Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 375

375 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بَعْضِ آلِ عُمَرَ، أَوْ عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: لَمَّا أَسْلَمْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، تَذَكَّرْتُ أَيُّ أَهْلِ مَكَّةَ أَشَدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدَاوَةً؟ حَتَّى آتِيَهُ فَأُخْبِرَهُ أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ، قَالَ: قُلْتُ: أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ، وَكَانَ مِنْ أَخْوَالِ أُمِّ عُمَرَ حَنْتَمَةَ بِنْتِ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَأَقْبَلْتُ حِينَ أَصْبَحْتُ حَتَّى ضَرَبْتُ عَلَيْهِ بَابَهُ، فَخَرَجَ إِلَيَّ فَقَالَ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا يَا ابْنَ أُخْتِي، مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: جِئْتُ أُخْبِرُكَ أَنِّي قَدْ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَدَّقْتُهُ بِمَا جَاءَ بِهِ، قَالَ: فَضَرَبَ بِالْبَابِ فِي وَجْهِي وَقَالَ: قَبَّحَكَ اللَّهُ وَقَبَّحَ مَا جِئْتَ بِهِ. فَزَعَمُوا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ فِي إِسْلَامِهِ حِينَ أَسْلَمَ يَذْكُرُ بَدْءَ إِسْلَامِهِ وَمَا كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أُخْتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْخَطَّابِ حِينَ كَانَ أَمْرُهُ وَأَمْرُهَا مَا كَانَ: [البحر البسيط] الْحَمْدُ لِلَّهِ ذِي الْفَضْلِ الَّذِي وَجَبَتْ ... مِنْهُ عَلَيْنَا أَيَادٍ مَا لَهَا غِيَرُ وَقَدْ بَدَأْنَا فَكَذَّبْنَا فَقَالَ لَنَا ... صِدْقَ الْحَدِيثِ نَبِيٌّ عِنْدَهُ الْخَبَرُ وَقَدْ ظَلَمْتُ ابْنَةَ الْخَطَّابِ ثُمَّ هَدَى ... رَبِّي عَشِيَّةَ قَالُوا: قَدْ صَبَا عُمَرُ وَقَدْ نَدِمْتُ عَلَى مَا كَانَ مِنْ زَلَلِي ... وَظُلْمِهَا حِينَ تُتْلَى عِنْدَهَا السُّوَرُ لَمَّا دَعَتْ رَبَّهَا ذَا الْعَرْشِ جَاهِدَةً ... وَالدَّمْعُ مِنْ عَيْنِهَا عَجْلَانُ يَنْحَدِرُ أَيْقَنْتُ أَنَّ الَّذِي تَدْعُو لَخَالِقُهَا ... وَكَادَ يَسْبِقُنِي مِنْ عَبْرَةٍ دَرَرُ فَقُلْتُ أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ خَالِقُنَا ... وَأَنَّ أَحْمَدَ فِينَا الْيَوْمَ مُشْتَهِرُ نَبِيُّ صِدْقٍ أَتَى بِالصِّدْقِ مِنْ ثِقَةٍ ... وَافَى الْأَمَانَةَ مَا فِي عُودِهِ خَوَرُ مِنْ هَاشِمٍ فِي الذُّرَى وَالْأَنْفِ حَيْثُ رَبَتْ ... مِنْهَا الذَّوَائِبُ وَالْأَسْمَاعُ وَالْبَصَرُ وَحَيْثُ يَلْجَأُ ذُو خَوْفٍ وَمُفْتَقِرُ ... وَحَيْثُ يَسْمُو إِذَا مَا فَاخَرَتْ مُضَرُ يَتْلُو مِنَ اللَّهِ آيَاتٍ مُنَزَّلَةً ... يَظَلُّ يَسْجُدُ مِنْهَا النَّجْمُ وَالشَّجَرُ بِهِ هَدَى اللَّهُ قَوْمًا مِنْ ضَلَالَتِهِمْ ... وَقَدْ أُعِدَّتْ لَهُمْ إِذْ أُبْلِسُوا سَقَرُ

عبد الرحمن بن حارث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آل یا آ پ کے اہل خانہ میں کسی سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عمر نے فرمایا جس رات میں مسلمان ہوا تو میں نے سوچا کہ اہل مکہ میں نبی کریم ﷺ کا سب سے بڑا دشمن کون ہے ؟ تاکہ میں اس کو بتادوں کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں پھر میں نے کہا : ابو جہل ہی سب سے بڑا دشمن ہے ۔ جو کہ سیدنا عمر کی والدہ حنتمہ بنت ہشام بن مغیرہ کا ماموں لگتا تھا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں صبح سویرے اس کے پاس گیا ۔ دروازے کو زور سے دستک دی ابو جہل باہر آیا اس نے مجھے خو ش آمدید کہا اور پوچھا : بھانجے ! کیسے آنا ہوا؟ میں نے کہا میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایما ن لے آیا ہوں ۔ یہ سن کر ابو جہل نے میرے منہ پر دروازہ دے مارا اور کہا : اللہ تجھے برباد کرے اور تم گھٹیا چیز اپنے ساتھ لائے ہو ۔ لوگوں نے گمان کیا یہ سیدنا عمر کے قبول اسلام کاابتدائی واقع ہے ، جب انہوں نے سلام قبول کیا تھا جو ان کے او انکی بہن فاطمۃ بنت خطاب کے درمیان پیش آیا تھا اور پھر سیدنا عمر نے یہ اشعار پڑھے : حمد ہے اس اللہ کے لیے جو صاحب فضل اور جس کی نعمتیں ہم پر واجب ہیں ، ان کا کوئی بدل نہیں ۔ اس نے ہمیں پیدا کیا ، مگر ہم نے اسے جھٹلایا اس نے ہمیں سچ بات بتائی اور نبی کریم ﷺ کے پاس اس کی خبر ہے یقینا میں نے خطاب کی بیٹی پر ظلم کیا۔ پس اسی رات مجھے اللہ نے ہدایت بخشی تو لوگ کہنے لگے : عمر صابی ہو گیا ہے ۔ میں اپنے اس کے ظلم پر یشمیان ہوں کہ جب ان کے پاس قرآن کی سورتیں پڑھی جاتی تھیں وہ اپنے عرش والے رب کو بڑی لگن سے پکاررہی تھی آنسوں انکی آنکھوں سے تیزی سے بہہ رہے تھے۔ مجھے یقین ہو گیا کہ وہ اپنے عرش والے رب کو پکار رہی ہیں ۔ قریب تھا کہ اس کے موتیوں جیسے آنسو مجھ سے سبقت لے جاتے میں نے گواہی دی کہ اللہ ہمارا خالق ہے آج نبی کریم ﷺ کا اسم مبارک ہماری زبانوں پر زد عام ہے وہ سچے نبی ہیں سچائی لے کر آئے ہیں اور امانت دار ہیں جن کے حسب و نسب میں کوئی کمزوری نہیں ہے ۔ ان کا تعلق بنو ہاشم سے ہے اور وہ اونچے ہیں جہاں سے انکے کانوں اور آنکھوں نے تربیت پائی ہے وہ قبیلہ غریب اورڈرے ہوئے انسان کو پناہ میں لیتا ہے وہ مضر قبیلہ سے تقاخر میں بھی آگے ہیں ۔ وہ اللہ کی نازل کردہ آیتوں کو پرھتے ہیں جس کو سن کر ستارے اور درخت بھی سجدے میں گر جاتے ہیں ان ہی کی وجہ سے اللہ نے گمراہ قوموں کو ہدایت دی اور نہ ماننے والوں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے ۔ (1)

