Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21

21 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ الْهَمْدَانِيُّ قثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَرْحَبِيُّ قثنا عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنِ الْمُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: «إِنَّ رِجْلَيَّ عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ، أَوْ تُرَعِ الْحَوْضِ، وَإِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا أَحَبَّ، يَأْكُلُ مِنْهَا مَا أَحَبَّ، وَبَيْنَ لِقَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنَّ الْعَبْدَ اخْتَارَ لِقَاءَ اللَّهِ» ، قَالَ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَهُوَ قَرِيبٌ مِنَ الْمِنْبَرِ، حَتَّى قَالَ شَيْخٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: مَا يُبْكِي هَذَا؟ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، أَوْ رَجُلًا مِنَ النَّاسِ، قَالَ: وَعَرَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا عَنَى نَفْسَهُ، فَلَمَّا ذَهَبَتْ عَبْرَتُهُ فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وَأَنْفُسِنَا، فَقَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: «مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَعْظَمَ عَلَيْنَا حَقًّا فِي صُحْبَتِهِ، وَمَالِهِ، مِنِ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُهُ خَلِيلًا، وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ» .

سید نا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے منبر پر تشریف فرماہو کر ارشاد فرمایا: بے شک میرا پاؤں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں یا حوض کوثر کے دہانے پر ہے اور بے شک اللہ نے اپنے کسی بندے کو ( دو باتوں میں ایک بات کا ) اختیار دیا ہے ۔1۔وہ جی بھر دنیا میں رہے اور اس میں من پسند کھائے۔2۔یا اللہ سے ملاقات کے لیے کمر بستہ ہو جائے اور اُس بندے نے لقائے الہی کو پسند کر لیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ منبر رسول ﷺ کے پہلو میں تشریف فرما سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اشک بار ہوتے تو ایک بزرگ انصاری فرمانے لگے :انہیں کس چیز نے رُلا دیا ؟ رسول اللہ ﷺ نے تو بنی اسرائیل میں سے یا عام لوگوں میں سے ایک آدمی کا ذکر فرمایا ہے ۔سید نا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق اس حقیقت کو بھانپ گئے تھے کہ آپ ﷺ نے اپنے نفس نفیس کو ہی مراد لیا ہے پس جب آپ رضی اللہ عنہ کے آنسو تھم گئے تو عرض کیا : میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربا ہوں بلکہ ہم اپنےآباواجداد ار جانوں کا آپ ﷺ پر فدا کر دیں گے تو رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر فرمایا اپی صحبت و مال کے اعتبار سے ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر کوئی مجھ پر استحقاق نہیں رکھتا ۔نیز میں لوگوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو انہی کو بناتا ، لیکن ایمانی محبت واخوت قائم ہے (1)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 21

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22

22 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: لَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَأَخَذَا طَرِيقَ ثَوْرٍ، قَالَ: فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يَمْشِي خَلْفَهُ وَيَمْشِي أَمَامَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَكَ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخَافُ أَنْ تُؤْتَى مِنْ خَلْفِكَ فَأَتَأَخَّرُ، وَأَخَافُ أَنْ تُؤْتَى مِنْ أَمَامِكَ فَأَتَقَدَّمُ، قَالَ: فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَى الْغَارِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَقُمَّهُ. قَالَ نَافِعٌ: فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَأَى جُحْرًا فِي الْغَارِ فَأَلْقَمَهَا قَدَمَهُ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كَانَتْ لَسْعَةٌ أَوْ لَدْغَةٌ كَانَتْ بِي

ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ گھر سے نکلے تو دونوں نے غارِ ثور کا راستہ لیا ؛ اثنائے سفر سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کبھی رسول اکرم ﷺ کے آگے اور کبھی آپ ﷺ کے پیچھے چلتے تو نبی کریم ﷺ نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: ایسا کیوں کر رہے ہو ؟ عرض کیا یارسول اللہ ﷺ مجھے جب عقبی جانب خطرہ لگتا ہے تو پیچھے ہوجاتا ہوں اور جب اگلی جانب خدشہ لاحق ہوتا ہے تو آگے آجاتا ہوں، جب دونوں غار کے پاس پہنچے تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ رُکیے ! میں پہلے اندر جھاڑ و دے لیتا ہوں۔ نافع رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک آدمی نے ابن ابی ملیکہ کے حوالے سے بیان کیا کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غار میں ایک سوراخ دیکھا اور اس پر اپنا پاؤں جمایا اور عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ اگر بالفرض کوئی چیز ڈسے یا کاٹے تو وہ مجھے ہی کاٹے (1)

