Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1428

1428 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ قَالَ: أنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَكُنْتُ مِنَ الْأَنْصَارِ» .

سید نا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ہوتا اگر باقی لوگ ایک راستے پر چلتے اور انصار دوسرے راستے پر چلتے تو میں انصار کے ساتھ ہوتا۔(1)

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبِي، قثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1428

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1429

1429 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ إِنَّ. النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: «اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ فَارْحَمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةِ، وَالْعَنْ عُضَلًا وَالْقَارَةَ هُمْ كَلَّفُونَا نَقْلَ الْحِجَارَةِ» .

امام طاؤس رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خندق کے موقع پر فرمایا : اے اللہ ! زندگی تو صرف آخرت کی ہی ہے پس انصار اور مہاجرین پر رھم فرما اور عضلا اور قارہ (دوقبیلوں کے نام ہیں ) پر لعنت بھیج ، جنہوں نے ہمیں پتھر اٹھانے پر مجبور کیا ۔(2)

أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1429

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1430

1430 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، «أَنَّ الْأَنْصَارَ تَلَقَّتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ» .

عروۃ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ پہنچے تو انصار نے آپ ﷺ کا استقبال کیا ۔ (3)

عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، «أَنَّ الْأَنْصَارَ تَلَقَّتْ رَسُولَ اللَّهِ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ» ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1430

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1431

1431 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: أنا شُعْبَةُ، وَحَجَّاجٌ قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ فَقَالَ: «أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟» فَقَالُوا: لَا، إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» فَقَالَ: «إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ، وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُجِيرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى بُيُوتِكُمْ؟» لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا. قَالَ: حَجَّاجٌ وَسَلَكَتْ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ: «وَسَلَكَ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ» .

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کو جمع کیا اور دریافت کیا : تمہارے علاوہ کوئی یہاں پر ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : نہیں ! مگر ایک ہمارا بھانجا ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : بھانجا قوم میں سے ہی ہوتا ہے اور فرمایا : یقینا قریش نے ابھی ابھی زمانہ جالیت اور مصائب سے نجات حاصل کی ہے میرا ارادہ ہے کہ میں ان کو پنا ہ دوں اور ان کے دل میں اسلام کی الفت ڈالوں ۔ کیا تم ا س بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ دنیا لے کر لوٹ رہے ہیں اور تم اپنے گھروں کی طرف رسول اللہ ﷺ کو لے کر آرہے ہو ( راوی کا بیان ہے کہ حجاج راوی " سلکت " اور محمد راوی " سلک " کا لفظ بیان کرتے ہیں ) اگر باقی لوگ ایک راستہ اپنائیں اور انصار واد ی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی ہی میں جاؤں گا۔ (4)

لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا ← أَفِيکُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِکُمْ ← جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ الْأَنْصَارَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ ← أبي قثنا محمد بن جعفر ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1431

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1432

1432 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: أنا شُعْبَةُ، وَحَجَّاجٌ قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قثنا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةِ قَالَ: حَجَّاجٌ قَالَ: شُعْبَةُ: إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَةِ، «اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةِ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ» .

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرما رہے تھے : بلا شبہ زندگی تو آخرت ہی کی ہے ۔ حجاج راوی کہتے ہیں کہ شعبہ نے ان الفاظ کو بیان کیا : یقینا بھلائی تو آخرت ہی کی ہے، اے اللہ ! زندگی تو آخرت ہی کی ہے پس تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما ۔ (1)

قثنا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ ← أبي قثنا محمد بن جعفر ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1432

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1433

1433 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُهَاجِرُونَ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ فَقَالَ أَنَسٌ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ خَدَمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ قَالَ: فَأَجَابُوهُ [البحر الرجز] نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا ... عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا " أَوْ لَا نَفِرُّ أَبَدًا.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے ، مہاجرین ایک ٹھنڈی صبح خندق کھود رہے تھے ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس وقت ان کے پاس خادم نہیں تھے ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! بھلائی تو آخرت ہی کی ہے پس مہاجرین اور انصار کی مغفرت فرما ۔ صحابہ کرام نے جواب میں کہا : ہم نے تو سیدنا محمد ﷺ کے دست مبارک پر دم واپسین تک جہاد کی بعیت کی ہے اور نہ ہم میدان سے کبھی بھا گیں گے ۔ (2)

