Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1128

1128 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ قثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قثنا زُهَيْرٌ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرٍو الْأَصَمِّ قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: إِنَّ هَؤُلَاءِ الشِّيعَةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا مَبْعُوثٌ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، قَالَ: كَذَبُوا وَاللَّهِ، مَا هَؤُلَاءِ بِالشِّيعَةِ، لَوْ عَلِمْنَا أَنَّهُ مَبْعُوثٌ، مَا زَوَّجْنَا نِسَاءَهُ، وَلَا قَسَمْنَا مَالَهُ.

عمرو الاصم رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : شیعہ لوگ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو قیامت سے پہلے دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے گا۔ تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں اگر ایسا ہوتا تو ہم ان کی ازواج کی شادیاں نہ کراتے اور نہ ہی ان کا مال بطور وراثت تقسیم کرتے ۔ (4)

عَمْرٍو الأَصَمِّ، ← أَبَا إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ قثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قثنا زُهَيْرٌ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1128

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1129

1129 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْبَصْرِيُّ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قثنا أَبِي قثنا الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ الْوَفَاةُ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَقَرَّبُ إِلَيْكَ بِوِلَايَةِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ.

ابو صالح رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ موت کے وقت یہ دعا فرما رہے تھے : اے اللہ ! مجھے علی کے طفیل اپنی قرابت عطا فرما ۔ (1)

اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَقَرَّبُ إِلَيْكَ بِوِلَايَةِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ. ← لَمَّا حَضَرَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ الْوَفَاةُ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← السُّدِّيِّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1129

Mozu

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1130

1130 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ قثنا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ قثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُنَّا أَنَا وَعَلِيٌّ نُورًا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ آدَمَ بِأَرْبَعَةَ عَشَرَ أَلْفَ عَامٍ، فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ قَسَمَ ذَلِكَ النُّورَ جُزْءَيْنِ، فَجُزْءٌ أَنَا، وَجُزْءٌ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَامُ» .

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے محبوب رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : میں اور علی ( رضی اللہ عنہ ) اللہ تعالیٰ کے سامنے نور تھے ۔ خلقت آدم سے 14 ہزار سال پہلے جب آدم کو پیدا کیا گیا تو اللہ نے اسے مذکورہ دو حصوں میں تقسیم کیا ایک حصہ میں دوسرا حصہ علی ہے ۔ (2)

كُنَّا ← حَبِيبِي رَسُولَ اللَّهِ ← سَلْمَانَ ← زَاذَانَ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← الْحَسَنُ قثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ قثنا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ قثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1130

