Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1692

1692 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قثنا سَعِيدٌ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ. رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَأَنْتَ يَا جَعْفَرُ أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي، وَخُلِقَتْ مِنْ طِينَتِي الَّتِي خُلِقْتُ مِنْهَا» .

ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے جعفر ! تم سب سے زیادہ صورت و سیرت کے لحاظ سے میرے مشابہہ ہو اور تجھے اس مٹی سے بنایا گیا جس مٹی سے مجھے بنایا گیا ہے ۔ (3)

ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← أَبِي، قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قثنا سَعِيدٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him · Hadith 1692

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1693

1693 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حَسَنُ بْنُ مُوسَى، نا ابْنُ لَهِيعَةَ، نا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْلَمَ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لِجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ " أَشْبَهْتَ خَلْقِي، وَخُلُقِي.

حضور نبی کریم ﷺ کے غلام عبیدہ اللہ بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ یقینا رسول اللہ ﷺ نے سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے تم سب سے زیادہ صورت و سیرت کے لحاظ سے میرے مشابہہ ہو ۔ (4)

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْلَمَ مَوْلَى النَّبِيِّ ← بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي، قثنا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him · Hadith 1693

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1694

1694 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ لِي جَرِيرٌ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ» وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمٍ يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةَ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ قَالَ: وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ فِي صَدْرِي، حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي قَالَ: «اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا» ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَكَسَرَهَا وَحَرَّقَهَا، فَأَرْسَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ، قَالَ: يَعْلَى فِي هَذَا الْحَدِيثِ: ثُمَّ بَعَثَ حُصَيْنَ بْنَ رَبِيعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ، فَقَالَ رَسُولُ جَرِيرٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ، فَبَارَكَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ

سیدنا جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم ذوالخلصہ ( بت کا نام ہے ) سے مجھے آرام پہنچاؤ گئے ؟ وہ خثعم قبیلے کا بت تھا۔ وہ اس کو یمنی کعبے کا نام دیتے تھے تو میں ڈیڑھ سو احمسی شہسواروں کو لے کر وہاں پہنچا ، وہ لوگ گھوڑ سوار تھے ، میں نے عرض کیا رسول اللہ ﷺ میں گھوڑے پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا تو رسول اللہ ﷺ نے میرے سینے پر تھپکی لگائی یہاں تک کہ آپ ﷺ کی مبارک انگلیوں کے نشانات اپنے سینے پر دیکھے آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ اسے مضبوط کر ، ہدایت یافتہ اور رہنمائی کرنے والا بنا دے ۔ انہوں نے جا کر اس بٹ کو توڑا کر جلا دیا اور آپ ﷺ کی طرف اس کی خوشخبری بھیجی ۔ یعلی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ حصین بن ربیعہ کے ذریعے خوش خبری آپ ﷺ تک پہنچائی ، سیدنا جریر کے قاصد نے رسول اللہ ﷺ سے عر ض کیا اس ذات کی قسم ! جس نے آپ ﷺ کو سچا رسول بنا کر بھیجا ہے میں اس وقت آپ ﷺ کے پاس اس حال میں آیا ہوں کہ میں نے اس بت کو خارش زدہ اونٹ کی طرح بنا دیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے یہ بات سن کر ان کو دعا دی : اے اللہ احمس کے شہسواروں اور پیدل چلنے والوں میں برکت عطا فرما ۔ آپ ﷺ نے پانچ مرتبہ یہ دعا مانگی ۔ (1)

قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبِي، قثنا يَحْيَى، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him · Hadith 1694

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1695

1695 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ بَجِيلَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اكْتُبُوا الْبَجَلِيِّينَ وَابْدَءُوا بِالْأَحْمَسِيِّينَ» قَالَ: فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ مِنْ قَسْرَ قَالَ: حَتَّى أَنْظُرَ مَا يَقُولُ لَهُمْ، قَالَ: فَدَعَا لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ مَرَّاتٍ «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ، أَوِ اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِمْ» . مُخَارِقٌ الَّذِي شَكَّ

