Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1404

1404 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اللَّيْثِ الْجَوْهَرِيُّ - سَنَةَ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ - نا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي عُمَيْرٍ الدَّهَّانُ، نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، نا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ قَالَ: سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يُحَدِّثُ قَالَ: طَلَبْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فِي مَنْزِلِهِ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: قَدْ ذَهَبَ يَأْتِي بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلْتُ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْفِرَاشِ، وَأَجْلَسَ فَاطِمَةُ عَلَى يَمِينِهِ وَعَلِيٌّ عَلَى يَسَارِهِ وَحَسَنٌ، وَحُسَيْنٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَفَعَ عَلَيْهِمْ بِثَوْبِهِ فَقَالَ: " {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهَ لِيُذْهِبَ عَنْكُمَ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] ".

سیدنا واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک دفعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گھر سے ان کا پتہ کیا ( کہ وہ کہاں ہیں) تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کہنے لگیں : وہ نبی کریم ﷺ کے پاس گئے ہیں ۔ (میں نے وہاں انتظار کیا ) جب رسول اللہ ﷺ (گھر میں) داخل ہوئے تو میں بھی داخل ہوا ، رسول اللہ ﷺ نیچے فرش پر بیٹھ گئے ، سیدنہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے دائیں جانب ،سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے بائیں جانب اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گئے ، پھر آپ ﷺ نے ان سب کو ایک چادر میں اپنے ساتھ لپیٹا اور یہ آیت تلاوت فرمائی (انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھر کم تطھیرا ) ۔(1)

طَلَبْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فِي مَنْزِلِهِ ← وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي عُمَيْرٍ الدَّهَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اللَّيْثِ الْجَوْهَرِيُّ سَنَةَ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1404

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1405

1405 - حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْوَرَّاقُ، نا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخَذَ بِيَدَيِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ وَقَدْ وَضَعَ قَدَمَ الْحُسَيْنِ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: «تَرَقَّ عَيْنُ بَقَّةٍ، تَرَقَّ عَيْنُ بَقَّةٍ» .

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ نے سیدنا حس ین رضی اللہ عنہ کے دونوں ہاتھوں کو پکڑا اور ان کے پاؤں کو اپنے پاؤں پر رکھ کر فرمایا : چڑھو ! یہ بہنے والا چشمہ ہے ، چڑھو ! یہ بہنے والا چشمہ ہے ۔ (2)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْوَرَّاقُ ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1405

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1406

1406 - حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا عَمْرٌو الْعَنْقَزِيُّ قثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَتْ لِي أُمِّي: مَتَى عَهْدُكَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: فِي آخِرِهِ: سَيَأْتِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْتَغْفِرُ لِي وَلَكِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ قَالَ: فَصَلَّى مَا بَيْنَهُمَا مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَاتَّبَعْتُهُ قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي إِذْ عَرَضَ لَهُ عَارِضٌ، فَنَاجَاهُ ثُمَّ مَضَى، وَاتَّبَعْتُهُ فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» قُلْتُ: حُذَيْفَةُ قَالَ: «مَا جَاءَ بِكَ يَا حُذَيْفَةُ؟» فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَتْ لِي أُمِّي، فَقَالَ: «غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا حُذَيْفَةُ وَلِأُمِّكَ أَمَا رَأَيْتَ الْعَارِضَ الَّذِي عَرَضَ لِي؟» قُلْتُ: بَلَى بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَالَ: " فَإِنَّهُ مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَمْ يَهْبِطْ إِلَى الْأَرْضِ قَبْلَ لَيْلَتِهِ هَذِهِ، اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ فِي أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ فَبَشَّرَنِي أَوْ فَأَخْبَرَنِي: أَنَّ الْحَسَنَ، وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَنَّ فَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ".

