Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1380

1380 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارٍ هُوَ ابْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ يَلْتَقِطُهُ، أَوْ يَتَتَبَّعُ فِيهَا شَيْئًا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذَا؟ قَالَ: دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ لَمْ أَزَلْ أَتَتَبَّعُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ قَالَ عَمَّارٌ: فَحَفِظْنَا ذَلِكَ فَوَجَدْنَاهُ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ".

سیّد نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ن ے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ دن کے وقت پراگندہ بالوں میں ایک بوتل اُٹھائے ہوئے تھے اس میں خون تھا یا س کی مثل کوئی دوسری چیز تھی میں نے عرض کیا : یا رسوال اللہ ﷺ ! یہ کیا ہے ؟آپ ﷺ نے فرمایا : یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے تو میں نے ہمیشہ اس وقت سے اس دن کو یاد رکھا ۔ کہ پھر ہم نے بھی ( ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بتائے ہوئے ) اس دن کو یاد رکھا یہاں تک کہ ہم کو معلوم ہو گیا کہ سّد نا حسین رضی اللہ عنہ کو اسی دن شہید کیا گیا تھا ۔ (2)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمَّارٍ هُوَ ابْنُ أَبِي عَمَّارٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1380

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1381

1381 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَفَّانُ، نا حَمَّادٌ قَالَ: أنا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ بِنِصْفِ النَّهَارِ، قَائِلًا أَشْعَثَ أَغْبَرَ بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ، فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا؟ قَالَ: دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ فَلَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ، فَأَحْصَيْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَوَجَدُوهُ قُتِلَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ عَلَيْهِ السَّلَامُ ".

سیّد نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ دن کے وقت پراگندہ بالوں میں ایک بوتل اُٹھائے ہوئے تھے اس میں خون تھا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ! میرے مان پاب آپ پر قربان ہوں ، یہ کیا ہے ؟آپ ﷺ نے فرمایا :یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے تو میں ہمیشہ اس وقت سے آج تک اس دن کی تلاش میں رہا ۔ راوی حدیث کہتے ہیں کہ پھر ہم نے بھی ( ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بتائے ہوئے ) اس دن کو آج تک یاد رکھا یہاں تک کہ ہم کو معلوم ہو گیا کہ سیّد نا حسین رضی اللہ عنہ کو اسی دن شہید کیا گیا تھا ۔ (3)

بأبي أنت وأمي ← رَأَيْتُ النَّبِيَّ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ بِنِصْفِ النَّهَارِ، قَائِلًا أَشْعَثَ أَغْبَرَ بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادٌ، ← أَبِي، قثنا عَفَّانُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1381

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1382

1382 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، نا أَبُو إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ» .

سیّد نا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں ، دونوں میں ایک دوسری سے بڑی ہے ، کتاب اللہ جو کہ اللہ کی آسمان سے زمین پر پھیلی ہوئی رسی ہے دوسرے میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں چیزیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں ۔ یہاں تک کہ یہ دونوں حوض کوثر میں مجھے ملیں گے ۔ (4)

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← أَبُو إِسْرَائِيلَ ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1382

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1383

1383 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا أَبُو النَّضْرِ، نا مُحَمَّدٌ، يَعْنِي: ابْنَ طَلْحَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنِّي أُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبُ وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ، كِتَابَ اللَّهِ، وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي، وَإِنَّ اللَّطِيفَ الْخَبِيرَ أَخْبَرَنِي أَنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، فَانْظُرُوا بِمَا تَخْلُفُونِي فِيهِمَا» .

سیّد نا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عنقریب مجھے بلاوآجائے گا میں اسے قبول کر لوں گا ، چنانچہ میں تم میں دوچیزوں کو چھوڑ کر جارہا ہوں ، ایک کتاب اللہ اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں اور لطیف و خبیر (ذات) نے مجھے اس بات کی خبردی ہے کہ یہ دونوں ہرگز الگ نہ ہوں گی یہاں تک کہ دونوں حوض کوثر آئیں گی ، دیکھو کہ تم ان دونوں کے بارے میں میری کیسی جانشینی نبھاتے ہو ۔ (1)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ طَلْحَةَ ← أَبُو النَّضْرِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1383

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1384

1384 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، نا يَزِيدُ بْنُ مَرْدَانِبَهِ، نا ابْنُ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ» .

