Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1236

1236 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوَاصِلُ مِنَ السَّحَرِ إِلَى السَّحَرِ» .

(3) سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺایک صبح سے دوسرے صبح تک وصال (لگاتار روزہ رکھنا)کرتے تھے ۔

عَلِيٍّ، ← محمد بن علي ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا إِسْرَائِيلُ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1236

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1237

1237 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: جَاءَ إِلَى عَلِيٍّ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ فَشَكَوْا سُعَاةَ عُثْمَانَ قَالَ: فَقَالَ لِي أَبِي: " اذْهَبْ بِهَذَا الْكِتَابِ إِلَى عُثْمَانَ فَقُلْ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَكَوْا سُعَاتَكَ وَهَذَا أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَةِ فَمُرْهُمْ فَلْيَأْخُذُوا بِهِ " قَالَ: فَأَتَيْتُ عُثْمَانَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: فَلَوْ كَانَ ذَاكِرًا عُثْمَانَ بِشَيْءٍ لَذَكَرَهُ يَوْمَئِذٍ - يَعْنِي بِسُوءٍ

محمد بن علی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے والیوں (زکوٰۃ وصول کر نے والا عملہ )کی شکائت کی تو مجھے میرے باپ (سیّد نا علی رضی اللہ عنہ)نے کہا :یہ خط لے کر سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ ،ان سے کہو :لوگ آپ بھی اسی طرح اپنےعمال کو حکم دو کہ ا سکے مطابق لوگوں سے زکوٰۃ وصول کریں ۔راوی (محمد بن علی )کہتے ہیں :جب میں نے سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آکر اس بات کو ذکر کیا ،اگر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف ہوتے تو وہ اس موقع پر ضرور ان کو کچھ کہہ دیتے ۔(1)

محمد بن علي ← مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1237

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1238

1238 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، نا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، إِنَّ أَبَا الْوَضِيءِ عَبَّادًا حَدَّثَهُ إِنَّهُ قَالَ: كُنَّا عَامِدِينَ إِلَى الْكُوفَةِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمُخْدَجِ. قَالَ عَلِيٌّ: فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ثَلَاثًا، فَقَالَ عَلِيٌّ أَمَا «إِنَّ خَلِيلِي أَخْبَرَنِي أَنَّ ثَلَاثَةَ إِخْوَةٍ مِنَ الْجِنِّ هَذَا أَكْبَرُهُمْ، وَالثَّانِي لَهُ جَمْعٌ كَثِيرٌ، وَالثَّالِثُ فِيهِ ضَعْفٌ» .

ابوالواضی سے روایت ہے کہ ہم سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ جارہے تھے ،پھر آگے حدیث مخدوم کو بیا ن کیا ،پھر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اللہ کی قسم !نہ میں جھوٹا ہوں اور نہ میں نے جھوٹ بولا ہے ،تین مرتبہ کہا، سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نےکہا :یہ تین بھائی جنوں میں سے ہیں ،یہ ان میں سے سب بڑا بھا ئی ہے ،دوسرے نمبر والا کافی طاقطور ہے اور تیسرا کمزور ہے۔(2)

عَلِيٌّ أَمَا إِنَّ خَلِيلِي ← عَلِيٌّ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ثَلَاثًا ← حَدِيثَ الْمُخْدَجِ ← كُنَّا عَامِدِينَ إِلَى الْكُوفَةِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَنَّهُ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، إِنَّ أَبَا الْوَضِيءِ عَبَّادًا ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1238