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری والدہ نے مجھ سے دریافت کیا : تم نے نبی کریم ﷺ سے آخری ملاقات کب کی ہے ؟ پھر راوی نے باقی حدیث بیان کی آخر میں یہ بیان کیا : (سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ سے مخاطب ہوئے ) جلد ہی میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری دوں گا اور اپنے لیے اور آپ کی بخشش کے لیے درخواست کروں گا، میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر آپ کے ساتھ نماز مغرب پڑھی ، آپ ﷺ نے مغرب اور عشاء کے درمیان کوئی نماز پڑھی ، پس جب آپ ﷺ چل پڑے ، میں پیچھے چل دیا ، جاتے ہوئے کوئی آنے والا سامنے آیا ، دونوں نے سرگوشی کی ، پھر آپ ﷺ چل پڑے ، میں پیچھے چلا دریافت کیا : کون ؟ میں بولا : حذیفہ ۔ فرمایا : حذیف ! کیسے آنا ہوا! میں نے اپنی ماں کا پیٹام بتایا تو فرمانے لگے : حذیفہ ! اللہ نے تیری اور تیری ماں کی مغفرت فرما دی ہے ، کیا تم نے دیکھا کہ راستے میں جو پیش آیا ، میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں کیوں نہیں (یعنی ضرور دیکھا ہے ) تو آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے ایک ایسا فرشتہ ملا تھا جو اس رات سے پہلے کبھی زین پر نہین اترا ، اس نے مجھے سلام کرنے آنے کی اپنے رب سے اجازت طلب کی ، اس نے مجھے خوشخبری سنائی کہ حسن و حسین جنتی نوجوانوں اور فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں ۔ (3)

حُذَيْفَةَ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، ← عَمْرٌو الْعَنْقَزِيُّ قثنا إِسْمَاعِيلُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1406

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1407

1407 - حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَحْمَسِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْقُرَشِيُّ قَالَ: أنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجَمِّرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ حَسَنًا قَطُّ إِلَّا دَمَعَتْ عَيْنِي، جَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا مَعَهُ، فَقَالَ: «ادْعُوا لِي لُكَعًا أَوْ أَيْنَ لُكَعٌ؟» فَجَاءَ الْحَسَنُ يَشْتَدُّ حَتَّى أَدْخَلَ يَدَهُ فِي لِحْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَهُ عَلَى فَمِهِ أَوْ فَمَهُ عَلَى فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ، فَأَحَبَّ مَنْ يُحِبُّهُ» .

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بھی میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں تو میرے آنسو بہتے ہیں ایک دن میں رسول اللہﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا : چھوٹا کہاں ہے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور اپنے ہاتھوں کو نبی کریم ﷺ کی ڈاڑھی مبارک میں داخل کر لیا ، رسول اللہ ﷺ نے اپنے منہ کو ان کے منہ پر رکھا اور فرمای : اے اللہ ! مجھے اس محبت ہے تو بھی اس کے ساتھ محبت کر اور اس کے ساتھ بھی جو اس کے ساتھ محبت کرے ۔(1)

مَعَهُ؟ ← مَا رَأَيْتُ حَسَنًا قَطُّ إِلَّا دَمَعَتْ عَيْنِي، جَلَسَ النَّبِيُّ فِي الْمَسْجِدِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← الحسن بن علي القرشي ← الْعَبَّاسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَحْمَسِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1407

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1408

1408 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ» .

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی ہوگی۔(2)

لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِبْرَاهِيمَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1408

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1409

1409 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى: رَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ النَّبِيِّ؟ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَاتَ وَهُوَ صَغِيرٌ، وَلَوْ قُدِّرَ أَنْ يَكُونُ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ، لَكَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ» .

اسماعیل بن ابی خالد رھمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے اگر سیدنا محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہی ہوئے ۔ (3)

«مَاتَ وَهُوَ صَغِيرٌ، وَلَوْ قُدِّرَ أَنْ يَكُونُ بَعْدَ مُحَمَّدٍ نَبِيٌّ، لَكَانَ ← قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى: رَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ النَّبِيِّ؟ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1409

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1410

1410 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: نا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قثنا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ قثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: أَتَتِ الْأَنْصَارُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا - وَذَكَرَ الْقِصَّةَ - ادْعُ اللَّهَ لَنَا إِنْ يَغْفِرَ لَنَا، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَأَبْنَاءَ الْأَنْصَارِ، وَأَبْنَاءَ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَوْلَادُنَا مِنْ غَيْرِنَا؟ قَالَ: «وَأَوْلَادِ الْأَنْصَارِ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَوَالِينَا؟ قَالَ: «وَمَوَالِي الْأَنْصَارِ» . قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي أُمِّي، عَنْ أُمِّ الْحَكَمِ ابْنَةِ النُّعْمَانِ بْنِ صُهْبَانَ، أَنَّهَا سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا، غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ فِيهِ «وَكَنَائِنِ الْأَنْصَارِ»

