Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرِضْوَانُهُ · حديث 33

33 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ قثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ الشَّوَارِعَ فِي الْمَسْجِدِ، إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ» .

سید ہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابو بکر صدیق کے علاوہ مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازوں کو بند کردو(1)

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him · Hadith 33

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرِضْوَانُهُ · حديث 34

34 - قُلْتُ لِأَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ إِنَّ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نَفَعَنِي مَالٌ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ» . فَأَنْكَرَهُ وَقَالَ: مَنْ حَدَّثَكَ بِهِ؟ قُلْتُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ يَحْيَى: فَقَالَ رَجُلٌ لِسُفْيَانَ: مَنْ ذَكَرَهُ؟ قَالَ: وَائِلٌ، فَقَالَ: أَبِي: نَرَى وَائِلًا لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الزُّهْرِيِّ، إِنَّمَا رَوَى وَائِلٌ عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ: هَذَا خَطَأٌ، ثُمَّ قَالَ: [ص:72]

سید ہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مال سے بڑھ کر کسی اور کے مال نے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا ۔ میرے باپ نے اس سند پر اعتراض کیا اورکہا تجھے یہ حدیث کس نے بیان کی ہے ؟ میں نے کہا : اس واسطے سے کہ ہمیں یحیٰ بن معین نے انہوں نے سفیان سے انہوں نے زہری سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ سے امام یحیٰ نے کہا سفیان کو کسی آدمی نے بیان کیا کہ وائل کہتے ہیں کہ میرے باپ نے کہا: ہمارے نزدیک وائل نے زہری سے نہیں سنا بلکہ وائل نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے اور مزید کہا اس سند میں غلطی ہے پھر کہا اصل سندیوں ہے (2)

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← قُلْتُ لِأَبِي إِنَّ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him · Hadith 34

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرِضْوَانُهُ · حديث 35

35 - نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

مذکورہ روایت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے ایک دوسری سند کے ساتھ مروی ہے ۔(3)

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him · Hadith 35

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرِضْوَانُهُ · حديث 36

36 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفُضَيْلِ قثنا حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ قثنا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ أَعْيَنَ، قثنا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَالُ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنْفَعُ لِي مِنْ مَالِ أَبِي بَكْرٍ، وَمِنْهُ أَعْتَقَ بِلَالًا، وَكَانَ يَقْضِي فِي مَالِ أَبِي بَكْرٍ كَمَا يَقْضِي الرَّجُلُ فِي مَالِ نَفْسِهِ» .

امام سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان کے مال سے ابو بکر صدیق کا مال میرے لیے زیادہ نفع مند ہے ۔ اسی میں سے یہ بھی ہے کہ انہوں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو آزاد کر وایا نیز نبی کریم ﷺ سید نا ابوبکر صدیق کے مال میں یوں تصرف فرماتے جیسے کوئی ذاتی مال میں تصرف کرتا ہے ۔(4)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him · Hadith 36

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرِضْوَانُهُ · حديث 37

37 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سُفْيَانَ الْبِرْتِيُّ قثنا بِشْرُ بْنُ عُبَيْسِ بْنِ مَرْحُومٍ قثنا النَّضْرُ بْنُ عَرَبِيٍّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أَرْوَى الدَّوْسِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَطَلَعَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَيَّدَنِي بِكُمَا»

سیدنا ابواروی دوسی سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پا س بیٹھا ہوا تھا ۔ اسی اثنا میں سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق تشریف لائے تو رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تمام تعریفیں اس ذات کے لیے کہ جس نے تم دونوں کے ذریعے میری مدد فرمائی (1)

كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ جَالِسًا، فَطَلَعَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، ← أَبِي أَرْوَى الدَّوْسِيِّ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← سُهَيْلٍ، ← عَاصِمٍ، ← هَارُونُ بْنُ سُفْيَانَ الْبِرْتِيُّ قثنا بِشْرُ بْنُ عُبَيْسِ بْنِ مَرْحُومٍ قثنا النَّضْرُ بْنُ عَرَبِيٍّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him · Hadith 37

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرِضْوَانُهُ · حديث 38

38 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَيْرَازِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: جَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَ عَائِشَةَ وَهِيَ رَافِعَةٌ صَوْتَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لَهُ، فَدَخَلَ فَقَالَ: يَا ابْنَةَ أُمِّ رُومَانَ وَتَنَاوَلَهَا، أَتَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ؟ قَالَ: فَحَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهَا يَتَرَضَّاهَا: «أَلَا تَرَيْنَ أَنِّي حُلْتُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَكِ؟» . قَالَ: أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَحْسَبُهُ قَالَ: ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ، فَوَجَدَهُ يُضَاحِكُهَا، قَالَ: فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَشْرِكَانِي فِي سِلْمِكُمَا كَمَا أَشْرَكْتُمَانِي فِي حَرْبِكُمَا.

