Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1212

1212 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ: إِنَّكَ بَعَثْتَنِي إِلَى قَوْمٍ وَهُمْ أَسَنُّ مِنِّي، لِأَقْضِيَ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ: «اذْهَبْ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَهْدِي قَلْبَكَ، وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ» .

سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے یمن کی طرف بھیجا ، میں نے عرض کیا:یا رسول اللہﷺ !آپ مجھے ایک ایسی قوم کی طرف قاضی بنا کر بھیج رہے ہیں جو عمر میں مجھ سے بڑی ہے (یعنی وہاں ضعیف العمر لوگ ہیں جو کافی سمجھ بوجھ رکھنے والے ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا :بلا شبہ اللہ غزوجل تیرے دل کی رہنمائی کرے گا اور تیری زبان کو ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔(2)

عَلِيٍّ، ← حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1212

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1213

1213 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قثنا هَاشِمٌ، يَعْنِي: ابْنَ الْيَزِيدِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ الْحَنَفِيِّ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي عَلِيٌّ فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي حَتَّى جَلَسْنَا عَلَى شَطِّ الْفُرَاتِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا قَدْ سَبَقَ لَهَا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شَقَاءٌ أَوْ سَعَادَةٌ» ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِيمَ إِذَنْ نَعْمَلُ؟ قَالَ: «اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ» ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى، وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى، وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى} [الليل: 6] .

ابو عبدالرحمٰن سلمی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ تے ہوئے باہر تشریف لائے ، یہاں تک کہ ہم چلتے چلتے دریائے فرات کے کنارے آکر بیٹھ گئے ،سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ؛ یقیناً ہر ذی روح کے خوش بخت اور بد بخت ہونے کے بارے میں اس کی پیدائش سے پہلے ہی لکھا جا چکا ہے ، ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا :یا رسول اللہ ﷺپھر ہم عمل کیوں کریں ؟آپ ﷺنے فرمایا :عمل کرو ہر ایک کےلیے وہ کام اسان ہے جس کے لیے وہ لکھا گیا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی ؛۔۔۔۔۔۔۔۔۔ترجمہ:تو جس نے (راہ خدا میں)مال دیا اور (خدا کی نافرمانی سے)پرہیز کیا ،اور بھلائی کو سچ مانا اس کوہم آسان راستے کے سہولت دیں اور جس نے بخل کیااور (اپنےخدا سے)بے نیازی برقی اوربھلائی کو جھٹلایا اس کو ہم سخت راستے کےلیے سہولت دیں گے۔(3)

أَخَذَ بِيَدِي عَلِيٌّ فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي حَتَّى جَلَسْنَا عَلَى شَطِّ الْفُرَاتِ فَقَالَ عَلِيٌّ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← إِسْمَاعِيلَ الْحَنَفِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قثنا هَاشِمٌ، يَعْنِي: ابْنَ الْيَزِيدِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1213

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1214

1214 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: نا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، نا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَطَرٍ الْبَصْرِيُّ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ عَلِيًّا، أَنَّ عَلِيًّا اشْتَرَى ثَوْبًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ، فَلَمَّا لَبِسَهُ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي» ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ.

ابو مطر بصری رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے ،انہیں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہے کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملا، انہوں نے تین درہم کے کپڑ ے خریدے جب انہیں پہنا تو یہ دعا پڑھی ، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے مجھےکپڑے پہنائے ،لوگوں میں اپنے اپ کو خوبصورت بناتا ہوں اور جس سے میں شرم گاہ چھپاتا ہوں پھر انہوں نے کہا کہ میں ایسے ہی رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہو ئے سنا ہے۔(1)

أَبُو مَطَرٍ الْبَصْرِيُّ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ عَلِيًّا ← الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ، ← مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1214

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1215

1215 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قثنا مُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ التَّمَّارُ، عَنْ أَبِي مَطَرٍ، أَنَّهُ رَأَى عَلِيًّا أَتَى غُلَامًا حَدَثًا فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ وَلَبِسَهُ مَا بَيْنَ الرُّصْغَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، يَقُولُ وَلَبِسَهُ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي» ، فَقِيلَ: هَذَا شَيْءٌ تَرْوِيهِ عَنْ نَفْسِكَ، أَوْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هَذَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ عِنْدَ الْكِسْوَةِ.