سیّد نا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ (2)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي نُعَمٍ، ← يَزِيدَ بْنِ مَرْدَانُبَةَ ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1384

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1385

1385 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا وَكِيعٌ، نا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: " كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، يَحْبُو حَتَّى صَعِدَ عَلَى صَدْرِهِ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَابْتَدَرْنَاهُ لِنَأْخُذَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ابْنِي ابْنِي، قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ".

عبدالرحمن اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ ان کے دادا نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ گھسیٹتے ہوئے آکر رسول اللہ ﷺ کے سینہ مبارک پر بیٹھ گئے اور پیشاب کر دیا تو ہم نے ان کو پکڑ نا چاہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چھوڑ ویہ میرا بیٹا ہے پھر پانی منگوایا اور اس پر بہاد یا ۔ (3)

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَخِيهِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1385

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1386

1386 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو مُسْلِمٍ الْبَصْرِيُّ، نا أَبُو عَاصِمٍ وَهُوَ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَقِيَ الْحَسَنَ، يَعْنِي: ابْنَ عَلِيٍّ، فَقَالَ: «ارْفَعْ ثَوْبَكَ حَتَّى أُقَبِّلَ مِنْكَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ، فَرَفَعَ عَنْ بَطْنِهِ فَوَضَعَ فَمَهُ عَلَى سُرَّتِهِ» .

عمیر بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیّد نا حسن رضی اللہ عنہ کو ملے تو ان (سید نا حسن رضی اللہ عنہ ) سے سیّد نا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ اپنے پیٹ سے کپڑ ااٹھا یئے تاکہ میں وہاں آپ کو بوسہ دوں جہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو بسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے تو انہوں نے اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھا یا تو سید نا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کوناف پربوسہ دیا ۔(4)

بَطْنِهِ فَوَضَعَ فَمَهُ عَلَى سُرَّتِهِ» ← «ارْفَعْ ثَوْبَكَ حَتَّى أُقَبِّلَ مِنْكَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يُقَبِّلُ، فَرَفَعَ ← عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَقِيَ الْحَسَنَ، يَعْنِي: ابْنَ عَلِيٍّ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَبُو عَاصِمٍ وَهُوَ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو مُسْلِمٍ الْبَصْرِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1386

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1387

1387 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا أَبُو الْوَلِيدِ، وَسُلَيْمَانُ قَالَا: نا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ، يُحَدِّثُ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ الْأَقْمَرِ قَالَ: بَيْنَمَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يَخْطُبُ إِذْ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعَهُ فِي حَبْوَتِهِ. وَهُوَ يَقُولُ: «مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّهُ، فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ» وَلَوْلَا عَزِيمَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَدَّثْتُ.

زہیر بن اقمر رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اچانک ایک آدمی کھڑا ہوا اس نے کہا : میں نے رسول اللہ ؟ﷺ کو دیکھا آپ ﷺ نے ان کو اپنی گود میں اٹھا رکھا تھا اس وقت آپ ﷺ فرمارہے تھے :جو مجھے سے محبت کرتا ہے ، اسے چاہیے کہ حسن سے بھی محبت کرے ، خبردار یہ بات حاضر آدمی غیر حاضر کو پہنچادے ، اگر رسول اللہ ﷺ نے ( اس حدیث کو آگے پہنچانا ہم پر ) لازم نہ کیا ہوتا تو میں کبھی بیان نہ کرتا ۔ (1)

إِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ وَاضِعَهُ فِي حَبْوَتِهِ. وَهُوَ ← بَيْنَمَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يَخْطُبُ إِذْ قَامَ رَجُلٌ ← زُهَيْرِ بْنِ الأَقْمَرِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَمْرٍو، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ وَسُلَيْمَانُ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1387

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1388

1388 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: نا حَجَّاجٌ قَالَ أنا شُعْبَةُ قَالَ: أنا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَعْنِي: ابْنَ عَازِبٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَسَنُ عَلَى عَاتِقِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ» .