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1239

1239 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قثنا إِسْرَائِيلُ قثنا سِمَاكٌ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى قَوْمٍ قَدْ بَنَوْا زُبْيَةً لِلْأَسَدِ فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ يَتَدَافَعُونَ إِذْ سَقَطَ رَجُلٌ فَتَعَلَّقَ بِآخَرَ، ثُمَّ تَعَلَّقَ رَجُلٌ بِآخَرَ، حَتَّى صَارُوا فِيهَا أَرْبَعَةً فَجَرَحَهُمُ الْأَسَدُ، فَانْتَدَبَ لَهُ رَجُلٌ بِحَرْبَةٍ فَقَتَلَهُ، وَمَاتُوا مِنْ جِرَاحَتِهِمْ كُلُّهُمْ، فَقَامَ أَوْلِيَاءُ الْأَوَّلِ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْآخَرِ، فَأَخْرَجُوا السِّلَاحَ لِيَقْتَتِلُوا، فَأَتَاهُمْ عَلِيٌّ عَلَى تَفِيئَةِ ذَلِكَ، فَقَالَ: تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ إِنِّي أَقْضِي بَيْنَكُمْ قَضَاءً إِنْ رَضِيتُمْ فَهُوَ الْقَضَاءُ وَإِلَّا حَجَزَ بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ، حَتَّى تَأْتُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَكُونُ هُوَ الَّذِي يَقْضِي بَيْنَكُمْ، فَمَنْ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلَا حَقَّ لَهُ، «اجْمَعُوا مِنْ قَبَائِلِ الَّذِينَ حَفَرُوا الْبِئْرَ رُبُعَ الدِّيَةِ، وَثُلُثَ الدِّيَةِ، وَنِصْفَ الدِّيَةِ، وَالدِّيَةَ كَامِلَةً، فَلِلْأَوَّلِ الرُّبُعُ لِأَنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ فَوْقَهُ، وَلِلثَّانِي ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَلِلثَّالِثِ نِصْفُ الدِّيَةِ» ، فَأَبَوْا أَنْ يَرْضَوْا فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: أَنَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ وَاحْتَبَى فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ عَلِيًّا قَضَى فِينَا فَقَصُّوا عَلَيْهِ فَأَجَازَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے قاضی بنا کر یمن بھیجا ،ہم ایسے لوگوں کے پاس پہنچے کہ انہوں نے شیر کو پکڑنے کے لیے ایک گڑھا بنا رکھا تھا ۔ان لوگوں میں سے ایک شیر کے گڑھے میں گرنے لگا تو اس نے دوسرے شخص کو پکڑا ،دوسرے نے تیسرے کو پکڑا یہاں تک کہ چار آدمی اس میں گر گئے شیر نے ان سب کو زخمی کر دیا تو ایک شخص نے اپنے نیزے سے شیر کو قتل کیا اور وہ چاروں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مر گئے ،تو پہلے شخص کے ورثا نے دوسرے شخص پر دعوٰی قتل کیا ۔یہاں تک کہ فریقین جنگ کے لیے مسلح ہو گئے تو اس وقت سیّد نا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا :کیا تم آپس میں لڑنا چاہتے ہو؟حلانکہ رسول اللہﷺابھی زندہ ہیں ؟ میں تمہارے درمیا ن فیصلہ کرتا ہوں ،اگر تم بخوشی قبول کرو تو یہی فیصلہ رہے گا ،اگر ایسا نہ ہو تو تم ایک دوسرے سے پیچھے ہٹ جاؤ اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤ ،آپ ﷺہی تمہاے درمیا ن فیصلہ کریں گے اس کے بعد جس نے حد سے تجاوز کیا ،وہ حق سے محروم ہو جائے گا تم ان تمام قبائل کے لوگوں سے جنہوں نے اس گڑھے کو کھودا تھا ربع دیت ،ثلث ،تیسرے کو نصف دیت ملےاور کامل دیت وصول کرو ۔ پہلے شخص کو ربع دیت کیو نکہ وہ اوپر سے گرا ہے دوسرے کو ثلث تیسرے کو نصف دیت ملے گی ،یہ فیصلہ ان لوگوں کو ناپسند تھا تو وہ رسول اللہ ﷺکے پاس آئے آپﷺمقام ابراھیم کے پاس کھڑے تھے انہوں نے واقعہ سنایا تو رسول اللہﷺنے فیصلہ کرنے کا ارادہ کیا تو کسی نے کہا :اس سے پہلے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ فیصلہ کر چکے ہیں ،یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو بر قرار رکھا۔(1)

