حبہ عرنی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی باطل و آفتہ علی کو ایک دن ہنستے ہوئے دیکھا ، میں نے اس سے زیادہ انکو کبھی اتنا ہنستے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ان کے دانت واضح ہو گئے ، انہوں نے سیدانا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میںرسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا پھر باقی حدیث بیان کرنے کے بعد یہ دعا فرمائی : اے اللہ ! میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ کے علاوہ کسی انسان نے مجھ سے پہلے تیری بندگی کااقر ار کیا ہو ،انہوں نے یہ تین مرتبہ کہا پھر فرمایا : میں نے سات سال پہلے نماز پڑھی جس وقت کوئی بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز نہیں پڑھتا تھا ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1164
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1165
عبد اللہ بن نجی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میں نے تین سال تک نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہے جبکہ ابھی تک کوئی بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز نہیں پڑھتا تھا ۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1165
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1166
عبد اللہ بن نجی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میں نے تین سال تک نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہے جبکہ ابھی تک کوئی بھی آپ ﷺکے ساتھ نماز نہیں پڑھتا تھا ۔(3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1166
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1167
ابو طفیل رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک وسیع میدان میں لوگوں کو جمع کیا ، فرمایا : میں ہر اس مسلمان آدمی سے قسم لے کر پوچھتا ہوں کہ جس نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا کہ جو کچھ آپ ﷺ نے عذیرخم کے مقام پر کھڑے فرما رہے تھے؟ تو تیس آدمی کھڑے ہوئے ۔
ابو نعیم کہتے ہیں : کئی لوگوں نے گواہی دی ، جب لوگوں سے فرمایا : کیا تم جانتے ہوکہ میں مومنین کو ان کی جان سے زیادہ عزیز ہوں ؟ جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا تھا : جس کا میں دوست ہوں علی بھی اسکا دوست ہے اے اللہ ! علی کے دوست کو تو بھی اپنا دوست بنا اور علی کے دشمن کو اپنا دشمن بنا ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1167
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1168
عمرو بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پا س بیٹھا ہوا تھا ، نو آدمیوں کا گروہ (حدیث میں رھط کا لفظ بیان کیا گیا ہے جو تین سے دس آدمیوں کے اس گروہ پر بولا جاتا ہے کہ جس میں کوئی بھی عورت نہ ہو ) آکر کہنے لگے : اے ابن عباس ! یا تو آپ ہمارے ساتھ باہر آجائیں یا پھر ان لوگوں سے الگ ہوجائیں ،( یعنی ہم آپ سے اکیلے میں بات کرنا چاہتے ہیں ) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : نہیں ! بلکہ میں ہی تمہارے ساتھ باہر جاتا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں کہ ان دنوں وہ ابھی تک قوت بصارت سے محروم نہیں ہوئے تھے ۔ (راوی یہ اس لیے وضاحت کر رہے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی عمر کے آخری حصے میں قوت بصارت ختم ہو گئی تھی) پھر انہوں نے اپنی گفتگو کو شروع کیا لیکن ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے کیا گفتگو کی ، کچھ دیر بعد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اپنے کپڑوں کو جھاڑتے ہوئے لوٹ آئے اور کہہ رہے تھے : ہلاکت ہے ، ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایسے شخص کے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں جن کی دس یہ صفات ہیں ۔ ( ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گستاخی کی تھی )