Mozu

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1131

1131 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ رَاشِدٍ الطُّفَاوِيُّ، وَالصَّبَّاحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو بِشْرٍ، جَارُ بَدَلِ بْنِ الْمُحَبَّرِ، يَتَقَارَبَانِ فِي اللَّفْظِ وَيَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ، قَالَا: نا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ قثنا سَعْدٌ الْخَفَّافُ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ مَحْدُوجِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ قَالَ: " يَا عَلِيُّ، أَنْتَ أَخِي، وَأَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، أَمَا عَلِمْتَ يَا عَلِيُّ أَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُدْعَى بِي، فَأَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ فِي ظِلِّهِ، فَأُكْسَى حُلَّةً خَضْرَاءَ مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ يُدْعَى بِالنَّبِيِّينَ بَعْضُهُمْ عَلَى أَثَرِ بَعْضٍ، فَيَقُومُونَ سِمَاطَيْنِ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ وَيُكْسَوْنَ حُلَلًا خَضْرَاءَ مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ، أَلَا وَإِنِّي أُخْبِرُكَ يَا عَلِيُّ أَنَّ أُمَّتِي أَوَّلُ الْأُمَمِ يُحَاسَبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ أَبْشِرْ أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى بِكَ لِقَرَابَتِكَ مِنِّي، وَمَنْزِلَتِكَ عِنْدِي، وَيُدْفَعُ إِلَيْكَ لِوَائِي، وَهُوَ لِوَاءُ الْحَمْدِ، فَتَسِيرُ بِهِ بَيْنَ السِّمَاطَيْنِ، آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَجَمِيعُ خَلْقِ اللَّهِ يَسْتَظِلُّونَ بِظِلِّ لِوَائِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَطُولُهُ مَسِيرَةُ أَلْفِ سَنَةٍ، سِنَانُهُ يَاقُوتَةٌ حَمْرَاءُ، قُضُبُهُ فِضَّةٌ بَيْضَاءُ، زُجُّهُ دُرَّةٌ خَضْرَاءُ، لَهُ ثَلَاثُ ذَوَائِبَ مِنْ نُورٍ، ذُوَابَةٌ فِي الْمَشْرِقِ، وَذُوَابَةٌ فِي الْمَغْرِبِ، وَالثَّالِثَةُ وَسَطَ الدُّنْيَا، مَكْتُوبٌ عَلَيْهِ ثَلَاثَةُ أَسْطُرٍ الْأَوَّلُ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. وَالثَّانِي: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالثَّالِثُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، طُولُ كُلِّ سَطْرٍ أَلْفُ سَنَةٍ، وَعَرْضُهُ مَسِيرَةُ أَلْفِ سَنَةٍ، فَتَسِيرُ بِاللِّوَاءِ وَالْحَسَنُ عَنْ يَمِينِكَ، وَالْحُسَيْنُ عَنْ يَسَارِكَ، حَتَّى تَقِفَ بَيْنِي وَبَيْنَ إِبْرَاهِيمَ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ، ثُمَّ تُكْسَى حُلَّةً خَضْرَاءَ مِنَ الْجَنَّةِ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ: نِعْمَ الْأَبُ أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ، وَنِعْمَ الْأَخُ أَخُوكَ عَلِيٌّ، أَبْشِرْ يَا عَلِيُّ، إِنَّكَ تُكْسَى إِذَا كُسِيتُ، وَتُدْعَى إِذَا دُعِيتُ، وَتُحَيَّا إِذَا حُيِّيتُ ".

محدوج بن زید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم میرے بھائی ہو جس طرح ہارون (علیہ السلام ) موسیٰ علیہ السلام کے بھائی تھے ۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔ اے علی ! کیا تم نہیں جانتے کہ مجھے قیامت کے دن سب سے پہلے بلایا جائے گا۔ میں عرش کے دائیں طرف سائے میں کھڑا ہو جاؤں گا اور جنتی جوڑوں میں سے سبز لباس مجھے پہنا یا جائے گا۔پھر باقی بنیوں کے یکے بعد دیگرے بلایا جائے وہ عرش کے دائیں طرف ایک ہی انداز میں کھڑے رہیں گے جنتی لباس میں سے سب کو سبز کپڑے پہنائے جائیں گے۔ اے علی ! میں تمہیں بتا رہا ہوں سب سے پہلا حساب میری امت سے ہو گا۔ پھر یہ خوشخبری لو کہ میرا رشتہ دار ہونے اور میرے ہاں تیری منزلت کی وجہ سے سب سے پہلے تجھے بلایا جائے گا میرا جھنڈا تجھے دیا جائے گا جس کا نام لوائے حمد ہے ، تم دونوں قطاروں کے درمیان سے جاؤ گے۔ سیدنا آدم علیہ السلام اور اولاد آدم اسی میرے جھنڈے کے نیچے سایہ لیں گے جس کی لمبائی ہزار سال کی مسافت ہے اس جھنڈے کے دانت سرخ یا قوت کے اس کا دستہ چاندی کا ، لوہا موتیوں کا اور اس کی تین نور کی میڈھیاں ہوں گی ایک مشرق میں ، دوسری مغرب میں اور تیسری دنیا کے درمیان ہو گی ۔ اس پر تین لکیریں لکھیں ہوں گی () بسم اللہ الرحمن الرحیم )۔(2) ۔ الحمد للہ رب العالمین ۔(3)۔لاالہ اللہ محمد رسول اللہ ۔ ہر لکیر کی لمبائی اور چوڑائی ہزار سال کے برابر ہو گی تم جھنڈا لے کر چلو گے دائیں طرف حسن اور بائیں طرف حسین ہوں گے یہاں تک کہ تم میرے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے درمیان عرش کے سایہ کے نیچے آکر کھڑے ہو جاؤ گے ۔ پھر تجھے بھی جنتی سبز لباس پہنایا جائے گا،پھر عرش کے نیچے سے ایک منادی آواز لگاتے ہوئے کہے گا ابراہیم ! آپ کے اچھے والد اور علی آپ کے پیارے بھائی ہیں ۔ اے علی ! تمہیں خوش خبری ہو ۔ تمہیں میرے ساتھ لباس پہنایا ، میرے ساتھ ہی بلایا اور میرے ساتھ زندہ کیا جائے گا۔ (1)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1131