بعض أَهله ← بَعْضِ آلِ عُمَرَ، أَوْ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 375

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 376

376 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفِ بْنِ سُفْيَانَ الطَّائِيُّ الْحِمْصِيُّ [ص:286] قثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ قَالَ: ذَكَرَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، يَعْنِي ابْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَسْلَمَ قَالَ: قَالَ لَنَا عُمَرُ: أَتُحِبُّونَ أَنْ أُعْلِمَكُمْ بُدُوَّ إِسْلَامِي؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: كُنْتُ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا أَنَا فِي يَوْمٍ حَارٍّ فِي بَعْضِ طُرُقِ مَكَّةَ إِذْ لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ: أَيْنَ تَذْهَبُ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ قَالَ: قُلْتُ: أُرِيدُ هَذَا الَّذِي الَّذِي الَّذِي، قَالَ: عَجَبًا لَكَ تَزْعُمُ أَنَّكَ هَكَذَا، وَقَدْ دَخَلَ عَلَيْكَ هَذَا الْأَمْرُ بَيْتَكَ، قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: أُخْتُكَ قَدْ صَبَتْ، قَالَ: فَرَجَعْتُ مُغْضَبًا، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ الرَّجُلَ وَالرِّجْلَيْنِ إِذَا أَسْلَمَا عِنْدَ الرَّجُلِ بِهِ قُوَّةٌ يُصِيبَانِ مِنْ طَعَامِهِ، قَالَ: وَقَدْ كَانَ ضَمَّ إِلَى زَوْجِ أُخْتِي رَجُلَيْنِ، فَجِئْتُ حَتَّى قَرَعْتُ الْبَابَ، قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: ابْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: وَكَانُوا يَقْرَءُونَ صَحِيفَةً مَعَهُمْ، فَلَمَّا [ص:287] سَمِعُوا صَوْتِي اخْتَفَوْا وَنَسُوا الصَّحِيفَةَ، فَقَامَتِ الْمَرْأَةُ فَفَتَحَتْ لِي، فَقُلْتُ: يَا عَدُوَّةَ نَفْسِهَا، قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكِ صَبَوْتِ، وَأَرْفَعُ شَيْئًا فِي يَدِي فَأَضْرِبَهَا، فَسَالَ الدَّمُ، فَلَمَّا رَأَتِ الدَّمَ بَكَتْ وَقَالَتْ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، مَا كُنْتَ فَاعِلًا فَافْعَلْ، فَقَدْ أَسْلَمْتُ، قَالَ: فَجَلَسْتُ عَلَى السَّرِيرِ فَنَظَرْتُ، فَإِذَا بِكِتَابٍ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ أَعْطِيَنِيهِ، قَالَتْ: لَسْتَ مِنْ أَهْلِهِ، إِنَّكَ لَا تَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَلَا تَطْهُرُ، وَهَذَا لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ، فَلَمْ أَزَلْ بِهَا حَتَّى أَعْطَتَنِيهِ، فَإِذَا فِيهِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فَلَمَّا مَرَرْتُ بِالرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ذُعِرْتُ وَرَمَيْتُ بِالصَّحِيفَةِ، ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا فِيهِ: {سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} ، كُلَّمَا مَرَرْتُ بِاسْمٍ مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ ذُعِرْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى نَفْسِي، حَتَّى بَلَغْتُ {آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ فِيهِ} [الحديد: 7] إِلَى قَوْلِهِ: {إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ} [البقرة: 91] ، فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَخَرَجَ الْقَوْمُ يَتَنَادَوْنَ بِالتَّكْبِيرِ اسْتِبْشَارًا بِمَا سَمِعُوا مِنِّي، وَحَمِدُوا اللَّهَ، وَقَالُوا: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، أَبْشِرْ، فَلَمَّا أَنْ عَرَفُوا مِنِّي الصِّدْقَ قُلْتُ لَهُمْ: أَخْبِرُونِي بِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ، قَالُوا: هُوَ فِي بَيْتٍ فِي أَسْفَلِ الصَّفَا، فَخَرَجْتُ حَتَّى قَرَعْتُ الْبَابَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: ابْنُ الْخَطَّابِ، وَقَدْ عَرَفُوا شِدَّتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، وَلَمْ يَعْلَمُوا إِسْلَامِي، قَالَ: فَمَا اجْتَرَأَ أَحَدٌ مِنْهُمْ بِفَتْحِ الْبَابِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَحُوا لَهُ، فَإِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يَهْدِهِ» ، قَالَ: فَفَتَحُوا لِي، وَأَخَذَ رَجُلٌ بِعَضُدِي، حَتَّى دَنَوْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَرْسِلُوهُ» ، فَأَرْسَلُونِي فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَخَذَ بِمَجْمَعِ قَمِيصِي فَجَبَذَنِي إِلَيْهِ وَقَالَ: «أَسْلِمْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، اللَّهُمَّ اهْدِهِ» ، قَالَ: قُلْتُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، فَكَبَّرَ الْمُسْلِمُونَ تَكْبِيرَةً سُمِعَتْ بِطُرُقِ مَكَّةَ، وَقَدْ كَانَ اسْتَخْفَى، وَكُنْتُ لَا أَشَاءُ أَنْ أَرَى رَجُلًا إِذَا أَسْلَمَ يُضْرَبُ إِلَّا رَأَيْتُهُ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ قُلْتُ: مَا أُحِبُّ إِلَّا أَنْ يُصِيبَنِي مِمَّا يُصِيبُ الْمُسْلِمِينَ، فَذَهَبْتُ إِلَى خَالِي، وَكَانَ شَرِيفًا فِيهِمْ، فَقَرَعْتُ عَلَيْهِ الْبَابَ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: ابْنُ الْخَطَّابِ، فَخَرَجَ، فَقُلْتُ: أَشَعَرْتَ أَنِّي قَدْ صَبَوْتُ؟ قَالَ: لَا تَفْعَلْ، قُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: لَا تَفْعَلْ، وَأَجَافَ الْبَابَ دُونِي، قُلْتُ: مَا هَذَا بِشَيْءٍ، فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ [ص:288] رَجُلًا مِنْ عُظَمَاءِ قُرَيْشٍ، فَقَرَعْتُ الْبَابَ، فَخَرَجَ، فَقُلْتُ: أَشَعَرْتَ أَنِّي قَدْ صَبَوْتُ؟ قَالَ: لَا تَفْعَلْ، قُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ، فَدَخَلَ فَأَجَابَ الْبَابَ، قَالَ: فَانْصَرَفْتُ، فَقَالَ لِي رَجُلٌ: أَتُحِبُّ أَنْ يُعْلَمَ بِإِسْلَامِكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِذَا جَلَسَ النَّاسُ فِي الْحِجْرِ فَائْتِ فُلَانًا، رَجُلًا لَمْ يَكُنْ يَكْتُمُ السِّرَّ، فَأَصْغِ إِلَيْهِ وَقُلْ لَهُ فِيمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ: إِنِّي قَدْ صَبَوْتُ، فَإِنَّهُ سَوْفَ يَظْهَرُ عَلَيْكَ وَيَصِيحُ وَيُعْلِنُهُ، قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعَ النَّاسُ فِي الْحِجْرِ جِئْتُ إِلَى الرَّجُلِ فَدَنَوْتُ فَأَصْغَيْتُ إِلَيْهِ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ: إِنِّي قَدْ صَبَوْتُ، فَقَالَ: قَدْ صَبَوْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَرَفَعَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ وَقَالَ: أَلَا إِنَّ ابْنَ الْخَطَّابِ قَدْ صَبَا، فَثَابَ إِلَيَّ النَّاسُ فَضَرَبُونِي وَضَرَبْتُهُمْ، قَالَ: فَقَالَ خَالِي: مَا هَذَا؟ فَقِيلَ: ابْنُ الْخَطَّابِ، فَقَامَ عَلَى الْحِجْرِ فَأَشَارَ بِكُمِّهِ: أَلَا إِنِّي قَدْ أَجَرْتُ ابْنَ أُخْتِي، فَانْكَشَفَ النَّاسُ عَنِّي، وَكُنْتُ لَا أَشَاءُ أَنْ أَرَى أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُضْرَبُ إِلَّا رَأَيْتُهُ، وَأَنَا لَا أُضْرَبُ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا بِشَيْءٍ حَتَّى يُصِيبَنِي مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمْهَلْتُ حَتَّى إِذَا جُلِسَ فِي الْحِجْرِ، دَخَلْتُ إِلَى خَالِي قُلْتُ: اسْمَعْ، قَالَ: مَا أَسْمَعُ؟ قُلْتُ: جِوَارُكَ عَلَيْكَ رَدٌّ، فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ يَا ابْنَ أُخْتِي، قُلْتُ: بَلَى هُوَ ذَاكَ، قَالَ: مَا شِئْتَ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَضْرِبُ وَأُضْرَبُ حَتَّى أَعَزَّ اللَّهُ الْإِسْلَامَ.

