فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 375
375 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بَعْضِ آلِ عُمَرَ، أَوْ عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: لَمَّا أَسْلَمْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، تَذَكَّرْتُ أَيُّ أَهْلِ مَكَّةَ أَشَدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدَاوَةً؟ حَتَّى آتِيَهُ فَأُخْبِرَهُ أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ، قَالَ: قُلْتُ: أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ، وَكَانَ مِنْ أَخْوَالِ أُمِّ عُمَرَ حَنْتَمَةَ بِنْتِ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَأَقْبَلْتُ حِينَ أَصْبَحْتُ حَتَّى ضَرَبْتُ عَلَيْهِ بَابَهُ، فَخَرَجَ إِلَيَّ فَقَالَ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا يَا ابْنَ أُخْتِي، مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: جِئْتُ أُخْبِرُكَ أَنِّي قَدْ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَدَّقْتُهُ بِمَا جَاءَ بِهِ، قَالَ: فَضَرَبَ بِالْبَابِ فِي وَجْهِي وَقَالَ: قَبَّحَكَ اللَّهُ وَقَبَّحَ مَا جِئْتَ بِهِ. فَزَعَمُوا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ فِي إِسْلَامِهِ حِينَ أَسْلَمَ يَذْكُرُ بَدْءَ إِسْلَامِهِ وَمَا كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أُخْتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْخَطَّابِ حِينَ كَانَ أَمْرُهُ وَأَمْرُهَا مَا كَانَ: [البحر البسيط] الْحَمْدُ لِلَّهِ ذِي الْفَضْلِ الَّذِي وَجَبَتْ ... مِنْهُ عَلَيْنَا أَيَادٍ مَا لَهَا غِيَرُ وَقَدْ بَدَأْنَا فَكَذَّبْنَا فَقَالَ لَنَا ... صِدْقَ الْحَدِيثِ نَبِيٌّ عِنْدَهُ الْخَبَرُ وَقَدْ ظَلَمْتُ ابْنَةَ الْخَطَّابِ ثُمَّ هَدَى ... رَبِّي عَشِيَّةَ قَالُوا: قَدْ صَبَا عُمَرُ وَقَدْ نَدِمْتُ عَلَى مَا كَانَ مِنْ زَلَلِي ... وَظُلْمِهَا حِينَ تُتْلَى عِنْدَهَا السُّوَرُ لَمَّا دَعَتْ رَبَّهَا ذَا الْعَرْشِ جَاهِدَةً ... وَالدَّمْعُ مِنْ عَيْنِهَا عَجْلَانُ يَنْحَدِرُ أَيْقَنْتُ أَنَّ الَّذِي تَدْعُو لَخَالِقُهَا ... وَكَادَ يَسْبِقُنِي مِنْ عَبْرَةٍ دَرَرُ فَقُلْتُ أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ خَالِقُنَا ... وَأَنَّ أَحْمَدَ فِينَا الْيَوْمَ مُشْتَهِرُ نَبِيُّ صِدْقٍ أَتَى بِالصِّدْقِ مِنْ ثِقَةٍ ... وَافَى الْأَمَانَةَ مَا فِي عُودِهِ خَوَرُ مِنْ هَاشِمٍ فِي الذُّرَى وَالْأَنْفِ حَيْثُ رَبَتْ ... مِنْهَا الذَّوَائِبُ وَالْأَسْمَاعُ وَالْبَصَرُ وَحَيْثُ يَلْجَأُ ذُو خَوْفٍ وَمُفْتَقِرُ ... وَحَيْثُ يَسْمُو إِذَا مَا فَاخَرَتْ مُضَرُ يَتْلُو مِنَ اللَّهِ آيَاتٍ مُنَزَّلَةً ... يَظَلُّ يَسْجُدُ مِنْهَا النَّجْمُ وَالشَّجَرُ بِهِ هَدَى اللَّهُ قَوْمًا مِنْ ضَلَالَتِهِمْ ... وَقَدْ أُعِدَّتْ لَهُمْ إِذْ أُبْلِسُوا سَقَرُ
