فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1392
1392 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا حَجَّاجٌ، نا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ الْفَزَارِيُّ، نا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ حِينَ جَاءَ نَعْيُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ: لَعَنَتْ أَهْلَ الْعِرَاقِ وَقَالَتْ: قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ غَرُّوهُ وَذَلُّوهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ، وَجَاءَتْهُ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَمَعَهَا ابْنَيْهَا جَاءَتْ بِهِمَا تَحْمِلُهُمَا، حَتَّى وَضَعْتُهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ لَهَا: «أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ؟» قَالَتْ: هُوَ فِي الْبَيْتِ قَالَ: «اذْهَبِي فَادْعِيهِ وَائْتِينِي بِابْنَيَّ» قَالَ: فَجَاءَتْ تَقُودُ ابْنَيْهَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي يَدٍ وَعَلِيٌّ يَمْشِي فِي أَثَرِهَا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُمَا فِي حِجْرِهِ، وَجَلَسَ عَلِيٌّ عَلَى يَمِينِهِ، وَجَلَسَتْ فَاطِمَةُ عَلَى يَسَارِهِ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَأَخَذَ مِنْ تَحْتِي كِسَاءً كَانَ بِسَاطًا لَنَا عَلَى الْمَنَامَةِ فِي الْمَدِينَةِ، فَلَفَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَهُ بِشِمَالِهِ بِطَرَفَيِ الْكِسَاءِ وَأَلْوَى بِيَدِهِ الْيُمْنَى إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» ثَلَاثَ مِرَارٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَهْلِي أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْتُ مِنْ أَهْلِكَ؟ فَقَالَ: «بَلَى فَادْخُلِي فِي الْكِسَاءِ» قَالَتْ: فَدَخَلْتُ فِي الْكِسَاءِ بَعْدَمَا قَضَى دُعَاءَهُ لِابْنِ عَمِّهِ وَابْنَيْهِ وَابْنَتِهِ فَاطِمَةَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ.
شہر بن حوشب رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ می نے اُم المومنین سیّد نا اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا جب ان کو سیّد نا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی وہ عراقیوں پر لعنت بھیجتے ہوئے فرمنے لگیں : انہوں نے سیّد نا حسین کو قتل کیا ، اللہ انہیں غارت کرے ، انہوں نے سیّد نا حسین رضی اللہ عنہ کو دھوکہ دیا اور رسوا کیا ، ان پر اللہ کی لعنت ہو ، ایک دفعہ سیّد نا فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا صبح کے وقت اپنے دونو بچوں کو اُٹھائے ہوئے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور بچوں کو آپ ﷺ کے سامنے بٹھا دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: آپ رضی اللہ عنہا کے چچا زاد کہاں ہیں ؟عرض کیا : وہ گھر میں ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا : جاؤ ان کو اور ان کے دونوں بیٹوں کو بھی بلا کر لاؤ۔ تو سیّد ہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا اپنے بیٹوں کو دائیں بائیں پکڑ کر لارہی تھیں ، سیّد نا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے تھے ۔ جب وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان بچوں کو اپنی گود میں بٹھا یا ۔ سیّد نا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی دائں اور سیّدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہابائیں جانب بیٹھ گئیں ۔ سیّد ہ اُ م اسلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے کیبری چادر کھینچی جو مدینہ میں ہمارے سونے کے بستر پر تھی ، رسول اللہﷺ نے سب کولپیٹ لیا اور چادر کے دونوں کناروں کو بائیں ہاتھ سے پکڑا اور دایاں ہاتھ اپنے رب کی طرف اٹھایا اور دعا کی :اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے نجاست دور فرما اور انہیں خوب پاک کر ۔ یہ بات تین دفعہ دہرائی تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ کیا میں آپﷺ کے اہل میں سے نہیں ہوں ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہاں ! چادر میں آجاؤ۔ سیّد ہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں بھی داخل ہو گئی ۔ اس کے بعد کہ آپ ﷺ کی اپنے چچا زاد، ان کے بچوں اور اپنی صاحب زادی سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے بارے میں دُعا ختم ہوئی ۔ (1)
أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ حِينَ جَاءَ نَعْيُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ: لَعَنَتْ أَهْلَ الْعِرَاقِ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ الْفَزَارِيُّ ← حجاج، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ،
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1392
