Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1188

1188 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ، يَعْنِي: ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ يُكَبِّرُ ثُمَّ يَقُولُ: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي، وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ، وَإِذَا رَكَعَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَمُخِّي، وَعِظَامِي، وَعَصَبِي» ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ، وَإِذَا سَجَدَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ، فَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ، وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» . [ص:696]

سیدناعلی سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے پھر یہ دعا پڑھتے: میں اپنے چہرے کو الله تعالی کے سامنے کرتا ہوں جو خالق ہے زمین آسمان کا میں پاک ہوں اور مشرکین میں سے نہیں ہوں، یقینا میری نماز میری قربانی میرا جینا اور میرا مرنا سب الله وحده لاشریک کے لیے ہے، مجھے مسلمان بننےکاحکم دیا گیا ہے۔ اے اللہ تو بادشاہ ہے، تیرے بغیر کوئی معبود برحق نہیں ہے تو میرا رب ہے، میں تیرا بندہ ہوں ، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور گناہوں کا اقرار کرتا ہوں۔ پس میرے تمام گناہوں کو بخش دے اور گناہوں کو بخشنے والا ہے، اے اللہ مجھے اچھے اخلاق کا مالک بنا، بے شک توہی اچھے اخلاق سے نوازتا ہے مجھے سے برائیوں کو دور فرما بے شک تو ہی برائیوں کو دور کرنے والا ہے، میں حاضر ہوں بار بار حاضر ہوں، میرے ہاتھ میں اچھائیاں ہیں اور برائیوں سے پاک ہے، میں تیرا ہوں تیری طرف لوٹنے والا ہوں توبابرکت اور اونچا ہے، میں تیری بخشش کا طلب گار ہوں توبہ کرتا ہوں اور جب رکوع کرتے تو یہ دعا پڑھتے : اے اللہ تیرے لیے میں نے رکوع کیا تجھ پر ایمان لایا میرے کان ، آنکھ دماغ، ہڈیاں اور پٹھے سب تیرے لیے جھکے ہوئے ہیں اور جب رکوع سے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے : اللہ حمد کرنے والوں کی سنتا ہے، رب ہمارا ، اے اللہ تیرے لیے زمین و آسمان کے برابر اور جوان کے درمیان ہے اس کے برابر اور جتنا تو چاہے اس کے برابر تیرے لیے حمد ہے اور جب سجدہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے : اے اللہ میں تیرے لیے سجدہ کرتا ہوں مجھ پر ایمان لاتا ہوں ، تیرے لیے جھکتا ہوں ، میرے چہرے سے اس ذات کو سجد ہ کیا جس نے اس چہرے کو بنایا اور اچھی صورت سے نوازا، مجھے آنکھ اور کان عطا کیے۔ بابرکت ہے جو سب سے اچھا پیدا کرنے والا ہے۔ جب نماز سے فارغ ہوتے تو یہ دعا کرتے : اے اللہ بخش دے مجھے جو گناہ گزشتہ کیے ہیں، جو آنے والے ہیں، جو ظاہری طور اور جو پوشیدہ کیے ہیں، جو تومیرے بارے میں جانتا ہے تو ہی سب سے مقدم اور موخر ہے (رہنے والا) بھی ہے، تیر ے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ (1)

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← الْأَعْرَجِ ← عمه الماجشون بن أبي سلمة ← هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ، يَعْنِي: ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1188

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1189

1189 - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: بَلَغَنَا عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: «وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ» ، قَالَ: لَا يُتَقَرَّبُ بِالشَّرِّ إِلَيْكَ.

نضیر بن شمیل رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں مذکورہ روایت کی نسبت یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ ( اے اللہ ) اور شرتجھ سے نہیں اور نہ ہی تیرے قریب آتا ہے ۔ (1)

لَا يُتَقَرَّبُ بِالشَّرِّ إِلَيْكَ. ← فِي هَذَا الْحَدِيثِ: «وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ» ← النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلِ، أَنَّهُ ← إِسْحَاقُ بْنُ رَاهُوَيْهِ ← عَبْدُ اللَّهِ: بَلَغَنَا

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1189

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1190

1190 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا حُجَيْنٌ، هُوَ ابْنُ الْمُثَنَّى، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ» ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا» .

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے پھر یہ دعا پڑھتے ( وجھت وجھی ۔۔۔۔۔میں اپنا چہرہ اللہ کے سامنے کرتا ہوں ۔ ۔۔۔۔۔ پھر آگے اسی سابقہ رویت کی مثل بیان کیا مگر اس روایت میں یہ الفاظ ہیں : مجھ سے برائیاں دور کرے۔ (2)

وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا ← وَجَّهْتُ وَجْهِي فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ثُمَّ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← عمه الماجشون بن أبي سلمة ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← حُجَيْنٌ، هُوَ ابْنُ الْمُثَنَّى، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1190

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1191

1191 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، نا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ قَالَ: نا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَسْلَمَةُ الرَّازِيُّ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْعَبْدَ الْمُفَتَّنَ التَّوَّابَ» .