عبد الرحمن بن حارث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آل یا آ پ کے اہل خانہ میں کسی سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عمر نے فرمایا جس رات میں مسلمان ہوا تو میں نے سوچا کہ اہل مکہ میں نبی کریم ﷺ کا سب سے بڑا دشمن کون ہے ؟ تاکہ میں اس کو بتادوں کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں پھر میں نے کہا : ابو جہل ہی سب سے بڑا دشمن ہے ۔ جو کہ سیدنا عمر کی والدہ حنتمہ بنت ہشام بن مغیرہ کا ماموں لگتا تھا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں صبح سویرے اس کے پاس گیا ۔ دروازے کو زور سے دستک دی ابو جہل باہر آیا اس نے مجھے خو ش آمدید کہا اور پوچھا : بھانجے ! کیسے آنا ہوا؟ میں نے کہا میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایما ن لے آیا ہوں ۔ یہ سن کر ابو جہل نے میرے منہ پر دروازہ دے مارا اور کہا : اللہ تجھے برباد کرے اور تم گھٹیا چیز اپنے ساتھ لائے ہو ۔ لوگوں نے گمان کیا یہ سیدنا عمر کے قبول اسلام کاابتدائی واقع ہے ، جب انہوں نے سلام قبول کیا تھا جو ان کے او انکی بہن فاطمۃ بنت خطاب کے درمیان پیش آیا تھا اور پھر سیدنا عمر نے یہ اشعار پڑھے : حمد ہے اس اللہ کے لیے جو صاحب فضل اور جس کی نعمتیں ہم پر واجب ہیں ، ان کا کوئی بدل نہیں ۔ اس نے ہمیں پیدا کیا ، مگر ہم نے اسے جھٹلایا اس نے ہمیں سچ بات بتائی اور نبی کریم ﷺ کے پاس اس کی خبر ہے یقینا میں نے خطاب کی بیٹی پر ظلم کیا۔ پس اسی رات مجھے اللہ نے ہدایت بخشی تو لوگ کہنے لگے : عمر صابی ہو گیا ہے ۔ میں اپنے اس کے ظلم پر یشمیان ہوں کہ جب ان کے پاس قرآن کی سورتیں پڑھی جاتی تھیں وہ اپنے عرش والے رب کو بڑی لگن سے پکاررہی تھی آنسوں انکی آنکھوں سے تیزی سے بہہ رہے تھے۔ مجھے یقین ہو گیا کہ وہ اپنے عرش والے رب کو پکار رہی ہیں ۔ قریب تھا کہ اس کے موتیوں جیسے آنسو مجھ سے سبقت لے جاتے میں نے گواہی دی کہ اللہ ہمارا خالق ہے آج نبی کریم ﷺ کا اسم مبارک ہماری زبانوں پر زد عام ہے وہ سچے نبی ہیں سچائی لے کر آئے ہیں اور امانت دار ہیں جن کے حسب و نسب میں کوئی کمزوری نہیں ہے ۔ ان کا تعلق بنو ہاشم سے ہے اور وہ اونچے ہیں جہاں سے انکے کانوں اور آنکھوں نے تربیت پائی ہے وہ قبیلہ غریب اورڈرے ہوئے انسان کو پناہ میں لیتا ہے وہ مضر قبیلہ سے تقاخر میں بھی آگے ہیں ۔ وہ اللہ کی نازل کردہ آیتوں کو پرھتے ہیں جس کو سن کر ستارے اور درخت بھی سجدے میں گر جاتے ہیں ان ہی کی وجہ سے اللہ نے گمراہ قوموں کو ہدایت دی اور نہ ماننے والوں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے ۔ (1)
بعض أَهله ← بَعْضِ آلِ عُمَرَ، أَوْ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ،
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 375
