُوَ ابْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي،

Hadith 187

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 188

188 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: نا حُسَيْنٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، يَعْنِي: ابْنَ حَازِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

اعمش سے بھی اسی کے مثل روایت مروی ہے ۔(3)

الْأَعْمَشِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. ← جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ← حُسَيْنٌ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 188

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 189

189 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا حُصَيْنٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَلَا إِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، فَمَنْ قَالَ سِوَى ذَلِكَ بَعْدَ مَقَامِي هَذَا فَهُوَ مُفْتَرٍ، عَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُفْتَرِي.

عبدالرحمن بن ابی لیلی ؑ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب نے خطبہ ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا :خبردار اس امت میں رسول اللہ ﷺ کے بعد افضل ترین شخص سیدنا ابو بکر صدیق ہیں اب جو کوئی میری اس وضاحت کے بعد اس کے علاوہ بات کہے گا ،وہ ان پر جھوٹ باندھنے والا ہے اس پر مفتری والی سزا جار ی ہو گی ۔(4)

سِوَى ذَلِكَ بَعْدَ مَقَامِي هَذَا فَهُوَ مُفْتَرٍ، عَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُفْتَرِي. ← أَلَا إِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ أَبُو بَكْرٍ، فَمَنْ ← خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← حُصَيْنٍ ← أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 189

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 190

190 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَا: نا زَائِدَةُ قَالَ: أنا عَاصِمٌ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَتِ الْأَنْصَارُ: مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَأَتَى عُمَرُ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنَّ يَؤُمَّ النَّاسَ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ؟ قَالَتِ الْأَنْصَارُ: نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ.

سیدنا عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو انصار نے کہا ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر تم (قریش) میں سے ہوگا ۔اتنے میں سیدنا عمر فاروق تشریف لائے اور فرمایا اے انصار کی جماعت ! کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابو بکر صدیق کو لوگوں کی امامت کا حکم دیا تھا ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں ؟ پھر فرمایا : کون تم میں اس خوشی فہمی میں مبتلا ہے کہ وہ سیدنا ابو بکر صدیق سے مقدم ہے ؟ انصار نے جواب دیا ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوبکر سے اپنے آپ کو مقدم کریں ۔ (5)

يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ ← الْأَنْصَارُ: مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَأَتَى عُمَرُ ← لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← زَائِدَۃَ، ← أَبِي، قثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 190

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 191

191 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعَمَّارٌ، وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ، وَصُهَيْبٌ، وَبِلَالٌ، وَالْمِقْدَادُ، فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِقَوْمِهِ، وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمُ الْمُشْرِكُونَ، وَأَلْبَسُوهُمْ أَدْرُعَ الْحَدِيدِ وَصَهَرُوهُمْ فِي الشَّمْسِ، فَمَا مِنْهُمْ إِنْسَانٌ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلَى مَا أَرَادُوا، إِلَّا بِلَالٌ، فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللَّهِ، وَهَانَ عَلَى قَوْمِهِ فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ، فَأَخَذُوا يَطُوفُونَ بِهِ شِعَابَ مَكَّةَ وَهُوَ يَقُولُ أَحَدٌ أَحَدٌ.

زر بن حبیش سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود نے فرمایا : جن سات حضرات نے سب سے پہلےاسلام کا اظہار کیا وہ یہ ہیں ۔رسول اللہﷺ ،سیدنا ابو بکر ، سیدنا عمار ، انکی الدہ سیدہ سمیہ ،صہیب ،بلال اور مقداد رضی اللہ عنہم رہے ۔رسول اللہ ﷺ تو اللہ نے آپ کا چچا ابو طالب کے ذریعہ دفاع کیا اور سیدنا ابو بکر ان کا اللہ تعالی نے انکی قوم کے ذریعے دفاع کیا اور باقی سب کو مشرکین نے لوہے کی زریں پہنا کر سورج کی گرمی میں پھینک دیا ۔ سیدنا بلال کے علاوہ ان میں ہر ایک جہاں آنے کا ارادہ کرتا چلا جاتا ۔ مگر سیدنا بلال نے اپنے نفس کو اللہ کی محبت میں ہیچ کر دیا تھا قوم والوں نے ان کو دو (شرارتی )بچوں کے حوالے کر دیا تھا جو ان کو مکہ کی گلیوں میں گھسیٹتے تھے مگر اس حال میں بھی وہ احد احد (اللہ ایک ہے اللہ ایک ہے ) کی صدا لگارہے ہوتے تھے ۔(1)

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قثنا زَائِدَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 191

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 192

192 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَفَّانُ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يَقُولُ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا مِنْ أُمَّتِي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ» .

سیدنا عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابو بکر کو اپنا خلیل بناتا۔(2)

النَّبِيِّ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا مِنْ أُمَّتِي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ ← كَانَ عَبْدُ اللهِ ← أَبَا الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 192

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 193

193 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، وَلَكِنَّهُ أَخِي وَصَاحِبِي، وَقَدِ اتَّخَذَ اللَّهُ صَاحِبَكُمْ خَلِيلًا» .

سیدنا عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابو بکر کو اپنا خلیل بناتا۔لیکن میں نے ان کو اپنا بھائی اور ساتھی بنا یا ہے کیونکہ بلاشبہ تمہارے صاحب نے اپنے اللہ کو اپنا خلیل بنا لیا ہے ۔ (3)

النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← ابْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← أبي قثنا محمد بن جعفر قثنا شعبة ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 193

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 194

194 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ، وَيَسْأَلُ عَنْهَا، فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: «أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا؟» فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ، فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ وُزِنَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ، فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ، فَاسْتَاءَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «نُبُوَّةٌ ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ» . [ص:185]

سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ س روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اچھے خوابوں سے خوش ہوتے تھے اور اس کے بارے میں دریافت فرماتے ، ایک دن نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کس نے خواب دیکھا؟ ایک آدمی نے عرض کیا میں نے یا رسول اللہ ﷺ میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک میزان اترا اور اس میں آپ ﷺ کا اور سیدنا ابو بکر صدیق کا وزن کیا گیا تو آپ سیدنا ابو بکر سے وزن میں بھاری رہے ۔ پھر سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر وزنی ثابت ہوئے پھر وہ میزان اوپر اٹھا لیا گیا ۔ رسول اللہﷺ اس خواب سے کبیدہ خاطر ہوئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا یہ منھاج نبوت ہے پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا بادشاہی عطا کر ے گا۔(1)

أَبِي بَكْرَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 194

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 195

195 - قثنا عَفَّانُ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

سیدنا ابو بکر نے نبی کریم ﷺ سے اسی کے مثل روایت بیان کی ہے ۔ (2)

النَّبِيِّ نَحْوَهُ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← قثنا عَفَّانُ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ

Hadith 195

Daif

chevron_left Previous
1234…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him