طارق بن زیاد رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہےکہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ (لشکر کے ساتھ)نہروان کی طرف بڑھے ،خوارج کو خوب قتل کیا اور فرمایا :تلاش کرو !کیو نکہ میں نے رسول اللہﷺسے سنا ہے کہ عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو حق کےدعویدار ہو ں گے،مگر کلمہ حق ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا وہ دین اسلام سے اس طرح نکلے ہوں گے جس طرح تیر شکا ر سے نکل جاتا ہے ان کی پہنچان یہ ہو گی کہ ان میں ایک ناقص ہاتھ والا ایک کالا شخص ہو گا ،اس کے ہاتھ میں کچھ کالے بال ہوں گے اگر ان مقتولین میں سے وہ شخص ہوا تو سمجھ جاؤ تم نے بد ترین گروہ کو قتل کیا ہےاگر ان مقتولین میں سے وہ شخص ہوا نہ ملا تو سمجھ جاؤ تم نے بہترین لوگوںکو قتل کیا ہے (ہم باطل پر ہیں )تلاش کرتے کرتے وہ شخص ہمیں مل گیا اس کو دیکھ کر ہم نے بھی سجدہ شکر ادا کیا اور سیّد نا علی رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ساتھ سجدہ ریز ہو گئے ۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1224
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1225
سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :مجھ سے پہلے انبیا کو سات رفقا بطور مشیر اور وزیر دیے گئے اور میرے چودہ ہیں ،حمزہ ،جعفر،علی،حسن،حسین ، پھر آگے باقی حدیث کو بیا ن کیا ۔(3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1225
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1226
عاصم بن ضمرہ رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیّد نا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا :لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کو قیامت سے پہلے دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے گا تو سیّد ناحسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا :کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں اگر ایسا ہو تا تو ہم ان کی شادیاں نہ کراتے اور نہ ان کامال بطور وراثت تقسیم کرتے۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1226
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1227
سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺنے مجھے اہل یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا ،میں نے عرض کیا :یارسول اللہ ﷺ!آپ مجھے ایک قوم کی طرف بھیج رہے ہیں حلا ں کہ میں ایک نو جوان آدمی ہوں ،مجھے فیصلہ کرنے کا بھی اتنا علم نہیں ہے آپ ﷺنے اپنا ہاتھ مبارک میرے سینے پر رکھ کر فرمایا:اللہ تجھے ثا بت قدم اور سیدھا رکھے ۔ البتہ جب تیرے پاس دو (آدمی یا دو فریق )جھگڑا لے کر آئیں تو ان دونوں کے درمیا ن اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا جب تک کہ تم پہلے آدمی کی بات کے بعد دوسرے آدمی سے بھی بات سن نہیں لیتے ، جب تم ایسا کرو گے تو تم پر واضح ہو جائے گا ۔سیّد نا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :اس کےبعد میں مسلسل عہدہ قضاۃ پر فائز رہا ، یہ الفاظ داؤد بن عمر و کی روایت کے ہیں ، ان راویوں میں بعض نے ایک دوسرے سے مکمل الفاظ بیان کیے ہیں ۔(2)
بعثني النبي إلى اليمن قاضياً، فقلت: تبعثني إلى قوم ← عَلِيٍّ، ← حنش ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ← عبد الله بن عامر بن زرارة الحضرمي ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَکَانِيُّ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1227
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1228
نعمان بن سعد رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ ہم سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی :ترجمہ :(وہ دن آنے والا ہے کہ جب متقی لوگوں کو ہم مہمانوں کی طرح رب رحمٰن کے حضو ر پیش کریں گے )آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :نہیں !اللہ کی قسم !پیدل نہیں جمع کئے جائیں گے ،بلکہ ایسی سو نے کے کجاوں والی اونٹنیوں پر ہو گے ،جنہیں مخلوق نے کبھی نہیں دیکھا ہو گا ،پس وہ ان پر سوار ہو کر جنت کے دروازوں کو دستک دیں گے ۔(3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1228
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1229
مجاہد رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :ایک دفعہ مجھے سخت بھوک لگی تھی میں کام کی غرض سےمد ینہ میں گھوم رہا تھا ،اچانک میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ اس نے بہت سی مٹی کو جمع کیا تھا وہ اسے تر کر نا چاہتی تھی میں نے اس کے ساتھ کام کو اس طرح طے کیا کہ ہر ایک پانی کا ڈول نکالنے پر ایک دانہ کھجور مجھے دے گی ۔میں نے سولہ ڈول پانی نکالا یہا ں تک کہ میرے ہاتھ چُور چُور ہو گئے ۔جب کام پورا ہوا تو اس نے مجھے سولہ کھجور کے دانے دئیے ۔میں وہ لے کر نبی کریمﷺکی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺنے میرے ساتھ کھجوریں تناول فرمائیں ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1229
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1230
سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے ،آپﷺنے فرمایا:کون ہے جو مدینے کی تمام اونچی قبروں کو مسمار کرے اور تصویروں کو مٹا دے اور بتوں کو توڑ دے ؟ایک شخص نےکہا :میں ہوں پھر وہ اہل مدینہ سے گھبرا گیا اور بیٹھ گیا پس میں (علی) گیا ۔پھر واپس آکر عرض کیا ؛یا رسول للہﷺمیں نے مدینہ کی تمام قبور کو برابر کر دیا ہے ۔تصویروں کو مٹا دیا ہے اور بتوں کو توڑ دیا ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺنے فرمایا :آئندہ جو شخص ان مزکورہ چیزوں کا مر تکب ہوا۔ یقیناً اس نے محمد ﷺپر نازل کردہ چیزوں کا انکار کیا ہے پھر فرمایا:علی !تم لوگوں کو فتنے میں ڈالنے والا نہ بننا اور نہ ہی تاجر بنو مگر بننا تو اچھا تاجر بننا کیو نکہ ایسے ہی لوگ عمل میں سبقت لے جانے والے ہیں ۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1230