ابو بکر بن انس رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انصاری لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ ﷺ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں ، آ پ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! انصار کی مغفرت فرما اور انصار کے بیٹوں اور انصار کے پوتوں کی بھی مغفرت فرما ! انصار نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ! غیروں سے ہمارے بچوں کے لیے بھی ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : اور انصار کے بچوں کے لیے ، انصار نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے غلاموں کے لیے بھی ، آپ ﷺ نے فرمایا : انصار کے غلاموں کے لیے بھی ۔ ام لاحکم بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا تھا تو یہ لفظ زیادہ تھے : انصار کے بیٹوں یا بھائیوں کی بیویوں پر بھی رحم فرما۔(1)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1410

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1411

1411 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَنْصَارُ مِحْنَةٌ فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضُهُمْ، وَلَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ» .

امامحسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمای : جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے تو وہ انصار سے بھی محبت کرے گااور جو مجھ سے بغض رکھتا ہے تو وہ انصار سے بھی بغض رکھے گا اور ان سے صرف مومن محبت کرے گا اور صرف منافق بغض رکھے گا۔

الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← أَبِي، قثنا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1411

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1412

1412 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ: أنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا عَاصِبًا رَأْسَهُ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: «أَمَّا بَعْدُ، يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَإِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ تَزِيدُونَ، وَأَصْبَحَتِ الْأَنْصَارُ لَا تَزِيدُ عَلَى هَيْئَتِهَا الَّتِي هِيَ عَلَيْهَا الْيَوْمَ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا، فَأَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ» .

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور یہ (کعب بن مالک ) انہی تین آدمیون میں سے ایک ہیں جی (غذوہ تبوک میں بلا عذر پیچھے رہنے کی تقصیر پر ) توبہ قبول کی گئی تھی وہ اصحاب النبی ﷺ میں سے کسی ایک سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ اپنے سر مبارک کے درد کی حالت میں تشریف لائے اور خطبہ ارشاد فرمایا : اما بعد ! مہاجرین کے گروہ ! تم روز بڑھتے جا رہے ہو مگر انصار نہیں بلکہ وہ اسی حالت میں ہر صبح کرتے ہیں مگر انصار میری پناہ گاہ تھے پس تم انصار کی عزت کرو اور انکی العزشوں سے گزر کرو۔(1)

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبِي، قثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1412

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1413

1413 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رَجُلٍ سَمَّاهُ النُّعْمَانُ بْنُ مُرَّةَ، أَوْ غَيْرُهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ تَرِكَةً وَضِيعَةً، وَإِنَّ تَرِكَتِي أَوْ ضَيْعَتِي الْأَنْصَارَ، أَلَا وَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ أَلَا فَاقْبَلُوا عَنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ» .

یحیٰ بن سعید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر نبی کوئی نہ کوئی میراث چھوڑ جاتا ہے اور یقینا میں انصار کو بطور میراث چھوڑ رہا ہوں اور ایک دور آئے گا کہ دوسرے لوگ تو بہت ہو جائیں گے لیکن انصار کم رہ جائیں گے پس تم انصار کی عزت کرو اور ان کی لغزشوں سے درگزر کرو۔ (2)

رَجُلٍ سَمَّاهُ النُّعْمَانُ بْنُ مُرَّةَ، أَوْ غَيْرُهُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1413

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1414

1414 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ» .

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والا شخص انصار سے کبھی بھی بغض نہیں رکھتا ۔ (3)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← ذَكْوَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي، قثنا سُفْيَانُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1414

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1415

1415 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ «مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَلِلْأَنْصَارِ عَلَيْهِ حَقٌّ» .

عبداللہ بن نجی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :ہر مومن پر انصار کا حق ہے ۔ (4)

عَلِيٌّ «مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَلِلْأَنْصَارِ عَلَيْهِ حَقٌّ» ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ← جَابِرٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1415

Daif

chevron_left Previous
1…122123124…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him