(3) سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺایک صبح سے دوسرے صبح تک وصال (لگاتار روزہ رکھنا)کرتے تھے ۔
عَلِيٍّ، ← محمد بن علي ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا إِسْرَائِيلُ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1236
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1237
محمد بن علی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے والیوں (زکوٰۃ وصول کر نے والا عملہ )کی شکائت کی تو مجھے میرے باپ (سیّد نا علی رضی اللہ عنہ)نے کہا :یہ خط لے کر سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ ،ان سے کہو :لوگ آپ بھی اسی طرح اپنےعمال کو حکم دو کہ ا سکے مطابق لوگوں سے زکوٰۃ وصول کریں ۔راوی (محمد بن علی )کہتے ہیں :جب میں نے سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آکر اس بات کو ذکر کیا ،اگر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف ہوتے تو وہ اس موقع پر ضرور ان کو کچھ کہہ دیتے ۔(1)
محمد بن علي ← مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1237
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1238
ابوالواضی سے روایت ہے کہ ہم سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ جارہے تھے ،پھر آگے حدیث مخدوم کو بیا ن کیا ،پھر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اللہ کی قسم !نہ میں جھوٹا ہوں اور نہ میں نے جھوٹ بولا ہے ،تین مرتبہ کہا، سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نےکہا :یہ تین بھائی جنوں میں سے ہیں ،یہ ان میں سے سب بڑا بھا ئی ہے ،دوسرے نمبر والا کافی طاقطور ہے اور تیسرا کمزور ہے۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1238
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1239
سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے قاضی بنا کر یمن بھیجا ،ہم ایسے لوگوں کے پاس پہنچے کہ انہوں نے شیر کو پکڑنے کے لیے ایک گڑھا بنا رکھا تھا ۔ان لوگوں میں سے ایک شیر کے گڑھے میں گرنے لگا تو اس نے دوسرے شخص کو پکڑا ،دوسرے نے تیسرے کو پکڑا یہاں تک کہ چار آدمی اس میں گر گئے شیر نے ان سب کو زخمی کر دیا تو ایک شخص نے اپنے نیزے سے شیر کو قتل کیا اور وہ چاروں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مر گئے ،تو پہلے شخص کے ورثا نے دوسرے شخص پر دعوٰی قتل کیا ۔یہاں تک کہ فریقین جنگ کے لیے مسلح ہو گئے تو اس وقت سیّد نا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا :کیا تم آپس میں لڑنا چاہتے ہو؟حلانکہ رسول اللہﷺابھی زندہ ہیں ؟ میں تمہارے درمیا ن فیصلہ کرتا ہوں ،اگر تم بخوشی قبول کرو تو یہی فیصلہ رہے گا ،اگر ایسا نہ ہو تو تم ایک دوسرے سے پیچھے ہٹ جاؤ اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤ ،آپ ﷺہی تمہاے درمیا ن فیصلہ کریں گے اس کے بعد جس نے حد سے تجاوز کیا ،وہ حق سے محروم ہو جائے گا تم ان تمام قبائل کے لوگوں سے جنہوں نے اس گڑھے کو کھودا تھا ربع دیت ،ثلث ،تیسرے کو نصف دیت ملےاور کامل دیت وصول کرو ۔ پہلے شخص کو ربع دیت کیو نکہ وہ اوپر سے گرا ہے دوسرے کو ثلث تیسرے کو نصف دیت ملے گی ،یہ فیصلہ ان لوگوں کو ناپسند تھا تو وہ رسول اللہ ﷺکے پاس آئے آپﷺمقام ابراھیم کے پاس کھڑے تھے انہوں نے واقعہ سنایا تو رسول اللہﷺنے فیصلہ کرنے کا ارادہ کیا تو کسی نے کہا :اس سے پہلے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ فیصلہ کر چکے ہیں ،یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو بر قرار رکھا۔(1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1239
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1240
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1240
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1241
عبد اللہ بن زریر رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ،راوی حسن کہتے ہیں:عبد الاضحیٰ کے دن انہوں نے میرے سامنے خزیرہ پیش کیا تو میں نے کہا :امیر المومنین !اللہ آپ کے حالات درست فرمائے ،اگر بطخ کا گوشت پیش کرتے تو اچھا ہوتا ،کیو نکہ اللہ نے کشادگی فرمائی ہے ،سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :ابن زیر !میں نے رسول اللہﷺسے سنا تھا کہ کسی خلیفہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ بیت المال سے دو طرح کے پیالوں کے علاوہ خرچ کرے ،ایک وہ پیالہ جس سے خود اور اپنے اہل وعیال کو کھلائے دوسرا وہ جو لو گو ں کے سامنے پیش کرے۔(3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1241