لَهُ النَّبِيُّ «مَا لَكَ؟» ← فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يَمْشِي خَلْفَهُ وَيَمْشِي أَمَامَهُ، ← لَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ خَرَجَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَأَخَذَا طَرِيقَ ثَوْرٍ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، ← وَكِيعٌ، ← عَلَى أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 22

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23

23 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَفَّانُ قثنا هَمَّامٌ قَالَ: أنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ حَدَّثَهُ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْغَارِ - وَقَالَ مَرَّةً: وَنَحْنُ فِي الْغَارِ -: لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ إِلَى قَدَمَيْهِ لَأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا؟» .

سیدنا انس سے روایت ہے کہ انہیں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو حالت غار میں عرض کیا اور ایک مرتبہ یوں بیان کیا کہ ہم غار میں تھے (میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی) اگر ان لوگوں میں سے کسی ایک نے اپنے قدموں کی جانب دیکھ لیا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا، رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابو بکر ! آپ کا ان دو کے بارے میں کیاخیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ سبحابہ و تعالیٰ ہو(2)

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← أَبِي، قثنا عَفَّانُ قثنا هَمَّامٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 23

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24

24 - نا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - عَنْ عُرْوَةَ، أَوْ عَمْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نَفَعَنَا مَالُ أَحَدٍ مَا نَفَعَنَا مَالُ أَبِي بَكْرٍ»

عروہ یا عمرہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابو بکر صدیق کے مال جتنا نفع ہمیں کسی اور کے مال سے نہیں ہوا ۔ (3)

عُرْوَةَ، أَوْ عَمْرَةَ، ← الزُّهْرِيِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 24

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرِضْوَانُهُ · حديث 25

25 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ» ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: وَهَلْ أَنَا وَمَالِي إِلَّا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ [ص:66]

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :ابوبکر صدیق کے مال کی طرح کوئی دوسرا مال میرے لیے نافع نہیں ہوا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس پر اشک بارہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ میری جان و مال آپ ﷺ پر ہی نثار ہیں(1)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا الْأَعْمَشُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him · Hadith 25

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرِضْوَانُهُ · حديث 26

26 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی سابقہ روایت کے مثل فرمایا لیکن اس سند سے مذکور روایت میں "ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ روپڑے " کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔(2)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن نمير ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him · Hadith 26

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرِضْوَانُهُ · حديث 27

27 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِمَّا يَمْلِكُ، فَكُلُّ خَزَنَةِ الْجَنَّةِ يَدْعُوهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، يَا مُسْلِمُ، هَذَا خَيْرٌ هَلُمَّ إِلَيْهِ "، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا رَجُلٌ لَا تَوَى عَلَيْهِ، إِنْ تَرَكَ بَابًا دَخَلَ مِنَ الْآخَرِ، فَحَطَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِفَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: «وَاللَّهِ إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ، وَاللَّهِ مَا نَفَعَنِي مَالٌ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ» ، قَالَ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: وَهَلْ هَدَانِي اللَّهُ وَرَفَعَنِي إِلَّا بِكَ؟

ابو صالح رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنی مملوکہ چیزوں میں سے جوڑا خرچ کیا تو (کل قیامت کے روز) اسے پر خازن ِ جنت آواز لگائے گا: اے اللہ کے بندے ! اے مسلمان ! یہ خوب تر ہے ادھر آؤ پس سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ اسے کوئی نقصان نہیں اگر یہ ایک دروازہ چھوڑ کر دوسر ے میں داخل ہو جائے ۔نبی کریم ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کے کندھے سے اپنا ہاتھ ہٹایا پھر فرمایا: اللہ کی قسم مجھے بڑی امید ہے کہ تو انہی میں سے ہو گا۔ اللہ کی قسم مجھے ابو بکر کے مال سے زیادہ کسی اور کے مال سے فائدہ نہیں دیا راوی کہتے ہیں کہ پس سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اشک بار ہو گئے ۔ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میری من جانب اللہ رفعت و ہدایت آپ ﷺ ہی کے توسط سے ہے (3)

أَبِي صَالِحٍ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي، قثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قثنا زَائِدَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him · Hadith 27

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرِضْوَانُهُ · حديث 28

28 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا نَفَعَنِي مَالٌ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ» . قَالَ يَحْيَى: فَقَالَ رَجُلٌ لِسُفْيَانَ: سَمِعْتَهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ؟ فَقَالَ: حَدَّثَنِي وَائِلٌ.

