Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ طَلْحَةِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1296

1296 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قَالَ: نا مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، مِنْ وَلَدِ طَلْحَةَ قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يَقُولُ: «جُرِحَ طَلْحَةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَعِشْرِينَ جِرَاحَةً» .

موسیٰ بن طلحہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا :سیّد نا طلحہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیس سے زیادہ زخم آئے تھے ۔ (2)

«جُرِحَ طَلْحَةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ جِرَاحَةً» ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، مِنْ وَلَدِ طَلْحَةَ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him · Hadith 1296

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ طَلْحَةِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1297

1297 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْهُ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ طَلْحَةُ فَقَالَ: هَذَا مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ".

عیسیٰ بن طلحہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے سیّد نا طلحہ گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا :یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنا عہد پورا کیا ہے ۔(3)

عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْهُ ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him · Hadith 1297

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ طَلْحَةِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1298

1298 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ مَوْلَى طَلْحَةَ قَالَ: دَخَلَ عِمْرَانُ بْنُ طَلْحَةَ عَلَى عَلِيٍّ بَعْدَ مَا فَرَغَ مِنْ أَصْحَابِ الْجَمَلِ قَالَ: فَرَحَّبَ بِهِ، وَقَالَ: " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَنِي اللَّهُ وَأَبَاكَ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47] " قَالَ: وَرَجُلَانِ جَالِسَانِ عَلَى نَاحِيَةِ الْبِسَاطِ فَقَالَا: اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ تَقْتُلُهُمْ بِالْأَمْسِ، وَتَكُونُونَ إِخْوَانًا فِي الْجَنَّةِ؟، قَالَ عَلِيٌّ «قُومَا أَبْعَدَ أَرْضٍ وَأَسْحَقَهَا، فَمَنْ هُوَ؟ إِذَا لَمْ أَكُنْ أَنَا وَطَلْحَةُ» قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِعِمْرَانَ «كَيْفَ أَهْلِكُ مَنْ بَقِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ أَوْلَادِ أَبِيكَ، أَمَا إِنَّا لَمْ نَقْبِضْ أَرْضَكُمْ هَذِهِ السِّنِينَ، وَنَحْنُ نُرِيدُ أَنْ نَأْخُذَهَا إِنَّمَا أَخَذْنَاهَا مَخَافَةَ أَنْ يَنْتَهِبَهَا النَّاسُ، يَا فُلَانُ اذْهَبْ مَعَهُ إِلَى ابْنِ قَرَظَةَ فَمُرْهُ فَلْيَدْفَعْ إِلَيْهِ أَرْضَهُ وَغَلَّةَ هَذِهِ السِّنِينَ، يَا ابْنَ أَخٍ جِئْنَا فِي الْحَاجَةِ إِذَا كَانَتْ لَكَ» .

ابو حبیہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ عمران بن طلحہ رحمتہ اللہ علیہ ،سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس جنگ جمل کے بعد آئے ، انہوں نے ان کو خوش آمدید کہا اور فرمایا : مجھے اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کے باپ کو قیامت دن ان لوگوں میں سے بنائے گا جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :ونز عنا مافی صدور من غل اخوانا علی سرر متقابلین ۔ اور ہم وہ ساری کدورت بہار کھینچ لیں گے جو ( دنیا میں ) ان کے سینوں میں ( مغالطہ کے باعث ایک دوسرے سے ) تھی ، وہ ( جنت میں ) بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے ۔ یہ سن کر دو آدمیوں نے کہا ،جو قالین کے ایک جانب بیٹھ ہوئے تھے ، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ انصاف کرنے والا ہے ، کل آپ نے ان کو شہید کر دیا اور آج ان کے بارے میں جنت میں بھائی بھائی ہونے کا کہہ رہے ہیں تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : تم دونوں یہاں سے اٹھواور دفعہ ہو جاؤ ، کسی دور علاقے میں جا کر زندگی بسر کرو ۔ اس سے مراد میں اور سیّد نا طلھہ رضی اللہ عنہ نہیں تو پھر اور کون ہو سکتا ہے ؟ پھر عمران بن طلحہ رحمتہ اللہ علیہ سے فرمایا : تمہارااور باقی اہل خانہ کا کیا حال ہے ؟ خبردار ہم تمہاری زمین پر ان سالوں میں قبضہ نہیں کرتے ، لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ سے اس خدشہ کے پیش نظر زمین کو لے لیں کہ کہیں برے لوگ تم سے چھین نہ لیں ، پھر ایک شخص سے فرمایا : اے فلاں ! تم ان کے ساتھ ابن قرظہ کے پاس جاؤ ، ان سے کہو کہ زمین غلہ سمیت واپس کردے اور عمران سے کہا : اے بھتیجے ! اگر تجھے کسی چیز کی ضرورت ہو تو میرے پاس آنا ۔(1)

