Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1392

1392 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا حَجَّاجٌ، نا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ الْفَزَارِيُّ، نا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ حِينَ جَاءَ نَعْيُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ: لَعَنَتْ أَهْلَ الْعِرَاقِ وَقَالَتْ: قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ غَرُّوهُ وَذَلُّوهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ، وَجَاءَتْهُ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَمَعَهَا ابْنَيْهَا جَاءَتْ بِهِمَا تَحْمِلُهُمَا، حَتَّى وَضَعْتُهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ لَهَا: «أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ؟» قَالَتْ: هُوَ فِي الْبَيْتِ قَالَ: «اذْهَبِي فَادْعِيهِ وَائْتِينِي بِابْنَيَّ» قَالَ: فَجَاءَتْ تَقُودُ ابْنَيْهَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي يَدٍ وَعَلِيٌّ يَمْشِي فِي أَثَرِهَا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُمَا فِي حِجْرِهِ، وَجَلَسَ عَلِيٌّ عَلَى يَمِينِهِ، وَجَلَسَتْ فَاطِمَةُ عَلَى يَسَارِهِ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَأَخَذَ مِنْ تَحْتِي كِسَاءً كَانَ بِسَاطًا لَنَا عَلَى الْمَنَامَةِ فِي الْمَدِينَةِ، فَلَفَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَهُ بِشِمَالِهِ بِطَرَفَيِ الْكِسَاءِ وَأَلْوَى بِيَدِهِ الْيُمْنَى إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» ثَلَاثَ مِرَارٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَهْلِي أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْتُ مِنْ أَهْلِكَ؟ فَقَالَ: «بَلَى فَادْخُلِي فِي الْكِسَاءِ» قَالَتْ: فَدَخَلْتُ فِي الْكِسَاءِ بَعْدَمَا قَضَى دُعَاءَهُ لِابْنِ عَمِّهِ وَابْنَيْهِ وَابْنَتِهِ فَاطِمَةَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ.

شہر بن حوشب رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ می نے اُم المومنین سیّد نا اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا جب ان کو سیّد نا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی وہ عراقیوں پر لعنت بھیجتے ہوئے فرمنے لگیں : انہوں نے سیّد نا حسین کو قتل کیا ، اللہ انہیں غارت کرے ، انہوں نے سیّد نا حسین رضی اللہ عنہ کو دھوکہ دیا اور رسوا کیا ، ان پر اللہ کی لعنت ہو ، ایک دفعہ سیّد نا فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا صبح کے وقت اپنے دونو بچوں کو اُٹھائے ہوئے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور بچوں کو آپ ﷺ کے سامنے بٹھا دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: آپ رضی اللہ عنہا کے چچا زاد کہاں ہیں ؟عرض کیا : وہ گھر میں ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا : جاؤ ان کو اور ان کے دونوں بیٹوں کو بھی بلا کر لاؤ۔ تو سیّد ہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا اپنے بیٹوں کو دائیں بائیں پکڑ کر لارہی تھیں ، سیّد نا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے تھے ۔ جب وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان بچوں کو اپنی گود میں بٹھا یا ۔ سیّد نا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی دائں اور سیّدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہابائیں جانب بیٹھ گئیں ۔ سیّد ہ اُ م اسلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے کیبری چادر کھینچی جو مدینہ میں ہمارے سونے کے بستر پر تھی ، رسول اللہﷺ نے سب کولپیٹ لیا اور چادر کے دونوں کناروں کو بائیں ہاتھ سے پکڑا اور دایاں ہاتھ اپنے رب کی طرف اٹھایا اور دعا کی :اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے نجاست دور فرما اور انہیں خوب پاک کر ۔ یہ بات تین دفعہ دہرائی تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ کیا میں آپﷺ کے اہل میں سے نہیں ہوں ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہاں ! چادر میں آجاؤ۔ سیّد ہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں بھی داخل ہو گئی ۔ اس کے بعد کہ آپ ﷺ کی اپنے چچا زاد، ان کے بچوں اور اپنی صاحب زادی سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے بارے میں دُعا ختم ہوئی ۔ (1)

أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ حِينَ جَاءَ نَعْيُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ: لَعَنَتْ أَهْلَ الْعِرَاقِ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ الْفَزَارِيُّ ← حجاج، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1392

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1393

1393 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا حَجَّاجٌ، نا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ فِتْيَةً مِنْ قُرَيْشٍ خَطَبُوا بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَخَطَبَهَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَشَاوَرَتْ أَبَا هُرَيْرَةَ وَكَانَ لَنَا صَدِيقًا فَقَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ فَاهُ فَإِنِ اسْتَطَعْتِ إِنْ تُقَبِّلِي مُقَبَّلَ رَسُولِ اللَّهِ فَافْعَلِي فَتَزَوَّجْتُهُ» .