ابو مطربصری رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ ایک نوجوان غلام کے پاس آئے اس سے تین درہم کی قمیص خریدی ، اسے کلائیوں سے لے کر ٹخنوں تک پہننے کے بعد یہ دعا پڑھی ۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے مجھےکپڑے پہنائے ،لوگوں میں اپنے اپ کو خوبصورت بناتا ہوں اور جس سے میں شرم گاہ چھپاتا ہوں پھر انہوں نے کہا کہ میں ایسے ہی رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہو ئے سنا ہے۔ (2)

أَبِي مَطَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قثنا مُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ التَّمَّارُ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1215

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1216

1216 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قثنا إِسْرَائِيلُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ غُفِرَ لَكَ عَلَى أَنَّهُ مَغْفُورٌ لَكَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ".

سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : علی کیا میں تمہیں ایسی دعا نہ سکھلاؤں کہ جب تم دعا کرو ، اللہ تعالیٰ تم کو بخش دے ، حالانکہ تمہاری بخشش ہو چکی ہے تو آپ ﷺ نے ان کو یہ دعا سکھلائی :ترجمہ : اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو بردباد اور عزت والا ہے ۔ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو اونچا اور بڑا ہے۔ پاک ہے ، اللہ جو سات آسمانوں اور عرش کریم کامالک ہے تمام تعریفیں اللہ رب العزت کے لیے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ۔(3)

عَلِيٍّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← أَبِي، قثنا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قثنا إِسْرَائِيلُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1216

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1217

1217 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي نا حَجَّاجٌ، نا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَأَرْبُطُ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الْجُوعِ، وَإِنَّ صَدَقَتِي الْيَوْمَ لَأَرْبَعُونَ أَلْفًا.

محمد بن کعب قرظی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا ، سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میں غربت میں نبی کریم ﷺکے ساتھ شدت بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا ، مگر آج (خوش حالی کا یہ عالم ہے کہ )میں یومیہ چالیس ہزار درہم صدقہ دیتا ہوں۔(4)

مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ أَنَّ عَلِيًّا ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← شَرِيکٍ ← حجاج، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1217

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1218

1218 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا أَسْوَدُ، نا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ: وَإِنَّ صَدَقَةَ مَالِي لَتَبْلُغُ أَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ.

محمدبن کعب قر ظی رحمۃاللہ علیہ نے سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے اسی کی مثل روایت کر تے ہیں لیکن اس روایت میں یہ الفاظ ہیں: مگر آج میرے مال کا صدقہ چالیس ہزار دینار کو پہنچ چکا ہے ۔(1)

عَلِيٍّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ وَإِنَّ صَدَقَةَ مَالِي لَتَبْلُغُ أَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← شَرِيکٍ ← أَسْوَدُ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1218

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1219

1219 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ قَالَ: أنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّاهُ حَمْزَةَ، فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّاهُ بِعَمِّهِ جَعْفَرٍ، قَالَ: فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أُغَيِّرَ اسْمَ هَذَيْنِ» ، فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَمَّاهُمَا حَسَنًا وَحُسَيْنًا.

سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب میرا بیٹا حسن پیدا ہوا میں نے اس کا نام حمزہ رکھا اور جب دوسرا بیٹا حسین پیدا ہوا تو میں نے اس کے چچا (سیّد نا جعفر طیار رضی اللہ عنہ )کے نام پر رکھا تو رسول ﷺنے مجھ سے فرمایا :مجھے ان کے نام تبدیل کرنے کا حکم ہوا ہے ۔ میں نے عرض کیا :اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں پس آپ ﷺنے ان کا حسن حسین رکھا ۔(2)

فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ ← لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّاهُ حَمْزَةَ فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّاهُ بِعَمِّهِ جَعْفَرٍ ← عَلِيٍّ، ← محمد بن علي ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1219