زید بن اسلم ؑ اپنے باپ سے اور دادا سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نےہم سے فرمایا : کیا آپ کو پسند ہے کہ میں اپنے اسلام لانے کا قصہ سناؤں ؟ ہم نے کہا : ہاں ۔ تو فرمانے لگے : میں مسلمان کا سب سے بڑا دشمن تھا میں ایک گرم دن مکہ میں کسی راستے سے گزر رہا تھا جب ایک قریشی شخص مجھے ملا اور پوچھا : ابن خطاب ! کہاں جانے کاارادہ ہے ؟ میں نےکہا فلاں فلاں ارادے سے جا رہا ہوں (یعنی نبی کریم ﷺ کو نعوذ باللہ قتل کرنے جا رہا ہوں) اس نے کہا تعجب ہے تم یہ کرنے جا رہے ہو حالانکہ اسلام تمہارے گھر میں داخل ہو چکا ہے ۔میں نےکہا وہ کیسے کہنے لگا تمہاری بہن صابی (مسلمان ) ہو گئی ہے میں نے بڑے غصہ کی حالت میں اس کی طرف رخ کیا ان دونوں جب ایک دو آدمی مسلمان ہوتے تو انکو نبی کریم ﷺ کسی ایسے آدمی کےپاس ٹھہراتے جس کےپاس انہیں کھانا کھلانے کی طاقت ہو، لہذا میرے بہنوئی کے ساتھ بھی دو آدمی منسلک تھے چنانچہ میں گھر آیا دروازہ کھٹکھٹایا تو آواز آئی کون ؟ میں نے کہا میں عمر ۔وہ لو گ آپس میں مل کر قرآن پڑھ رہے تھے ۔جب انہوں نے میری آواز سنی تو چپ ہو گئے ۔ میری بہن نے دروازہ کھولا میں پوچھا اے اپنی جان کی دشمن مجھے خبر ملی ہے کہ تم مسلمان ہو گئی ہو ؟ یہ کہہ کر میں نے اسے مارنا شروع کیا تو اس کا خون بہنے لگا جب اس نے خون دیکھا تو رونے لگیں اور کہا : ابن خطاب جو تم کر سکتے ہو کرلو۔ میں تو مسلمان ہو گئی ہوں ۔ پس میں چارپائی پر بیٹھ گیا اور اس صحیفہ پر میری نظر پڑی میں نے بہن سے کہا یہ مجھے دو کہنے لگیں تم اسکو پکڑنے کے لائق نہیں ہو ۔ کیونکہ تم ناپاک ہو اس کو پاک لوگ ہی چھوتے ہیں میرے بار بار کہنے پر اس نے مجھے دے دیا جب میں نے پڑھنا شروع کیا تو اس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی تھی ، جب میں نے الرحمن الرحیم پڑھا تو میں خوف زدہ ہو ا اور صحیفہ کو پھینک دیا پھر میں نے اٹھا یا تو اس میں (سبع للہ مافی السماوات والارض دھو العزیز الحکیم سورۃ الحدید :1)لکھا تھا جب بھی اس میں اللہ کا نام پرھتا خوف زدہ ہو جاتا ۔ یہاں تک میں نے یہ آیت پڑھی (امنو باللہ ورسولہ وانفقو امما جعلکم مستخلفین فیہ۔۔۔۔۔۔ان کنتم مومنین ) تو میں نے کلمہ اشھدان لا الہ الااللہ وان محمد رسول اللہ پڑھا۔ یہ سن کر سب نے اللہ اکبر کہا بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے: اب خطاب تمہیں مبارک ہو جب انہیں میرے اسلام کا مکمل یقین آگیا تو میں نے کہا رسول اللہ ﷺ کہاں ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا کہ صفا پہاڑ کے دامن میں کسی گھر میں ہیں ۔ میں سیدھا وہاں گیا اور دروازہ کھٹکھٹایا اندر سے آواز آئی کون ؟ میں نے کہا عمر بن خطاب ان کو میرے سخت رویے کا پتہ تھا تو کسی نے بھی دروازہ کھولنے کی جرات نہ کی ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دروازہ کھولو اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمانا چاہیں اسے ہدایت عطا فرما دیتا ہے جب دروازہ کھولا گیا تو ایک شخص نے مجھے بازو سے پکڑا اور آپ کے قریب لے گیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے میری طرف آنے دو اب میں نبی کریم ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا تو نبی کریم ﷺ نےمجھے گریباں سے پکڑا اور اپنی طرف کھینچ کر فرمایا : اے ابن خطاب مسلمان ہو جاؤ۔ اے اللہ ! اسے ہدایت دے میں نے کلمہ پڑھا(اشھدان لا الہ الا اللہ وانک رسول اللہ ) میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے (سچے)رسول ہیں یہ سن کر تمام مسلمان نے اتنی اونچی آواز میں نعرہ تکبیر بلند کیا کہ اس کی گونج مکہ کی گلیوں میں سنی گئی۔ اس سے پہلے کسی مسلمان کو مار پڑتی تو میں تماشہ دیکھتا میں نے کہا مجھے بھی اتنی تکلیف پہنچنی چاہیے جتنی دوسروں کو پہنچتی تھی ۔میں اپنے ماموں (ابو جہل ) کے گھرگیا جو کہ سردار تھا دروازے کو دستک دی آواز آئی کون ؟میں نے کہا عمر جب وہ باہر آئے تو میں نےکہا میں مسلمان ہو گیا ہوںتو اس نے غصہ سے دروازہ بند کر دیا۔ میں نےکہا یہ تو کچھ بھی نہیں (یعنی یہ تو کوئی میرے لیے بڑی تکلیف نہیں ہے ) میں وہاں سے نکلا ایک اور قریبی سردار کے گھر آیا اس سے بھی چل پڑا یک آدمی نے مجھ سے کہا : کیا تم اپنے اسلام کا اعلان کرنا چاہتے ہو میں نے کہا ہاں ! اس نےکہا جب لوگ مجلسوں میں جمع ہو جائیں گے تم فلاح (معمر بن جمیل ) آدمی کے پاس جاؤ اس کو بتا دو وہ فورا اعلان کر دے گا۔ سب کو خبر دے گا کیونکہ وہ راز کی بات چھپا نہیں سکتا پس جب لوگ مجلسوں میں جمع ہو ئے اور میں نےجا کر اس آدمی کو بتایا کہ میں مسلمان ہو گیاہوں اس نے فورا چیخنا شروع کر دیا کہ عمر صابی ہو گیا ہے ۔ یہ سنتے ہی لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑے اور مارنا شروع کر دیا میں نے بھی ان کو مارنا شروع کر دیا اس وقت میرے ماموں نے میری ذمہ داری قبول کی تو لوگوں نے مجھے چھوڑ دیا مجھے یہ پسند نہیں تھا کیونکہ جب بھی کسی مسلمان کی پٹائی ہوتی تو میں تماشہ دیکھا کرتا تھا ۔ اب میرے ساتھ بھی وہ کچھ ہونا چاہیے تھا جودوسرے مسلمان کے ساتھ ہوتا۔ کچھ دیر بعد میں نے ماموں سے کہا : اپنی ذمہ داری مجھ سے اٹھا لو انہوں نے کہا : اے میرے بھانجے ایسا من کرو میں نے کہا : نہیں اٹھا لو ختم کرو ۔ اس نےکہا جیسے تم کہتے ہو پس میرا مسلسل لوگوں سے مارنا پیٹنا رہا یہاں تک اللہ نے اسلام کو قوت بخشی ،(1)