طارق بن شہاب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب یجیلہ کا وفد رسول اللہ ﷺ کےپاس آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بجلیوں کے نام لکھو مگر احمسیوں سے شروع کرو تو اس وقت ایک قسر قبیلے کا شخص اس غرض سے پیچھے رہا کہ رسول اللہ ﷺ اس کو کیا کہیں گے پس رسول اللہ ﷺ نے پانچ مرتبہ دعا فرمائی : اے اللہ ! ان لوگوں پر اپنی رحمت کا نزول فرما ، یا یہ فرمایا : اے اللہ ان لوگوں میں برکت عطا کر دے ، یہ شک مخارق راوی کو ہوا ہے ۔ (1)

لَهُمْ. ← حَتَّى أَنْظُرَ مَا ← فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ مِنْ قَسْرَ ← رَسُولُ اللَّهِ «اكْتُبُوا الْبَجَلِيِّينَ وَابْدَءُوا بِالْأَحْمَسِيِّينَ» ← قَدِمَ وَفْدُ بَجِيلَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← مُخَارِقٍ ← أبي قثنا محمد بن جعفر قثنا شعبة ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him · Hadith 1695

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1696

1696 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «مَا حَجَبَنِي عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ» .

سیدنا جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے اسلام لانے کے بعد مجھ سے جب بھی پردے میں گئے اور جب بھی مجھے دیکھا تو مسکرائے ۔(2)

مَا حَجَبَنِي عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ ← جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← قَيْسٍ ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قثنا إِسْمَاعِيلُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him · Hadith 1696

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1697

1697 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُعَرِّفِ بْنِ وَاصِلٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: «يَدْخُلُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ رَجُلٌ مِنْ خَيْرِ ذِي يُمْنٍ عَلَيْهِ مَسْحَةُ مَلَكٍ» قَالَ: فَدَخَلَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ.

اسماعیل بن رجاء سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا : تمہارے پاس آج اس راستے سے وہ شخص آئے گا جو بہت برکت والا ہے اس پر فرشتے کی مثل نشانی ہو گی تو سیدنا جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ (3)

اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← مُعَرِّفِ بْنِ وَاصِلٍ ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him · Hadith 1697

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1698

1698 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: لَمَّا صَالَحَ أَبُو بَكْرٍ أَهْلَ الرِّدَّةِ صَالَحَهُمْ عَلَى حَرْبِ مُجْلِيَةٍ، أَوْ سِلْمٍ مُخْزِيَةٍ قَالَ: قَدْ عَرَفْنَا الْحَرْبَ الْمُجْلِيَةَ فَمَا السَّلْمُ الْمُخْزِيَةُ؟ قَالَ: «تَشْهَدُونَ أَنْ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ، وَأَنْ قَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ، وَإِنْ تَدُوا قَتْلَانَا، وَلَا نَدِي قَتْلَاكُمْ، وَإِنَّ مَا أَصَبْنَا مِنْكُمْ، فَهُوَ لَنَا وَمَا أَصَبْتُمْ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ إِلَى أَهْلِهِ» . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

طارق بن شہاب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مرتدین سے اس بات پر صلح کی کہ یا تو عام جنگ تو ہم جانتے ہیں لکین شرمندہ کرنے والی صلح کونسی ہے ؟ فرمایا : تم یہ گواہی دو گے کہ ہمارے مقتولین جنتی ہیں اور تمہارے (مرتدین) مقتولین جہنم میں ہیں اور ہمارے مقتولین کی دیت تم دو گے اور ہم تمہارے مقتولین کی دیت نہیں دیں گے اور جو کچھ تم سے ہمیں ملے گا وہ ہمارا ہو گا اور جو ہمارا تمہیں ملے گا تو وہ جس کا ہو گا اس کو واپس کرو گے۔ (4)

طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← أبي قثنا محمد بن جعفر قثنا شعبة ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him · Hadith 1698

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1699

1699 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ: أنا حُصَيْنٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ أَوْ مَا أَدْرَكْتُ أَحَدًا، إِلَّا قَدْ مَالَتْ بِهِ الدُّنْيَا، إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ» .

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ جس کو بھی میں نے دیکھا ہے وہ دنیا کی طرف جھکا ہے ۔ (1)

جَابِرٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← حُصَيْنٍ ← أَبِي، قثنا ابْنُ إِدْرِيسَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them · Hadith 1699

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1700

1700 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، شَهِدَ ابْنُ عُمَرَ الْفَتْحَ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ وَمَعَهُ فَرَسٌ حَرُونٌ وَرُمْحٌ ثَقِيلٌ، فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ يَخْتَلِي لِفَرَسِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ، إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ» .

مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر بیس سال کے تھے جب وہ فتح مکہ میں شریک ہوئے ان کےپاس تیز رفتار گھوڑا اور ایک بھاری نیزہ تھا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بے شک یہ عبداللہ ہے یقینا یہ عبداللہ ہے۔(2)

مَعَهُ فَرَسٌ حَرُونٌ وَرُمْحٌ ثَقِيلٌ فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ يَخْتَلِي لِفَرَسِهِ ← مُجَاهِدٍ، شَهِدَ ابْنُ عُمَرَ الْفَتْحَ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← أَبِي، قثنا سُفْيَانُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them · Hadith 1700

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1701

1701 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ، «إِنَّ مِنْ أَمْلَكِ شَبَابِ قُرَيْشٍ لِنَفْسِهِ عَنِ الدُّنْيَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ» .

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ بن عمر رضی اللہ عنہ تمام قریشی نوجوانوں سے بڑھ کر دنیا کے بارے میں اپنے نفس پر قابو پانے پانے والے ہیں ۔ (3)

الدُّنْيَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ» ← عَبْدُ اللَّهِ، «إِنَّ مِنْ أَمْلَكِ شَبَابِ قُرَيْشٍ لِنَفْسِهِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا الْأَعْمَشُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them · Hadith 1701

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1702

1702 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قثنا سَلَّامٌ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ: لَمَّا كَانَ مِنْ عُثْمَانَ مَا كَانَ، وَاخْتِلَاطِ النَّاسِ أَتَوْا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقَالُوا: أَنْتَ سَيِّدُنَا، وَابْنُ سَيِّدِنَا، اخْرُجْ يُبَايِعْكَ النَّاسُ، وَكُلُّهُمْ بِكَ رَاضٍ، فَقَالَ: «لَا وَاللَّهِ لَا يُهْرَاقُ فِي سَبَبِي مِحْجَمَةٌ مِنْ دَمٍ، مَا كَانَ فِيَّ رُوحٌ» ، ثُمَّ عَادُوا إِلَيْهِ فَخَوَّفُوهُ فَقَالُوا: لَتُخْرُجَنَّ أَوْ لَتُقْتَلَنَّ عَلَى فِرَاشِكَ، فَقَالَ: مِثْلَهَا، فَأَطْمَعُ وَأُخِيفُ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا اسْتَقَلُّوا مِنْهُ بِشَيْءٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سےر وایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جوکچھ ہوا وہ ہو ا تو کچھ مختلف قسم کے لوگ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کےپاس آکر کہنے لگے: آپ رضی اللہ عنہ ہمارے سردار اور سردار کے بیٹے ہو، اس لیے آپ تشریف لائیں لوگ آپ سے بیعت کرنے والے ہیں ، سب آپ پرخوش ہیں تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں ! مجھے یہ پسند نہیں کہ میری وجہ سے کسی کا سینگی کے برابر بھی خون بہایا جائے تو انہوں نے پھر مطالبہ کیا اور ان کو ڈرایا دھمکا یا اور کہا کہ آپ تشریف لائیں ، ورنہ آپ کو آپ کے بستر پر ہی قتل کیا جائے گا۔ تو انہوں نے فرمایا میری بھی یہی خواہش ہے اور اسی سے مجھے ڈرایا جاتا ہے پس اللہ کی قسم ! انہوں نے ان سے کچھ بھی نہ پایا یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے۔ (1)

الْحَسَنِ، ← أَبِي، قثنا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قثنا سَلَّامٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them · Hadith 1702

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1703

1703 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: أنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ «لَوْ كُنْتُ شَاهِدًا لِأَحَدٍ حَيٍّ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، لَشَهِدْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ» .

سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ اگر میں کسی زندہ انسان کے لیے جنتی ہونے کی گواہی دیتا تو سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کےلیے دیتا ۔ (2)

قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← أَبِي، قثنا إِسْمَاعِيلُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them · Hadith 1703

Daif

chevron_left Previous
1…146147148…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him