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1220

1220 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَفَّانُ، أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فِيهِمْ رَهْطٌ كُلُّهُمْ يَأْخُذُ الْجَذَعَةَ وَيَشْرَبُ الْفَرَقَ، قَالَ: فَصَنَعَ لَهُمْ مُدًّا مِنْ طَعَامٍ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، قَالَ: وَبَقِيَ الطَّعَامُ كَمَا هُوَ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ، ثُمَّ دَعَا بِغُمَرٍ فَشَرِبُوا حَتَّى رَوَوْا، وَبَقِيَ الشَّرَابُ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ أَوْ لَمْ يُشْرَبْ، فَقَالَ: «يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِنِّي بُعِثْتُ إِلَيْكُمْ خَاصَّةً، وَإِلَى النَّاسِ عَامَّةً، وَقَدْ رَأَيْتُمْ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ مَا رَأَيْتُمْ، فَأَيُّكُمْ يُبَايِعْنِي عَلَى أَنْ يَكُونَ أَخِي وَصَاحِبِي؟» قَالَ: فَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ أَحَدٌ، قَالَ: فَقُمْتُ وَكُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ، قَالَ: فَقَالَ: «اجْلِسْ» ، ثُمَّ قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ أَقُومُ إِلَيْهِ فَيَقُولُ لِي: «اجْلِسْ» ، حَتَّى كَانَ فِي الثَّالِثَةِ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى يَدَيَّ.

ربیعہ بن ناجذ رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا :امیر المومنین !آپ اپنے چچاؤں کی بجائے اپنے چچازاد (نبی کریمﷺ)کے وارث کیسے بنے؟تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :رسول اللہﷺنے بنوعبدالمطلب کو جمع کیا (یا راوی نے الفاظ بیان کئے کہ)یا بنوعبدالمطلب کی اولاد کو بلایاپس ان کےلیے آپﷺنےایک مدطعام کا کھاناتیار کیا ۔ سب نے پیٹ بھر کھایا مگر کھانا اس وقت تک اتنا ہی موجود تھا جتناپکایاگیا تھا جیسا کہ اسکو کسی نے چھوا تک نہیں ، پھر آپﷺنے پانی کا ایک پیالہ منگوایا سب نے سیر ہو کر پیاتو پانی بھی اسی طرح بچ گیا جیسا کہ اس کو کسی نے ہاتھ تک نہیں لگا یا پھر آپ ﷺنے ارشاد فرمایا :اے بنی عبدالمطلب !میں خاص طور پر تمہاری طرف اور عام طور پر باقی لوگوں کی طرف معبوث کیاگیا ہوں البتہ تم نے جو میرے (کھانے اور پانی کے حوالے سے اس)معجزے کو دیکھنا تھا وہ تم دیکھ چکے ہو پھر پوچھا:تم میں سے کون اس بات پر میرے بیعت کرنا چاہتا ہے کہ جو میرا بھائی ، میرا دوست ،میرا وارث اور میرانائب ہوں ۔ خاندان کے لوگوں میں سے کوئی بھی آپﷺکے لیے کھڑا نہ ہوا تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا:یا رسول اللہ ﷺمیں (یہ کروں گا)۔ حالانکہ میں ان لوگوں میں سب سے چھوٹا تھا ۔تو نبی کریمﷺنے فرمایا :علی !بیٹھ جاؤ، آپ ﷺنے تین مرتبہ یہ کلمات دہرائے میں ہر بار آپ ﷺکی دعوت پر کھڑا ہوتا رہا اس پر آپﷺمجھے فرماتے رہے کہ بیٹھ جاؤجب تیسری مرتبہ ایسا ہواتو نبی کریمﷺنے میرے ہاتھ ڈال لیے۔(1)

عَلِيٍّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ ← أبي صادق ← عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← عَفَّانُ، أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1220

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1221

1221 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ أَبُو الْحَارِثِ، قثنا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِيكَ مَثَلٌ مِنْ عِيسَى أَبْغَضَتْهُ يَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ، وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي لَيْسَ بِهِ» . ثُمَّ قَالَ: «يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ، مُحِبٌّ مُفْرِطٌ، يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ، وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي»

سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے مجھ سے فرمایا تھا :تیری مثال عیسیٰ بن مریم (علیہما اسلام)کی سی ہے کہ یہودیو ں نے ان سے بعض رکھا یہاں تک کہ ان کی ماں پر بہتان لگایا اور نصاری ٰ نے ان سے محبت کی ، یہاں تک کہ ان کو و ہ مقام دیا جو ان کا حق نہیں تھا ۔ فرمایا:اسی طرح میرے بارے میں بھی دو طرح کےآدمی ہلاک ہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے بڑھ کر اور دوسرا میرے بارے بغض رکھنے والا ۔(2)

أَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي لَيْسَ بِهِ» ثُمَّ ← لِيَ النَّبِيُّ «فِيكَ مَثَلٌ مِنْ عِيسَى أَبْغَضَتْهُ يَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ، ← عَلِيٍّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ ← أبي صادق ← الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ ← الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ أَبُو الْحَارِثِ، قثنا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1221

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1222

1222 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ بْنِ مَلِيحٍ قثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ قثنا أَبُو غَيْلَانَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ فِيكَ مِنْ عِيسَى مَثَلًا، أَبْغَضَتْهُ يَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ، وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلِ الَّذِي لَيْسَ بِهِ» , أَلَا وَإِنَّهُ يَهْلِكُ فِيَّ اثْنَانِ: مُحِبٌّ مُطْرِي يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ، وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى إِنْ يَبْهَتَنِي، إِلَّا إِنِّي لَسْتُ بِنَبِيٍّ وَلَا يُوحَى إِلَيَّ، وَلَكِنِّي أَعْمَلُ بِكِتَابِ اللَّهِ، وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ مَا اسْتَطَعْتُ، فَمَا أَمَرْتُكُمْ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ فَحَقٌّ عَلَيْكُمْ طَاعَتِي، فِيمَا أَحْبَبْتُمْ وَكَرِهْتُمْ

سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے مجھے بلاکر فرمایا : تیری مثال عیسیٰ بن مریم (علیہما اسلام)کی سی ہے کہ یہودیو ں نے ان سے بعض رکھا یہاں تک کہ ان کی ماں پر بہتان لگایا اور نصاری ٰ نے ان سے محبت کی ، یہاں تک کہ ان کو و ہ مقام دیا جو ان کا حق نہیں تھا ۔ فرمایا:اسی طرح میرے بارے میں بھی دو طرح کےآدمی ہلاک ہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے بڑھ کر اور دوسرا میرے بارے بغض رکھنے اور مجھ پر الزام تراشی کی پاداش میں ہلاک کا شکار ہو گا ۔ مگر میں نبی نہیں ہوں اور نہ ہی مجھ پر وحی آتی ہے لیکن میں حسب طاقت کتاب اللہ اور سنت رسول کے مطابق عمل کرنے کی کو شش کرتا ہوں ، اگر میں تم کو اطاعت الہی کا حکم دو تو تم پر اس کی اطاعت واجب ہے خواہ تم کو پسند ہو یا نہ گوار گزرے۔(3)

دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ ← أبي صادق ← الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ ← الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← كِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ بْنِ مَلِيحٍ قثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ قثنا أَبُو غَيْلَانَ الشَّيْبَانِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ سُفْيَانُ بْنُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1222

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1223

1223 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ فَقَالَ: إِنِّي دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ عِنْدَهُ أَحَدٌ إِلَّا عَائِشَةُ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ «كَيْفَ أَنْتَ وَقَوْمُ كَذَا وَكَذَا» قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «قَوْمٌ يَخْرُجُونَ مِنَ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ كَأَنَّ يَدَيْهِ ثَدْيِ حَبَشِيَّةٍ» .

سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺکے گھر گیا تو وہا ں آپ ﷺکےساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علا وہ کو ئی نہ تھا ۔ آپﷺنے مجھ سے فرمایا :ابن ابی طالب !اس دن تیری کیا کیفیت ہو گی کہ جب لوگوں کی حالت ایسی ایسی ہو گی (جن سے تیرا واسطہ پڑھے گا )میں نے عرض کیا :اللہ اور اس کے رسول بہتر جا نتے ہیں ،پھر آپﷺنے فرمایا :تمہاری مخالفت میں مشرق کی جانب سے ایک قوم نکلے گی وہ قرآن پڑھنے والے ہو ں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ان میں ایک شخص ناقص ہاتھو ں والا ہوگا اس کے ہاتھ حبشی عورتوں کے پستان کی مانند ہو ں گے۔(1)

قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ← يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ كَيْفَ أَنْتَ وَقَوْمَ كَذَا وَكَذَا ← إِنِّي دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ وَلَيْسَ عِنْدَهُ أَحَدٌ إِلَّا عَائِشَةُ ← كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1223

Sahih

chevron_left Previous
1…106107108…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him