Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ بَنِي غِفَارَ، وَأَسْلَمَ وَغَيْرِهِمْ · حديث 1668

1668 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبِلَالٍ «هَلْ جَهَّزْتَ الرَّكْبَ الْبَجَلِيِّينَ؟ ابْدَأْ بِالْأَحْمَسِيِّينَ قَبْلَ الْقَسْرِيِّينَ» .

سیدنا قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تم نے بجلی سواروں کا انتظام کیا ہے ، پس قسیریوں سے پہلے احمسیوں سے شروع کرو۔ (4)

قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others · Hadith 1668

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ بَنِي غِفَارَ، وَأَسْلَمَ وَغَيْرِهِمْ · حديث 1669

1669 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَبِي: قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: أَتَاهُ رَجُلَانِ مِنْ ثَقِيفٍ فَقَالَ: «مِمَّنْ أَنْتُمَا؟» فَقَالَا: ثَقَفِيَّانِ قَالَ: «ثَقِيفٌ مِنْ إِيَادٍ، وَإِيَادٌ مِنْ ثَمُودٍ» ، فَكَأَنَّ ذَلِكَ شَقَّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ شَقَّ عَلَيْهِمَا قَالَ: «مَا يَشُقُّ عَلَيْكُمَا؟ إِنَّمَا نَجَا مِنْ ثَمُودٍ صَالِحٌ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ فَأَنْتُمْ ذُرِّيَّةُ قَوْمٍ صَالِحَينَ» .

سیدنا عمر ان بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ثقیف کے دو آدمی آئے تو انہوں نے پوچھا : تم کون ہو؟ کہنے لگے : ہم دونوں ثقفی ہیں ، انہوں نے کہا : ثقیف کا تعلق ایاد سے اور ایاد کا تعلق ثمود سے ہے ، یہ بات ان دونوں آدمیوں پر بہت ناگوار گزرنی چاہیے جب سیدنا عمران حصین رضی اللہ عنہ کو محسوس ہوا کہ ان پر گراں گزری ہے تو کہنے لگے : تمہیں یہ بات ناگوار نہیں گزرنی چائیے کیونکہ سیدنا صالح علیہ السلام اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں نےنجات پائی تھی وہ لوگ بھی ثمودی تھے یوں تم نیکوکار قوم کی اولاد ہو۔ (5)

ثَقَفِيَّانِ ← «مِمَّنْ أَنْتُمَا؟» ← أَتَاهُ رَجُلَانِ مِنْ ثَقِيفٍ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← رَجُلٌ: ← قَتَادَةَ ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others · Hadith 1669

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ بَنِي غِفَارَ، وَأَسْلَمَ وَغَيْرِهِمْ · حديث 1670

1670 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قثنا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ قَالَ: قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ يَعْنِي لِرَجُلٍ: «مِمَّنْ أَنْتَ؟» قَالَ: مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ: «فَإِنَّ ثَقِيفًا، مِنْ إِيَادٍ، وَإِيَادٌ، مِنْ ثَمُودٍ» قَالَ: فَكَأَنَّ الرَّجُلُ شَقَّ عَلَيْهِ قَالَ: فَقَالَ عِمْرَانُ «لَا يَشُقُّ عَلَيْكَ، فَإِنَّمَا نَجَا مِنْهُمْ خِيَارُهُمْ» .

زرارہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ کہنے لگا : میں ثقیف سے ہوں تو انہوں نے کہا کہ ثقیف ایاد سے ہیں اور یاد ثمود سے ہیں یہ بات گویا اس پر بہت ناگوار گزری تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہنے لگے تمہیں یہ با ت نا گوار نہیں گزرنی چاہیے کیونکہ ان میں سے بہتر لوگوں کو اللہ نے نجات دی تھی ۔ (1)

