فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 316
316 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ نا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: مَرَرْتُ بِعُمَرَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَدْرَكَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ: يَا فَتًى ادْعُ لِي بِخَيْرٍ، بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَنْ أَنْتَ رَحِمَكَ اللَّهُ؟ قَالَ: أَبُو ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، أَنْتَ أَحَقُّ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ: نِعْمَ الْغُلَامُ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ» . [ص:252]
غضیف بن حارث رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میرا گزر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا اس وقت ان کے ساتھ صحابہ کرام کا یک گروہ بھی تھا ، ان میں سے ایک آدمی نے میرے پاس آکر کہا : اے نوجوان ! اللہ تجھے برکت دے آپ میرے لیے بھلائی کی دعا کری ۔ میں نے کہا اللہ آپ پر رحم فرمائے آپ کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا: میں ابوذر ہوں۔ میں نے کہا : اللہ آپ کی مغفرت فرمائے آپ زیادہ حقدار ہیں کہ آپ میرے لیے دعا کریں ۔انہوں نے فرمایا: جی ہاں !لیکن میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا تھا آپ فرما رہے تھے کہ آپ اچھے لڑکے ہیں اور میں نے نبی کریم ﷺ سے بھی سنا تھا کہ یقینا اللہ نے عمر کی زبان پر حق جاری فرمادیا ہے ۔ (1)
بِهِ» [ص:252] ← إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَی لِسَانِ عُمَرَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← نِعْمَ الْغُلَامُ ← عُمَرَ، ← إِنِّي ← قُلْتُ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَنْتَ أَحَقُّ ← أَبُو ذَرٍّ ← قُلْتُ وَمَنْ أَنْتَ رَحِمَكَ اللَّهُ ← يَا فَتًى ادْعُ لِي بِخَيْرٍ، بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ، ← مَرَرْتُ بِعُمَرَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَدْرَكَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ ← غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ← مَكْحُولٌ ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ← أَبِي، قثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 316