علی بن زید رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ کچھ قریشی نوجوانوں سے سہیل بن عمر وکی بیٹی کے لیے پیغام نکاح بھیجا اور سیّد نا حسن رضی اللہ عنہ نے بھی انہی کے لیے پیغام نکاح بھیجا تو انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا جوان کے دوست تھے توسیّد نا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سہیل بن عمر وکی بیٹی سے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے سیّد نا حسن رضی اللہ عنہ کے منہ کو بوسہ دے رہے تھے ۔ اگر تم استطاعت رکھتی ہو اور وہاں بوسہ دینا پسند کرتی ہو جہاں رسول اللہ ﷺ بوسہ دیتے تھے تو ان سے (شادی ) کرلو ، ( سہیل بن عمر وکی بیٹی کہتی ہیں ) تو پھر میں نے ان سے شادی کر لی ۔(2)

خَطَبَهَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَشَاوَرَتْ أَبَا هُرَيْرَةَ وَكَانَ لَنَا صَدِيقًا ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ فِتْيَةً مِنْ قُرَيْشٍ خَطَبُوا بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1393

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1394

1394 - حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَرَاطِيسِيُّ، نا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ، نا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ هِيَ بِنْتُ سِيرِينَ قَالَتْ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ فَجِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَجَعَلَ يَقُولُ بِقَضِيبِهِ فِي أَنْفِهِ، وَيَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حُسْنًا، قُلْتُ: «أَمَا إِنَّهُ كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

سیّد نا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ابن زیاد کے پاس تھا تو سیّد نا حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک لایا گیا تو وہ ان کے ناک پر چھڑی مار رہا تھا اور کہہ رہا تھا میں نے ان سے بڑھ کے خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا ، میں نے کہا : یہ رسول اللہﷺکے سب سے زیادہ ہم شکل تھے ۔(3)

بِقَضِيبِهِ فِي أَنْفِهِ ← كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ فَجِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ فَجَعَلَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حَفْصَةَ هِيَ بِنْتُ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ، ← عَبَّاسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ القَرَاطِيسِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1394

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1395

1395 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: شَهِدْتُ ابْنَ زِيَادٍ حَيْثُ أَتَى بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِقَضِيبٍ فِي يَدِهِ، فَقُلْتُ: «أَمَا إِنَّهُ كَانَ أَشْبَهَهُمَا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» .

سیّد نا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ابن زیاد کے پاس تھا انتے میں سیّد نا حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک لایا گیا تو ہو ( ان کو دیکھ کر )ہاتھ میں چھڑی لیے کچھ سوچنے لگا ، میں نے کہا : کیا یہ رسول اللہ ﷺ کے سب سے زیادہ ہم شکل نہیں تھے ۔(4)

أَنَسٍ، ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1395

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1396

1396 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِهِ يَوْمًا بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ أَشْعَثُ أَغْبَرُ فِي يَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذَا الدَّمُ؟ فَقَالَ: «دَمُ الْحُسَيْنِ لَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ فَأُحْصِيَ ذَلِكَ الْيَوْمَ، فَوَجَدُوهُ قُتِلَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ» .

سیّد نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ دن کے وقت پر اگندہ بالوں میں ایک بوتل اُٹھائے ہوئے تھے اس میں خون تھا میں نے عرضی کیا : یا رسول اللہ ﷺ یہ خون کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ حسین کا خون ہے تو میں نے ہمیشہ اس وقت سے آج تک اس دن کو یاد رکھا یہاں تک کہ مجھے معلوم ہو گیا کہ سیّد نا حسین رضی اللہ عنہ کو اسی دن شہید کیاگیا تھا ۔(1)

حَمَّادٌ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِبْرَاهِيمَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1396

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1397

1397 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا أُوتِيَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ يَعْنِي إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِقَضِيبٍ فِي يَدِهِ يَقُولُ: إِنْ كَانَ لَحَسَنَ الثَّغْرِ فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأَسُوءَنَّكَ، «لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ مَوْضِعَ قَضِيبِكَ مِنْ فِيهِ» .

سیّد نا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب عبیداللہ بن زیاد کے پاس سید نا حسین رضی اللہ عنہ کا سرلایا گیا تو اس کے ہاتھ میں چھڑی تھی جس سے وہ انہیں کریدتے ہوئے کہنے لگا : اس کے دانت بہت خوبصورت ہیں ، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تیرے ساتھ برا پیش آؤں گا ، بلاشبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ ﷺ اسی جگہ پر پوسہ دے رہے تھے جہاں تو نے چھڑی رکھی ہے ۔ (2)

فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِقَضِيبٍ فِي يَدِهِ ← لَمَّا أُوتِيَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ يَعْنِي إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِبْرَاهِيمَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1397

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1398

1398 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَسَنُ أَوِ الْحُسَيْنُ - شَكَّ أَبُو مُسْلِمٍ - عَلَى عَاتِقِهِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ» .

