حنش سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دو میڈھے ذبح کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے سوال کیا : یہ کیا ہے ؟ یعنی کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ کو ایسا کرنے کی وصیت فرمائی ہے ) تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت کی ہے کہ میں ان کی طرف سے قربانی کروں (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1200
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1201
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے انہیں سورت برات دے کر بھیجا ، انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ میں لسان دراز اور خطیب نہیں ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا : ضروری ہے کہ تم جاؤ یا میں جاؤں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اگر ضروری ہے تو میں چلا جاتاہوں آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ ! اللہ تیری زبان کو سیدھا کرے گا اور تیرے دل کو مضبوط کر دے گا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا مبارک ہاتھ میرےمنہ پر رکھا۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1201
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1202
سیدنا علی ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کا ارادہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے : اے اللہ ! تیری توفیق سے میں حملہ کرتا ہوں ،تیری توفیق سے اترتا ہوں اور تیری توفیق سے چلتا ہوں ۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1202
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1203
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر سورۃ برات (التوبۃ ) کی دس آیات نازل ہوئیں تو آپ ﷺ نے سیدنا ابو بکر کو بلایا اور انکو اہل مکہ کے سامنے ان آیات کو پڑھنے کے لیے بھیجا پھر نبی کریم ﷺ نے مجھے بلایا کہ مکہ کے راستے کی طرف نکلو جہاں بھی تمہاری ملاقات ابو بکر سے ہو جائے تو ان سے کتاب کو لے لینا اور اہل مکہ کے سامنے ان آیات کو جا کر تلاوت کرنا میں ان سے " حجفہ " کے مقام پر جا ملا اور ان سے کتاب لے لی تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے واپس آکر نبی کریم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا اس کے متعلق کوئی وحی نازل ہوئی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں بلکہ میرے پاس تو جبریل نے آکر کہا تھا : آپ کی ذمہ داری صرف آپ خود یا آپ ( کے اہل بیت ) میں کوئی شخص ادا کرے گا۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1203
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1204
حارث بن سوید سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو باقی لوگوں کے علاوہ کوئی مخصوص چیز عطا کی ہے ؟ کوئی چیز نہیں مگر یہ چیز جو میری نیام میں ہے ۔ وہاں سے انہوں نے ایک صحیفہ نکالا اس میں اونٹوں کی دیت کے کچھ احکامات تھے : یہ بھی تھا کہ "ثور" پہاڑ سے لے کر " عایر " پہاڑ تک مدینہ حرم ہے ۔ جو بھی اس میں خرابی یا بدعت کا مرتکب ہو گا یا کسی بدعتی انسان کو پناہ دے گا ت اس شخص پر اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی اور روز قیامت اس کی نہ فرضی عبادات قبول ہوں گی اور نہ نفلی ، جو بھی حقیقی مالک کو چھوڑ کر کسی کے غلام کا مالک بنتا ہے تو اس پر بھی اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی ۔روز قیامت اس کی نہ فرضی عبادات قبول ہوں گی اور نہ نفلی ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1204
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1205
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ( کہ قیامت کے قریب کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے) بے شک وہ قوم اسلام سے اس طرح نکل جائے گی جس طرح کہ تیر کمان سے نکل جاتا ہے حالانکہ وہ قرآن کی تلاوت کرنے والے ہوں گے مگر وہ تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اتر ے گی ، اس آدمی کے لیے بشارت ہے جو ان کو قتل کرے گا۔ انکی نشانی یہ ہے کہ ان میں سے ایک آدمی نا تمام ہاتھ والا ہو گا۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1205