لِعِمْرَانَ «كَيْفَ أَهْلِكُ مَنْ بَقِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ أَوْلَادِ أَبِيكَ، أَمَا ← ثُمَّ ← وَطَلْحَةُ» ← عَلِيٌّ «قُومَا أَبْعَدَ أَرْضٍ وَأَسْحَقَهَا، فَمَنْ هُوَ؟ إِذَا لَمْ أَكُنْ ← اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ تَقْتُلُهُمْ بِالْأَمْسِ، وَتَكُونُونَ إِخْوَانًا فِي الْجَنَّةِ؟، ← وَرَجُلَانِ جَالِسَانِ عَلَى نَاحِيَةِ الْبِسَاطِ ← اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: ← إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَنِي اللَّهُ وَأَبَاكَ مِنَ الَّذِينَ ← فَرَحَّبَ بِهِ، ← دَخَلَ عِمْرَانُ بْنُ طَلْحَةَ عَلَى عَلِيٍّ بَعْدَ مَا فَرَغَ مِنْ أَصْحَابِ الْجَمَلِ ← أَبِي حَبِيبَةَ مَوْلَى طَلْحَةَ ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him · Hadith 1298

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ طَلْحَةِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1299

1299 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَجَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَا: جَاءَ ابْنُ جُرْمُوزٍ قَاتِلُ الزُّبَيْرِ يَسْتَأْذِنُ عَلَى عَلِيٍّ فَحَجَبَهُ طَوِيلًا، ثُمَّ أَذِنَ لَهُ فَقَالَ: أَمَّا أَهْلُ الْبَلَاءِ فَتَجْفُوهُمْ، فَقَالَ عَلِيٌّ: " بِفِيكِ التُّرَابُ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، مِمَّنْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47] "

جعفر رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ سیّد نا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے قاتل ابن جرموز نے سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آکر جازت طلب کی تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو کافی دیر تک روکے رکھا پھر اجازت دی ، اس نے کہا :مصیبت زدہ لوگو پر آپ ظلم کرتے ہیں تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تیرا منہ متی سے بھر جائے میں امید کرتا ہوں کہ میں ، سیّد نا طلحہ اور سیّد نا زبیر رضی اللہ عنہ قیامت کے دن ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے " ونز عنا مافی صدور ہم من غل اخوانا علی سرر متقابلین۔ اور ہم وہ ساری کدورت باہر کھینچ لیں گے جو ( دنیا میں ) ان کے سینوں میں ( مغالطہ کے باعث ایک دوسرے سے ) تھی ، وہ ( جنت میں ) بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے ۔ (2)

أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ، وَجَعْفَرٍ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him · Hadith 1299

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ طَلْحَةِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1300

1300 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ: " إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ أَكُونَ أَنَا وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، مِمَّنْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47] ". قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ فَقَالَ: اللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: فَصَاحَ بِهِ عَلِيٌّ صَيْحَةً: إِنَّ الْقَصْرَ يُدَهْدِهُ لَهَا، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ هُمْ؟ إِذَا لَمْ نَكُنْ نَحْنُ هُمْ؟» .

ربعی بن حراش رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں امید کرتا ہوں کہ میں ، سیّد نا زبیر اور سیّد نا طلحہ رضی اللہ عنہ قیامت کے دن ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ونز عنا مافی صدور ہم من غل اخوانا علی سرر متقابلین۔ اور ہم وہ ساری کدورت باہر کھینچ لیں گے جو ( دنیا میں ) ان کے سینوں میں ( مغالطہ کے باعث ایک دوسرے سے ) تھی ، وہ ( جنت میں ) بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے ۔ ایک ہمدانی شخص نے کھڑے ہو کر کہا : امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ عدل کرنے والا ہے ۔ یہ سن کر سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے گرج دار آواز نکالی ، جس سے محل گونج اُٹھا اور فرمایا : اگر وہ لوگ ہم نہیں ہیں تو کون ہوں گے ۔ (1)

فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ ← اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ← وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، مِمَّنْ ← عَلِيٌّ إنِّي لأَرْجُو أَنْ أَكُونَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← كِيعٌ قثنا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ، ← أَبِي، قثنا ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him · Hadith 1300

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1301

1301 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ قَالَتْ: «أَنَا بِنْتُ الْمُهَاجِرِ الَّذِي فَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ بِالْأَبَوَيْنِ» .

عائشہ بنت سعد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں اس مہاجر شخص ک بیٹی ہوں جس پر رسول اللہ ﷺ نےاُ حد کے دن اپنے والدین کو قربان کیا ۔(1)

بِنْتُ الْمُهَاجِرِ الَّذِي فَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمَ أُحُدٍ بِالْأَبَوَيْنِ» ← عائشة بنت سعد ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him · Hadith 1301

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1302

1302 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قثنا يَحْيَى قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا يَقُولُ: «جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ» .