لَنَا عُمَرُ: أَتُحِبُّونَ ← جَدِّهِ أَسْلَمَ ← أَبِيهِ ← ذَكَرَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، يَعْنِي ابْنُ أَسْلَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفِ بْنِ سُفْيَانَ الطَّائِيُّ الْحِمْصِيُّ قثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 376

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 377

377 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ أَبُو عَلِيٍّ قثنا أَبُو يَعْقُوبَ الْحُنَيْنِيُّ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، يَعْنِي: ابْنَ أَسْلَمَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ لَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَتُحِبُّونَ أَنْ أُعْلِمَكُمْ أَوَّلَ إِسْلَامِي؟ قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: كُنْتُ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فِي الْهَاجِرَةِ فِي بَعْضِ طُرُقِ مَكَّةَ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، قَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ قُلْتُ: أُرِيدُ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي الَّذِي، فَقَالَ: عَجَبٌ لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ إِلَى آخِرِهِ

زید بن اسلم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم سے سیدنا عمر فاروق نے فرمایا : کیا تم میرے قبول اسلام کا قصہ سننا پسند کروگے ؟ ہم نے کہا کیوں نہیں ،جی سنائیں فرمانے لگے میں نبی کریم ﷺ کا سب سے بڑا دشمن تھا ایک دن میں شدید گرمی کے وقت مکہ کی کسی گلی سے گزر رہا تھا اچانک ایک آدمی نے مجھ سے کہا اے عمر کہاں کا ارادہ ہے ۔ میں نے کہا مجھے اس فلاں (یعنی سیدنا محمد ﷺ) انسان سے کام ہے ۔ اس شخص نے کہا اے عمر بن خطاب ! تعجب ہے تجھ پر پھر اس کے بعد طویل حدیث آخر تک سنائی ۔ (2)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 377

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 378

378 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ قثنا عَبْدُ اللَّهِ، يَعْنِي: ابْنَ الْمُبَارَكِ، قثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَقُولُ: أَصَابَ النَّاسُ فَتْحًا بِالشَّامِ، فِيهِمْ بِلَالٌ، وَأَظُنُّهُ ذَكَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَكَتَبُوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنَّ هَذَا الْفَيْءَ الَّذِي أَصَبْنَا لَكَ خُمُسُهُ، وَلَنَا مَا بَقِيَ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهِ شَيْءٌ، كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُنَيْنٍ، فَكَتَبَ عُمَرُ: إِنَّهُ لَيْسَ عَلَى مَا قُلْتُمْ، وَلَكِنِّي أَقِفُهَا لِلْمُسْلِمِينَ، فَرَاجَعُوهُ الْكِتَابَ، وَرَاجَعَهُمْ، يَأْبَوْنَ وَيَأْبَى، فَلَمَّا أَبَوْا قَامَ عُمَرُ فَدَعَا عَلَيْهِمْ فَقَالَ: اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِلَالًا وَأَصْحَابَ بِلَالٍ، فَمَا حَالَ الْحَوْلُ عَلَيْهِمْ حَتَّى مَاتُوا جَمِيعًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.

