Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 141

141 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ قثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ: «يَا عَلِيُّ، هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَشَبَابُهَا بَعْدَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ» .

سیدنا علی المرتضیٰ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا اے علی یہ دونوں اہل جنت کے اولین و آخرین بوڑھوں اور نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ لیکن انبیاو رسل اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ (3)

كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ← عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← أَبِي ← الْحَسَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ قثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 141

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 142

142 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا مِسْعَرٌ، وَسُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ بِمَا شَاءَ مِنْهُ، فَإِذَا حَدَّثَنِي بِهِ غَيْرِي اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ حَدَّثَنِي، وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا، فَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ» .

سیدنا علی سے روایت ہے کہ جب بھی میں نے رسول اکرم ﷺ سے حدیث سنی تو اللہ نے جتنا چایا مجھے نفع دیا لیکن جب بھی مجھے کسی دوسرے (شخص) نے حدیث بیان کی تو میں نے اس سے تصدیق کے لیے حلف لیا اور بلا شبہ سیدنا ابو بکر نے مجھے حدیث بیان کی تو سیدنا ابو بکر نے بالکل سچ فرمایا (یعنی ان سے میں نے حلف نہیں لیا اور انہوں نے مجھے بیان کیا )کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو بھی گناہ کرتا ہے تو پھر اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر دو رکعت نما زپڑھتا ہے اور اللہ سے بخشش طلب کرتا ہے تو اللہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے ۔

النَّبِيِّ ← وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ ← بِهِ غَيْرِي اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ ← مِنْ رَسُولِ اللهِ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ بِمَا شَاءَ مِنْهُ فَإِذَا ← كُنْتُُ إذَا ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ ← عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا مِسْعَرٌ، وَسُفْيَانُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 142

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 143

143 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَسْبَاطٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ يَقُولُ: بَرِئَ اللَّهُ مِمَّنْ تَبَرَّأَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ.

امام جعفر صادق بن محمد بن علی نے فرمایا اللہ اس شخص سے بری ہے جو سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر کو بُرا بھلا کہتا ہے ۔ (2)

بَرِئَ اللَّهُ مِمَّنْ تَبَرَّأَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ. ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← أَبِي، قثنا أَسْبَاطٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 143

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 144

144 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَسْبَاطٌ قثنا كَثِيرٌ النَّوَّاءُ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقَالَ: تَوَلَّهُمَا، فَمَا كَانَ فِي ذَلِكَ فَهُوَ فِي عُنُقِي.

کثیر النواء سے روایت ہے کہ میں نے ابو جعفر محمد بن علی سے سیدنا ابو بکر اور سید نا عمر کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا تو ان دونوں کو دوست بنا اگر تجھے انکی دوستی کی وجہ سے کچھ ہوا( دنیا میں ذلیل یا آخرت میں عذاب ہو نعوذباللہ ) تو اس کاذمہ دار میں ہوں گا(3)

أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقَالَ: تَوَلَّهُمَا، فَمَا كَانَ فِي ذَلِكَ فَهُوَ فِي عُنُقِي. ← سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ ← أَبِي، قثنا أَسْبَاطٌ قثنا كَثِيرٌ النَّوَّاءُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 144

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 145

145 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَسْبَاطٌ قثنا كَثِيرٌ النَّوَّاءُ قَالَ: سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقَالَ: تَوَلَّهُمَا، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ تَقُولُ فِيمَنْ يَتَبَرَّأُ مِنْهُمَا؟ قَالَ: أَبْرَأُ مِنْهُ حَتَّى يَتُوبَ

کثیر النواء سے روایت ہےکہ میں نے زید بن علی سے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر کے متعلق سوال کیا انہوں نے فرمایا : تو ان دونوں کو دوست بنا میں نے پوچھا ان پر طعن و تشنیع کرنے والے لوگوں کے متعلق آپ کیا رائے رکھتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا میں ان سے (اس وقت تک )بری ہوں ۔ جب تک وہ توبہ نہ کرلیں (4)