سیّد نا براءبن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیّد نا حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے فرمارہے تھے : اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔(2)

«اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ» ← رأيت رسول الله والحسن على عاتقه وهو ← البراء يعني ابن عازب ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← حجاج، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1388

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1389

1389 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، نا حَجَّاجٌ، نا حَمَّادٌ، قثنا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَغْبَرَ أَشْعَثَ بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ، فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ لَمْ أَزَلْ مُنْذُ الْيَوْمَ أَلْتَقِطُهُ فَأَحْصَى ذَلِكَ الْيَوْمَ فَوَجَدُوهُ قُتِلَ يَوْمَئِذٍ ".

سیّد نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ دن کے وقت پراگندہ بالوں میں ایک بوتل اُٹھا ئے ہوئے تھے ۔اس میں خون تھا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں ، یہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے تو میں نے ہمیشہ اس وقت سے آج تک اس دن کو یاد رکھا یہاں تک کہ مجھے معلوم ہو گیا کہ سیّد نا حسین رضی اللہ عنہ کو اسی دن شہید کیا گیا تھا ۔(3)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← حَمَّادٌ، قثنا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، ← حجاج، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1389

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1390

1390 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا حَجَّاجٌ، وَأَبُو عُمَرَ قَالَا: نا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَسْأَلُنِي عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هُمَا رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» .

ابن ابونعم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک عراقی نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مچھر کے بارے میں پوچھا کہ اگر محرم انسان اس کو قتل کر دے تو کیا سزا ہے ؟ سیّد نا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تو کہاں سے ہے اس نے کہا : میں اہل عراق سے ہوں تو انہوں نے فرمایا : دیکھواس عراقی کو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے بیٹے کو شہید کرڈالا اور یہ اب مجھ سے مچھر کے بارے میں پوچھ رہا ہے اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ حسن اور حسین دنیا میں میرے دوپھول ہیں ۔ (4)

«هُمَا رَيْحَانَتَيَّ مِنَ الدُّنْيَا» ← رَسُولِ اللَّهِ ← دم البعوض وقد قتلوا ابن رسول الله وقد ← انْظُرُوا إِلَی هَذَا يَسْأَلُنِي ← من أهل العراق ← دم البعوض فقال ممن أنت ← كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ ← ابْنِ أَبِي نُعَمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← حَجَّاجٌ، وَأَبُو عُمَرَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1390

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1391

1391 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا حَجَّاجٌ، نا حَمَّادٌ، عَنْ أَبَانَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحُسَيْنُ مَعِي فَبَكَى، فَتَرَكْتُهُ فَدَنَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ جِبْرِيلُ أَتُحِبُّهُ يَا مُحَمَّدُ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ» فَقَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ، وَإِنْ شِئْتُ أُرِيتُكَ مِنْ تُرْبَةِ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا، فَأَرَاهُ إِيَّاهُ فَإِذَا الْأَرْضُ يُقَالُ لَهَا كَرْبَلَاءُ.

سیّد ہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سیّد نا جبرائیل علیہ السلام اور سیّد نا حسین میرے پاس رورہے تھے ، میں نے چھوڑ دیا تو وہ آپ کےپا چلے گئے ، سیّد نا جبرائیل علیہ السلام نے پوچھا : اے محمد ﷺ! آپ اس سے محبت کرتے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ہاں !سید نا جبرائیل علیہ السلام نے کہا : آپ ﷺ کی اُمت اس کوقتل کرے گی ۔ اگر آپ ﷺ چاہیں تو میں آپ کو اس زمین کی مٹی دکھادیتا ہوں جہاں یہ قتل ہوں گے ، پس رسول اللہ ﷺ کو انہوں نے وہ زمین دکھائی جس کو کربلا کہا جاتا ہے ۔(1)

نَعَمْ ← جِبْرِيلُ أَتُحِبُّهُ يَا مُحَمَّدُ؟ ← كَانَ جِبْرِيلُ عِنْدَ النَّبِيِّ وَالْحُسَيْنُ مَعِي فَبَكَى، فَتَرَكْتُهُ فَدَنَا مِنَ النَّبِيِّ ← أُمِّ سَلَمَةَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← أَبَانُ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1391

Hassan

chevron_left Previous
1…120121122…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him