1۔ جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے (خیبر کے موقع پر ) فرمایا تھا : میں اس آدمی کو بھیجوں گا جس کا اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ، اس لیے ہر آدمی آگے آگے بڑھ رہا تھا ،آپ ﷺ نے فرمایا علی کہاں ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : وہ گندم پیس رہے ہیں ، آپ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو یہ کام کرتا؟ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی دیکھ نہیں سکتے تھے ، آپ ﷺ نے انکی آنکھ میں پھونک ماری ، تین مرتبہ جھنڈے کو لہرا کر ان کو عطا کر دیا پس وہ فتح کر کے صفیہ بنت حیی کو لائے ۔
2۔ایک دفعہ ایک شخص کو آپ ﷺ نے سورۃ التوبہ کی آیات دے کر بھیجا ، پھر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو ان کے پیچھے بھیجا چنانچہ انہوں نے اس سے اس سورۃ کو واپس لے لیا ، پس آپ ﷺ نے فرمایا : اس سورۃ کو صرف وہی شخص لے کر جائے گا جو مجھ سے اور میں اس سے ہوں ۔
3۔ایک مرتبہ آپ ﷺ نے اپنے چچا کی اولاد سے پوچھا : دنیا آخرت میں تم میں سے کون میرا دوست اور مدگار بنے گا؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے عرض کیا میں آپ ﷺ کا دنیا و آخرت میں دوست اور مدد گار بننا چاہتا ہوں۔ تو آپ نے ان کےلیے برکت کی دعا فرمائی ، پھر ہر ایک شخص کے پاس جا کر کہا : دنیا آخرت میں تم میں سے کون میرا دوست اور مددگار بنے گا؟ سب نے انکار کیا ، راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم میرے دنیا و آخرت میں دوست ہو۔
4۔وہ سیدنا علی المرتضیٰ پہلے شخص ہیں جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد اسلام لائے۔
5۔ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ سیدنا حسن ،سیدنا حسین ،سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہم کو بلایا ، ان کو اپنی چادر لپیٹ کر یہ آیت تلاوت فرمائی (انما یرید اللہ ۔۔۔۔۔۔)(ترجمہ : اللہ تعالی ٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے اہل بیت ! تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔ سورۃ الاحزاب 33)
6۔ انہوں نے (سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) نے ہجرت کی رات اپنی ذات کو نبی کریم ﷺ پر قربان کیا تھا کہ ان کی چار پائی پر سوئے رہے (یہاں تک کہ مشرکین نے ان پر پتھراؤ کیا ) جیسا کہ نبی کریم ﷺ کو پتھر مارتے تھے اس وقت سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت آرام فرما رہے تھے ، انہوں نے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ خیال کر کے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ﷺ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ ﷺ بئر میمون کی طرف گئے ہیں (سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سمجھ گئے ) وہاں آپ کو ملیں گے وہ ان کے پیچھے یہاں تک دونوں غار میں داخل ہوئے ۔ کفار سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر پتھراؤ کرنے لگے جیسا کہ وہ نبی کریم ﷺ کو پتھر مارتے تھے انہوں نے اپنا سر لحاف میں چھپا ئے رکھا یہاں تک کہ صبح ہو گئی ۔ پھر جب سر باہر نکالا تو مشرکین کہنے لگے : تم رسوا ہو جاؤہم تو تمہارے صاحب پر جب پتھراؤ کیا کرتے تھے تو وہ تکلیف کی وجہ سے بے چین نہیں ہوتے تھے اور تم بھی بے چین نہیں ہو رہے ہمیں بھی اسی بات کا خوف لاحق تھا ( کہ یہ چار پائی پر سونے والا سیدنا محمد ﷺ نہیں ہیں ۔)
7۔جب نبی کریم ﷺ لوگوں کے ساتھ غزوہ تبوک کی جانب روانہ ہونے لگے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ میں بھی آپ کے ساتھ چلوں تو آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں تو وہ رونے لگ گئے پس نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ میرے ساتھ تیری نسبت وہی ہے جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ تجھے اپنا نائب بنائے بغیر میرا جانا مناسب نہیں تھا۔ مزید آپ نے فرمایا : تم میرے بعد ہر مومن مرد اور مومن عورت کے سردار ہو ۔
8۔ ایک مرتبہ ان کےبارے میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا سوائے علی کے مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازوں کو بند کر و ۔(سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس گزشتہ بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازوں کو اس لیے بند کر دیا گیا کہ ) وہ حالت جنابت میں وہآں سے گزرتے تھے اس کے علاوہ ان کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا ۔
