Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1224

1224 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو نُعَيْمٍ قثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ طَارِقِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: سَارَ عَلِيٌّ إِلَى النَّهْرَوَانِ فَقَتَلَ الْخَوَارِجَ فَقَالَ: اطْلُبُوا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سَيَجِيءُ قَوْمٌ يَتَكَلَّمُونَ بِكَلِمَةِ الْحَقِّ، لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، سِيمَاهُمْ أَوْ فِيهِمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ، مُخْدَجُ الْيَدِ فِي يَدِهِ شَعَرَاتٌ سُودٌ، إِنْ كَانَ فِيهِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ شَرَّ النَّاسِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ خَيْرَ النَّاسِ» قَالَ: قَالَ: ثُمَّ إِنَّا وَجَدْنَا الْمُخْدَجَ قَالَ: فَخَرَرْنَا سُجُودًا وَخَرَّ عَلِيٌّ سَاجِدًا مَعَنَا.

طارق بن زیاد رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہےکہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ (لشکر کے ساتھ)نہروان کی طرف بڑھے ،خوارج کو خوب قتل کیا اور فرمایا :تلاش کرو !کیو نکہ میں نے رسول اللہﷺسے سنا ہے کہ عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو حق کےدعویدار ہو ں گے،مگر کلمہ حق ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا وہ دین اسلام سے اس طرح نکلے ہوں گے جس طرح تیر شکا ر سے نکل جاتا ہے ان کی پہنچان یہ ہو گی کہ ان میں ایک ناقص ہاتھ والا ایک کالا شخص ہو گا ،اس کے ہاتھ میں کچھ کالے بال ہوں گے اگر ان مقتولین میں سے وہ شخص ہوا تو سمجھ جاؤ تم نے بد ترین گروہ کو قتل کیا ہےاگر ان مقتولین میں سے وہ شخص ہوا نہ ملا تو سمجھ جاؤ تم نے بہترین لوگوںکو قتل کیا ہے (ہم باطل پر ہیں )تلاش کرتے کرتے وہ شخص ہمیں مل گیا اس کو دیکھ کر ہم نے بھی سجدہ شکر ادا کیا اور سیّد نا علی رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ساتھ سجدہ ریز ہو گئے ۔(2)

اطْلُبُوا فَإِنَّ النَّبِيَّ ← سَارَ عَلِيٌّ إِلَى النَّهْرَوَانِ فَقَتَلَ الْخَوَارِجَ ← طَارِقِ بْنِ زِيَادٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَی ← أَبِي، قثنا أَبُو نُعَيْمٍ قثنا إِسْرَائِيلُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1224

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1225

1225 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا أَبُو نُعَيْمٍ، نا فِطْرٌ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ نَافِعٍ النَّوَّاءِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُلَيْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ سَبْعَةَ رُفَقَاءَ نُجَبَاءَ وُزَرَاءَ وَإِنِّي أُعْطِيتُ أَرْبَعَةَ عَشَرَ حَمْزَةَ، وَجَعْفَرًا، وَعَلِيًّا، وَحَسَنًا، وَحُسَيْنًا. وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ

سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :مجھ سے پہلے انبیا کو سات رفقا بطور مشیر اور وزیر دیے گئے اور میرے چودہ ہیں ،حمزہ ،جعفر،علی،حسن،حسین ، پھر آگے باقی حدیث کو بیا ن کیا ۔(3)

عَلِيًّا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُليلٍ ← كَثِيرِ بْنِ نَافِعٍ النَّوَّاءِ ← فِطْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1225

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1226

1226 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ إِنَّ الشِّيعَةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا يَرْجِعُ، قَالَ: «كَذَبَ أُولَئِكَ الْكَذَّابُونَ، لَوْ عَلِمْنَا ذَاكَ مَا تَزَوَّجَ نِسَاؤُهُ، وَلَا قَسَمْنَا مِيرَاثَهُ» .