أَبْرَأُ مِنْهُ حَتَّى يَتُوبَ ← قُلْتُ: كَيْفَ تَقُولُ فِيمَنْ يَتَبَرَّأُ مِنْهُمَا؟ ← أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقَالَ: تَوَلَّهُمَا، ← سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ عَلِيٍّ ← أَبِي، قثنا أَسْبَاطٌ قثنا كَثِيرٌ النَّوَّاءُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 145

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 146

146 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قثنا زُهَيْرٌ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلُوا رُفَقَاءَ، رُفْقَةٌ مَعَ فُلَانٍ، وَرُفْقَةٌ مَعَ فُلَانٍ، قَالَ: فَنَزَلْتُ فِي رُفْقَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ مَعَنَا أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَنَزَلْنَا بِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَعْرَابِ وَفِيهِمُ امْرَأَةٌ حَامِلٌ، فَقَالَ لَهَا الْأَعْرَابِيُّ: إِنِّي لَأُبَشِّرُكِ أَنْ تَلِدِي غُلَامًا إِنْ أَعْطَيْتِنِي شَاةً، وَلَدَتْ غُلَامًا فَأَعْطَتْهُ شَاةً، وَسَجَعَ لَهَا أَسَاجِيعَ، قَالَ: فَذَبَحَ الشَّاةَ، فَلَمَّا جَلَسُوا الْقَوْمُ يَأْكُلُونَ قَالَ رَجُلٌ: أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ الشَّاةُ؟ فَأَخْبَرَهُمْ، قَالَ: فَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ مُتَبَرِّزًا مُسْتَقْبِلًا يَتَقَيَّأُ.

سیدنا ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ہم رسول اکرم ﷺ کے ساتھ گروہ بندی کی شکل میں نکلے ہر ایک کے ساتھ کوئی نہ کوئی (شخص) تھا ۔ میں سیدنا ابو بکر کے گروہ میں تھا اور ہمارے ساتھ کسی دور کی بستی سے ایک دیہاتی بھی تھا ہم دیہاتیوں کے ایک اگر کے پاس ٹھہرے ان میں ایک حاملہ عورت تھی اسکو (ہمارے ساتھی) دیہاتی نے کہا میں تجھے خوشخبری دیتا ہوں کہ تو بچہ جنم دے گی اگر تو مجھے بکری دے اس نے بچہ ہی جنم دیا تو اس نے بکری دے دی اور دیہاتی اس کے لیے کوئی ہم کافیہ کلام ( جو اکثر اوقات اہل نجوم وغیرہ پڑھتے ہیں ) پڑھ رہا تھا سید نا ابو سعید خدری فرماتے ہیں بکری کو ذبح کیا گیا تو جب قوم والے بیٹھ کر کھا رہے تھے تو ایک آدمی نے کہا تم جانتے ہو کہ یہ بکری کہاں سے آئی ہے تو اس نے انکو خبر دی (یعنی اس دیہاتی عورت کی آپس میں ہونے والی گفتگو سنائی) میں نے ابو بکر کو دیکھا وہ میدان میں قبلہ رخ اس کی قے کر رہے تھے (1)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← نُبَيْحٍ، ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قثنا زُهَيْرٌ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 146

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 147

147 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ قثنا أَبُو بَكْرٍ، يَعْنِي: ابْنَ عَيَّاشٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: امْدُدْ يَدَكَ نُبَايِعْكَ، قَالَ: عَلَامَ تُبَايِعُونِي؟ فَوَاللَّهِ مَا أَنَا بِأَتْقَاكُمْ وَلَا أَقْوَاكُمْ، أَتْقَانَا سَالِمٌ، يَعْنِي: مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأَقْوَانَا عُمَرُ، قَالَ: امْدُدْ يَدَكَ {إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا} [التوبة: 40] ، قَالَ: فَبَايَعُوهُ وَجَعَلُوا لَهُ أَلْفَيْ دِرْهَمٍ، قَالَ: زِيدُونِي، إِنَّكُمْ قَدْ مَنَعْتُمُونِي مِنَ التِّجَارَةِ وَلِي عِيَالٌ، فَزَادُوهُ خَمْسَ مِائَةِ دِرْهَمٍ، وَجَعَلُوا لَهُ شَاةً كُلَّ يَوْمٍ يُطْعِمُهَا الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ: طَيِّبُوا لِأَهْلِي رَأْسَهَا وَأَكَارِعَهَا، فَفَعَلُوا.