سیّد نا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اُحد کے دن میرے لئے اپنے والدین کو جمع کیا تھا۔( یعنی آپ ﷺ نے ان کو فرمایا تھا : سعد ! تجھ پر میرے ماں باپ قربان ہوں )(2)

جَمَعَ لِي رَسُولُ اللهِ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ. ← سَعْدًا، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قثنا يَحْيَى

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him · Hadith 1302

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1303

1303 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَتْ: «لَقَدْ مَكَثَ أَبِي يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ، وَإِنَّ لَهُ لَثُلُثَ الْإِسْلَامِ» .

عائشہ بنت سعد رحمتہ اللہ علیہا سے روایت ہے کہ میرے والد کا ایک دن رات تک اسلام میں گزار نا وہ ان کے لیے ثلث اسلام کے برابر ہے ۔ (3)

«لَقَدْ مَكَثَ أَبِي يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ، وَإِنَّ لَهُ لَثُلُثَ الْإِسْلَامِ» ← عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him · Hadith 1303

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1304

1304 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قثنا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ لِأَحَدٍ غَيْرُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ يَقُولُ: «ارْمِ يَا سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» .

سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیّد نا سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی صحابی کے لیے اپنے والدین کو جمع نہیں فرمایا ِ،میں نے اُحد کے دن رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ ﷺ فرمارہے تھے : سعد ! تیر چلاؤ تجھ پر میرے ماں باپ قربان ہوں ۔(4)

«ارْمِ يَا سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» ← يَوْمِ أُحُدٍ ← النَّبِيَّ يَجْمَعُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فَإِنِّي ← مَا ← عَلِيًّا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← أَبِيهِ ← أَبِي، قثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قثنا أَبِي، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him · Hadith 1304

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1305

1305 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أنا يَحْيَى قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهِرَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهِيَ إِلَى جَنْبِهِ قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: فَقَالَ: «لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ» قَالَتْ: فَبَيْنَا أَنَا عَلَى ذَلِكَ إِذْ سَمِعْتُ صَوْتَ السِّلَاحِ، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» فَقَالَ: سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: «مَا جَاءَ بِكَ؟» قَالَ: جِئْتُ لِأَحْرُسَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ غَطِيطَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَوْمِهِ

سیّد ہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھی ، آپ ﷺ جاگتے رہے ، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا بات ہے ؟فرمایا :کاش آج میرے صحابہ میں سے کوئی نیک انسان میری حفاظت کرتا ، سیّد ہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں : پس اچانک میں نے ہتھیار کی آواز سنی ، آپ ﷺ نے فرمایا : کون ؟ عرضی کیا : سعد بن مالک ، فرمایا : سعد! کیوں آئے ہو ؟ کہنے لگے : یا رسول اللہ ﷺ میں آپ کی حفاظت کی خاطر آیا ہوں ، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کی نیند کی آواز سنی ۔(1)

أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تُحَدِّثُ: ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← يَحْيَى ← أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him · Hadith 1305

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1306

1306 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: أنا أَيُّوبُ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ سَعْدٍ تَقُولُ «أَبِي وَاللَّهِ الَّذِي جَمَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبَوَيْنِ يَوْمَ أُحُدٍ» .

عائشہ بنت سعد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میرے باپ فرمارہے تھے: اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نے اُحد کے دن میرے لئے اپنے والدین کو جمع کیا تھا ۔ ( یعنی آپ ﷺ نے ان کو فرمایا تھا : سعد! تجھ پر میرے ماں باپ قربان ہوں )(2)

أَيُّوبَ، ← أَبِي، قثنا إِسْمَاعِيلُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him · Hadith 1306

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1307

1307 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قثنا إِسْمَاعِيلُ قثنا قَيْسٌ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: «إِنِّي لَأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْزُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا لَنَا طَعَامٌ نَأْكُلُهُ إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ وَهَذَا السَّمُرَ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا يَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ مَا لَهُ خِلْطٌ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ يُعَزِّرُونِي عَلَى الدِّينِ لَقَدْ خِبْتُ إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي»

قیس بن سعد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے : میں پلا عربی ہوں جس نے اللہ کیراہ میں تیر پھینکا ہے ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں جاتے ، ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تو ہم کیکر درخت کے پتے کھاتے تھے ، یہاں تک کہ ہمارا براز بھی بکری کی مینگنیوں کی طرح ہوتا ، مگر اب وقت یہ آگیا ہے کہ بنواسد مجھے دین کے بارے میں ملامت کرتے ہیں ، تب تو یقیناً میں خسارے میں ہوں اور میراعمل ضائع ہوگا ۔ (3)

سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قثنا إِسْمَاعِيلُ قثنا قَيْسٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him · Hadith 1307

Sahih

chevron_left Previous
1…113114115…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him