رَسُولُ اللَّهِ اللَّهُمَّ إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ ← أَنَسٌ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ خَدَمٌ ← خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ وَالْمُهَاجِرُونَ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1433

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1434

1434 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ مَعْصُوبُ الرَّأْسِ، فَتَلَقَّاهُ الْأَنْصَارُ، وَنِسَاؤُهُمْ وَأَبْنَاؤُهُمْ، فَإِذَا هُوَ بِوُجُوهِ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ، وَقَالَ: إِنَّ الْأَنْصَارَ قَدْ قَضَوْا مَا عَلَيْهِمْ، وَبَقِيَ مَا عَلَيْكُمْ فَأَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ ".

سیدنا انس سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ اپنے سر مبارک کی درد کی حالت میں تشریف لائے تو آپ ﷺ کی ملاقات انصار ، انکی عورتوں اور ان کے بچوں سے ہوئی جب آپ ﷺ نے انصار کے چہروں کو دیکھا تو ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں مجھ محمد (ﷺ) کی جان ہے بلا شبہ میں تم سے محبت کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے اپنا حق ادا کیا ہے اور تم پر ان کا حق باقی ہے پس تم ان (انصار ) میں سے احسان کرنے والوں کے ساتھ احسان کرو اور ان کی لغزشوں سے در گزر کرو۔ (3)

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1434

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1435

1435 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ آتِكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ بِي؟ أَوَلَمْ آتِكُمْ مُتَفَرِّقِينَ فَجَمَعَكُمُ اللَّهُ بِي؟ أَوَلَمْ آتِكُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «أَفَلَا تَقُولُونَ جِئْتَنَا خَائِفًا فَآمَنَّاكَ، وَطَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ، وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ» ، قَالُوا: بَلْ لِلَّهِ الْمَنُّ عَلَيْنَا وَلِرَسُولِهِ.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کو مخاطب کر کے فرمیا اے انصار کے گروہ ! جب میں تمہارے پاس آیا اس وقت تم گم گشتہ راہ تھے ، اللہ نے میری وجہ سے تمہیں ہدایت دی میں آیا تم بکھرے ہوئے تھے ، میری وجہ سے اللہ نے تمہیں یکجا کر دیا ۔ میں آیا تم ایک دوسرے کے دشمن تھے میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت پیدا کی انصار نے جواب میں عرض کیا : کیوں نہیں ! یار سول اللہ ﷺ مگر نبی کریم نے فرمایا : اے انصار تم ایسے کیوں نہیں کہتے کہ آپ (سیدنا محمد ﷺ) ڈرے ہوئے ہمارے پاس آئے ، ہم نے آپ ﷺ کو امن دیا آپ ﷺ کو اپنوں نے نکال دیا ہم نے آپ کو جگہ دی اور لوگوں نے آپ کو تنہا چھوڑ دیا ہم نے آپ ﷺ کا ساتھ دیا انصار نے جواب میں عرض کیا : بلکہ اللہ اور رسول ﷺ کے ہم پر بڑے احسان ہیں ۔ (1)

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← أَبِي، قثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1435

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1436

1436 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ وَهُمْ رَهْطُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ» ، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: «ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ» ، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ» ، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ» ، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ» ، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ» ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ذَكَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ آخِرَ أَرْبَعِ آدُرٍ سَمَّاهُمْ، لَأُكَلِّمَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: أَوَ مَا تَرْضَى أَنْ يَذْكُرَكُمْ آخِرَ أَرْبَعِ آدُرٍ؟ فَوَاللَّهِ لَمَنْ تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ لَمْ يَذْكُرْ أَكْثَرُ مِمَّنْ ذَكَرَ قَالَ: فَرَجَعَ سَعْدٌ. [ص:801]