عَلِيٍّ، ← حنش ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قثنا إِسْرَائِيلُ قثنا سِمَاكٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1239

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1240

1240 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حَمَّادٌ قَالَ: أنا سِمَاكٌ، عَنْ حَنَشٍ إِنَّ عَلِيًّا قَالَ: «وَلِلرَّابِعِ الدِّيَةُ كَامِلَةً»

حبش رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے چوتھے شخص کے لیے پوری دیت دینے کا حکم دیا ۔(2)

وَلِلرَّابِعِ الدِّيَةُ كَامِلَةً ← حَنَشٍ أَنَّ عَلِيًّا ← سِمَاكٍ، ← أَبِي، قثنا حَمَّادٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1240

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1241

1241 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْأَشْيَبُ، وَأَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَا: نا ابْنُ لَهِيعَةَ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ حَسَنٌ يَوْمَ الْأَضْحَى فَقَرَّبَ إِلَيْنَا خَزِيرَةً فَقُلْتُ: أَصْلَحَكَ اللَّهُ لَوْ قَرَّبْتَ إِلَيْنَا هَذَا الْبَطَّ يَعْنِي الْوَزَّ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَكْثَرَ الْخَيْرَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ زُرَيْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِلْخَلِيفَةِ مِنْ مَالِ اللَّهِ، إِلَّا قَصْعَتَانِ، قَصْعَةٌ يَأْكُلُهَا هُوَ وَأَهْلُهُ، وَقَصْعَةٌ يَضَعُهَا بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ» .

عبد اللہ بن زریر رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ،راوی حسن کہتے ہیں:عبد الاضحیٰ کے دن انہوں نے میرے سامنے خزیرہ پیش کیا تو میں نے کہا :امیر المومنین !اللہ آپ کے حالات درست فرمائے ،اگر بطخ کا گوشت پیش کرتے تو اچھا ہوتا ،کیو نکہ اللہ نے کشادگی فرمائی ہے ،سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :ابن زیر !میں نے رسول اللہﷺسے سنا تھا کہ کسی خلیفہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ بیت المال سے دو طرح کے پیالوں کے علاوہ خرچ کرے ،ایک وہ پیالہ جس سے خود اور اپنے اہل وعیال کو کھلائے دوسرا وہ جو لو گو ں کے سامنے پیش کرے۔(3)

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ، ← حَسَنٌ الْأَشْيَبُ، وَأَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1241

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1242

1242 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، نا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ، نا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ أَسْبِغِ الْوُضُوءَ وَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ، وَلَا تَأْكُلِ الصَّدَقَةَ، وَلَا تُنْزِ الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ، وَلَا تُجَالِسْ أَصْحَابَ النُّجُومِ» .

سیّد ناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ان سے فرمایا :علی!ہر حال میں وضو اچھی طرح کرنا اگر چہ تمہیں تکلیف ہو ،صدقہ کے ،مال سے نہ کھانا ،گدھے کو گھوڑی پر نہ چھوڑنا اور نجومیوں کے ساتھ تعلقات نہ بنانا ۔(4)

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← محمد بن علي ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← هارون بن مسلم، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1242