عاصم بن ضمرہ رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیّد نا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا :لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کو قیامت سے پہلے دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے گا تو سیّد ناحسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا :کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں اگر ایسا ہو تا تو ہم ان کی شادیاں نہ کراتے اور نہ ان کامال بطور وراثت تقسیم کرتے۔ (1)

كَذَبَ أُولَئِكَ الْكَذَّابُونَ لَوْ عَلِمْنَا ذَاكَ مَا تَزَوَّجَ نِسَاؤُهُ وَلَا قَسَمْنَا مِيرَاثَهُ ← قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ إِنَّ الشِّيعَةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا يَرْجِعُ ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قثنا شَرِيكٌ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1226

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1227

1227 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، وَنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ قَالَ: نا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، وَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ، وَنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، قَالُوا: نا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا، فَقُلْتُ: تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ وَأَنَا حَدَثُ السِّنِّ، وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ: «ثَبَّتَكَ اللَّهُ وَسَدَّدَكَ، إِذَا جَاءَكَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَقْضِ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَسْمَعَ مِنَ الْآخَرِ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ إِنْ يَتَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ» . قَالَ: فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا. وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو وَبَعْضُهُمْ أَتَمُّ كَلَامًا مِنْ بَعْضٍ

سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺنے مجھے اہل یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا ،میں نے عرض کیا :یارسول اللہ ﷺ!آپ مجھے ایک قوم کی طرف بھیج رہے ہیں حلا ں کہ میں ایک نو جوان آدمی ہوں ،مجھے فیصلہ کرنے کا بھی اتنا علم نہیں ہے آپ ﷺنے اپنا ہاتھ مبارک میرے سینے پر رکھ کر فرمایا:اللہ تجھے ثا بت قدم اور سیدھا رکھے ۔ البتہ جب تیرے پاس دو (آدمی یا دو فریق )جھگڑا لے کر آئیں تو ان دونوں کے درمیا ن اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا جب تک کہ تم پہلے آدمی کی بات کے بعد دوسرے آدمی سے بھی بات سن نہیں لیتے ، جب تم ایسا کرو گے تو تم پر واضح ہو جائے گا ۔سیّد نا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :اس کےبعد میں مسلسل عہدہ قضاۃ پر فائز رہا ، یہ الفاظ داؤد بن عمر و کی روایت کے ہیں ، ان راویوں میں بعض نے ایک دوسرے سے مکمل الفاظ بیان کیے ہیں ۔(2)

بعثني النبي إلى اليمن قاضياً، فقلت: تبعثني إلى قوم ← عَلِيٍّ، ← حنش ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ← عبد الله بن عامر بن زرارة الحضرمي ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَکَانِيُّ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1227

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1228

1228 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ قثنا النُّعْمَانُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَلِيٍّ، فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا} [مريم: 85] قَالَ: «لَا وَاللَّهِ مَا عَلَى أَرْجُلِهِمْ يُحْشَرُونَ، وَلَكِنْ بِنُوقٍ، لَمْ تَرَ الْخَلَائِقُ مِثْلَهَا عَلَيْهَا رَحَائِلُ مِنْ ذَهَبٍ فَيَرْكَبُونَ عَلَيْهَا حَتَّى يَضْرِبُوا أَبْوَابَ الْجَنَّةِ» .

نعمان بن سعد رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ ہم سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی :ترجمہ :(وہ دن آنے والا ہے کہ جب متقی لوگوں کو ہم مہمانوں کی طرح رب رحمٰن کے حضو ر پیش کریں گے )آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :نہیں !اللہ کی قسم !پیدل نہیں جمع کئے جائیں گے ،بلکہ ایسی سو نے کے کجاوں والی اونٹنیوں پر ہو گے ،جنہیں مخلوق نے کبھی نہیں دیکھا ہو گا ،پس وہ ان پر سوار ہو کر جنت کے دروازوں کو دستک دیں گے ۔(3)

كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَلِيٍّ فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ قثنا النُّعْمَانُ بْنُ سَعْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ: قثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1228

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1229

1229 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: أنا أَيُّوبُ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَامُ: «جُعْتُ مَرَّةً بِالْمَدِينَةِ جُوعًا شَدِيدًا فَخَرَجْتُ أَطْلُبُ الْعَمَلَ فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ، فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ قَدْ جَمَعَتْ مَدَرًا، فَظَنَنْتُهَا تُرِيدُ بَلَّهُ فَأَتَيْتُهَا فَقَاطَعْتُهَا كُلُّ ذَنُوبٍ، عَلَى تَمْرَةٍ، فَمَدَدْتُ سِتَّةَ عَشَرَ ذَنُوبًا حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ، ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَاءَ فَأَصَبْتُ مِنْهُ، ثُمَّ أَتَيْتُهَا فَقُلْتُ بِكَفِّي هَكَذَا بَيْنَ يَدَيْهَا، - وَبَسَطَ إِسْمَاعِيلُ يَدَيْهِ وَجَمَعَهَا - فَعَدَّتْ لِيَ سِتَّ عَشْرَةَ تَمْرَةً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَكَلَ مَعِي مِنْهَا» .