Mozu

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1132

1132 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَاشِدٍ، نا شَرِيكٌ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْتَمْسِكَ بِالْقَضِيبِ الْأَحْمَرِ الَّذِي غَرَسَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ بِيَمَنِهِ، فَلْيَتَمَسَّكْ بِحُبِّ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ» .

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے جو شخص سرخ شاخ کو تھامنا چاہتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے جنت عدن میں اپنے ہاتھوں سے لگایا ہے۔ تو اس کو چاہیے کہ علی کی محبت کو پکڑے رکھے۔ (2)

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← شَرِيكٌ قثنا الْأَعْمَشُ، ← الْحَسَنُ قثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَاشِدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1132

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1133

1133 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الزَّهْرَانِيُّ قثنا أَبِي قثنا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ، إِذْ جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَلَمْ يَجِدْ مَجْلِسًا، فَتَزَحْزَحَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ أَجْلَسَهُ إِلَى جَنْبِهِ، فَسُرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا صَنَعَ ثُمَّ قَالَ: «أَهْلُ الْفَضْلِ أَوْلَى بِالْفَضْلِ، وَلَا يَعْرِفُ لِأَهْلِ الْفَضْلِ فَضْلَهُمْ إِلَّا أَهْلُ الْفَضْلِ» .

امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے ، اچانک سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو بیٹھنے کی جگہ نہ پائی ، سیدنا ابو بکر نے اپنے پاس جگہ دے دی یہ دیکھ کر آپ ﷺ بہت خوش ہوئے اور فرمایا : اہل فضیلت ہی دوسروں کی عزت کرتے ہیں اور اہل فضل لوگ ہی صاحب فضل لوگوں کی قدر ومنزلت جانتے ہیں ۔ (3)

الْحَسَنِ، ← الْحَسَنُ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الزَّهْرَانِيُّ قثنا أَبِي قثنا هِشَامٌ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1133

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1134

1134 - حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى حَمْزَةُ بْنُ دَاوُدَ الْأُبُلِّيُّ بِالْأُبُلَّةِ قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الرَّبِيعِ النَّهْدِيُّ الْكُوفِيُّ قثنا كَادِحُ بْنُ رَحْمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مَكْتُوبًا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، عَلِيٌّ أَخُو رَسُولِ اللَّهِ " [ص:666]

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت کے دروازے پر میں نے یہ لکھا ہوا دیکھا ہے : لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ اخور سول اللہ ۔(1)

جَابِرٍ ← عَطِيَّةَ، ← مِسْعَرٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1134

Mozu

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1135

1135 - حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى حَمْزَةُ، قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الرَّبِيعِ، قثنا كَادِحٌ قَالَ: نا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: «عَلِيٌّ أَخِي، وَصَاحِبُ لِوَائِي»

