Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1284

1284 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ: ابْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُبَايِعَكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَنْتَ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ» ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: " مَا كُنْتُ لِأَتَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ رَجُلٍ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يَؤُمَّنَا فَأَمَّنَا حَتَّى مَاتَ ".

ابو بختری رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ نے سیّد نا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے کہا : اپنے ہاتھ پھیلاؤ ک،میں آپ کے ساتھ پر بیعت کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ اس امت کے امین ہیں ۔ سیّد نا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اس شخص ( سیدّنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ)سے کیسے آگے بؔڑھوں ، جسے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں امامت کرانے کا حکم دیا اور وہ آپ ﷺ کی وصال مبارک تک ہماری امامت کرتے رہے ۔ (2)

أَنْتَ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرُ لِأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ابْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُبَايِعَكَ فَإِنِّي ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him · Hadith 1284

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1285

1285 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ قثنا جَعْفَرٌ قَالَ: نا ثَابِتُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ: " لَوْ أَدْرَكْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَاسْتَخْلَفْتُهُ وَمَا شَاوَرْتُ فِيهِ فَإِنْ سُئِلْتُ عَنْهُ، قُلْتُ: اسْتَخْلَفْتُ أَمِينَ اللَّهِ وَأَمِينَ رَسُولِهِ ".

ثابت بن حجاج رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر سیّدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے تو میں کسی سے مشورہ لیے بغیر ان کو خلیفہ بنا دیتا ،اگر مجھے سے پوچھا جاتا ، میں کہتا:میں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے امین کو خلیفہ بنایا ہے ۔ (3)

بلغني أن عمر بن الخطاب ← ثَابِتُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← أَبِي، قثنا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ قثنا جَعْفَرٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him · Hadith 1285

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1286

1286 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ: أنا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ وَسُئِلَتْ مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْلِفًا لَوِ اسْتَخْلَفَ؟ قَالَتْ: " أَبُو بَكْرٍ. قِيلَ لَهَا: مَنْ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَتْ: عُمَرُ، ثُمَّ قِيلَ لَهَا: مَنْ بَعْدَ عُمَرَ؟ قَالَتْ: أَبُو عُبَيْدَةَ ". قَالَ: ثُمَّ انْتَهَتْ إِلَى ذَا

اب ابی ملیکہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے میں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر رسول اللہ ﷺ کسی کو خلیفہ بناتے تو کس کا بناتے تو انہوں نے فرمایا : سیّد نا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پھر پوچھاگیا سیّد نا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد تو وہ فرمانے لگیں : سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ کو پھر پوچھاگیا سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد تو انہوں نے فرمایا : سیّد نا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو پھر وہ رک گئیں ۔ (4)

ثُمَّ انْتَهَتْ إِلَى ذَا ← أَبُو عُبَيْدَةَ ← عُمَرُ ثُمَّ قِيلَ لَهَا مَنْ بَعْدَ عُمَرَ ← أَبُو بَكْرٍ. قِيلَ لَهَا: مَنْ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ؟ ← عَائِشَةَ وَسُئِلَتْ مَنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ مُسْتَخْلِفًا لَوِ اسْتَخْلَفَ؟ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَبُو عُمَيْسٍ ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him · Hadith 1286

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1287

1287 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ، نا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَوِ اسْتَخْلَفْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَسَأَلَنِي عَنْهُ رَبِّي: مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ لَقُلْتُ: " رَبِّ سَمِعْتُ نَبِيَّكَ وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّهُ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ "، وَلَوِ اسْتَخْلَفْتُ سَالِمًا مَوْلَى حُذَيْفَةَ فَسَأَلَنِي عَنْهُ رَبِّي: مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ لَقُلْتُ: " رَبِّ سَمِعْتُ نَبِيَّكَ وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ حَقًّا مِنْ قَلْبِهِ "، وَلَوِ اسْتَخْلَفْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَسَأَلَنِي عَنْهُ رَبِّي مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ لَقُلْتُ: " رَبِّ سَمِعْتُ نَبِيَّكَ وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ الْعُلَمَاءَ إِذَا حَضَرُوا رَبَّهِمْ كَانَ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ رَتْوَةً بِحَجَرٍ ".

شہر بن حوشب رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر میں سیّد نا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیتا تو اس کے متعلق اللہ مجھ سے سوال کرتا کہ تمہیں اس کام پر کس نے ابھار تھا ؟ میں اپنے رب سے عرض کرتا کہ میں نے تیرے نبی سے سنا ہے کہ وہ فرمارہے تھے : یہ ( سیّد نا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ )میری امت کے امین ہیں ، اگر میں سیّد نا سالم مولیٰ سیّد نا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بناتا تو میرا رب مجھ سے اس کے متعلق پوچھتا ؟ کہ تمہیں اس کا م پر کس نے ابھاراتھا ؟ میں اپنے رب سے عرض کرتا کہ میں نے تیرے نبی سے سنا ہے کہ وہ فرما رہے تھے : سالم اپنے اللہ تعالیٰ سے دلی محبت کرتا ہے اور اگر میں سیّد نا معاذ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ باتا ، میرا رب اس کے بارے میں مجھے سے سوال کرتا کہ تمہیں اس کا م پر کس نے ابھارا تھا ؟ میں اپنے رب سے عرض کرتا : میں نے تیرے نبی سے سنا ہے کہ وہ فرما رہے تھے: جب علما کو رب کے سامنے جمع کیا جائے گا تو معاذ پتھر پھینکنے کی مسافت تک ان سب سے آگے ہوگا ۔ (1)

شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ← عَلَى أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him · Hadith 1287

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ طَلْحَةِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1288

1288 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَاهَرَ يَوْمَ أُحُدٍ بَيْنَ دِرْعَيْنِ قَالَ: فَلَمَّا صَعِدَ فِي الْجَبَلِ انْتَهَى إِلَى صَخْرَةٍ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ إِنْ يَصْعَدَهَا. قَالَ: فَجَاءَ طَلْحَةُ فَبَرَكَ لَهُ، فَصَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِهِ قَالَ: وَجَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ إِنْ يَضْرِبَهُ بِالسَّيْفِ قَالَ: فَوَقَاهُ طَلْحَةُ بِيَدِهِ فَشُلَّتْ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْجَبَ طَلْحَةُ» .

ابو بکر بن حفص رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اُُحد کے دن دودروں کے درمیان سے پہاڑ پر نمودار ہوئے تو ایک پتھر پر چڑھنا چاہا مگر چڑھ نہ سکےتو سیّد نا طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنی گردن جھکائی اور اپنی پیٹھ کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کو پتھر پر چڑھا دیا اس وقت ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ پر تلوار سے وار کرنا چاہا تو سیّد نا طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اس کو روکا مگر ان کا ہاتھ ضائع ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت طلحہ کے لیے واجب ہو گئی ہے ۔ (1)

أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him · Hadith 1288

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ طَلْحَةِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1289

1289 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَوْمَئِذٍ: «أَبْشِرْ يَا طَلْحَةُ بِالْجَنَّةِ الْيَوْمَ» .

ابن ابی ملیکہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس دن سیّد نا طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : طلحہ ! آج تجھے جنت مبارک ہو ۔ (2)

ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him · Hadith 1289

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ طَلْحَةِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1290

1290 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَعْقُوبُ قثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَئِذٍ: «أَوْجَبَ طَلْحَةُ حِينَ صَنَعَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ - يَعْنِي حِينَ بَرَكَ لَهُ طَلْحَةُ، فَصَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِهِ» .

سیّد نا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سنا ، رسول اللہ ﷺ (اُحد کے دن ) ارشاد فرما رہے تھے : طلحہ پر ( جنت ) واجب ہو گئی جب انہوں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ وہ سب کچھ کیا یعنی رسول اللہ ﷺکے لیے سیّد نا طلحہ رضی اللہ عنہ جھک گئے تو رسول اللہ ﷺ ان کی پیٹھ پر چڑھے ۔(3)

رَسُولِ اللَّهِ ← الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي، قثنا يَعْقُوبُ قثنا أَبِي، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him · Hadith 1290

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ طَلْحَةِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1291

1291 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: اسْتَأْذَنَ ابْنُ جُرْمُوزٍ الَّذِي قَتَلَ الزُّبَيْرَ أَوْ أَشْرَكَ فِي قَتْلِهِ عَلَى عَلِيٍّ، فَرَأَى فِي الْإِذْنِ جَفْوَةً، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى عَلِيٍّ قَالَ: أَمَّا فُلَانٌ فُلَانٌ فَيُؤْذَنُ لَهُمَا، وَأَمَّا أَنَا فَلَا، قَاتِلُ الزُّبَيْرِ، قَالَ لَهُ عَلِيٌّ: " بِفِيكِ التُّرَابُ، بِفِيكِ التُّرَابُ، إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ أَكُونَ أَنَا وَالزُّبَيْرُ وَطَلْحَةُ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47] ".

ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ا بن جر موز جس نے سیّد نا زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا ، یا پھر ان کے قتل میں شریک ہوا تھا ، نے ایک دن سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے اجازت طلب کی ، تو اُس نے اجازت ملنے میں تنگی محسوس کی ، جب وہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پا س آیا تو کہنے لگا : فلاں فلاں آدمی کو آپ کے پاس آنے کے لیے اجازت مل گئی ہے ، مگر مجھے زبیر کے قاتل ہونے کے باوجود اجازت نہیں ملی ، سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تیرا منہ مٹی سے بھر جائے ، مجھ یقین ہے کہ میں ، سیّد نا زبیر اور سیّد نا طلحہ رضی اللہ عنہ قیامت کے دن ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :ونز عنا مافی صدور ہم من غل اخوانا علی سرر متقابلین ۔ہم وہ ساری کدورت ہابر کھینچ لیں گے جو ( دنیا میں ) ان کے سینوں میں ( مغالطہ کے باعث ایک دوسرے سے ) تھی ، وہ ( جنت میں ) بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے ۔ (1)

إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← أَبِي، قثنا جَرِيرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him · Hadith 1291

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ طَلْحَةِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1292

1292 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قَالَ: نا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ قَالَ: «رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلَّاءَ، وَقَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ» .