نافع ؑ سے روایت ہے کہ لوگ شام میں فتح یاب ہوئے ان میں سیدنا بلال بھی تھے ۔ میرا خیال ہے کہ سیدنا معاذبن جبل بھی تھے انہوں نے سیدنا عمر کو لکھ بھیجا کہ اس مال غنیمت میں سے آپ کو پانچوا ں حصہ ملے گا باقی سب ہمارے حصہ میں آئے گا۔ اور کسی انسان کا اس میں حق نہیں ہے جس طرح نبی کریم ﷺ نے جنگ حنین کے موقع پر تقسیم کیا تھا ۔سیدنا عمر نے فرمایا آپ لوگوں کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ یہ مال سب مسلمانوں کا ہے دونوں گروہوں کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ جاری ہوا جب انکا انکار شدت اختیار کر گیا تو عمر نے دعا فرمائی ! اے اللہ مجھے بلال اور اس کے ساتھیوں سے نجات دے آئندہ سال ابھی نہیں آیا تھا کہ وہ سب فوت ہو گئے ۔ (رضی اللہ عنہم )۔(3)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 378

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 379

379 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ قثنا الْوَلِيدُ، يَعْنِي: ابْنَ مُسْلِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، يَعْنِي: ابْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ عُمَرَ جَعَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فِي الشُّورَى، فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اسْتَخْلِفْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ، وَمِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ، وَابْنَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ عُمَرُ: قَدْ قُلْتُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتُمْحَيَنَّ مِنْهَا، حَسْبُنَا آلَ عُمَرَ الْكَفَافُ، لَا لَنَا وَلَا عَلَيْنَا.

محمد بن زید ؑ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب اپنے بیٹے سیدنا عبداللہ بن عمر کو شوریٰ کا رکن متنخب کیا ایک آدمی آکر کہنے لگا اے امیر المومنین اس عبد اللہ کو مسلمان کاخلیفہ منتخب کرو کیونکہ یہ نبی کریم ﷺ کے ساتھی ہیں پہلے مہاجرین میں سے اور امیر المومنین کے بیٹے ہیں یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اسکو ہٹاؤ ہم آل عمر کے لیے کفایت شعاری کافی ہے۔ جس پر نہ ہمارے لیے سزا ہو گی نہ جزا۔(1)

أبي مُحَمَّد بن زيد ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ قثنا الْوَلِيدُ، يَعْنِي: ابْنَ مُسْلِمٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 379

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 380

380 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ قثنا الْوَلِيدُ، يَعْنِي: ابْنَ مُسْلِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ قثنا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: رَاثَ عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ خَبَرُ عُمَرَ وَهُوَ أَمِيرُ الْبَصْرَةِ، وَكَانَ بِهَا امْرَأَةٌ فِي جُبَّتِهَا شَيْطَانٌ يَتَكَلَّمُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا رَسُولًا فَقَالَ لَهَا: مُرِي صَاحِبَكِ فَلْيَذْهَبْ فَلْيُخْبِرْنِي عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: هُوَ بِالْيَمَنِ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ، فَمَكَثُوا غَيْرَ طَوِيلٍ، قَالُوا: اذْهَبْ فَأَخْبِرْنَا عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنَّهُ قَدْ رَاثَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: إِنَّ ذَاكَ لَرَجُلٌ مَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَدْنُوَ مِنْهُ، إِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ رُوحُ الْقُدُسِ، وَمَا خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ شَيْطَانًا يَسْمَعُ صَوْتَهُ إِلَّا خَرَّ لِوَجْهِهِ.

سالم بن عبد اللہ ؑ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ امیر بصرہ کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی کوئی خبر آنے میں دیر ہوئی وہا ں بصرہ میں ایک عورت تھی جس کی پیشانی پر ایک شیطان جن گفتگو کرتا تھا اس کے پاس ایک آدمی بھیجا اور کہا اس عورت سے کہو کہ وہ اپنے جن سے سیدنا عمر کے قاصد کے بارے معلومات کرے اس نے کہا وہ یمن میں ہے جلد ہی وہ آجائے گا چنانچہ وہ تھوڑی دیر وہاں ٹھہرا رہا ۔ لوگوں نے کہا جاؤ ہمیں امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خبردو کیونکہ ان کی خبر ہمارے پاس آنے میں دیر ہو گئی ۔ اس جن نے کہا ہم سیدنا عمر فاروق کے پاس نہیں جاسکتے ان کی آنکھوں کے درمیان روح القدس (سیدنا جبرئیل ) ہیں ۔ جتنے بھی شیاطین کو اللہ رب العزت نے پیدا کیا ان میں جو بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنتا ہے تو ڈر سے منہ کے بل گر پڑتا ہے۔ (2)

عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ قثنا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ قثنا الْوَلِيدُ، يَعْنِي: ابْنَ مُسْلِمٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 380

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 381

381 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ الثَّقَفِيُّ بِالْكُوفَةِ سَنَةَ ثَلَاثِينَ وَمِائَتَيْنِ قَالَ: نا. . . . . . قَالَ: نا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ: إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ إِسْلَامُهُ عِزًّا، وَكَانَتْ إِمَارَتُهُ فَتْحًا، وَكَانَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَلَكٌ يُسَدِّدُهُ، وَكَانَ الْفَارُوقُ فَرَّقَ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ بِتَصْدِيقِ رَأْيِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، يُقَالُ لَهُ حَرَمِيٌّ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ خَيْرًا مِنْهُ، فَأَعَادَ أَبُو مُوسَى الْقَوْلَ، فَقَالَ السُّلَمِيُّ مِثْلَ مَقَالَتِهِ ثَلَاثًا، فَلَمَّا قَفَلُوا صَارَ إِلَى عُمَرَ فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَيْلَةٌ مِنْ أَبِي بَكْرٍ خَيْرٌ مِنْ عُمَرَ الدَّهْرَ كُلَّهُ، وَلَيَوْمٌ مِنْ أَبِي بَكْرٍ خَيْرٌ مِنْ عُمَرَ الدَّهْرَ كُلَّهُ، أَمَّا يَوْمُهُ فَيَوْمُ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ، وَأَمَّا لَيْلَتُهُ فَلَيْلَةُ الْغَارِ، حِينَ وَقَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَفْسِهِ.