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تم کو انصار کے سب سے بہتر گھرانوں کی خبر نہ دوں ؟ صحابہ کرام نے عرج کیا : کیوں نہیں ! یارسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا : گھروں میں بہتر گھر بنو عبد الاشھل سعد بن معاذ کے قیبلے کا ہے ۔ صحابہ کرام نے پوچھا : اے اللہ کے نبی ﷺ ان کے بعد کس کا ہے ؟ فرمایا بنو نجار کا ۔ صحابہ کرام نے عرج کیا یا رسول اللہ ﷺ پھر ان کے بعد ؟ فرمایا بنو ھارث بن خزرج کا ، صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ان کے بعد فرمایا بنو ساعدہ کا ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ان کے بعد ؟ فرمایا : بنو نجار کا ، صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ان کے بعد ؟ فرمایا تمام انصار کے گھر بہتر ہیں ۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے ہم سے آخری بار چار گھروں کا تکرہ فرمایا تو میں نے کہا میں ضرور رسول اللہ ﷺ سے ا س کے بارے میں استفسار کروں گا مجھے ایک شنخص ملا اس شخص کو میں نے اپنے ارادے کے بارے میں آگاہ کیا تو اس نے کہا : کیا تم اس بات پر خؤش نہیں ہو کہ آپ ﷺ نے آپ کے قبیلے کے مزید چار گھروں کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ اللہ کی قسم ! آپ ﷺ نے انصار کے گھروں میں سے جن کا تذکرہ نہیں فرمایا وہ انکے گھروں کی نسبت (تعداد میں) زیادہ ہیں جن کا آپ نے تذکرہ فرمایا ہے (یعنی اس شخص نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو یہ با ت سمجھائی کہ آپ ﷺ کا کچھ گھروں کا تذکرہ نہ فرمانا یہ معنی نہیں رکھتا کہ ان کی کوئی فضیلت نہیں ہے ) یہ سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنا ارادہ ترک کر دیا ۔ (2)

الزُّهْرِيِّ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1436

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1437

1437 - قَالَ مَعْمَرٌ: أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ، وَقَتَادَةُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ» ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ

معمر کی روایت میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے پہلے بنو نجار کا پھر بنو عبدالا شہل کا ذکر کیا ۔ (3)

مِثْلَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ← «بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ» ثُمَّ ← ثَابِتٌ، وَقَتَادَةُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ ← مَعْمَرٌ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1437

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1438

1438 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ خَرَجَ فَاسْتَشَارَ النَّاسَ فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ فَسَكَتَ فَقَالَ: رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِنَّمَا يُرِيدُكُمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَا نَكُونُ كَمَا قَالَتْ: بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى: اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُونَ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَهَا حَتَّى تَبْلُغَ بَرْكَ الْغِمَادِ لَكُنَّا مَعَكَ ".

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ بدر کی طرف روانہ ہوئے تو لوگوں سے مشورہ لیا ۔سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا ، پھر لوگوں نے مشورہ لیا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا ،تو رسول اللہ ﷺ خامورہے پھر ایک انصاری نے کہا : اے لوگو! رسول اللہ ﷺ تم (انصار ) سے مخاطب ہیں تو انصار نے کہا یا رسول الللہ ﷺ! ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں ہیں جنہوں نے کہا اے موسیٰ ! تم اور تمہارا جاؤ خؤد جہاد کر و اور ہم یہاں پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ لیکن اللہ کی قسم ! اگر آپ برک الغماد مقام تک اپنی سواری پر جائیں گے تو ہم آپ ﷺ کے ساتھ جائیں گے۔(1)

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1438

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1439

1439 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا يَزِيدُ قَالَ: أنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ فِي وَادٍ أَوْ شِعْبٍ وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ فِي وَادِي الْأَنْصَارِ وَشِعْبِهِمْ» .

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگ رہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ہوتا اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔ (2)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا يَزِيدُ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1439

chevron_left Previous
1…124125126…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him