سیّد نا قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُحد کے دن میں نے سیّد نا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کو دیکھا جو رسول اللہ ﷺ کا دفاع کرتے ہوئے شَل ہو چکا تھا ۔(2)

«رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلَّاءَ، وَقَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ يَوْمَ أُحُدٍ» ← قَيْسٍ ← ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا وَكِيعٌ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him · Hadith 1292

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ طَلْحَةِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1293

1293 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا رَوْحٌ قثنا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ، «أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بَاعَ أَرْضًا لَهُ بِسَبْعِمِائَةِ أَلْفٍ فَبَاتَ لَيْلَةً عِنْدَهُ ذَلِكَ الْمَالُ، فَبَاتَ أَرِقًا مِنْ مَخَافَةِ ذَلِكَ الْمَالِ حَتَّى أَصْبَحَ فَفَرَّقَهُ» .

سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیّد نا طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنی زمین سات ہزار کے عوض فروخت کی ۔ ایک رات وہ مال ان کے پاس رہا تو صبح تک اس سے پریشان رہے پھر صبح ہوتے ہی اس کو تقسیم کردیا ۔ (3)

أَبِي، قثنا رَوْحٌ قثنا عَوْفٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him · Hadith 1293

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ طَلْحَةِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1294

1294 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: نا أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، أَنَّ طَلْحَةَ ضُرِبَتْ كَفُّهُ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ: حِسٍّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ قُلْتَ: بِسْمِ اللَّهِ، لَرَأَيْتَ يُبْنَى لَكَ بِهَا بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ وَأَنْتَ حَيٌّ فِي الدُّنْيَا ".

موسیٰ بن طلحہ رحمتہ الل علیہ سے روایت ہے کہ جب سیّد نا طلحہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ اُحد کے دن زخمی ہو گیا تو انہوں نے ( بوجہ تکلیف ) آواز نکالی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : اگر تم "بسم اللہ "کہتے تو اپنی آنکھوں سے جنت میں اپنے لیے محل بنتاد یکھتے حالانکہ تم دنیا میں زندہ ہو ۔(4)

"حَسِّ" ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، أَنَّ طَلْحَةَ ضُرِبَتْ كَفُّهُ يَوْمَ أُحُدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، ← أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him · Hadith 1294

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ طَلْحَةِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1295

1295 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: نا أَبِي، قثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ طَلْحَةَ، يَعْنِي: ابْنَ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَبِيبَةَ قَالَ: جَاءَ عِمْرَانُ بْنُ طَلْحَةَ، إِلَى عَلِيٍّ فَقَالَ: " هَا هُنَا يَا ابْنَ أَخِي، فَأَجْلَسَهُ عَلَى طِنْفِسَةٍ وَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَأَبُوكَ كَمَنْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47] ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْكَوَّاءِ: اللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ، فَقَامَ إِلَيْهِ بِدِرَّتِهِ فَضَرَبَهُ، فَقَالَ: أَنْتَ لَا أُمَّ لَكَ وَأَصْحَابُكَ يُنْكِرُونَ هَذَا ".

ابوحبیہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ عمرابن طلحہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، انہوں نے کہا : اے بھتیجے ! یہاں اس قالین پر بیٹھو اور فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے یقین ہے کہ میں اور آپ کے باپ قیامت دن ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ونز عنا مافی صدور ہم من غل اخوانا علی سرر متقابلین ۔ اور ہم وہ ساری کدورت باہر کھینچ لیں گے جو ( دنیا میں ) ان کے سینوں میں ( مغالطہ کے باعث ایک دوسرے سے ) تھی ، وہ ( جنت میں ) بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے ۔ یہ سن کر ابن الکوائ نامی شخص نے کہا : اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ انصاف کرنے والا ہے ۔ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے اپنا درہ اٹھا کر اس کو مارا اور فرمایا : تیری ماں نہ رہے ، کیا تم اور تمہارے ساتھی اس کا انکار کرتے ہیں ۔ (1)

أَنْتَ لَا أُمَّ لَكَ وَأَصْحَابُكَ يُنْكِرُونَ هَذَا ← لَهُ ابْنُ الْكَوَّاءِ: اللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ، فَقَامَ إِلَيْهِ بِدِرَّتِهِ فَضَرَبَهُ، ← اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ← وَأَبُوكَ كَمَنْ ← وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ ← هَا هُنَا يَا ابْنَ أَخِي، فَأَجْلَسَهُ عَلَى طِنْفِسَةٍ ← جَاءَ عِمْرَانُ بْنُ طَلْحَةَ، إِلَى عَلِيٍّ ← أَبُو حَبِيبَةَ ← طَلْحَةُ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى ← أَبِي، قثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him · Hadith 1295

chevron_left Previous
1…112113114…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him