حسن بصری ؑ سے روایت ہے کہ ایک دن یا رات سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ سیدنا عمر کا اسلام عزت کا سبب تھا اور ان کی امارت فتوحات کا ذریعہ تھی انکی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک فرشتہ تھا جو ان کو راہ صواب دکھاتا تھا وہ حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والے فاروق تھے ۔ قرآن مجید ان کی رائے کی تصدیق میں ناز ل ہوتا تھا ۔ بنو سلیم کے حرمی نامی شخص نے کہا : سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ان سے بہترتھے ۔سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنی بات دوبارہ کہی اس سلمی نے بھی اسکی مثل تین دفعہ بات دہرائی البتہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے ہم نے سیدنا عمر کو یہ واقعہ سنایا تو فرمانے لگے عمر کی ساری زندگی سے بہتر ہے کیونکہ ابو بکر کا دن وہ تھا جس دن سارے عرب مرتد ہو گئے تھے اور رات وہ ہے جس رات غار میں وہ نبی کریم ﷺ کی حفاظت کرتے رہے ۔ (1)

أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ: ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← يُوسُفُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ الثَّقَفِيُّ بِالْكُوفَةِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 381

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 382

382 - ذَكَرَ مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ الْهُدَيْرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِلَى حَرَّةَ وَاقِمٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِصِرَارٍ إِذَا نَارٌ، فَقَالَ: يَا أَسْلَمُ [ص:291]، إِنِّي لَأَرَى هَا هُنَا رَكْبًا قَصَّرَ بِهِمُ اللَّيْلُ وَالْبَرْدُ، انْطَلِقْ بِنَا، فَخَرَجْنَا نُهَرْوِلُ حَتَّى دَنَوْنَا مِنْهُمْ، فَإِذَا بِامْرَأَةٍ مَعَهَا صِبْيَانٌ صِغَارٌ وَقِدْرٌ مَنْصُوبَةٌ عَلَى نَارٍ وَصِبْيَانُهَا يَتَضَاغَوْنَ، فَقَالَ عُمَرُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَصْحَابَ الضَّوْءِ، وَكَرِهَ أَنْ يَقُولَ: يَا أَصْحَابَ النَّارِ، فَقَالَتْ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، فَقَالَ: أَدْنُو؟، فَقَالَتِ: ادْنُ بِخَيْرٍ أَوْ دَعْ، فَدَنَا فَقَالَ: مَا بَالُكُمْ؟ قَالَتْ: قَصَّرَ بِنَا اللَّيْلُ وَالْبَرْدُ، قَالَ: فَمَا بَالُ هَؤُلَاءِ الصِّبْيَةِ يَتَضَاغَوْنَ؟ قَالَتِ: الْجُوعُ، قَالَ: فَأَيُّ شَيْءٍ فِي هَذِهِ الْقِدْرِ؟ قَالَتْ: مَا أُسْكِتُهُمْ بِهِ حَتَّى يَنَامُوا، وَاللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَيْ رَحِمَكِ اللَّهُ، وَمَا يُدْرِي عُمَرَ بِكُمْ؟ قَالَتْ: يَتَوَلَّى عُمَرُ أَمْرَنَا ثُمَّ يَغْفُلُ عَنَّا. قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ: انْطَلِقْ بِنَا، فَخَرَجْنَا نُهَرْوِلُ حَتَّى أَتَيْنَا دَارَ الدَّقِيقِ، فَأَخْرَجَ عِدْلًا مِنْ دَقِيقٍ وَكَبَّةً مِنْ شَحْمٍ، فَقَالَ: احْمِلْهُ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: أَنَا أَحْمِلُهُ عَنْكَ، قَالَ: أَنْتَ تَحْمِلُ عَنِّي وِزْرِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا أُمَّ لَكَ؟ فَحَمَلْتُهُ عَلَيْهِ فَانْطَلَقَ، وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَيْهَا، نُهَرْوِلُ، فَأَلْقَى ذَلِكَ عِنْدَهَا وَأَخْرَجَ مِنَ الدَّقِيقِ شَيْئًا، فَجَعَلَ يَقُولُ لَهَا: ذُرِّي عَلَيَّ، وَأَنَا أُحَرِّكُ لَكِ، وَجَعَلَ يَنْفُخُ تَحْتَ الْقِدْرِ ثُمَّ أَنْزَلَهَا، فَقَالَ: أَبْغِينِي شَيْئًا، فَأَتَتْهُ بِصَحْفَةٍ فَأَفْرَغَهَا فِيهَا ثُمَّ جَعَلَ يَقُولُ لَهَا: أَطْعِمِيهُمْ وَأَنَا أُسَطِّحُ لَهُمْ، فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى شَبِعُوا، وَتَرَكَ عِنْدَهَا فَضْلَ ذَلِكَ، وَقَامَ وَقُمْتُ مَعَهُ، فَجَعَلَتْ تَقُولُ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا، كُنْتَ أَوْلَى بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَيَقُولُ: قُولِي خَيْرًا إِذَا جِئْتِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَحَدَّثِينِي هُنَاكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ تَنَحَّى نَاحِيَةً عَنْهَا ثُمَّ اسْتَقْبَلَهَا فَرَبَضَ مَرْبَضًا، فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّ لَنَا شَأْنًا غَيْرَ هَذَا، وَلَا يُكَلِّمُنِي حَتَّى رَأَيْتُ الصِّبْيَةَ يَصْطَرِعُونَ ثُمَّ نَامُوا وَهَدَأُوا، فَقَالَ: يَا أَسْلَمُ، إِنَّ الْجُوعَ أَسْهَرَهُمْ وَأَبْكَاهُمْ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَنْصَرِفَ حَتَّى أَرَى مَا رَأَيْتُ.