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1242
سیّد ناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ان سے فرمایا :علی!ہر حال میں وضو اچھی طرح کرنا اگر چہ تمہیں تکلیف ہو ،صدقہ کے ،مال سے نہ کھانا ،گدھے کو گھوڑی پر نہ چھوڑنا اور نجومیوں کے ساتھ تعلقات نہ بنانا ۔(4)
عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← محمد بن علي ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← هارون بن مسلم، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1242
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1243
سلمی نامی عورت سے روایت ہے کہ سیّد ہ فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺایک مرض میں مبتلا تھیں جس میں وہ وفات پا گیئں ،میں ان کی تمار داری کرتی تھی ،ایک دن وہ شدتِ مرض میں مبتلا تھی اس سے پہلے میں نے اتنی سختی نہیں دیکھی ،سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کسی کام سے باہر گئے تو سیّد نا فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا :میرے غسل کرنے کے لیے پانی رکھ دو ۔میں نے پانی رکھ دیا ۔میری رائے کے مطابق آپ رضی اللہ عنہا نے اچھی طرح غسل کیا ،پھر کہا :مجھے نئے کپڑے لا دو میں نے لا دئے تو انہوں نے پہن لیے اور کہا ،مجھے اس بستر پر لے جاؤجو گھر کے صحن میں ہے میں لے گئی آپ قبلہ رُخ ہو کر لیٹ گئیں اور ہاتھ کو اپنے رخسار کے نیچے رکھ لیا پھر کہنے لگیں اماں :میری وفات کا وقت آچکا ہے ،اس لیے میں نے غسل بھی کر لیا ہے اب کسی شخص کو مجھے عریاں کرنے کی اجازت نہ دینا تو اسی جگہ وہ وفات پا گیئں ۔جب سیّد نا علی رضی اللہ عنہ آئے میں نے اس بات کی خبر انہیں دے دی ۔(1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1243
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1244
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1244
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1245
محمد بن قیس رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ کچھ یہودی سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پا س آکر کہنے لگے :تم لوگو ں (مسلمانوں )سے صبر نہیں ہوا کہ تم نے نبی کریم ﷺکے فوت ہونے سے پچیس سال بعد ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیا ؟تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :صبر کیا اور قابل تحسین صبر کا مظاہرہ کیا مگر تم لوگ یہود کا تو ابھی سمندر کے پانی سے پاؤں خشک نہیں ہوا تھا کہ تم نے سیّد نا موسیٰ سے کہہ ڈالا تھا :کہنے لگے اے موسیٰ!ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود بنا دے ،جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں سیّدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا تم لوگ بڑی نا دا نی کی باتیں کرتے ہو۔(3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1245
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1246
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1246
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1247
شجاع بن ابو فاطمہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیّد نا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا :میں تمہیں بیت المال سے عطیات دو گا سیّد نا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے اس کی ضرورت نہیں سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا :وہ آپ کی بیٹیوں کے لیے ہو گا تو سیّد نا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے اپنی بیٹیو ں کو ہر رات سورۃ واقعہ پڑھنے کا حکم دیا اور میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ،آپ ﷺفرمارہے تھے :جو ہر رات سورۃ واقعہ پڑھتا ہے تو وہ کبھی فقرو فاقہ کا شکار نہیں ہوگا ،سری بن یحییٰ راوی کہتے ہیں ابو فاطمہ ہر رات سورۃ واقعہ پڑھا کرتے تھے ۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1247