مجاہد رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :ایک دفعہ مجھے سخت بھوک لگی تھی میں کام کی غرض سےمد ینہ میں گھوم رہا تھا ،اچانک میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ اس نے بہت سی مٹی کو جمع کیا تھا وہ اسے تر کر نا چاہتی تھی میں نے اس کے ساتھ کام کو اس طرح طے کیا کہ ہر ایک پانی کا ڈول نکالنے پر ایک دانہ کھجور مجھے دے گی ۔میں نے سولہ ڈول پانی نکالا یہا ں تک کہ میرے ہاتھ چُور چُور ہو گئے ۔جب کام پورا ہوا تو اس نے مجھے سولہ کھجور کے دانے دئیے ۔میں وہ لے کر نبی کریمﷺکی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺنے میرے ساتھ کھجوریں تناول فرمائیں ۔ (1)

مُجَاهِدٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1229

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1230

1230 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ قثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي الْمُوَرِّعِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَقَالَ: «مَنْ يَأْتِي الْمَدِينَةَ فَلَا يَدَعْ قَبْرًا إِلَّا سَوَّاهُ وَلَا صُورَةً إِلَّا يَطْلِخُهَا وَلَا وَثَنًا إِلَّا كَسَّرَهُ» قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَنَا، ثُمَّ هَابَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَجَلَسَ، قَالَ عَلِيٌّ: فَانْطَلَقْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَدَعْ بِالْمَدِينَةِ قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ، وَلَا صُورَةً إِلَّا طَلَخْتُهَا، وَلَا وَثَنًا إِلَّا كَسَّرْتُهُ قَالَ: فَقَالَ " مَنْ عَادَ فَصَنَعَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ، يَا عَلِيُّ لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا، أَوْ قَالَ: مُخْتَالًا، وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ خَيْرٍ، فَإِنَّ أُولَئِكَ هُمُ الْمَسْبُوقُونَ فِي الْعَمَلِ ".

سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے ،آپﷺنے فرمایا:کون ہے جو مدینے کی تمام اونچی قبروں کو مسمار کرے اور تصویروں کو مٹا دے اور بتوں کو توڑ دے ؟ایک شخص نےکہا :میں ہوں پھر وہ اہل مدینہ سے گھبرا گیا اور بیٹھ گیا پس میں (علی) گیا ۔پھر واپس آکر عرض کیا ؛یا رسول للہﷺمیں نے مدینہ کی تمام قبور کو برابر کر دیا ہے ۔تصویروں کو مٹا دیا ہے اور بتوں کو توڑ دیا ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺنے فرمایا :آئندہ جو شخص ان مزکورہ چیزوں کا مر تکب ہوا۔ یقیناً اس نے محمد ﷺپر نازل کردہ چیزوں کا انکار کیا ہے پھر فرمایا:علی !تم لوگوں کو فتنے میں ڈالنے والا نہ بننا اور نہ ہی تاجر بنو مگر بننا تو اچھا تاجر بننا کیو نکہ ایسے ہی لوگ عمل میں سبقت لے جانے والے ہیں ۔(2)

عَلِيٍّ، ← أَبِي الْمُوَرِّعِ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ قثنا أَبُو شِهَابٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1230

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1231

1231 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، نا جَمِيلُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا حَيْثُ قَتَلَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ قَالَ: «الْتَمِسُوا لِيَ الْمُخْدَجَ» ، فَطَلَبُوهُ فِي الْقَتْلَى، فَقَالُوا: لَيْسَ نَجِدُهُ، فَقَالَ: «ارْجِعُوا فَالْتَمِسُوهُ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ» ، فَرَجَعُوا فَالْتَمَسُوهُ فَرَدَّ ذَلِكَ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ يَحْلِفُ بِاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ، فَانْطَلَقُوا فَوَجَدُوهُ تَحْتَ الْقَتْلَى، فِي طِينٍ فَاسْتَخْرَجُوهُ فَجِيءَ بِهِ، فَقَالَ: أَبُو الْوَضِيءِ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حَبَشِيًّا عَلَيْهِ ثَدْيَانِ إِحْدَى ثَدْيَيْهِ، مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ مِثْلُ شَعَرَاتٍ تَكُونُ عَلَى ذَنَبِ الْيَرْبُوعِ.