سیدنا نا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : راوی نے حدیث کو ذکر کیا ، اس کے آخر میں یہ الفاظ آتے ہیں : علی میرا بھائی ہے اور میرے جھنڈے کا مالک ہے ۔ (2)

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ← أَبُو يَعْلَى حَمْزَةُ، قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الرَّبِيعِ، قثنا كَادِحٌ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1135

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1136

1136 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ قثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ قثنا ابْنُ زِيَادٍ الثَّقَفِيُّ، عَنِ السُّدِّيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: اللَّهُمَّ الْعَنْ كُلَّ مُبْغِضٍ لَنَا قَالٍ، وَكُلَّ مُحِبٍّ لَنَا غَالٍ.

سدی سے روایے ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ ! ہر اس شخص پر لعنت بھیج جو ہم سے بغض رکھتا ہے ۔ اور اس شخص پر بھی جو ہماری محبت میں حد سے بڑھ جاتا ہے ۔ (3)

وَكُلَّ مُحِبٍّ لَنَا غَالٍ. ← عَلِيٌّ: اللَّهُمَّ الْعَنْ كُلَّ مُبْغِضٍ لَنَا ← السُّدِّيِّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1136

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1137

1137 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ قثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّعْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، فِي جُمَادَى الْأُولَى سَنَةَ إِحْدَى وَثَلَاثِينَ وَمِائَتَيْنِ، قَالَ: نا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ قَالَ: نا يَزِيدُ بْنُ مَعْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَهُ فَقَالَ: «أَيْنَ فُلَانٌ؟ أَيْنَ فُلَانٌ؟» فَجَعَلَ يَنْظُرُ فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ، وَيَتَفَقَّدَهُمْ وَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ، حَتَّى تَوَافَوْا عِنْدَهُ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فَآخَى بَيْنَهُمْ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدِيثَ الْمُؤَاخَاةِ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ عَلِيٌّ: لَقَدْ ذَهَبَتْ رُوحِي، وَانْقَطَعَ ظَهْرِي، حِينَ رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ بِأَصْحَابِكَ مَا فَعَلَتْ غَيْرِي، فَإِنْ كَانَ هَذَا مِنْ سَخَطٍ عَلَيَّ فَلَكَ الْعُتْبَى وَالْكَرَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ، مَا أَخَّرْتُكَ إِلَّا لِنَفْسِي، وَأَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَأَنْتَ أَخِي وَوَارِثِي» ، قَالَ: مَا أَرِثُ مِنْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: «مَا وَرَّثَ الْأَنْبِيَاءُ قَبْلِي» ، قَالَ: وَمَا وَرَّثَ الْأَنْبِيَاءُ قَبْلَكَ؟ قَالَ: " كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ، وَأَنْتَ مَعِي فِي قَصْرِي فِي الْجَنَّةِ مَعَ فَاطِمَةَ ابْنَتِي، وَأَنْتَ أَخِي وَرَفِيقِي، ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47] ، الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ.

سیدنا زید بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسجد نبوی میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا فلاں فلاں کہا ں ہے ؟ اور پنی نگاہوں کو صحابہ کرام میں دوڑاتے ہوئے ان کو تلاش کرنے لگے ان کی طرف قاصد بھیجاجب سارے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گئے، اللہ کی حمد ثنا بیان کی اور ان کے درمیان مواخات قائم کی ۔ پس آگے راوی نے مواخات والی لمبی روایت کو بیان کیا ۔ اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا یقینا میری جان چلی گئی اور میری پیٹھ بوجھل ہو گئی جب میں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام کے ساتھ وہ سلوک کیا جس سے مجھے محروم رکھا۔ اگر تو یہ سلوک میرے ساتھ اظہار ناراضگی کی وجہ سے ہے تو ہر طرح کی خوشی اور عزت آپ ﷺ ہی کےلیے ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے تجھے صرف اپنی ذات کے لیے موخر کیا ہے حالانکہ میری تمہارے ساتھ نسبت اسی طرح ہے جس طرح سیدنا ہارون علیہ السلام کو سیدنا موسی علیہ السلام کے ساتھ تھی ۔ ہاں ! مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ تم میرے بھائی اور وارث ہو۔ پھر سیدنا علی ر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ میں آپ ﷺ سے کیا میراث لوں گا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو وراثت تجھ سے پہلے نبیوں نے چھوڑی تھی یعنی کتاب اللہ اور ان نبیوں کی سنت اور تم اور میری بیٹی فاطمۃ الزہرا میرے ساتھ جنت کے ایک محل میں رہو گے، تم میری بھائی اوردوست ہو پھر آپ ﷺ نے یہ آیت فرمائی (مسندوں پر آمنے سامنے بھائی بھائی ہوں گے) اللہ کےلیے محبت کرنے والے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ (1)