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : مجھے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مال سے بڑھ کر کسی اور کے مال نے نفع نہیں دیا۔ (4)

وَائِلٍ ← مِنَ الزُّهْرِيِّ؟ فَقَالَ: ← يَحْيَى: فَقَالَ رَجُلٌ لِسُفْيَانَ: ← ما نفعني مال ما نفعني مال أبي بكر ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قثنا سُفْيَانُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him · Hadith 28

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرِضْوَانُهُ · حديث 29

29 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا سُفْيَانُ قَالَ: حَفِظْتُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا نَفَعَنَا مَالُ أَحَدٍ مَا نَفَعَنَا مَالُ أَبِي بَكْرٍ» .

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : مجھے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مال سے بڑھ کر کسی اور کے مال نے نفع نہیں دیا۔ (1)

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← حَفِظْتُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا سُفْيَانُ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him · Hadith 29

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرِضْوَانُهُ · حديث 30

30 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قثنا الْحُمَيْدِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ قثنا سُفْيَانُ قثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا نَفَعَنَا مَالُ أَحَدٍ مَا نَفَعَنَا مَالُ أَبِي بَكْرٍ» فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ مَعْمَرًا يَقُولُهُ عَنْ سَعِيدٍ، فَقَالَ: مَا سَمِعْنَا مِنَ الزُّهْرِيِّ إِلَّا عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کسی مال ہمیں ابوبکر کے امل کی طرح مفید ثابت نہیں ہوا۔ (2)

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قثنا الْحُمَيْدِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ قثنا سُفْيَانُ قثنا الزُّهْرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him · Hadith 30

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرِضْوَانُهُ · حديث 31

31 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ قثنا وُهَيْبٌ قثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا نَفَعَنِي مَالٌ فِي الْإِسْلَامِ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ» .

امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے اسلامی ضروریات میں ابوبکر صدیق کا مال سب سے بڑھ کر نفع مند ثابت ہوا۔(3)

الْحَسَنِ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ قثنا وُهَيْبٌ قثنا يُونُسُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him · Hadith 31

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ سُئِلَ عَنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرِضْوَانُهُ · حديث 32

32 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُعَاوِيَةُ، يَعْنِي: ابْنَ عَمْرٍو، قثنا أَبُو إِسْحَاقَ، يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجًا، أَوْ قَالَ: زَوْجَيْنِ، مِنْ مَالِهِ - أُرَاهُ قَالَ: فِي سَبِيلِ اللَّهِ - دَعَتْهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ: يَا مُسْلِمُ، هَذَا خَيْرٌ هَلُمَّ إِلَيْهِ "، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا رَجُلٌ لَا تَوَى عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ إِلَّا مَالُ أَبِي بَكْرٍ» ، قَالَ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: وَهَلْ نَفَعَنِي اللَّهُ إِلَّا بِكَ، وَهَلْ رَفَعَنِي اللَّهُ إِلَّا بِكَ؟

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے جوڑ خرچ کیا اور یا آپ ﷺ نے یہ فرمایا جس نے اپنے مال سےجوڑا خرچ کیا۔راوی کا خیال ہے کہ ساتھ یہ بھی فرمایا: اللہ کی راہ میں۔ تو اس کو دربان جنت آواز دے گا۔ اے مسلمان ! یہ بہتر ہے اس طرح آؤ ، ابو بکر صدیق نے عرض کیا یہ آدمی تو خسارے میں نہیں رہ سکتا ؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے کسی بھی شخص کے مال سے ابوبکر صدیق کے مال سے بڑھ کر فائدہ نہیں پہنچایا ۔ راوی کہتے ہیں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آب دیدہ ہوئے اور گزارش کی من جانب اللہ میری منفعت و رفعت آپ ﷺ ہی کے توسط سے ہے ۔(4)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي، قثنا مُعَاوِيَةُ، يَعْنِي: ابْنَ عَمْرٍو، قثنا أَبُو إِسْحَاقَ، يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him · Hadith 32

Sahih

chevron_left Previous
1…151152153…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him