سیدنا عمر نے فرمایا اگر سیدنا ابو بکر کی ہم پر اور کوئی فضیلت نہ بھی ہوتی تو بھی ان (کو ہم پر افضل ہونے ) کےلیے کافی ہے کہ انہوں نے سیدنا بلال کو آزاد کر وادیا ۔(3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 292
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 293
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 293
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 294
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 294
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 295
سیدنا واقدلیثی سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ نے اپنے ایک بندے کو (دوباتوں میں ایک بات کا ) اختیار دیا ہے وہ دنیا میں رہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم میں اس بات کو صرف سیدنا ابو بکر صدیق ہی نے سمجھا (یہ سن کر) رو پڑے پھر فرمایا : میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں ۔ ہم سب اپنے والدین اور مال کو آپ ﷺ پر قربان کر دیں گے تو رسول اللہ ﷺ نے اسی وقت فرمایا : لوگوں میں سے ہم پر صحبت ،مال اور ہاتھ کے لحاظ سے کوئی ابن ابی قخافہ سے زیادہ حقدار نہیں ہے ۔ اگر میں لوگوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابن ابی قخافہ کو بناتا لیکن تمہارے صاحب نے اپنے اللہ کو اپنا خلیل بنا لیا ہے ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 295
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 296
سیدنا عروہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ امام ابو جعفر نے کہا : ابو بکر صدیق نے کہا میں نے پوچھا : سیدنا صدیق؟ انہوں نے کہا : ہاں صدیق پھر سیدنا عمر کے متعلق کہا کہ امیر المومنین نے کہا : میں نے کہا : امیر المومنین ؟ کہا ہاں ! امیر المومنین ۔(3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 296
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 297
سیدنا ابو الدرداء سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے ۔ اتنے میں ابو بکر اپنے کپڑوں کے کونوں کو سمیٹتے ہوئے تشریف لائے یہاں تک کہ ان کے گھٹنے نظر آگئے جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا : یہ تمہارا ساتھی ہے انہوں نے آکر سلام کیا اور عرض کرنےلگے یا رسول اللہ ﷺ میرے اور سیدنا عمر کے درمیان کچھ اختلاف ہوا ہے لیکن میں پریشان ہوں اور میں نے سیدنا عمر سے معافی مانگی مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ میں ان کے پیچھے پورا بقیع پھرتا رہا مگر وہ مجھ سے اپنے گھر میں چھپ گئے اب میں آپ ﷺ کے پاس آیا ہوں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابو بکر یقینا اللہ نے آپ کو معاف کیا ہے یہ تین دفعہ فرمایا ۔ لیکن دوسری طرف سیدنا عمر بھی پریشان ہوئے کہ ان سے سیدنا ابو بکر معافی طلب کی تھی مگر اس کے باوجود میں نے انکار کیا ۔ چنانچہ سیدنا عمر اپنے گھر سے نکل کر سیدنا ابو بکر کے گھر چلے گئے اور پوچھا : یہاں ابو بکر ہیں ؟ آواز آئی ، نہیں ! تو انکو یقین ہو گیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے ہوں گے تو سیدنا عمر دوڑتے ہوئے وہاں پہنچے سلام کیا تو رسول اللہ ﷺ کا رنگ بدل گیا تو سیدنا ابوبکر گھبرا گئے کہ کہیں رسول اللہ ﷺ سیدنا عمر کو ان کی وجہ سے سختی سے نہ پیش آئیں ۔ یہ منظر دیکھ کر سیدنا ابو بکر دو زانوں ہو کر بیٹھ گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ کی قسم ! میں نے ہی ظلم کیا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگو! جب میں رسول بنا تو تم نے مجھے جھٹلایا مگر ابو بکر نے میری تصدیق کی اور میرے ساتھ مالی و جسمانی تعاون کیا اب کیا تم میرے رفیق کو نظر انداز کرتے ہو؟ تین مرتبہ ایسا فرمایا ۔راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد سیدنا ابو بکر کو کسی نے تکلیف نہیں پہنچائی ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 297
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 298
سعید بن یحیٰ بن قیس بن عبس اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دن سیدہ حفصہ بنت عمر نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ جب آپ بیمار ہوتے ہیں تو سیدنا ابو بکر کو کیوں آگے کرتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو آگے کرتا ہے ۔ (2)
الَّذِي أُقَدِّمُهُ، وَلَكِنَّ اللَّهَ قَدَّمَهُ» ← لست ← لرسول الله إذا أنت مرضت قدمت أبا بكر ← بَلَغَنِي أَنَّ حَفْصَةَ ابْنَةَ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَيْسِ بْنِ عَبْسٍ ← أَبِي عَجُوزُ صِدْقٍ ← أَبِي، حَدَّثَتْنَا أُمُّ عُمَرَ، ابْنَةٌ لِحَسَّانَ بْنِ زَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 298
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 299
سیدنا عمر و بن عبسہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا ابو بکر اور سیدنا بلال تھے پس میں نے بلاشبہ ربع(چوتھائی) اسلام دیکھ لیا۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 299
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 300
سیدہ ام سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آسمان میں دو فرشتے ہیں ایک سختی کا حکم دیتا ہے دوسرانرمی کا حکم دیتا ہے ۔ اور دونوں صحیح ہیں ایک جبرئیل ہیں ایک میکا ئیل ہیں دو نبی تھے ۔ ایک قوم پر سختی کرتا تھا اور دسرا نرمی کرتا تھا اور دونوں درستگی پر تھے ۔ ان میں سے ایک سیدنا ابراہیم تھے اور دوسرے سیدنا نوح اسی طرح میرے بھی دو ساتھی ہیں جن میں ایک نرم اور دوسرا سخت۔ اور دونوں صحیح ہیں ۔ ان میں سے ایک ابو بکر ہیں اور دوسرے عمر ۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 300
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 301
سیدنا سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی اس وقت آپ ﷺ کے پاس قریش کی چند عورتیں بیٹھی بلند آواز سے باتیں کر رہی تھیں۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو وہ اُٹھ کر دوڑیں اور پردہ میں ہو گئیں ۔ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اندر آنے کی اجازت دی ، رسول اللہ ﷺ مسکرارہے تھے ،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ ہنستارکھے (تبسم کا کیا سبب ہے؟) نبی کریم ﷺ نےفرمایا : مجھے ان عورتوں سے بڑا تعجب ہوا جو میرے پاس بیٹھی تھیں جب انہوں نے تیری آوازی سنی تو و ہ جلدی سے پردہ میں چلی گئیں سیدنا عمر نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ آپ ﷺ سے ڈریں ،نیز عورتوں سے فرمایا : اپنی جان کی دشمنو! کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ ﷺ سے نہیں ڈر تیں ؟ ان عورتوں نے کہا : ہاں (کیونکہ ) آپ رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ سخت ہیں ۔ رسول اللہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جس راستہ سے بھی تجھے شیطان ملتا ہے وہ بھی تجھ سے ڈر کر اپنے راستہ بدل لیتا ہے ۔ امام یعقوب فرماتے ہیں کہ میں نے شمار نہیں کیا کہ اس روایت کو اپنے باپ سے کتنی بار سنا ہے ۔(1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 301
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 302
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ ﷺ کے پاس قریش کی چند عورتی تھیں جو سوال کر رہی تھیں اور اونچی آواز میں بول رہی تھیں پھر آگے سابقہ روایت کی مثل الفاظ ہیں ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 302
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 303
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 303