زيد بن أبى أوفى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← يزيدُ بنُ معنٍ، ← عبد المؤمن بن عباد العبدي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ قثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّعْدِيُّ الْبَصْرِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1137

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1138

1138 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ: نا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ الْأَنْصَارِيُّ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَيْرُوزَ قثنا الْحُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ الرَّقَاشِيُّ قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، وَقَدْ صَلَّى بِأَهْلِ الْكُوفَةِ الصُّبْحَ أَرْبَعًا ثُمَّ قَالَ: أَزِيدُكُمْ، فَشَهِدَ عَلَيْهِ حُمْرَانُ وَرَجُلٌ آخَرُ، شَهِدَ أَحَدُهُمَا أَنَّهُ رَآهُ يَشْرَبُ الْخَمْرَ، وَشَهِدَ الْآخَرُ أَنَّهُ رَآهُ يَتَقَيَّؤُهَا، فَقَالَ عُثْمَانُ لِعَلِيٍّ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِابْنِهِ الْحَسَنِ، فَقَالَ: وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا، فَقَالَ لِابْنِ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، فَأَخَذَ السَّوْطَ فَضَرَبَهُ، فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ قَالَ: أَمْسِكْ، جَلَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ، وَعُمَرُ ثَمَانِينَ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ، وَهَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ.

حصین بن مندر قاشی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے ولید بن عقبہ کے خلاف فجر کی نماز کے بعد کوفہ میں گواہی دی ، انہوں نے کہا : اس کے علاوہ کوئی اور گواہ ہے ۔ اس پر حمران اور ایک دوسرے شخص نے گواہی دی ان میں سے ایک نے کہا : میں نے ولید کو شراب پیتے ہوئے دیکھا ہے اور دوسرے نے کہا : میں نے قے کرتے ہوئے دیکھا ہے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سےکہا تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا : جو نفع اور فائدہ اٹھاتا رہا ہے تو اب وہ بوجھ اور نقصان بھی اٹھائے ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بھتیجے سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کو کہا تو انہوں نے کوڑے اٹھا کر حد لگائی ، جب چالیس ہو گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رک جاؤ 40 کوڑے لگانا نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سنت ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سنت 80 ہیں ، یہ سب طریقے اپنی جگہ جائز ہیں مگر 40کوڑے والی سنت مجھے زیادہ پسند ہے ۔ (2)

أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَحْمَدُ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1138

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1139

1139 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ السِّجِسْتَانِيُّ، نا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ بَنِي هَاشِمٍ، وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ، لَوْ أَخَذْتُ بِحَلْقَةِ بَابِ الْجَنَّةِ مَا بَدَأْتُ إِلَّا بِكُمْ» .

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے خاندان بنو ہاشم ! اگر میں جنتی دروازوں کی کنڈی پکڑوں ، تب بھی میں تمہارے علاوہ کسی اور سے شروع نہیں کروں گا۔ (3)

عَلِيٍّ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← مُوسَى بْنِ عُمَيْرٍ ← عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ السِّجِسْتَانِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1139

Mozu

chevron_left Previous
1…99100101…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him