9۔ان کےبارے میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا : جس کا میں مولیٰ (قریبی دوست ) ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ (قریبی دوست ) ہے ۔
10۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا : قرآن میں اللہ تعالی نے اس بات کی خبر دی ہے کہ وہ (اللہ ) درخت والوں سے راضی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے راز جانتا تھا لیکن یہ ہمیں نہیں بتایا کہ اس رضا مندی کے بعد ناراض بھی ہوا ہے (یعنی ایک بار راضی ہونے کے بعد پھر اللہ ناراض نہیں ہوا) حالانکہ نبی کریم ﷺ سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا تھا : یا رسول اللہ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں حاطب بن ابی بلتعہ کی گردن اڑا دوں تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا تم ایسا کرنا چاہتے ہو ؟ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ رب العزت نے اہل بدر کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ آج کے بعد تم جو بھی اعمال کرو تم کو بخش دیا گیا ہے ۔ (1)
عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1168
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1169
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم سے مومن بغض نہیں رکھے گا اور منافق تم سے محبت نہیں کرے گا۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1169
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1170
شہر بن حوشب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی زوجہ محترمہ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا جب ان کو سیدنا حسین کی شہادت کی خبر ملی وہ اہل عراق پر لعنت بھیج رہی تھیں پھر فرمانے لگیں : انہوں نے سیدنا حسین کو شہید کیا اللہ انہیں قتل کرے م انہوں نے سیدناحسین رضی اللہ عنہ کو دھوکہ دیا اور رسوا کیا ان پر اللہ کی لعنت ہو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا جب سیدہ فاطمہ صبح کے وقت ہانڈی میں حلوہ بنا کر ایک برتن لے کر آئیں اور آپ ﷺ کے سامنے رکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : آپ رضی اللہ عنہ کے چچا کا بیٹا کہاں ہے ؟ عرض کیا وہ گھر میں ہیں فرمایا : جاؤ انہیں اور ان کے دونوں بیٹوں کو بھی بلا کر لاؤ۔ سیدہ فاطمہ اپنے بیٹوں کو دائیں بائیں پکڑ کر لا رہی تھیں سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے تھے جب وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ﷺ نے ان بچوں کو اپنی گود میں بٹھایا۔ سیدنا علی المرتضی دائیں اور سیدہ فاطمہ بائیں طرف بیٹھ گئیں۔سیدہ ام سلمہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے خیبری چادر کھینچی جو مدینہ میں ہمارے سونے کے بستر پر تھی رسول اللہ ﷺ نے سب کو لپیٹ لیا اور چادر کے دونوں کناروں کو بائیں ہاتھ سے پکڑا اور دائیں ہاتھ کو اپنے رب کی طرف اٹھایا اور دعا کی اے اللہ: یہ میرے اہل بیت ہیں ، ان سے گندگی دور فرما اور انہیں خوب پاک کر دے ۔ یہ بات تین بار دہرائی ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا میں آپ ﷺ کے اہل میں سے نہیں ہوں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہاں ! چادر میں آجاؤ۔
سیدہ ام سلمہ فرماتی ہیں : میں بھی داخل ہو گئی اس کے بعد آپ ﷺ کی اپنے چچا زاد اور ان کے بچوں اور اپنی بیٹی فاطمہ کے بارے میں دعا ختم ہوئی ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1170
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1171
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں قسم کھا کر کہتی ہوں کہ سب سے آخر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کچھ خاص گفتگو کی ہم ہر روز صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ کی بیمار پرسی کرتے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی بار بار آتے تھے ۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرمائی ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کسی کام بھیجا تھا جب واپس آئے تو ہمیں گمان ہوا کہ انہیں رسول اللہ ﷺ سے کوئی کام ہے تو میں گھر سے نکل کر دروازے کے پاس بیٹھ گئی ، میں سب سے زیادہ دروازے کے قریب تھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ کی طرف جھکے ، بائیں طرف ہو کر آپ سے سرگوشی کرنے لگے پھر اسی دن آپ ﷺ وفات پا گئے اس لیے وہ سب سے زیادہ نبی کریم ﷺ کے قریبی انسان تھے ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1171