ابو وضی سے روایت ہے کہ میں سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ گیا جہاں انہوں نے اہل نہروان کو قتل کیا تھا تو انہوں نے فرمایا :تم قتل گاہ میں باقص ہاتھ والے کو تلاش کرو ،لوگوں نے عرض کیا :ہمیں وہ مل سکا ۔پھر سیّد نا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ؛جاؤ!دوبارہ تلاش کرو ،اللہ کی قسم !نہ میں جھوٹا ہوں اور نہ میں نے جھوٹ بولا تھا ۔وہ لوگ پھر تلاش کرنے گئے تو اس کی لاش کو تمام مقتو لین کے نیچے ایک گڑھے میں پایا گیا پھر اس کو نکال کر لایا گیا ۔ابو الوضی کہتے ہیں کہ گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں ،وہ دو پستان نوں (کی مثل ہاتھ)والا حبشی تھا ،اس کا ایک پستان حبشی عور توں کے پستان کی مانند تھا جس پر یر بوع (جنگلی چوہے)کی دم کی مثل کچھ بال تھے ۔(1)

ليس نجده ← «الْتَمِسُوا لِيَ الْمُخْدَجَ» فَطَلَبُوهُ فِي الْقَتْلَى، ← شهدت عليا حيث قتل أهل النهروان ← أَبِي الْوَضِيءِ ← جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1231

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1232

1232 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: نا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرَادَ إِنْ يُرْجُمَ مَجْنُونَةً فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: مَا لَكَ ذَلِكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الطِّفْلِ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَبْرَأَ، أَوْ يَعْقِلَ. فَدَرَأَ عَنْهَا عُمَرُ ".

سیّد نا حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیّد نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (دور خلافت میں)ایک پاگل عورت کو رجم کرنے کا ارادہ فرمایا تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا :کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہﷺفرمارہے تھے :تین عورتیں طرح کے لوگوں سے قلم اٹھالیا گیا ہے: 1۔ جو سو رہا ہو یہاں تک کہ بیدار ہو جائے ۔ 2۔ نا بالغ بچہ یہاں تک کہ بالغ ہو جائے ۔ 3۔ جو پاگل ہویہاں تک کہ صاحبِ عقل ہو جائے ۔ سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ اس سے رک گئے۔(2)

الْمَجْنُونِ حَتَّى يَبْرَأَ، أَوْ يَعْقِلَ. فَدَرَأَ عَنْهَا عُمَرُ ← الطِّفْلِ حَتَّى يَحْتَلِمَ ← النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ. ← ثَلَاثَةٍ ← رُفِعَ الْقَلَمُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← لَهُ عَلِيٌّ مَا لَكَ ذَلِكَ ← الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرَادَ أَنْ يَرْجُمَ مَجْنُونَةً ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← أبي قثنا محمد بن جعفر ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1232

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1233

1233 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، إِنَّ شَرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةَ، أَتَتْ عَلِيًّا، فَقَالَتْ: إِنِّي زَنَيْتُ، فَقَالَ: لَعَلَّكِ غَيْرَى، لَعَلَّكِ رَأَيْتِ فِي مَنَامِكِ، لَعَلَّكِ اسْتُكْرِهْتِ فَكُلُّ ذَلِكَ تَقُولُ: لَا، فَجَلَدَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَقَالَ: «جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» .

امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ شراحہ ہمدانیہ نامی عورت سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی ؛میں نے زناکیا ہے تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :کسی اور کے پاس جاؤ ہو سکتا ہے کہ تجھے خواب آیا ہو یا ہو سکتاہے تمہارے ساتھ جبر اً کسی نے زنا کیا ہو مگر عورت نے کہا :نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا پس سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو جمعرات کے دن کوڑے لگائے ،جمعہ کے دن رجم کیا اور کیا اور فرمایا :کوڑے قرآن کے مطابق لگائے ہیں اور رجم سنت کے رسول اللہﷺکے مطابق کی گیا ہے۔(3)

إِنِّي زَنَيْتُ. ← الشَّعْبِيِّ أَنْ شَرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةَ أَتَتْ عَلِيًّا، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1233