فَقَالَ عِمْرَانُ «لَا يَشُقُّ عَلَيْكَ، فَإِنَّمَا نَجَا مِنْهُمْ خِيَارُهُمْ» ← فَكَأَنَّ الرَّجُلُ شَقَّ عَلَيْهِ ← «فَإِنَّ ثَقِيفًا، مِنْ إِيَادٍ، وَإِيَادٌ، مِنْ ثَمُودٍ» ← مِنْ ثَقِيفٍ ← عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ يَعْنِي لِرَجُلٍ: «مِمَّنْ أَنْتَ؟» ← زُرَارَةَ ← قَتَادَةَ ← أَبِي، قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قثنا عِمْرَانُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others · Hadith 1670

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ بَنِي غِفَارَ، وَأَسْلَمَ وَغَيْرِهِمْ · حديث 1671

1671 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَقَالَ النَّاسُ: هَلَكُوا، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ، اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ، اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ» .

سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا طفیل بن عمر والد وسی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آئے تو رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: بلاشبہ دوس قبیلہ نافرمانی اور انکار پر اتر آیا ہے ۔ آپ ان کے لیے دعا فرمائیں تو رسول اللہ ﷺ نے قبلہ رخ ہوئے ہاتھ اٹھا کر ان کے لیے دعا فرمانے لگے ، لوگوں نے کہا: اب تو وہ ہلاک ہو گئے (لوگوں نے خیال کیا کہ شاید آپ ﷺ ان کے خلاف دعا کرنے لگے ہیں) مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ! دوس قبیلے کو ہدایت عطا فرما اور ان کو میرے پاس لے آ، اے اللہ دوس قبیلے کو ہدایت عطا فرما ، ان کو میرے پاس لے آ، اے اللہ دوس قبیلے کوہدایت عطا فرما اور ان کو میرے پاس لے آ۔(2)

جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← أَبِي، قثنا سُفْيَانُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others · Hadith 1671

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ بَنِي غِفَارَ، وَأَسْلَمَ وَغَيْرِهِمْ · حديث 1672

1672 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَزِيدُ قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ وَأَصْحَابُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ _ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ _ إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، فَقُلْتُ: هَلَكَتْ دَوْسٌ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهَا» .

سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا طفیل بن عمر والد وسی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آئے تو رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: بلاشبہ دوس قبیلہ نافرمانی اور انکار پر اتر آیا ہے ۔ آپ ان کے لیے دعا فرمائیں تو رسول اللہ ﷺ نے قبلہ رخ ہوئے ہاتھ اٹھا کر ان کے لیے دعا فرمانے لگے ، لوگوں نے کہا: اب تو وہ ہلاک ہو گئے (لوگوں نے خیال کیا کہ شاید آپ ﷺ ان کے خلاف دعا کرنے لگے ہیں) مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ! دوس قبیلے کو ہدایت عطا فرما اور ان کو میرے پاس لے آ، اے اللہ دوس قبیلے کو ہدایت عطا فرما ، ان کو میرے پاس لے آ، اے اللہ دوس قبیلے کوہدایت عطا فرما اور ان کو میرے پاس لے آ۔(3)

قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ وَأَصْحَابُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالُوا: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبِي، قثنا يَزِيدُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others · Hadith 1672

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ بَنِي غِفَارَ، وَأَسْلَمَ وَغَيْرِهِمْ · حديث 1673

1673 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: أنا يَزِيدُ قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «النَّاسُ مَعَادِنٌ، تَجِدُونَ خِيَارَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، خِيَارَهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا» .

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگ تانبے کی مانند ہیں جو ان میں جاہلیت میں بہتر تھا وہ اسلام میں بھی بہتر ہے بشرطیکہ اسلام کو اچھی طرح سمجھ لے ۔ (1)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ: ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others · Hadith 1673

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ بَنِي غِفَارَ، وَأَسْلَمَ وَغَيْرِهِمْ · حديث 1674

1674 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ، ثُمَّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رُهْمٍ الْغِفَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «هَا فَإِنَّ أَعَزَّ أَهْلِي عَلَيَّ إِنْ يَتَخَلَّفَ عَنِّي الْمُهَاجِرُونَ، مِنْ قُرَيْشٍ، وَالْأَنْصَارُ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارُ» .