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1206
سیّدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غریر خم کے دن فرمایا : جس کا میں دوست ہوں ، علی بھی اس کادوست ہے ۔راوی کہتے ہیں کہ بعد میں لوگوں نے ان الفاظ کو زیادہ کر دیا : اے اللہ ! علی کے دوست کو تُو بھی اپنا دوست اور علی کے دشمن کو اپنا دشمن بنا۔(1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1206
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1207
ابن اعبدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کہ مجھ سے سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :ابن اعبد ! تجھے پتہ ہے کہ کھانے کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا ابن ابی طالب ! آپ ہی بتا دیجیے کیا حق ہے؟تو انہوں نے فرمایا : بسم اللہ پڑھو اور یہ دعا پڑھو :اے اللہ ! ہمارے اس رزق میں مزید برکت فرما ، پھر مجھ سے کہا :جب کھانے سے فارغ ہو جاؤ تو اس کا شکر کیسا ہو تا ہے ؟ میں نے کہا :کس طرح ہوتا ہے شکر ؟ تو فرمایا : اے اللہ حمد ہے تیرے لیے تُو نے ہمیں کھلا یا اور پلا یا ۔ پھر انہوں نے مجھ سے کہا : میں تمہیں اپنے اور سیّد ہ فاطمہ رضی اللہ عنہاکے بارے میں نہ بتاؤ ں جو آپ ﷺ کو سب زیادہ محبوب صاحبزادی تھیں ، میری بیوی سیّد ہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے ہاتھو ں سے آٹا پیسا کرتی تھیں جس سے ان کے ہاتھ زخمی ہو گئے ، مشکیزوں میں پانی لانے سے کندھے پر نشانات بن گئے ، گھر کی صفائی سے کپڑے میلے ہو جا تے ، ان کو کا فی تکلیف تھی تو ان دنوں رسول اللہ ﷺ کے پاس قیدی اور خادم آئے تو میں نے ان سے کہا : آپ رسول اللہ ﷺ کے پاس جائیں اور ایک خادم کا سوال کریں تاکہ آپ کو جن پر یشانیوں کا سامنا ہے ، ان سے چٹکارا مل جائے ، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، ان کے پاس ایک یا کئی خادم موجود تھے ، سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کوئی سوال کئے بغیر واپس چلی آئیں ، باقی حدیث بیان کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں اس (خادم) سے اچھا وظیفہ نہ بتا دوں ؟ وہ یہ کہ جب تم بستر پر سونے جاتی ہو 33مرتبہ سبحان اللہ 33مرتبہ الحمداللہ 33مرتبہ اللہ اکبر پڑھو ، یہ سن کر سیّد ہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سرنکال کر کہا:میں اللہ اور اس کے رسول ﷺسے راضی ہوں دو مرتبہ انہو ں نے یہ کہا ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1207
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1208
ابو وائل رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آکر کہنے لگا : امیر المومنین !میں مکا تبت کا معاوضہ ادا کرنے سے عاجز ہوں آپ میری مدد فرمائیں سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں کچھ ایسے کلمات سکھاؤں گا جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے سکھائے تھے ، اگر صبر پہاڑ کے برابر تم پر دینا روں کاقرض بھی ہوا تو اللہ پاک اتار دے گا ، میں نے کہا : جی کیوں نہیں ! انہوں نے کہا : یہ وظیفہ پڑھو :اے اللہ !تو میرے لیے کافی ہے مجھے حلال رزق سے غنی کردے نہ کہ حرام سے اور اپنے فضل سے غنی کردے اپنے سواہر کسی سے۔(1)
أَبِي وَائِلٍ ← سيار أبي الحكم ← عبد الرحمن بن إسحاق القرشي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1208
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1209