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1234

1234 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ الشَّاعِرُ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، نا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، أَنَّ أَبَا الْوَضِيءِ عَبَّادًا حَدَّثَهُ قَالَ: كُنَّا عَامِدِينَ إِلَى الْكُوفَةِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَلَمَّا بَلَغَنَا مَسِيرَةَ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ مِنْ حَرُورَاءَ، شَذَّ مِنَّا نَاسٌ كَثِيرٌ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِعَلِيٍّ، فَقَالَ: لَا يَهُولَنَّكُمْ أَمْرُهُمْ فَإِنَّهُمْ سَيَرْجِعُونَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: إِنَّ خَلِيلِي أَخْبَرَنِي أَنَّ قَائِدَ هَؤُلَاءِ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ عَلَى ثَدْيِهِ شَعَرَاتٌ، حَلَمَةُ ثَدْيِهِ شَعَرَاتٌ، كَأَنَّهُنَّ ذَنَبُ الْيَرْبُوعِ " فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا: إِنَّا لَمْ نَجِدْهُ، فَجَاءَ عَلِيٌّ بِنَفْسِهِ، فَجَعَلَ يَقُولُ: اقْلِبُوا ذَا، اقْلِبُوا ذَا، حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْكُوفَةِ، فَقَالَ: هُوَ ذَا، قَالَ عَلِيٌّ: اللَّهُ أَكْبَرُ لَا يَأْتِيَكُمْ أَحَدٌ يُخْبِرَكُمْ مَنْ أَبُوهُ؟، قَالَ: فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ: هَذَا مَالِكٌ، هَذَا مَالِكٌ يَقُولُ عَلِيٌّ ابْنُ مَنْ؟ .

ابو وضی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ ہم سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ جارہے تھے جب ہم دو یا تین راتوں کی مسافت پر حروراء پہنچنے والے تھے تو کچھ لوگ ہم سے الگ ہو گئے اس کا ذکر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے کیا گیا تو انہوں نے فرمایا :تم ان کی پروہ نہ کرو ، وہ عنقریب پلٹ کر آئیں گے پھر راوی نے ایک طویل روایت بیا ن کی ۔پھر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد ثناہ بیا ن کی اور فرمایا :میں نے اپنے دوست رسول اللہ ﷺسے سنا ہے کہ ان لوگوں کا قائد ناقص ہاتھ والا انسان ہو گا ۔اس کے پستان نمایا ہاتھ پر بال ہوں گے ۔اُسکا سر ِپستان گویا کہ یر بو ع (جنگلی چوہے)کی دم ہے ،لوگوں نے مقتولین میں تلاش کیا مگر وہ شخص نہ ملا ،لو گوں نے عرض کیا :ہم کو نہیں ملا ۔سیّد نا علی رضی اللہ عنہ خود تشریف لائے اور فرمانے لگے:یہ پلٹو ں ،اس کو پلٹو (یعنی مردوں کو آگے پیچھے کر کے تلاش کرو )یہاں تک کہ کوفہ کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا وہ یہ ہے (یعنی اس کو مل گیا )تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا پھر فرمایا :کوئی بتا سکتا ہے کہ اس کا باپ کون ہے ؟پس لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ مالک ہے ،مگر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے :کیا تم جانتے ہو کہ یہ کس کا بیٹا ہے ؟(1)

يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← حجاج بن يوسف الشاعر ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1234

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1235

1235 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَا: نا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دَجَاجَةَ الْأَسَدِيِّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَلِيٍّ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ فَقَالَ لَهُ يَا فَرُّوخُ: أَنْتَ الْقَائِلُ: لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةٌ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ، أَخْطَأَتِ اسْتُكَ الْحُفْرَةَ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةٌ سَنَةٍ، وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ حَيٌّ، وَإِنَّمَا رَخَاءُ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَفَرَجُهَا بَعْدَ الْمِائَةِ»

نعیم بن دجاجہ اسدی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ،اس وقت ابو مسعود تشریف لائے تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے سیّد نا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا :اے فروخ!(کمزور جسم والا )تم کہتے ہو کہ لوگوں پر 100سال نہیں گزریں گے ، زمین پر کوئی آنکھ ایسی نہ بچے گی ،جس کی پلکیں جھپکتیں ہوں (یعنی سب لوگ مر جائیں گے )تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو فرمایا :آپ غلطی کر گئے ہیں ،نبی کریم ﷺنے جو بات ارشاد فرمائی تھی وہ یہ ہے : آج جو لوگ زندہ ہیں سو سال گزرنے پر ان میں سے کسی کی آنکھ ایسی نہ ہو گی (یعنی اس سے مراد قیامت نہیں ہے )اللہ کی قسم !اس سے امت کے لیے سو سال بعد سہولیات اور خوش حالی مراد ہے ۔(2)

كُنْتُ عِنْدَ عَلِيٍّ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ ← نُعَيْمِ بْنِ دجَاجَةَ الْأَسَدِيِّ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1235

Sahih

chevron_left Previous
1…107108109…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him