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1243

1243 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا أَبُو النَّضْرِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّهِ سَلْمَى قَالَتِ: اشْتَكَتْ فَاطِمَةُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكْوَاهَا الَّتِي قُبِضَتْ فِيهِ، فَكُنْتُ أُمَرِّضُهَا فَأَصْبَحَتْ يَوْمًا كَأَمْثَلِ مَا رَأَيْتُهَا فِي شَكْوَاهَا ذَلِكَ قَالَتْ: وَخَرَجَ عَلِيٌّ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ فَقَالَتْ: «يَا أُمَّةُ اسْكُبِي لِي غُسْلًا» ، فَسَكَبْتُ لَهَا غُسْلًا فَاغْتَسَلَتْ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهَا تَغْتَسِلُ، ثُمَّ قَالَتْ: «يَا أُمَّةُ أَعْطِينِي ثِيَابِي الْجُدُدَ» ، فَأَعْطَيْتُهَا، فَلَبِسَتْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: «يَا أُمَّةُ قَدِّمِي لِي فِرَاشِي وَسَطَ الْبَيْتِ» ، فَفَعَلْتُ وَاضْطَجَعَتْ فَاسْتَقْبَلَتِ الْقِبْلَةَ وَجَعَلَتْ يَدَهَا تَحْتَ خَدِّهَا ثُمَّ قَالَتْ: «يَا أُمَّةُ إِنِّي مَقْبُوضَةٌ الْآنَ، وَقَدْ تَطَهَّرَتْ فَلَا يَكْشِفُنِي أَحَدٌ» ، فَقُبِضَتْ مَكَانَهَا قَالَتْ: فَجَاءَ عَلِيٌّ فَأَخْبَرْتُهُ ".

سلمی نامی عورت سے روایت ہے کہ سیّد ہ فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺایک مرض میں مبتلا تھیں جس میں وہ وفات پا گیئں ،میں ان کی تمار داری کرتی تھی ،ایک دن وہ شدتِ مرض میں مبتلا تھی اس سے پہلے میں نے اتنی سختی نہیں دیکھی ،سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کسی کام سے باہر گئے تو سیّد نا فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا :میرے غسل کرنے کے لیے پانی رکھ دو ۔میں نے پانی رکھ دیا ۔میری رائے کے مطابق آپ رضی اللہ عنہا نے اچھی طرح غسل کیا ،پھر کہا :مجھے نئے کپڑے لا دو میں نے لا دئے تو انہوں نے پہن لیے اور کہا ،مجھے اس بستر پر لے جاؤجو گھر کے صحن میں ہے میں لے گئی آپ قبلہ رُخ ہو کر لیٹ گئیں اور ہاتھ کو اپنے رخسار کے نیچے رکھ لیا پھر کہنے لگیں اماں :میری وفات کا وقت آچکا ہے ،اس لیے میں نے غسل بھی کر لیا ہے اب کسی شخص کو مجھے عریاں کرنے کی اجازت نہ دینا تو اسی جگہ وہ وفات پا گیئں ۔جب سیّد نا علی رضی اللہ عنہ آئے میں نے اس بات کی خبر انہیں دے دی ۔(1)

أمه سلمى ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو النَّضْرِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1243

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1244

1244 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ نَحْوَهُ

محمد بن اسحاق رحمۃاللہ علیہ سے بھی اسی طرح کی روایت آتی ہے۔(2)

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ نَحْوَهُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَکَانِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1244

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1245

1245 - قَالَ ابْنُ مَالِكٍ: نا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ قثنا أَبُو مَعْشَرٍ هُوَ الْمَدِينِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: دَخَلَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَقَالُوا لَهُ: مَا صَبَرْتُمْ بَعْدَ نَبِيِّكُمْ إِلَّا خَمْسًا وَعِشْرِينَ سَنَةً حَتَّى قَتَلَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا قَالَ: فَقَالَ عَلِي: " قَدْ كَانَ صَبْرًا وَخَيْرًا، فَذَكَرَ صَبْرًا وَخَيْرًا، وَلَكِنْ مَا جَفَّتْ أَقْدَامُكُمْ مِنَ الْبَحْرِ حَتَّى قُلْتُمْ: {يَا مُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ} [الأعراف: 138] "