سید نا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سید نا حسن رضی اللہ عنہ یا سیّد نا حسین رضی اللہ عنہ (یہاں ابو مسلم راوی کو شک ہوا ہے )کو اپنے کندھوں پر اُٹھائے ہوئے فرما رہے تھے : اے اللہ !میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔(3)

«اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ» ← «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَالْحَسَنُ أَوِ الْحُسَيْنُ شَكَّ أَبُو مُسْلِمٍ عَلَى عَاتِقِهِ وَهُوَ ← الْبَرَاءِ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِبْرَاهِيمَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1398

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1399

1399 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، نا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ قَالَ: أنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَامِلٌ الْحَسَنَ، أَوِ الْحُسَيْنَ عَلَى عَاتِقِهِ وَهُوَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ» .

سید نا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سید نا حسن رضی اللہ عنہ یا سیّد نا حسین رضی اللہ عنہ (یہاں ابو مسلم راوی کو شک ہوا ہے )کو اپنے کندھوں پر اُٹھائے ہوئے فرما رہے تھے : اے اللہ !میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔(4)

«اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ» ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ حَامِلٌ الْحَسَنَ، أَوِ الْحُسَيْنَ عَلَى عَاتِقِهِ وَهُوَ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1399

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1400

1400 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلَى جَنْبِهِ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَى النَّاسِ نَظْرَةً، وَإِلَيْهِ نَظْرَةً، وَيَقُولُ: «إِنَّ ابْنِي هَذَا، سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» .

سیّد نا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر دیکھا اور سیّد نا حسن بن علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پہلو میں تھے ،رسول اللہ ﷺ کبھی لوگوں کی طرف دیکھتے ، کبھی سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ کی طرف اور فرماتے : یہ میرا سردار بیٹا ہے ، اُمید ہے کہ اللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کروائے گا ۔ (1)

الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلَى جَنْبِهِ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَى النَّاسِ نَظْرَةً، وَإِلَيْهِ نَظْرَةً، ← رَأَيْتُ النَّبِيَّ عَلَى الْمِنْبَرِ ← أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1400

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1401

1401 - حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَرَاطِيسِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، نا أَسْبَاطٌ، عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الْعِشَاءِ وَكَانَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَثِبَانِ عَلَى ظَهْرِهِ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَذْهَبُ بِهِمَا إِلَى أُمِّهِمَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا، فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ فَمَا زَالَا فِي ضَوْئِهَا حَتَّى دَخَلَا إِلَى أُمِّهِمَا» .

سیدنا ابو ہررہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز عشا پڑھا رہے تھے ، اس وقت حسنین کریمین آپ ﷺ کی پیٹھ پر چڑھتے اور اتر رہے تھے ۔نماز کے بعد میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ میں انہیں ان کی والدہ کےپاس لے جاتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں۔ اسی دوران اچانک بجلی چمکی ، وہ مسلسل ان کے سامنے روشنی کرتی رہی یہاں تک کہ دونوں اپنی والدہ کے پاس گھر میں داخل ہو گئے۔ (2)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← كَامِلٍ أَبِي الْعَلاَءِ ← أَسْبَاطٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَرَاطِيسِيُّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1401

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1402

1402 - حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، نا مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَنَشٍ الْكِنَانِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: وَهُوَ آخِذٌ بِبَابِ الْكَعْبَةِ: مَنْ عَرَفَنِي فَأَنَا مَنْ قَدْ عَرَفَنِي، وَمَنْ أَنْكَرَنِي فَأَنَا أَبُو ذَرٍّ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَلَا إِنَّ مَثَلَ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مَثَلُ سَفِينَةِ نُوحٍ، مَنْ رَكِبَهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا هَلَكَ» .

سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے ہل بیت کی مثال نوح (علیہ السلام ) کی کشتی کی مثل ہے جو بھی اس پر سوار ہوا نجات پا گیا اور جو بھی پیچھے رہا وہ ہلاک ہو گیا۔ (3)

النَّبِيِّ ← أَبُو ذَرٍّ ← من قد عرفني ومن أنكرني ← وَهُوَ آخِذٌ بِبَابِ الْكَعْبَةِ مَنْ عَرَفَنِي ← أَبَا ذَرٍّ ← حَنشٍ الْكِنَانِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1402

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1403

1403 - حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، جَارُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ، نا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ الْمَرْوَزِيُّ، نا الْفَضْلُ، عَنْ شَرِيكٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ، يَعْنِي عَنِ الرُّكَيْنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ خَلِيفَتَيْنِ، كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا يَرِدَانِ عَلَيَّ الْحَوْضَ» .

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک قرآن اور دوسرا میرے اہل بیت ! یہ دونوں حوض کوثر پر میرے پاس پیش ہوں گی ۔ (4)

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، ← الرُّکَيْنَ ← شَرِيكٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ، يَعْنِي ← الْفَضْلُ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ الْمَرْوَزِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، جَارُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1403

Hassan

chevron_left Previous
1…121122123…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him