عمرو الاصم رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : شیعہ لوگ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو قیامت سے پہلے دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے گا۔ تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں اگر ایسا ہوتا تو ہم ان کی ازواج کی شادیاں نہ کراتے اور نہ ہی ان کا مال بطور وراثت تقسیم کرتے ۔ (4)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1128
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1129
ابو صالح رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ موت کے وقت یہ دعا فرما رہے تھے : اے اللہ ! مجھے علی کے طفیل اپنی قرابت عطا فرما ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1129
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1130
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے محبوب رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : میں اور علی ( رضی اللہ عنہ ) اللہ تعالیٰ کے سامنے نور تھے ۔ خلقت آدم سے 14 ہزار سال پہلے جب آدم کو پیدا کیا گیا تو اللہ نے اسے مذکورہ دو حصوں میں تقسیم کیا ایک حصہ میں دوسرا حصہ علی ہے ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1130
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1131
محدوج بن زید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم میرے بھائی ہو جس طرح ہارون (علیہ السلام ) موسیٰ علیہ السلام کے بھائی تھے ۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔ اے علی ! کیا تم نہیں جانتے کہ مجھے قیامت کے دن سب سے پہلے بلایا جائے گا۔ میں عرش کے دائیں طرف سائے میں کھڑا ہو جاؤں گا اور جنتی جوڑوں میں سے سبز لباس مجھے پہنا یا جائے گا۔پھر باقی بنیوں کے یکے بعد دیگرے بلایا جائے وہ عرش کے دائیں طرف ایک ہی انداز میں کھڑے رہیں گے جنتی لباس میں سے سب کو سبز کپڑے پہنائے جائیں گے۔ اے علی ! میں تمہیں بتا رہا ہوں سب سے پہلا حساب میری امت سے ہو گا۔ پھر یہ خوشخبری لو کہ میرا رشتہ دار ہونے اور میرے ہاں تیری منزلت کی وجہ سے سب سے پہلے تجھے بلایا جائے گا میرا جھنڈا تجھے دیا جائے گا جس کا نام لوائے حمد ہے ، تم دونوں قطاروں کے درمیان سے جاؤ گے۔ سیدنا آدم علیہ السلام اور اولاد آدم اسی میرے جھنڈے کے نیچے سایہ لیں گے جس کی لمبائی ہزار سال کی مسافت ہے اس جھنڈے کے دانت سرخ یا قوت کے اس کا دستہ چاندی کا ، لوہا موتیوں کا اور اس کی تین نور کی میڈھیاں ہوں گی ایک مشرق میں ، دوسری مغرب میں اور تیسری دنیا کے درمیان ہو گی ۔ اس پر تین لکیریں لکھیں ہوں گی () بسم اللہ الرحمن الرحیم )۔(2) ۔ الحمد للہ رب العالمین ۔(3)۔لاالہ اللہ محمد رسول اللہ ۔ ہر لکیر کی لمبائی اور چوڑائی ہزار سال کے برابر ہو گی تم جھنڈا لے کر چلو گے دائیں طرف حسن اور بائیں طرف حسین ہوں گے یہاں تک کہ تم میرے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے درمیان عرش کے سایہ کے نیچے آکر کھڑے ہو جاؤ گے ۔ پھر تجھے بھی جنتی سبز لباس پہنایا جائے گا،پھر عرش کے نیچے سے ایک منادی آواز لگاتے ہوئے کہے گا ابراہیم ! آپ کے اچھے والد اور علی آپ کے پیارے بھائی ہیں ۔ اے علی ! تمہیں خوش خبری ہو ۔ تمہیں میرے ساتھ لباس پہنایا ، میرے ساتھ ہی بلایا اور میرے ساتھ زندہ کیا جائے گا۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1131
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1132
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے جو شخص سرخ شاخ کو تھامنا چاہتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے جنت عدن میں اپنے ہاتھوں سے لگایا ہے۔ تو اس کو چاہیے کہ علی کی محبت کو پکڑے رکھے۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1132
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1133
امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے ، اچانک سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو بیٹھنے کی جگہ نہ پائی ، سیدنا ابو بکر نے اپنے پاس جگہ دے دی یہ دیکھ کر آپ ﷺ بہت خوش ہوئے اور فرمایا : اہل فضیلت ہی دوسروں کی عزت کرتے ہیں اور اہل فضل لوگ ہی صاحب فضل لوگوں کی قدر ومنزلت جانتے ہیں ۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1133
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1134
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت کے دروازے پر میں نے یہ لکھا ہوا دیکھا ہے : لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ اخور سول اللہ ۔(1)
جَابِرٍ ← عَطِيَّةَ، ← مِسْعَرٍ،