زید بن اسلم ؑ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ واقم (نامی جگہ ) کی طرف نکلے جب ہم صرار (جگہ ) پہنچے تو ہمیں آگ نظر آئی تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسلم ! میرے خیال میں تاریک رات اور سردی کی وجہ سے یہاں کوئی قافلہ رکا ہوا ہے چلو وہاں چلتے ہیں ہم دوڑتے ہوئے چل پڑے جب ہم ان کے قریب ہوئے تو وہاں ایک عورت تھی اس کے پاس دو چھوٹے بچے تھے ۔ آگ پر ہانڈی تھی اور بچے روروہے تھے سیدنا عمر فاروق نے فرمایا : اے روشنی والو! تم پر سلام ہو یہ کہنا پسند نہ کیا اے آگ والو عورت نے وعلیک السلام سے جواب دیا : سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں قریب آ جاؤں ؟ عورت نے کہا ارادہ اچھا ہے تو آجائیں ورنہ واپس چلے جائیں پس آپ نے قریب آکر پوچھا تم لوگوں کو کیا ہوا ہے عورت کہنے لگی ہمیں رات اورسخت سردی نے روک رکھا ہے ۔ آپ نے فرمایا یہ بچے کیوں رو ررہے ہیں کہنے لگی بھوک سے پھر فرمایا اس ہانڈی میں کیا ہے ؟ کہنے لگی میں نے انکو خاموش کرانے کی غرض سے ( یہ خالی ہنڈیا اوپر رکھی ہوئی ہے ) ایسا کیا ہے تاکہ وہ سو جائیں اور اللہ تعالیٰ ہمارے اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے درمیان انصاف کرنے والا ہے ۔ سیدنا عمر فاروق نے فرمایا اللہ تجھ پر رحم کرے آپ کے بارے میں عمر کیا پتا؟ عورت کہنے لگی سیدنا عمر ہم پر سر پرستی کرتے ہوئے بھلا غافل کیسے رہ سکتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے میری طرف متوجہ ہو کر کہا میرے ساتھ آؤہم وہاں سے دوڑتے ہوئے نکلے اور آنے کے گودام میں پہنچے ایک پیمانہ آنا اور ایک گولہ چربی لی اور پھر انہوں نے فرمایا مجھے یہ آٹھواؤ میں نے عرض کیا میں اٹھاتا ہوں وہ فرمانے لگے تیری ماں نہ رہے (یہ عربی محاورہ ہے ) کیا تم قیامت کے دن میرے بوجھ کو اٹھاؤ گے ؟ پس میں نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو وہ بوجھ اٹھوا دیا ۔ اٹھا کر نکلے میں بھی ساتھ گیا انہوں نے دوڑتے ہوئے جا کر ان کے پاس رکھ دیا اور کچھ آٹا نکالا اور کہنے لگے : صاف کر کے مجھے دینا میں تمہارے لیے گوندھتا ہوں اور ساتھ ہانڈی کی راکھ پر بھی پھونکنے لگے پھر ا کو اتار دیا اور فرمایا مجھے کوئی چیز لادو وہ عورت ایک برتن لائی تو اس میں ڈال یا اور کہنے لگے ان بچوں کو کھلاؤ میں ان کےلیے جگہ برابر کرتا ہوں ۔ اس طرح وہ کام کاج میں وہاں رہے یہاں تک کہ وہ بچے سیر ہو گئے ۔ بچا ہوا ان کے پاس چھوڑ دیا اور کھڑے ہو گئے تو میں بھی کھڑا ہوااور وہ عورت اس وقت کہہ رہی تھی جزاک اللہ خیر ! تم امیر المومنین سے بڑھے منصب کے قابل تھے ۔ انہوں نے فرمایا اچھی بات کرو جب تم امیر المومنین کے پاس جاؤ گی ان شاء اللہ تم مجھے وہاں یہ بات کرنا پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک طرف ہٹ کر سامنے ہو کر ان کے انتظار میں بیٹھ گئے میں نے سوچا شاید اس کے علاوہ اور کوئی کام ہوگا ۔ مگر انہوں نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ میں نے دیکھا بچے کھیل کر سو گئے ان کے رونے کی آواز ختم ہوئی پھر فرمایا اسلم یقینا بھوک نے انکو رلایا اور بے چین کیاتھا میں نے چاہا کہ میں یہاں سے اس وقت تک نہ جاؤں گا جب تک ان بچوں کو اس حالت میں نہ دیکھ لوں جو میں چاہتا ہوں (کہ بچے پر سکون ہو کر سو جائیں )۔(1)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 382

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 383

383 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قثنا أَبِي، عَنْ يَعْلَى، يَعْنِي: ابْنَ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَافِعٍ، ثُمَّ تَرَكَ يَعْلَى، أَنَّ الزِّبْرِقَانَ بْنَ بَدْرٍ، وَالْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ طَلَبَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُقْطِعَهُمَا، فَأَقْطَعَهُمَا وَكَتَبَ لَهُمَا كِتَابًا، فَقَالَ لَهُمَا عُثْمَانُ: أَشْهِدَا عُمَرَ فَإِنَّهُ الْخَلِيفَةُ بَعْدَهُ، وَهُوَ أَجْوَزُ لِأَمْرِكُمَا، فَأَتَيَا عُمَرَ بِالْكِتَابِ، فَلَمَّا نَظَرَ فِيهِ بَزَقَ فِيهِ ثُمَّ ضَرَبَ بِهِ وُجُوهَهُمَا ثُمَّ قَالَ: لَا، وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ، آللَّهَ لَتَفْلَقُنَّ وُجُوهَ الْمُسْلِمِينَ بِالسُّيُوفِ وَالْحِجَارَةِ ثُمَّ لَنَكْتُبَنَّ لَكُمْ لِفَيْئِهِمْ، فَرَجَعَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَا: وَاللَّهِ مَا نَدْرِي أَنْتَ الْخَلِيفَةُ أَمْ عُمَرُ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ فَأَخْبَرَاهُ بِالَّذِي صَنَعَ، فَقَالَ: وَإِنَّا لَا نُجِيزُ إِلَّا مَا أَجَازَهُ عُمَرُ.

زبر قان بن بدر اور اقرع بن حابس نے سیدنا ابو بکر صدیق سے زمین مخصوص کرانے کا کہا تو انہوں نے ان کے لیے خاص کر دی اور ایک تحریر لکھ کر دی تو سیدنا عثمان غنی نے ان دونوں سے فرمایا تم اس بات پر سیدنا عمر فاروق کو گواہ بناؤ کیونکہ وہ ان کے بعد خلیفہ ہوں گے یہ تمہار ےاس کام کا ثبوت ہوں گے۔ وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس تحریر لے کر آئے جب سیدنا عمر فاروق نے تحریری پر نظر ڈالی تو اس پر تھوکا اور ان دونوں کے چہر ے پر مارا پھر فرمایا ہرگز نہیں اور نہ یہ آنکھوں کو ٹھنڈک ہو اللہ کی قسم ! تم مسلمانوں کے چہروں کو تلواروں اور پتھروں سے پھاڑتے ہوپھر ہم تمہارے لی اسن کے مال غنیمت میں سے لکھ لیں ۔ پس وہ دونوں سیدنا ابو بکر کی طرف لوٹے اور کہا اللہ کی قسم ہمیں نہیں پتہ کہ آپ خلیفہ ہیں یا سیدنا عمر فاروق انہوں نے فرمایا کیا ہوا ہے؟ تو سیدنا عمر نے جو کچھ ان کےساتھ کیا تھا اس کی خبر دی تو سیدنا ابو بکر صدیق نے فرمایا ہم بھی وہ کام کرتے ہیں جو سیدنا عمر کرتے ہیں۔(2)