سیدنا ابو رہم غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جو کہ غزوہ تبوک کے صحابہ کرام میں سے ہیں آپ ﷺ نے ان نے فرمایا : آگاہ رہو ! سب سے دشوار بات مجھے پریہ ہو گی کہ میرے گھر والوں میں سے قریشی مہاجرین ، انصار ، اسلم اور غفار قبیلے مجھ سے (جہاد میں ) پیچھے رہیں !(2)

أَبَا رُهْمٍ الْغِفَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ غَزْوَةَ تَبُوكَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ← ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ، ثُمَّ أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others · Hadith 1674

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ بَنِي غِفَارَ، وَأَسْلَمَ وَغَيْرِهِمْ · حديث 1675

1675 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: «أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ» قَالَ أُبَيٌّ: أَوَ سَمَّانِي لَكَ؟ قَالَ: «وَسَمَّاكَ لِي» قَالَ: فَبَكَى أُبَيٌّ.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: مجھے میرے رب عزوجل نے حکم دیا ہے کہ تمہارے سامنے قرآن پڑھوں تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : کیا اللہ نے میرا نام لیا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہاں ! میرے لیے تیرا نام لیا ہے تو یہ سن کر سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ (فرط مسرت سے) آب دیدہ ہو پڑے۔ (3)

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others · Hadith 1675

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ بَنِي غِفَارَ، وَأَسْلَمَ وَغَيْرِهِمْ · حديث 1676

1676 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ: أنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، سَمِعَ ابْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ: «كَانَتْ أَسْلَمُ يَوْمَئِذٍ يَعْنِي يَوْمَ الشَّجَرَةِ ثُمُنَ الْمُهَاجِرِينَ» .

سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ درخت والے دن (حدیبیہ کے مقام پر ) قبیلہ اسلم مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھا ۔ (4)

«كَانَتْ أَسْلَمُ يَوْمَئِذٍ يَعْنِي يَوْمَ الشَّجَرَةِ ثُمُنَ الْمُهَاجِرِينَ» ← ابن اَبِیْ اَوْفٰی ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي، قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others · Hadith 1676

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ بَنِي غِفَارَ، وَأَسْلَمَ وَغَيْرِهِمْ · حديث 1677

1677 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أنا أَبُو مَالِكٍ قثنا مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَسْلَمَ، وَغِفَارَ، وَمُزَيْنَةَ، وَأَشْجَعَ، وَجُهَيْنَةَ، وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي كَعْبٍ مَوَالِيَ دُونَ النَّاسِ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُمْ» .

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسلم ، غفار ، مزینہ ، اشجع ، جہینہ اور لوگوں کے علاوہ بنی کعب کے غلاموں کا دوست اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ کوئی نہیں ہے ۔ (5)

النَّبِيِّ ← اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← أَبُو مَالِكٍ قثنا مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ، ← أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others · Hadith 1677

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ بَنِي غِفَارَ، وَأَسْلَمَ وَغَيْرِهِمْ · حديث 1678

1678 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» .

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسلم قبیلے کو اللہ سلامتی دے اور غفار قبیلے کی اللہ مغفرت فرمائے اور عصیہ قبیلہ تو اللہ اور اس کے رسول کا نا فرمان ہے ۔ (1)

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others · Hadith 1678

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ بَنِي غِفَارَ، وَأَسْلَمَ وَغَيْرِهِمْ · حديث 1679

1679 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا رَوْحٌ قثنا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ» .

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے :غفار قبیلے کی اللہ مغفرت فرمائے اور اسلم قبیلے کو اللہ سلامتی دے ۔ (2)

غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ← النَّبِيِّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← أَبِي، قثنا رَوْحٌ قثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others · Hadith 1679

Sahih

chevron_left Previous
1…144145146…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him