سید نا نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اجازت طلب کرنے لگے اسی دوران انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ کی آواز سنی جو کہ آپ ﷺ کی موجودگی میں قدرے بلند تھی ۔رسول اکرم ﷺ نےآپ کو اجازت دی اندر آتے ہی آپ نے سیدہ عائشہ صدیہ کو پکڑتے ہوئے کہا ام رومان کی بیٹی کیا نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں تیری آواز بلند ہو رہی ہے؟ نبی کریمﷺ باپ بیٹی کے دریمان حآئل ہوئے (اور عاملہ ٹھنڈا کیا ) پس جب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ چلے گئے تو نبی کریم ﷺ سیدہ عائشہ صدیقہ کو راضی کرتے ہوئے فرمانتے لگے : کیا تو نے دیکھا کہ کیسے میں تیرے اور انکے بیج میں آگیا تھا (یعنی معاملہ ختم کر دیا ورنہ وہ تمہاری سرزنش کرتے) ابو عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میرے خیال میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دوبارہ حاضرہو کر اجازت طلب کی اس وقت آپ ﷺ سیدہ عائشہ صدیقہ کو ہنسارہے تھے ۔آپ ﷺ نے اجازت دی ، اندر تشریف لائے تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ جیسے آپ لوگوں نے مجھے اپنی خفگی میں شریک کر لیا تھا ایسے ہی صلح میں بھی شریک فرمالیجیے(2)

أَبُو بَکْرٍ ← فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ ← ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ يُضَاحِكُهَا ← أبو عبد الرحمن: أَحْسَبُهُ ← لَهَا يَتَرَضَّاهَا: «أَلَا تَرَيْنَ أَنِّي حُلْتُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَكِ؟» ← فَلَمَّا خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ جَعَلَ النَّبِيُّ ← فَحَالَ النَّبِيُّ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا ← يَا ابْنَةَ أُمِّ رُومَانَ وَتَنَاوَلَهَا أَتَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ وَهِيَ رَافِعَةٌ صَوْتَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ ← جَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الْعَيْرَازِ بْنِ حُرَيْثٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا إِسْرَائِيلُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him · Hadith 38

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرِضْوَانُهُ · حديث 39

39 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو نُعَيْمٍ، قثنا يُونُسُ قثنا الْعَيْزَارُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ: قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ عَالِيًا، وَهِيَ تَقُولُ: وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ عَلِيًّا أَحَبُّ إِلَيْكَ مِنْ أَبِي - مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا -، فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا فَقَالَ: يَا ابْنَةَ فُلَانَةَ، أَلَا أَسْمَعُكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوصدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے اجازت طلب کی۔ اس وقت سیدہ عائشہ صدیقہ کو بلند آواز میں بولتے ہوئے سنا وہ کہہ رہی تھی : اللہ کی قسم !(اے اللہ کے رسول ﷺ) مجھے پتا چل گیا ہے کہ آپ ﷺ میرے ابو جان سے زیادہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو محبوب رکھتے ہیں ۔ اس بات کو انہوں نے دو یا تین مرتبہ دوہرایا سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اجازت لے کر اندر تشریف لائے اور سیدہ عائشہ صدیقہ کی طرف بڑھتے ہوئے فرمایا :فلاں کی بیٹی! کیا میں نے تیری آواز کو رسول اللہ ﷺ کی آواز سے بلند ہوتے ہوئے سنا ہے؟(3)

النعمان بن بشير استأذن أبو بكر على رسول الله ← أَبِي، قثنا أَبُو نُعَيْمٍ، قثنا يُونُسُ قثنا الْعَيْزَارُ بْنُ حُرَيْثٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him · Hadith 39

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ قَوْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَغَيْرِهِ: خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ · حديث 40

40 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ قثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا؟ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ؟ عُمَرُ.

سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: حضرات میں تمہیں علی الاعلان کہتا ہوں کہ نبی کریم ﷺ کے بعد اس امت کے سب سے بہترشخص ابوبکر صدیق ہیں مزید فرمایا: حضرات! میں یہ بھی کھلے عام کہتا ہوں کہ سیدنا ابوبکر صدیق کے بعد اس امت کے بہترین شخص سید نا عمر فاروق ہیں۔(1)

أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ ← أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ ← عَلِيًّا ← أَبِي جُحَيْفَةَ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ قثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar · Hadith 40

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ قَوْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَغَيْرِهِ: خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ · حديث 41

41 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ قثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ دِرْهَمٍ - قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَحْسَبُهُ عُرَيْفَ بْنَ دِرْهَمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو جُحَيْفَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا يَقُولُ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ.

سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: حضرات میں تمہیں علی الاعلان کہتا ہوں کہ نبی کریم ﷺ کے بعد اس امت کے سب سے بہترشخص ابوبکر صدیق ہیں مزید فرمایا: حضرات! میں یہ بھی کھلے عام کہتا ہوں کہ سیدنا ابوبکر صدیق کے بعد اس امت کے بہترین شخص سید نا عمر فاروق ہیں۔(2)

أَبُو جُحَيْفَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْسِبُهُ عَرِيفَ بْنَ دِرْهَمٍ ← ابْنُ دِرْهَمٍ ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ قثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar · Hadith 41

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ قَوْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَغَيْرِهِ: خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ · حديث 42

42 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ قثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قثنا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، مِثْلَهُ: وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَ الثَّالِثَ لَسَمَّيْتُهُ.

سیدنا علی المرتضیٰ سے ان کے شاگردوں میں سے کسی نے اسی (حدیث سابقہ) کے مثل روایت کی ہے (اس میں یہ الفاظ بھی ہیں ) اگر میں چاہوں تو تیسر ے درجے والے شخص کانام بھی لے سکتا ہوں(3)

عَلِيٍّ، مِثْلَهُ: وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَ الثَّالِثَ لَسَمَّيْتُهُ. ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ قثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قثنا أَبِي، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar · Hadith 42

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ قَوْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَغَيْرِهِ: خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ · حديث 43

43 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ صَبِيحٍ زَحْمَوَيْهُ قثنا عُمَرُ بْنُ مُجَاشِعٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَ الثَّالِثَ لَسَمَّيْتُهُ. فَقَالَ رَجُلٌ لِأَبِي إِسْحَاقَ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّكَ تَقُولُ: أَفْضَلُ فِي الشَّرِّ، قَالَ: خَيْرٌ، خ ي ر.

عبدخیر سے روایت ہے کہ میں نے سنا سیدنا علی المرتضیٰ بر سرمنبر فرما رہے تھے :نبی کریم کے بعد اس امت کے بہترین لوگ سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق ہیں اور اگر میں چاہوں تو تیسرے شخص کانام بھی بتا سکتا ہوں ،کسی نے ابو اسحاق سے پوچھا کہ بعض لوگ کہتے ہیں : آپ نے کہا ہے کہ وہ (سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر نعوذباللہ) بُرے لوگوں میں افضل ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں ! بلکہ وہ تو اچھے لوگوں میں افضل ہیں(1)

عَلَى الْمِنْبَرِ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَلَوْ شِئْتُ ← عَلِيًّا ← عبد خير ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ صَبِيحٍ زَحْمَوَيْهُ قثنا عُمَرُ بْنُ مُجَاشِعٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar · Hadith 43

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ قَوْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَغَيْرِهِ: خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ · حديث 44

44 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا؟ فَقَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ: عُمَرُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ عُمَرَ؟ فَقَالُوا: بَلَى، فَسَكَتَ.

سید نا ابو حجیفہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰ نے فرمایا : میں تمہیں اس امت میں نبی کریم ﷺ کے بعد سب سے بہتر شخص کے متعلق خبر نہ دوں ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں !ضرو ر ۔فرمایا : وہ سیدنا ابوبکر صدیق ہیں پھر دریافت فرمایا کیا میں تمہیں سیدناابوبکر صدیق کے بعد سب سے بہتر شخص نہ بتاؤں۔ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں فرمایا وہ سیدنا عمر فاروق ہیں مزید دریافت فرمایا : کیا میں تمہیں سیدنا عمر کے بعد اس امت میں سب سے افضل شخص کے متعلق ن خبر نہ دوں؟ کیوں نہیں ! لیکن پھر آپ خاموش ہو گئے ۔(2)

بَلَى، فَسَكَتَ. ← أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ عُمَرَ؟ ← عُمَرَ ثُمَّ ← نَعَمْ ← ألا أخبركم بخير هذه الأمة بعد أبي بكر ← أبو بكر ثم ← نَعَمْ ← ألا أخبركم بخير هذه الأمة بعد نبيها ← عَلِيًّا ← أَبَا جُحَيْفَةَ ← الْحَكَمِ ← أبي قثنا محمد بن جعفر قثنا شعبة ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar · Hadith 44

Sahih

chevron_left Previous
1…152153154…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him