میمون سے روایت ہےکہ سیدنا عمر نے سیدنا ابو بکر کو کہا کہ آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیے تاکہ ہم اپ کے ہاتھ پر بیعت کریں تو انہوں نے فرمایا تم میرے ہاتھ پر کس وجہ سے بیعت کرتے ہو حالانکہ میں نہ تو تم میں سے زیادہ متقی ہوں نہ تم میں زیادہ قوی ہوں ہم میں زیادہ متقی سالم مولیٰ ابن حذیفہ ہیں اور ہم میں قوی سیدنا عمر ہیں سیدنا عمر نے فرمایا اپنا ہاتھ آگے برھائیے پھر یہ آیت پڑھی(ترجمہ :دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے پھر آپکی بیعت ہوئی اور آپ کے لیے ہامانہ دو ہزار درہم مقرر کیا گیا (آپ اپنے امور خلافت کے ساتھ ساتھ تجارت بھی کیا کرتے تھے ) پھر جب آپ کی سرکاری ذمہ داریوں نے آپ سے تجارت چھڑوادی ) پھر آپ نے فرمایا اب تمہاری ذمہ داریوں نے مجھے تجارت چھڑوا دی ہے اس لیے میرا وظیفہ زیادہ کرو کیونکہ میرے بھی اہل و عیال ہیں پھر آپ کا وظیفہ پانچ سو درہم بڑھا کر زیادہ کر دیا گیا اور ایک بکری روزانہ مقرر کر دی گئی جس کو آپ غریب مسلمانوں کو کھلا تے تھے اور انکو فرماتے سری پائے میرے اہل و عیال کے لیے چھوڑ دینا اور لوگ ایسا ہی کرتے (2)

فَبَايَعُوهُ وَجَعَلُوا لَهُ أَلْفَيْ دِرْهَمٍ، ← امْدُدْ يَدَكَ ← بِأَتْقَاكُمْ وَلَا أَقْوَاكُمْ، أَتْقَانَا سَالِمٌ، يَعْنِي: مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأَقْوَانَا عُمَرُ، ← عَلَامَ تُبَايِعُونِي؟ فَوَاللَّهِ مَا ← لِأَبِي بَكْرٍ: امْدُدْ يَدَكَ نُبَايِعْكَ، ← أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 147

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 148

148 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ الْأَسَدِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ لُوَيْنٌ قثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: وَلِيَنَا أَبُو بَكْرٍ فَمَا وَلِيَنَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ مِثْلُهُ.

امام عبداللہ بن جعفر نے فرمایا سیدنا ابو بکر صدیق ہمارے امیر ہیں لوگوں میں ان جیسا ہمارا کوئی امیر نہیں (3)

وَلِيَنَا أَبُو بَكْرٍ فَمَا وَلِيَنَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ مِثْلُهُ. ← أَبِيهِ، سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← جَعْفَرٌ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 148

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 149

149 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنِّي رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ أَنْزِعُ بِدَلْو، ثُمَّ أَخَذَهَا أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ بِهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، فِيهِمَا ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَرْحَمُهُ، ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ، فَإِنْ بَرِحَ يَنْزِعُ حَتَّى اسْتَحَالَتْ غَرْبًا، ثُمَّ ضُرِبَتْ بِعَطَنٍ، فَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَزْعِ عَبْقَرِيٍّ أَحْسَنَ مِنْ نَزْعِ عُمَرَ» .

سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا میں نے خود کو (خواب ) میں دیکھا کہ میں کنویں سے پانی کا ڈول نکال رہا ہوں پھر ڈول کو ابو بکر نے پکڑا ایک یا دو ڈول پانی نکالا ان کے نکالنے میں کمزوری تھی ۔ اللہ ان پر رحم کرے پھر عمر نے ڈول کو پکڑا وہ نکالتے رہے یہاں تک کہ ڈول بھاری ہو گیاپھر (لوگوں نے ) اپنے اونٹوں کو حوض سے سیراب کیا اور میں نے پانی نکالنے میں ان سے بڑھ کر کوئی طاقتور شخص نہیں پایا ۔ (1)

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمٍ، ← معاوية بن عمرو قثنا زائدة ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 149

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 150

150 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سُفْيَانَ قثنا مُعَاوِيَةُ، يَعْنِي: ابْنَ عَمْرٍو، قثنا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رَأَيْتُ كَأَنِّي أَنْزِعُ عَلَى غَنَمٍ سُودٍ، فَخَالَطَهَا غَنَمٌ عُفْرٌ، فَأَوَّلْتُ السُّودَ الْعَرَبَ، وَالْعُفْرَ مَنْ خَالَطَهُمْ مِنْ إِخْوَانِهِمْ مِنَ الْعَجَمِ، قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا كَذَلِكَ، إِذْ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ الدَّلْوَ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَاللَّهِ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَأَخَذَ الدَّلْوَ، فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَمَلَأَ الْحِيَاضَ، وَأَرْوَى الْوَارِدَةَ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْ عَبْقَرِيٍّ يَفْرِي فَرْيَ عُمَرَ ".

حسن بصری سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا میں نے (خواب میں ) دیکھا کہ میں کالی بکریوں کے لیے پانی نکال رہا ہوں تو ان سے کم سفید رنگ والی بکریاں مل جاتی ہیں تو میں نے اس کی تعبیر یوں کی کہ کالی بکریاں سے مراد عرب ہیں اور کم سفید رنگ والی بکریوں سے مراد انکے وہ عجمی بھائی ہیں جو ان سے ملتے ہیں تو اس حالت میں ابو بکر آئے تو (مجھ سے )ڈول کو پکڑا اور ایک یا دو ڈول نکالے اور ان سے نکالنے میں کمزوری تھی ۔ اللہ تعالیٰ انکی مغفرت فرمائے پھر ا ن کے بعد عمر آئے اور ڈول کو پکڑا تو ڈھول بہت بھاری ہو گیا ۔ انہوں نے حوض کو(پانی سے) بھر دیا ۔ آنے والے پیاسوں کو سیراب کردیا اور میں نے ایسا کوئی با کمال سردار نہیں دیکھا جو عمر کی طرح کام کرتا ہو۔(2)

بلغني ← الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← هَارُونُ بْنُ سُفْيَانَ قثنا مُعَاوِيَةُ، يَعْنِي: ابْنَ عَمْرٍو، قثنا زَائِدَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 150

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 151

151 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ قثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ وَعُمَرُ عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ: «هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» .

سیدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہو ئے اس وقت سیدنا ابو بکر آپ کی دائیں اور سیدنا عمر آپ ﷺ کی بائیں جانب تھے ۔ آپﷺ نے فرمایا روز قیامت ہم یوں ہی اٹھائے جائیں گے۔(3)

«هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ← يَسَارِهِ‏.‏ ← يَمِينِهِ وَعُمَرُ ← دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَسْجِدَ وَأَبُو بَكْرٍ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 151

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 152

152 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ قثنا تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَهُ وَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ، وَوَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ فَجِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، وَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» .

سیدنا ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے آسمان والوں میں سے دو وزیر ہیں اور زمین والوں سے دو وزیر ہیں چنانچہ آسمان والوں سے میرے دو وزیر سیدنا جبریل اور سیدنا میکائیکل ہیں اور زمین والوں سے میرے دو وزیر ابوبکر اور عمر ہیں ۔ (4)

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← أَبِي الْجَحَّافِ ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ قثنا تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 152

Daif

chevron_left Previous
1…161162163164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him