وقد ← نَافِعٍ ← يَعْلَى يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ، ← أَبِي، قثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قثنا أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 383

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 384

384 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ نَافِعٍ، قَالَ وَهْبٌ: وَكَانَ يُحَدِّثُنَا بِهِ عَنْ يَعْلَى، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَتَبَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ: أَنْ زِدْنَا فِي أَرْزَاقِنَا وَإِلَّا فَابْعَثْ إِلَى عَمَلِكَ مَنْ يَكْفِيكَهُ، فَاسْتَشَارَ أَبُو بَكْرٍ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا تَزِدْهُمْ دِرْهَمًا وَاحِدًا، قَالَ: فَمَنْ لِعَمَلِهِمْ؟ قَالَ: أَنَا أَكْفِيهِ وَلَا أُرِيدُ أَنْ تَرْزُقَنِي شَيْئًا، قَالَ: فَتَجَهَّزَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، إِنَّ قُرْبَ عُمَرَ مِنْكَ وَمُشَاوَرَتَهُ أَنْفَعُ لِلْمُسْلِمِينَ مِنْ شَيْءٍ يَسِيرٍ، فَزِدْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ، وَهُوَ الْخَلِيفَةُ بَعْدَكَ، فَعَزَمَ عَلَى عُمَرَ أَنْ يُقِيمَ، قَالَ: وَزَادَهُمْ مَا سَأَلُوا، قَالَ: فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ كَتَبَ إِلَيْهِمْ: إِنْ رَضِيتُمْ بِالرِّزْقِ الْأَوَّلِ وَإِلَّا فَاعْتَزِلُوا عَمَلَنَا، وَقَالَ: وَقَدْ كَانَ مُعَاوِيَةُ، يَعْنِي: ابْنَ أَبِي سُفْيَانَ، اسْتُعْمِلَ مَكَانَ يَزِيدَ، قَالَ: فَأَمَّا مُعَاوِيَةُ وَعَمْرٌو فَرَضِيَا، وَأَمَّا خَالِدٌ فَاعْتَزَلَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِمَا عُمَرُ: أَنِ اكْتُبَا لِي كُلَّ مَالٍ هُوَ لَكُمَا، فَفَعَلَا، قَالَ: فَجَعَلَ لَا يَقْدِرُ لَهُمَا بَعْدُ عَلَى مَالٍ إِلَّا أَخَذَهُ فَجَعَلَهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ.

نافع ؑ بیان کرتے ہیں کہ سیدناخالد بن ولید، سیدنا یزیدبن ابی سفیان او ر سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ عنہم نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ لکھ کر بھیجا اور کہا : ورنہ ہماری جگہ کوئی دوسرا آدمی بھیج دیجیے سیدنا ابو بکر صدیق نے سیدنا عمر سے اس کےبارے میں مشورہکیا تو سیدنا عمر فارو ق نے مشورہ دیا کہ انکے لیے ایک درہم بھی نہ بڑھائیں سیدنا ابوبکر نے فرمایا پھر اس کاکام کون کرے گا؟ فرمایا میں کافی ہوں مجھے کچھ نہ دینا ۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے تیاری کی تو سیدنا عثمان کو اس کی خبر ہوئی تو سیدنا ابو بکر صدیق نے کہا اللہ کے رسول ﷺ کےخلیفہ ! یقینا سیدنا عمر فاروق کا آپ رضی اللہ عنہ کے قریب ہونا اور مشورہ دینا مسلمانوں کےلےی اس تھوڑی سی چیز کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہے پس آپ انکی تنخواہ بڑھادیں یہ (سیدنا عمرفاروق) آپ کے بعد خلیفہ ہوں گے پس انہوں نے سیدنا عمر فاروق کے اصرار کیا کہ وہ ٹھہر جائیں اور انکی تنخواہ بڑھا دی جس کا وہ مطالبہ کررہے تھے ۔ پس جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انکو لکھ بھیجا : اگر سابقہ تنخواہ پر اکتفا کرو گے تو ٹھیک ہے ورنہ کام چھوڑ دو اب سیدنا یزید بن ابی سفیان کی جگہ سیدنا معاویہ گورنر تھے ۔ پس سیدنا معاویہ اور سیدنا عمر و رضی اللہ عنہ تو راضی ہو گئے اور سیدنا خالد بن ولید نے ذمہ داری کو چھوڑ دیا۔ پھر ان دونوں کو لکھا کہ تم اپنے تمام مال کا حساب لکھ کر مجھے بھیج دو تو انہوں نے لکھ کر بھیج دیا پس اس کےبعد جو بھی مال ان دونوں کو ملتا وہ سارا لےکر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بیت المال میں ڈالتے ۔(1)

عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ: ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ← خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ← نَافِعٍ ← يعلى ← وَهْبٌ: وَكَانَ يُحَدِّثُنَا بِهِ ← مِنْ نَافِعٍ، ← أَبِي، قثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قثنا أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 384

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 385

385 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حُمَيْدٍ الْحِمْصِيُّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ قثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، وَعَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، قَالَا: سَمِعْنَا أَبَا إِسْحَاقَ يَقُولُ: بُغْضُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنَ الْكَبَائِرِ.

ابو اسحاق ؑ نے فرمایا سیدنا ابو بکر او ر سیدنا عمر رضی اللہ عنہم سے بعض رکھنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ (2)

بُغْضُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنَ الْكَبَائِرِ. ← أَبَا إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، وَعَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، ← أَبُو حُمَيْدٍ الْحِمْصِيُّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ قثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ حَفْصٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 385

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 386

386 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حُمَيْدٍ قثنا مُعَاوِيَةُ، يَعْنِي: ابْنَ حَفْصٍ قَالَ: نا عَبَّادٌ، يَعْنِي: ابْنَ الْعَوَّامِ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ طَلْحَةَ الْيَامِيِّ قَالَ: كَانَ يُقَالُ: بُغْضُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ نِفَاقٌ، وَبُغْضُ قُرَيْشٍ نِفَاقٌ، وَبُغْضُ الْأَنْصَارِ وَبُغْضُ الْمَوْلَى الْعَرَبِيِّ نِفَاقٌ.

طلحہ یامی ؑ نے فرمایا سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر قریش سے بعض رکھنا ، انصار اور عربی غلام سے بعض رکھنا منافقت ہے ۔ (3)

طَلْحَۃَ الْیَامِیِّ ← الْحَجَّاجِ، ← عَبَّادٌ، يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ، ← أَبُو حُمَيْدٍ قثنا مُعَاوِيَةُ، يَعْنِي: ابْنَ حَفْصٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 386

Daif

chevron_left Previous
1…171819…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him