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1231
ابو وضی سے روایت ہے کہ میں سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ گیا جہاں انہوں نے اہل نہروان کو قتل کیا تھا تو انہوں نے فرمایا :تم قتل گاہ میں باقص ہاتھ والے کو تلاش کرو ،لوگوں نے عرض کیا :ہمیں وہ مل سکا ۔پھر سیّد نا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ؛جاؤ!دوبارہ تلاش کرو ،اللہ کی قسم !نہ میں جھوٹا ہوں اور نہ میں نے جھوٹ بولا تھا ۔وہ لوگ پھر تلاش کرنے گئے تو اس کی لاش کو تمام مقتو لین کے نیچے ایک گڑھے میں پایا گیا پھر اس کو نکال کر لایا گیا ۔ابو الوضی کہتے ہیں کہ گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں ،وہ دو پستان نوں (کی مثل ہاتھ)والا حبشی تھا ،اس کا ایک پستان حبشی عور توں کے پستان کی مانند تھا جس پر یر بوع (جنگلی چوہے)کی دم کی مثل کچھ بال تھے ۔(1)
ليس نجده ← «الْتَمِسُوا لِيَ الْمُخْدَجَ» فَطَلَبُوهُ فِي الْقَتْلَى، ← شهدت عليا حيث قتل أهل النهروان ← أَبِي الْوَضِيءِ ← جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1231
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1232
سیّد نا حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیّد نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (دور خلافت میں)ایک پاگل عورت کو رجم کرنے کا ارادہ فرمایا تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا :کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہﷺفرمارہے تھے :تین عورتیں طرح کے لوگوں سے قلم اٹھالیا گیا ہے:
1۔ جو سو رہا ہو یہاں تک کہ بیدار ہو جائے ۔
2۔ نا بالغ بچہ یہاں تک کہ بالغ ہو جائے ۔
3۔ جو پاگل ہویہاں تک کہ صاحبِ عقل ہو جائے ۔
سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ اس سے رک گئے۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1232
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1233
امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ شراحہ ہمدانیہ نامی عورت سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی ؛میں نے زناکیا ہے تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :کسی اور کے پاس جاؤ ہو سکتا ہے کہ تجھے خواب آیا ہو یا ہو سکتاہے تمہارے ساتھ جبر اً کسی نے زنا کیا ہو مگر عورت نے کہا :نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا پس سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو جمعرات کے دن کوڑے لگائے ،جمعہ کے دن رجم کیا اور کیا اور فرمایا :کوڑے قرآن کے مطابق لگائے ہیں اور رجم سنت کے رسول اللہﷺکے مطابق کی گیا ہے۔(3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1233
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1234
ابو وضی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ ہم سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ جارہے تھے جب ہم دو یا تین راتوں کی مسافت پر حروراء پہنچنے والے تھے تو کچھ لوگ ہم سے الگ ہو گئے اس کا ذکر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے کیا گیا تو انہوں نے فرمایا :تم ان کی پروہ نہ کرو ، وہ عنقریب پلٹ کر آئیں گے پھر راوی نے ایک طویل روایت بیا ن کی ۔پھر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد ثناہ بیا ن کی اور فرمایا :میں نے اپنے دوست رسول اللہ ﷺسے سنا ہے کہ ان لوگوں کا قائد ناقص ہاتھ والا انسان ہو گا ۔اس کے پستان نمایا ہاتھ پر بال ہوں گے ۔اُسکا سر ِپستان گویا کہ یر بو ع (جنگلی چوہے)کی دم ہے ،لوگوں نے مقتولین میں تلاش کیا مگر وہ شخص نہ ملا ،لو گوں نے عرض کیا :ہم کو نہیں ملا ۔سیّد نا علی رضی اللہ عنہ خود تشریف لائے اور فرمانے لگے:یہ پلٹو ں ،اس کو پلٹو (یعنی مردوں کو آگے پیچھے کر کے تلاش کرو )یہاں تک کہ کوفہ کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا وہ یہ ہے (یعنی اس کو مل گیا )تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا پھر فرمایا :کوئی بتا سکتا ہے کہ اس کا باپ کون ہے ؟پس لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ مالک ہے ،مگر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے :کیا تم جانتے ہو کہ یہ کس کا بیٹا ہے ؟(1)
يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← حجاج بن يوسف الشاعر ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1234
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1235
نعیم بن دجاجہ اسدی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ،اس وقت ابو مسعود تشریف لائے تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے سیّد نا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا :اے فروخ!(کمزور جسم والا )تم کہتے ہو کہ لوگوں پر 100سال نہیں گزریں گے ، زمین پر کوئی آنکھ ایسی نہ بچے گی ،جس کی پلکیں جھپکتیں ہوں (یعنی سب لوگ مر جائیں گے )تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو فرمایا :آپ غلطی کر گئے ہیں ،نبی کریم ﷺنے جو بات ارشاد فرمائی تھی وہ یہ ہے : آج جو لوگ زندہ ہیں سو سال گزرنے پر ان میں سے کسی کی آنکھ ایسی نہ ہو گی (یعنی اس سے مراد قیامت نہیں ہے )اللہ کی قسم !اس سے امت کے لیے سو سال بعد سہولیات اور خوش حالی مراد ہے ۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1235