سیدنا علی رضی اللہع نہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی اس شخص سے محبت کرتا ہے جس پر آزمائشیں آئیں اور وہ توبہ کرنے والاہو۔ (3)

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ← أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، ← أَبِي عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، مَسْلَمَةُ الرَّازِيُّ ← دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1191

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1192

1192 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كُنْتُ شَاكِيًا فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي، وَإِنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا فَارْفَعْنِي، وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ قُلْتَ؟» فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَا قَالَ، قَالَ: فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ عَافِهِ» ، «أَوِ اللَّهُمَّ اشْفِهِ» - شَكَّ شُعْبَةُ - قَالَ: فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي ذَاكَ بَعْدُ.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں بیمار تھا تو رسول اللہ ﷺ کا میرے پاس سے گزر ہوا اور میں یہ کہہ رہا تھا : اے اگر میری موت قریب ہے تو مجھے اٹھا لے اور اگر دور ہے تو مجھے شفا دے دے اور اگر آزمائش ہے تو مجھے صبر عطا کر دے تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : دوبارہ کہو جو کچھ تم نے پہلے کہا ہے میں نے اپنی بات دوبارہ دہراتی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے پاؤں مارا اور فرمایا : اے اللہ ! اسے عافیت دے یا اسے شفا عطا کر دے (راوی شعبہ کو شک ہوا ہے ) اسکے بعد وہ درد مجھے کبھی نہیں ہوا۔ (4)

أَقُولُ: اللَّهُمَّ ← كُنْتُ شَاكِيًا، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1192

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1193

1193 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ: أنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ، فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ أَبَدًا.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ان کی طرف سے قربانی کروں تو اس لیے ہمیشہ ان کی طرف قربانی کرتا ہوں ۔ (1)

أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ أَبَدًا ← عَلِيٍّ، ← حنش ← الْحَكَمِ ← أبي الحسناء ← شَرِيکٍ ← أَبِي، قثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1193

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1194

1194 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَا: نا زَائِدَةُ، نا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ وَقِرْبَةٍ وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ. قَالَ مُعَاوِيَةُ: إِذْخِرٌ، قَالَ أَبِي: الْخَمِيلُ: الْقَطِيفَةُ الْمُخَمَّلَةُ.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز میں ایک لوٹا ، ایک چادر، ایک مشکیزہ اور کھجور کی چھالوں سے بھرا ہوا ایک تکیہ عطا کیا ۔ (2)

أَبِي: الْخَمِيلُ: الْقَطِيفَةُ الْمُخَمَّلَةُ. ← مُعَاوِيَةُ إِذْخِرٌ ← جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ وَقِرْبَةٍ وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ← عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1194

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1195

1195 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، نا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ أَسَنَّ مِنِّي، وَأَنَا حَدَثٌ لَا أُبْصِرُ الْقَضَاءَ، قَالَ: فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي وَقَالَ: «اللَّهُمَّ ثَبِّتْ لِسَانَهُ، وَاهْدِ قَلْبَهُ، يَا عَلِيُّ، إِذَا جَلَسَ إِلَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَقْضِ بَيْنَهُمَا حَتَّى تَسْمَعَ مِنَ الْآخَرِ مَا سَمِعْتَ مِنَ الْأَوَّلِ، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ تَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ» ، قَالَ: فَمَا اخْتَلَفَ عَلَيَّ قَضَاءٌ بَعْدُ، أَوْ مَا أَشْكَلَ عَلَيَّ قَضَاءٌ بَعْدُ.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے اہل یمن کی طرف (قاضی بنا کر) بھیجا ، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ آپ مجھے ایک ایسی قوم کی طرف بھیج رہے ہیں جو عمر میں مجھ سے بڑی ہے (یعنی وہاں ضعیف العمر لوگ ہیں جو کافی سمجھ بوجھ رکھنے والے ہیں ) میں ایک نوجوان آدمی ہوں ۔ مجھے فیصلہ کرنے کا علم نہیں ہے آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک کو میرے سینے پر رکھا اور فرمایا: اے اللہ ! اس کی زبان کو ثابت قدمی اور اس کے دل کو ہدایت سے نواز دے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے علی ! جب تیرے پاس دو آدمی یا دو فریق جھگڑا لے کر آئیں تو ان دونوں کے درمیان اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا جب تک تم پہلے آدمی یا فریق کی بات کی طرح دوسرے آدمی یا فریق سے بھی بات سن نہیں لیتے ۔ جب تم ایسا کرو گے تو تم پر فیصلہ واضح ہو جائے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس کے بعد مجھے کبھی فیصلہ کرنے میں مشکل پیش نہین آئی ۔ (3)

