فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 304
304 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ إِمْلَاءً قثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: أَبْطَأَ عَلَيْهِ خَبَرُ عُمَرَ، فَكَلَّمَ امْرَأَةً فِي بَطْنِهَا شَيْطَانٌ، فَقَالَتْ: حَتَّى يَجِيءَ شَيْطَانِي فَأَسْأَلُهُ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ مُتَّزِرًا بِكِسَاءٍ يَهْنَأُ إِبِلَ الصَّدَقَةِ، وَقَالَ: لَا يَرَاهُ الشَّيْطَانُ إِلَّا خَرَّ لِمِنْخَرَيْهِ، لَلْمَلَكُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَرُوحُ الْقُدُسِ يَنْطِقُ عَلَى لِسَانِهِ. قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: حَدَّثَنَا بِهِ شُجَاعٌ مَرَّتَيْنِ: مَرَّةً قَالَ: عَنْ أَبِي مُوسَى، وَمَرَّةً قَالَ: أَبْطَأَ عَلَى أَبِي مُوسَى خَبَرُ عُمَرَ.
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ا ن کے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خبر آنے میں دیر ہوئی تو انہوں نے ایک عورت سے پوچھا جس کے اندر میں شیطان (جن ) بولتا تھا ، عورت نے کہا : صبر کریں یہاں تک کہ میرا شیطان آجائے میں اس سے پوچھ کر بتاؤں گی ، پھر اس عورت نے کہا : میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوۃ کے اونٹوں کے باڑے میں تہبند پہنے ہوئے دیکھا ہے مگر جب شیطان سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہے تو وہ گر پڑتا ہے ، ایک فرشتہ انکی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور روح القدس (سیدنا جبرائیل علیہ السلام ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے بات کرتے ہیں۔(3)
أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ إِمْلَاءً قثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ،
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 304