محمد بن قیس رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ کچھ یہودی سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پا س آکر کہنے لگے :تم لوگو ں (مسلمانوں )سے صبر نہیں ہوا کہ تم نے نبی کریم ﷺکے فوت ہونے سے پچیس سال بعد ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیا ؟تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :صبر کیا اور قابل تحسین صبر کا مظاہرہ کیا مگر تم لوگ یہود کا تو ابھی سمندر کے پانی سے پاؤں خشک نہیں ہوا تھا کہ تم نے سیّد نا موسیٰ سے کہہ ڈالا تھا :کہنے لگے اے موسیٰ!ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود بنا دے ،جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں سیّدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا تم لوگ بڑی نا دا نی کی باتیں کرتے ہو۔(3)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1245

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1246

1246 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ جَبْرَةَ أَوْ خَيْرَةَ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ، عَنْ أَبِيهَا، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اطْلُبُوا الْخَيْرَ، عِنْدَ حِسَانِ الْوُجُوهِ» .

سیّد نا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا :تم نورانی چہرے والوں کے ذریعے اپنی حاجت کو پوری کرو ۔(1)

عَائِشَةَ ← أَبِيهَا ← جَبْرَةَ أَوْ خَيْرَةَ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1246

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1247

1247 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي غَيْلَانَ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا أَبُو الْيَمَانِ الْبَصْرِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ السَّرِيَّ بْنَ يَحْيَى قَالَ: نا شُجَاعُ بْنُ أَبِي فَاطِمَةَ قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ لِابْنِ مَسْعُودٍ: أَلَّا آمُرُ لَكَ بِعَطَائِكَ؟ قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي بِهِ، قَالَ: يَكُونُ لِبَنَاتِكَ قَالَ: إِنِّي قَدْ أَمَرْتُ بَنَاتِي أَنْ يَقْرَأْنَ كُلَّ لَيْلَةٍ سُورَةَ الْوَاقِعَةِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قَرَأَ كُلَّ لَيْلَةٍ - أَوْ قَالَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ - سُورَةَ الْوَاقِعَةِ لَمْ تُصِبْهُ فَاقَةٌ أَبَدًا» . قَالَ السَّرِيُّ، وَكَانَ أَبُو فَاطِمَةَ لَا يَدَعُهَا كُلَّ لَيْلَةٍ

شجاع بن ابو فاطمہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیّد نا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا :میں تمہیں بیت المال سے عطیات دو گا سیّد نا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے اس کی ضرورت نہیں سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا :وہ آپ کی بیٹیوں کے لیے ہو گا تو سیّد نا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے اپنی بیٹیو ں کو ہر رات سورۃ واقعہ پڑھنے کا حکم دیا اور میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ،آپ ﷺفرمارہے تھے :جو ہر رات سورۃ واقعہ پڑھتا ہے تو وہ کبھی فقرو فاقہ کا شکار نہیں ہوگا ،سری بن یحییٰ راوی کہتے ہیں ابو فاطمہ ہر رات سورۃ واقعہ پڑھا کرتے تھے ۔(2)

السَّرِيُّ، وَكَانَ أَبُو فَاطِمَةَ لَا يَدَعُهَا كُلَّ لَيْلَةٍ ← فِي كُلِّ لَيْلَةٍ سُورَةَ الْوَاقِعَةِ لَمْ تُصِبْهُ فَاقَةٌ أَبَدًا» ← «مَنْ قَرَأَ كُلَّ لَيْلَةٍ أَوْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← إِنِّي قَدْ أَمَرْتُ بَنَاتِي أَنْ يَقْرَأْنَ كُلَّ لَيْلَةٍ سُورَةَ الْوَاقِعَةِ فَإِنِّي ← يَكُونُ لِبَنَاتِكَ ← لَا حَاجَةَ لِي بِهِ، ← عُثْمَانُ لِابْنِ مَسْعُودٍ: أَلَّا آمُرُ لَكَ بِعَطَائِكَ؟ ← شُجَاعُ بْنُ أَبِي فَاطِمَةَ ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← أَبُو الْيَمَانِ الْبَصْرِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عُمَرُ بْنُ أَبِي غَيْلَانَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1247

chevron_left Previous
1…108109110…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him