فَقُلْتُ لَهُ ← بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ إِلَى الْيَمَنِ ← عَلِيٍّ، ← حنش ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1195

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1196

1196 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، نا أَبِي، نا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، نا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فَاجْتَمَعَ ثَلَاثُونَ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا، قَالَ: قَالَ لَهُمْ: «مَنْ يَضْمَنُ عَنِّي دَيْنِي وَمَوَاعِيدِي، وَيَكُونُ مَعِي فِي الْجَنَّةِ، وَيَكُونُ خَلِيفَتِي فِي أَهْلِي؟» فَقَالَ رَجُلٌ لَمْ يُسَمِّهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْتَ كُنْتَ بَحْرًا مَنْ يَقُومُ بِهَذَا؟ قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِآخَرَ، قَالَ: فَعَرَضَ ذَلِكَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جب یہ آیت نازل ہوئی ( انذر عشیر تک الاقربین ) ترجمہ : آپ اپنے رشتہ داروں کو (جہنم کی آگ سے ) ڈرائیں (سورۃ شعراء آیت نمبر:214) رسول اللہ ﷺ نے اپنے خاندان کے تیس کے قریب لوگوں کو جمع کیا اور کھایا پیا تو پھر رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا : کون ہے جو میرا قرض اتار دے ؟ تاکہ وہ جنت میں میرے ساتھ رہے گا۔ اور میرے گھر کا محافظ بنے گا۔ ایک آدمی نے عرض نے کیا : یا رسول اللہ ﷺ آپ تو ایک سمندر کی مانند ہیں کون یہ ذمہ داری اٹھائے گا ؟ پھر ایک دوسرے شخص سے فرمایا ، پھر ایک تیسرے شخص سے کہا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر آپ نے سب (خاندان والوں) سے فرمایا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول ﷺ میں ( یہ کروں گا ) ۔۔(1)

عَلِيٍّ، ← عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَسَدِيِّ، ← الْمِنْهَالُ ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1196

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1197

1197 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: أنا يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا قَالَ لِأَبِيهِ: لَأَبْعَثَنَّكَ فِيمَا بَعَثَنِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ أُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ، وَأَنْ أَطْمِسَ كُلَّ صَنَمٍ.

جریر بن حیان رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : میں تمہیں اس کام کے لیے بھیجتا ہوں جس کام کے لیے رسول اللہ ﷺ نے مجھے بھیجا تھا کہ ہر اونچی قبر کو ہموار کیا جائے اور ہر بت کو توڑ دیا جائے ۔ (2)

أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا ← جَرِيرِ بْنِ حَيَّانَ، ← يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1197

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1198

1198 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ عَلِيٌّ: إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ غَيْرِهِ فَإِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مُحَارِبٌ، وَالْحَرْبُ خُدْعَةٌ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ قَوْلِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» .

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کروں تو آپ پر جھوٹ باندھنے سے آسمان سے گرنا مجھے پسند ہے ، جب کسی اور شخص کے حوالے سے بیان کروں تو میں ایک جنگجوہوں اور جنگ دھوکہ کا نام ہے میں نے سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : قیامت کے قریب کچھ نوجوان لوگ پیدا ہوں گے جو عقل کے کمزور ہوں گے رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو پڑھنے والے ہوں گے اس کے باوجود ایمان ان کےحلق سے نہیں اُترے گا یہ لوگ جہاں بھی ملیں انہیں قتل کرو ، قیامت کے دن ان کے قتل کرنے والوں کے لیے بہت بڑا اجرا ہے ۔ (3)

رجل محارب، والحرب خدعة، ← غيره، فإنَما ← عَلِيٌّ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1198

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1199

1199 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَسْحِ فَقَالَتِ: ائْتِ عَلِيًّا فَهُوَ أَعْلَمُ مِنِّي، قَالَ: فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، قَالَ: فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ يَوْمًا وَلَيْلَةً، وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثًا.

شریح بن ہانی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ سے مسح کے بارے میں مسئلہ پوچھا تو وہ کہنے لگیں : جاؤ ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو کیونکہ وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کےپاس آیا ان سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا : تو وہ کہنے لگے : رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیا کرتے تھے مقیم ایک رات اور ایک دن تک موزوں پر مسح کرے اور مسافر کے لیے تین دن اور تین رات تک رخصت ہے ۔(4)

الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ← فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَسَأَلْتُهُ، ← ائْتِ عَلِيًّا فَهُوَ أَعْلَمُ مِنِّي، ← المسح ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← الْحَكَمِ ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا الْأَعْمَشُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1199

Sahih

chevron_left Previous
1…104105106…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him