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1172
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوہ ذات العشیرہ میں ایک ساتھ تھے جب رسول اللہ ﷺ نے وہاں پڑاؤ ڈالا تو ہم نے بنو مدلج قبیلہ والوں کو دیکھا وہ اپنے کھجوروں والے چشمے میں کام کر رہے تھے سیدنا علی نے مجھ سے کہا : اے ابو یقظان ! کیا ہم ان کے پاس جا کر دیکھیں کہ کیسے کام کرتے ہیں ہم ان لوگوں کے پاس گئے کچھ دیر ان کا کام دیکھتے ہیں ۔ پھر ہمیں نیندآ گئی ، چنانچہ میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک درخت کی چھاؤں میں مٹی پر لیٹ گئے ہم سوئے رہے یہاں تک کہ رسو ل اللہ ﷺ نے ہی آکر ہمیں پاؤں مبارک سے ہلایا ہم اس وقت مٹی سے خاک آلود ہو چکےتھے رسول اللہ ﷺ نے اس دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا اے ابو تراب !( اے مٹی والے) پھر ارشاد فرمایا : کیا میں تم دونوں کے سامنے بدبخت ترین دو آدمیوں کا تذکرہ نہ کروں ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیوں نہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا : ایک بدبخت اُحمیر ثمودی تھا جس نے اونٹنی کا پاؤں کاٹ ڈالا تھا ۔ اے علی ! دوسرا وہ ہو گا جو تیر ے سر کی چوٹی پروار کرے گا ، یہاں تک کہ اس سے یہ ڈاڑھی تر ہو جائے گی ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1172
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1173
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوہ ذات العشیرہ میں ایک ساتھ تھے جب ہم بنو مدلج کے چند آدمیوں کے پاس سے گزرے ، جو اپنے کھجوروں کے باغ میں کام کر رہے تھے ۔ پھر آگے باقی وہی حدیث بیان کی ۔ (3)
عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← أَبُوكَ يَزِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← محمد بن يزيد بن خثيم ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ الْحَرَّانِيُّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1173
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1174
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1174
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1175
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف دو لشکر بھیجے ایک پر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور دوسرے پر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ امیر تھے ارشاد فرمایا : جب دونوں ایک ساتھ مل جاؤ تو سب پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے اور اگر الگ ہوجاؤ تو دونوں اپنے اپنے لشکر پر امیر ہوں گے راوی کہتے ہیں جب ہمارا یمن کے قبیلہ بنی زید سے آمنا سامان ہوا اور جنگ ہوئی تو مشرکین کے خلاف مسلمانوں کو کامیابی حاصل ہوئی تو ہم نے جنگجو کو قتل کیا بچوں کو قیدی بنایا ان میں سے ایک کنیز کو سید نا علی رضی اللہ عنہ ن اپنی ذات کے لیے منتخب کر لیا ۔ سیدنا خالد بن ولید نے اسی وقت نبی کریم ﷺ کو خط لکھا اور مجھے حکم دیا کہ وہ خط میں آپ ﷺ تک پہنچاؤں البتہ میں نے وہ خط آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا اور آپ ﷺ کے سامنے پڑھا گیا اس پر نبی کریم ﷺ کا چہرہ اقدس غصے سے متغیر ہو گیا۔ میں نے (اپنے دل میں ) کہا یہ مقام تو پناہ طلب کرنے کا ہے اللہ کے نبی ﷺ! آ پ نے مجھے ایک ایسے آدمی کے ساتھ بھیجا جس کی بات کو ماننا مجھ پر لازم تھا ۔ جو اس نے مجھے آپ کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے دیا میں نے وہ پہنچا دیا تو رسول اللہ ﷺ فرمایا بریدہ ! علی کی تنقیص مت کرنا ۔بلاشبہ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد تمہارا ولی (دوست ) ہے ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1175