ابو ظبیان رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا ، جس نے زنا کیا تھا ، آپ رضی اللہ عنہ نے زنا کے جرم میں رجم کرنے کا حکم دیا ، جب لوگ اسے رجم کرنے کے لیے لے جا رہے تھے تو سیّد نا علیرضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہو گئی ، انہو ں نے پوچھا : اسے کیا ہوا ؟ لوگوں نے بتایا : اس نے زنا کیا ہے ، اس لیے سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا ہے تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاتھ سے اُس عورت کو چھڑایا ، سب لوگوں کو واپس بھیج دیا جب وہ سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئے تو سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا :تمہیں کس نے واپس بھیجا ہے ؟ لوگو ں نے کہا : سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ کام انہوں نے ایسے ہی نہیں کیا ہو گا بلکہ ان کے پاس اس بارے میں کوئی معلومات ہوں گی ، تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کو بلابھیجا ، جب وہ آئے ، سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ بڑے غصے میں تھے ، دریافت کیا :کیوں آپ نے واپس بھیجا ہے ؟ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ہے کہ تین طرح کے بندے سزاؤں کے مستحق نہیں ہے:
1۔ جو سورہا ہو یہاں تک کہ بیدار ہو جائے ۔
2۔ نا بالغ بچہ یہاں تک کہ بالغ ہو جائے
3۔ جو پاگل ہو یہاں تک کہ صاحب عقل ہو جائے ۔
سیّد نا عمررضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں (یعنی یہ مسئلہ ایسے ہی ہے )تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے کہا :یہ فلاں قبیلے کی پاگل عورت ہے جس کے ساتھ کسی نے بدکاری کی ہے ۔ پھر سیّدنا عمررضی اللہ عنہ نے کہا :میں نہیں جانتا تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے کہا میں بھی نہیں جانتا ، چنانچہ اس کو رجم نہیں کیا گیا ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1209
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1210
ابو بردہ بن ابی مو سیٰ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیّدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ہمارے پاس سیّد نا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو سیّد نا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ ان کے احترام کے لیے کھڑے ہو ئے اور لوگو ں کو بھی اس کا حکم دیا سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا :یہ دعا پڑھو ، اے اللہ ! مجھے ہدایت دے اور مجھے سیدھا کر دے ، ہدایت سے مراد سیدھا راستہ ہے ، تسدید سے مراد تیر کی مثل برابر سیدھا ہونا ہے ، مجھے اس انگلی میں انگھوٹی پہننے سے منع کیا ، راوی ابو بردہ نے تشہد والی اور درمیان والی انگلی کا ذکر کیا ۔
عاصم کہتے ہیں :مجھ پر یہ بات مشتبہ ہو گئی کہ کونسی انگلی تھی ؟ مجھے مثیر ہ سے اور قسیہ کپڑوں سے منع کیا ہے ۔ ابو بردہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا :امیر المومنین !یہ مثیرہ اور قسیہ کیا ہے ؟تو انہوں نے فرمایا !مثیرہ ایک مخصوص کپڑا ہوتا تھا جو عورتیں اپنے خاوندوں کے لیے بناتی تھیں تاکہ وہ اس کو سواری کے وقت استعمال کریں اور ہاقسیہ تو یہ بھی مخصوص قسم کے کپڑے ہیں جو شام یا یمن سے منگوائے جاتے تھے ۔
راوی حدیث عاصم کو شک ہوا ہے کہ اس میں ریشم ہوتا تھا جو کہ مالٹے رنگ کی مانند ہوتا تھا ۔
ابو بردہ کہتے ہیں کہ جب میں نے سبنی لباس کو دیکھا تو مجھے یقین ہو گیا کہ قسبی لباس یہی ہے۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1210
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1211
عبداللہ بن سبع رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہےکہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا :اس ذات کی قسم !جس نے دانے کو پھاڑا اور جاندار وں کو پیدا فرمایا ، تم لوگ اس (میری داڑھی)کو اس (میرے) خون سے آلودہ کرو گے ، لوگوں نے کہا :ہمیں بتائیں ایسا کرنے والا شخص کون ہو گا ؟ہم اس کو اس کے اہل وعیال کو تباہ کر دیں گے ، سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں میرے قاتل کے علاوہ کسی کو مت قتل کرنا پھر لوگوں نے کہا :اگر آپ جانتے ہیں تو ہمیں بتلا دیجیے ، فرمایا : نہیں !بلکہ میں تمہیں اس چیز پر چھوڑتا ہوں جس پر تمہیں رسول اللہ ﷺ نے چھوڑا تھا ۔(1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1211