سیدنا علی المرتضی نے فرمایا : اللہ سیدنا ابو بکر پر رحم کرے ، وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے قرآن کو دو گتوں کے درمیان یکجا کیا ( یعنی کتابی شکل میں جمع کیا )(2)
امام مجاہد نے فرمایا سات شخصیات جنہوں نے سب سے پہلے اسلام کا اعلان کیا وہ یہ ہیں: رسول اللہ ﷺ، سیدنا ابو بکر ،سیدنا بلال م سیدنا خباب ، سیدنا صہیب ،سیدنا عمار اور سیدہ سمیسہ ام عمار رضی اللہ عہنم (4)
سیدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے پہلے میں زمین (قبر ) سے اُٹھایا جاؤں گا پھر ابو بکر اور عمر پھر اہل البقیع ،پھر حرمین (مکہ اور مدینہ) کے درمیان والے اٹھائے جائیں گے۔(5)
سیدنا علی المرتضیٰ سے روایت ہے کہ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ آپ کے بعد کون خلیفہ بنے گا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم ابو بکر کو بناؤ تو یقینا وہ امین ہیں ۔ دنیا سے بے رغبت اور آخرت کا شوق رکھنے والے ہیں ۔ اگر تم عمر کو بناؤ تو وہ بھی طاقتور اور امین ہیں وہ اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے اور اگر علی کو بناؤ مگر میرا خیال ہے کہ تم ایسا نہیں کروگے (کیونکہ ان سے بڑے ابھی موجود ہیں) وہ بھی رہنمائی کرنے والے ہیں۔ تمہیں سیدھے راست پر چلائیں گے۔ (1)
سیدنا ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے فرمایا تم دروازے پر ٹھہر جاؤ تو سیدنا ابو بکر تشریف لائے اور کہا کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے میں نےکہا : آپ باغ میں داخل ہوئے ہیں اور مجھے آپ فرما گئے ہیں کہ میں دروازے پر رک جاؤ ں انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کےلیے میرے لیے اجازت لے کر آؤ۔ میں رسول اللہ ﷺ کےپاس آیا اور عرض کیا سیدنا ابو بکر آپ کے پاس آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں تو فرمایا ان کو اجازت دو اور جنت کی بشارت سناؤ۔ میں نے آکر انکو اجازت دی اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ آپ کو جنت کی بشارت دیتے ہیں۔ پھر سیدنا عمر آئے تو انہوں نے بھی انہی کی مثل بات کی میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا : سیدنا عمر آپ کے پاس آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں ۔تو فرمایا انکو اجازت دو اور جنت کی بشارت سناؤ۔ میں نے آکر ان کو اجازت دی اور کہا رسول اللہ ﷺ آپ کو جنت کی بشارت دیتے ہیں پھر سیدنا عثمان آئے تو انہوں نے بھی انہی کی مثل بات کی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے انکی اجازت مانگی آپ ﷺ تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوئے پھر فرمایا جاؤ اجازت دو ان کو پریشانیوں اور مصیبتوں کی بدولت جنت کی خوشخبری سناؤ۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 285
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 286
ابو المحیاۃ نے ایک شخص سے روایت بیان کی کہ وہ کہتے ہیں : ہم سفر پر تھے ہمارے ساتھ ایک شخص تھا جو سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر کو گالیاں دے رہا تھا ہم نے اس کو روکا کہ وہ باز نہ آیا۔ اسی دوران جب وہ قضائے حاجت کے لیے باہر گیا تو اس کے پیشاب والی جگہ پر بھڑ جمع تھے ۔ اس کی فریاد پر ہم نے اس کی مدد کی پس کیا دیکھتے ہیں کہ اس کے پاخانے کی جگہ پر بھڑ جمع ہوئے تھے ۔ انہوں نے اس وقت اس کو نہیں چھوڑ ا جب تک بھڑوں نے اس جگہ کو کاٹ نہ دیا ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 286
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 287
سیدنا حسن بن علی سے روایت ہےکہ میں نےخواب میں رسول اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ عرش سے چمٹے ہوئے ہیں اور ابو بکر نے آپ ﷺ کے ازار بند کو پکڑا ہوا ہے ۔ سیدنا عمر نے ابو بکر کے ازار بند کو پکڑا ہوا ہے ۔سیدنا عثمان نے سیدنا عمر کے ازار بند کو پھر میں نے خون دیکھا جو آسمان سے زمین پر برس رہا تھا اس وقت سیدنا حسن کے پاس کچھ شیعہ لوگ تھے انہوں نے پوچھا سیدنا علی المرتضیٰ کو کیسا دیکھا ؟ سیدنا حسن نے فرمایا : اس بات سے بڑھ کر پسندیدہ بات بھلا کیا ہو سکتی ہے اگر میں سید نا علی کو رسول اللہ ﷺ کاازار بند پکڑتے ہوئے دیکھتا لیکن یہ ایک خواب تھا۔ سیدنا ابو مسعود بن عمرو کہتے ہیں کہ تم سیدنا حسن کو خواب کے بارے میں کیا خیال کرتےہو۔ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں تھا۔ جس میں مسلمانوں کو سخت تکلیف پہنچی جوان کے چہروں سے ظاہر ہو رہی تھی اور منافقین بے حد خوش تھے جب آپ ﷺ کو پتا چلا کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم ٹھہر جاؤ ابھی تمہیں غروب آفتاب سے پہلے کھانا ملے گا سیدنا عثمان کو علم ہوگیا کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ سچے ہیں جھوٹ نہیں بولتے تو انہوں نے چودہ اونٹوں کو خریدا اور اس میں کھانا لاد سات اونٹ آپﷺ کی طرف بھیجے اور سات اونٹ اپنے گھر کی طرف بھیجے جب مسلمانوں نے اونٹوں کو آتے ہوئے دیکھا تو بہت خوش ہوئے اور منافقین غمزہ ہوئے ۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : سیدنا عثمان نے آپ ﷺ کی خدمت میں ہدیہ بھیجا ہے (راوی کہتے ہیں ) میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے فوراَ ہاتھ اُٹھائے اور دعا فرمانے لگے : میں نے ایسی دعا نہ کبھی اس سے پہلے سنی تھی اور نہ ہی اس کے بعد آپ فرما رہے تھے اے اللہ ! عثمان کو مزید عطا کر اور عثمان کے ساتھ اسی طرح کر۔ (آپ ﷺ کے ہاتھوں کی بلندی اس قدر بھی ) یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کے بغلوں کی سفیدی دیکھ لی ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 287
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 288
سیدنا سہل بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دیہاتی سے فرمایا : کہ اگر میں فوت ہو گیا تو ابو بکر عمرو عثمان بھی فوت ہو گئے تو تم بھی موت کی تیار کرنا (یعنی پھر تمہارا وقت اجل بھی قریب ہی ہو گا۔)(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 288
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 289
سیدنا ابو بردہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ پانی کے ایک گڑھے پر بیٹھا ہوا تھا آپ ﷺ ایک چھڑی کے ساتھ گدلے پانی کو ہلا رہے تھے کہ اسی دوران دروازے پر کسی نے آہستہ آواز میں دستک دی ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کون ؟ میں ابو بکر آپ نے فرمایا : جاؤ ان کے لیے دروازہ کھولو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو پھر دوسرے آنے والے نے بھاری آواز میں دستک دی ۔ فرمایا کون؟ عرض کیا :عمر فرمایا : ان کے لیے دروازہ کھولو اور جنت کی خوشخبری سنا دو ،پھر ایک اور شخص نے دروازہ کھٹکھٹایا ۔ فرمایا کون ؟ عرض کیا عثمان ،فرمایا ان کے لیے دروازہ کھولو اور پریشانیوں کا سامنا کرنے کے بعد جنت کی خوشخبری دو۔ تو سیدنا عثمان فرما رہے تھے اللہ مدد گار ہے اللہ مددگار ہے۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 289
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 290
سیدنا علی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہو ا تھا کہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر تشریف لائے جب آپ ﷺ نے انکی طرف دیکھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے علی ! یہ اہل جنت کے اولین و آخرین کے عمر رسیدہ لوگوں کے سردار ہیں ۔ البتہ انبیا اور رسل اس سے مستثنیٰ ہیں پھر فرمایا : اے علی ان دونوں کو خبر نہ دینا۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 290
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 291
سیدنا عبداللہ بن زبیر اپنے اہل خانہ میں سے کسی ایک سے روایت کرتے ہیں کہ (سیدنا ابو بکر صدیق کے والد) سیدنا ابو قحافہ نے اپنےبیٹے سیدنا ابو بکر سے کہا : اے میرے بیٹے! میں دیکھتا ہوں کہ تم کمزور غلاموں کو آزاد کرتے ہو اگر تم ایسا کرنا ہی ہے تو طاقتور اور قوی غلاموں کو آزاد کرواؤتاکہ وہ تمہاری حفاظت کر سکیں اور تمہاری خاطر لڑ سکیں تو سیدنا ابو بکر صدیق نے عرض کیا اے ابا جان میرا ارادہ وہی ہے جو میں جانتا ہوں ۔ راوی نے کہا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ مندرجہ ذیل آیات اسی موقع پر ہی نازل کی گئی کہ جب سیدنا ابو بکر صدیق کے باپ نے ان سے یہ کہا تھا ۔ "پس جس نے (اپنا مال اللہ کی راہ میں ) دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور اس نے (انفاق فی سبیل اللہ اور تقویٰ کے ذریعے( نیکی (یعنی دین حق اور آخرت ) کی تصدیق کی ہم سے لے کر کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جارہا ہو مگر وہ صرف اپنے رب کی خوشنودی کے لیے مال خرچ کرتا ہے۔ اور عنقریب وہ (اللہ کی عطا سے اور اس کی وفاسے) راضی ہو جائے گا۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 291