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1134
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1135
سیدنا نا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : راوی نے حدیث کو ذکر کیا ، اس کے آخر میں یہ الفاظ آتے ہیں : علی میرا بھائی ہے اور میرے جھنڈے کا مالک ہے ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1135
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1136
سدی سے روایے ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ ! ہر اس شخص پر لعنت بھیج جو ہم سے بغض رکھتا ہے ۔ اور اس شخص پر بھی جو ہماری محبت میں حد سے بڑھ جاتا ہے ۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1136
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1137
سیدنا زید بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسجد نبوی میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا فلاں فلاں کہا ں ہے ؟ اور پنی نگاہوں کو صحابہ کرام میں دوڑاتے ہوئے ان کو تلاش کرنے لگے ان کی طرف قاصد بھیجاجب سارے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گئے، اللہ کی حمد ثنا بیان کی اور ان کے درمیان مواخات قائم کی ۔ پس آگے راوی نے مواخات والی لمبی روایت کو بیان کیا ۔ اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا یقینا میری جان چلی گئی اور میری پیٹھ بوجھل ہو گئی جب میں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام کے ساتھ وہ سلوک کیا جس سے مجھے محروم رکھا۔ اگر تو یہ سلوک میرے ساتھ اظہار ناراضگی کی وجہ سے ہے تو ہر طرح کی خوشی اور عزت آپ ﷺ ہی کےلیے ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے تجھے صرف اپنی ذات کے لیے موخر کیا ہے حالانکہ میری تمہارے ساتھ نسبت اسی طرح ہے جس طرح سیدنا ہارون علیہ السلام کو سیدنا موسی علیہ السلام کے ساتھ تھی ۔ ہاں ! مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ تم میرے بھائی اور وارث ہو۔ پھر سیدنا علی ر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ میں آپ ﷺ سے کیا میراث لوں گا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو وراثت تجھ سے پہلے نبیوں نے چھوڑی تھی یعنی کتاب اللہ اور ان نبیوں کی سنت اور تم اور میری بیٹی فاطمۃ الزہرا میرے ساتھ جنت کے ایک محل میں رہو گے، تم میری بھائی اوردوست ہو پھر آپ ﷺ نے یہ آیت فرمائی (مسندوں پر آمنے سامنے بھائی بھائی ہوں گے) اللہ کےلیے محبت کرنے والے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ (1)
زيد بن أبى أوفى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← يزيدُ بنُ معنٍ، ← عبد المؤمن بن عباد العبدي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ قثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّعْدِيُّ الْبَصْرِيُّ،
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1137
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1138
حصین بن مندر قاشی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے ولید بن عقبہ کے خلاف فجر کی نماز کے بعد کوفہ میں گواہی دی ، انہوں نے کہا : اس کے علاوہ کوئی اور گواہ ہے ۔ اس پر حمران اور ایک دوسرے شخص نے گواہی دی ان میں سے ایک نے کہا : میں نے ولید کو شراب پیتے ہوئے دیکھا ہے اور دوسرے نے کہا : میں نے قے کرتے ہوئے دیکھا ہے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سےکہا تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا : جو نفع اور فائدہ اٹھاتا رہا ہے تو اب وہ بوجھ اور نقصان بھی اٹھائے ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بھتیجے سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کو کہا تو انہوں نے کوڑے اٹھا کر حد لگائی ، جب چالیس ہو گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رک جاؤ 40 کوڑے لگانا نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سنت ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سنت 80 ہیں ، یہ سب طریقے اپنی جگہ جائز ہیں مگر 40کوڑے والی سنت مجھے زیادہ پسند ہے ۔ (2)
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَحْمَدُ،
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1138
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1139
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے خاندان بنو ہاشم ! اگر میں جنتی دروازوں کی کنڈی پکڑوں ، تب بھی میں تمہارے علاوہ کسی اور سے شروع نہیں کروں گا۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1139