Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ · حديث 280

280 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ الْقَوَارِيرِيُّ قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ، هُوَ أَوَّلُ مَنْ جَمَعَ بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ.

سیدنا علی المرتضی نے فرمایا : اللہ سیدنا ابو بکر پر رحم کرے ، وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے قرآن کو دو گتوں کے درمیان یکجا کیا ( یعنی کتابی شکل میں جمع کیا )(2)

رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ، هُوَ أَوَّلُ مَنْ جَمَعَ بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ. ← عَلِيٍّ، ← عبد خير ← السُّدِّيِّ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ الْقَوَارِيرِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim · Hadith 280

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ · حديث 281

281 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ قَطَعَ الرِّجْلَ أَبُو بَكْرٍ.

امام زہری نے فرمایا سب سے پہلے جس آدمی نے (دین کی خاطر مشرکین مکہ سے ) قطع تعلقی کی وہ سیدنا ابو بکر تھے ۔(3)

أَوَّلُ مَنْ قَطَعَ الرِّجْلَ أَبُو بَكْرٍ. ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim · Hadith 281

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ · حديث 282

282 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَظْهَرَ الْإِسْلَامَ سَبْعَةٌ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَبِلَالٌ، وَخَبَّابٌ، وَصُهَيْبٌ، وَعَمَّارٌ وَسُمَيَّةُ أُمُّ عَمَّارٍ.

امام مجاہد نے فرمایا سات شخصیات جنہوں نے سب سے پہلے اسلام کا اعلان کیا وہ یہ ہیں: رسول اللہ ﷺ، سیدنا ابو بکر ،سیدنا بلال م سیدنا خباب ، سیدنا صہیب ،سیدنا عمار اور سیدہ سمیسہ ام عمار رضی اللہ عہنم (4)

مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim · Hadith 282

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ · حديث 283

283 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ الْمَدِينِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ أَهْلُ الْبَقِيعِ، ثُمَّ أُحْشَرُ بَيْنَ الْحَرَمَيْنِ» .

سیدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے پہلے میں زمین (قبر ) سے اُٹھایا جاؤں گا پھر ابو بکر اور عمر پھر اہل البقیع ،پھر حرمین (مکہ اور مدینہ) کے درمیان والے اٹھائے جائیں گے۔(5)

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ← مُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ الْمَدِينِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim · Hadith 283

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ · حديث 284

284 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، يَعْنِي: الْفَرَّاءُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ يُؤَمَّرُ بَعْدَكَ؟ قَالَ: «إِنْ تُؤَمِّرُوا أَبَا بَكْرٍ تَجِدُوهُ أَمِينًا زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا، رَاغِبًا فِي الْآخِرَةِ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عُمَرَ تَجِدُوهُ قَوِيًّا أَمِينًا لَا يَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عَلِيًّا وَلَا أَرَاكُمْ فَاعِلِينَ تَجِدُوهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا يَأْخُذُ بِكُمُ الطَّرِيقَ الْمُسْتَقِيمَ» .

سیدنا علی المرتضیٰ سے روایت ہے کہ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ آپ کے بعد کون خلیفہ بنے گا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم ابو بکر کو بناؤ تو یقینا وہ امین ہیں ۔ دنیا سے بے رغبت اور آخرت کا شوق رکھنے والے ہیں ۔ اگر تم عمر کو بناؤ تو وہ بھی طاقتور اور امین ہیں وہ اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے اور اگر علی کو بناؤ مگر میرا خیال ہے کہ تم ایسا نہیں کروگے (کیونکہ ان سے بڑے ابھی موجود ہیں) وہ بھی رہنمائی کرنے والے ہیں۔ تمہیں سیدھے راست پر چلائیں گے۔ (1)

قِيلَ ← عَلِيٍّ، ← زيد بن يثيع ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ يَعْنِي الْفَرَّاءَ ← أَبِي، قثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim · Hadith 284

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 285

285 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ الْمَكِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُشًّا فَقَالَ: «أَمْسِكْ عَلَيَّ الْبَابَ» ، قَالَ: فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: أَهْلِي لَكَ، رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قُلْتُ: دَخَلَ الْحُشَّ وَقَالَ لِي: «أَمْسِكْ عَلَيَّ الْبَابَ» ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: اسْتَأْذِنْ لِي عَلَيْهِ أَهْلِي لَكَ، قَالَ: فَجِئْتُ فَقُلْتُ: هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» ، قَالَ: فَجِئْتُهُ فَأَذِنْتُ لَهُ وَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُكَ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» ، قَالَ: فَأَذِنْتُ لَهُ وَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُكَ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَاسْتَأْذَنْتُ لَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ بَعْدَ عَنَاءٍ أَوْ بَلَاءٍ» .

سیدنا ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے فرمایا تم دروازے پر ٹھہر جاؤ تو سیدنا ابو بکر تشریف لائے اور کہا کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے میں نےکہا : آپ باغ میں داخل ہوئے ہیں اور مجھے آپ فرما گئے ہیں کہ میں دروازے پر رک جاؤ ں انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کےلیے میرے لیے اجازت لے کر آؤ۔ میں رسول اللہ ﷺ کےپاس آیا اور عرض کیا سیدنا ابو بکر آپ کے پاس آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں تو فرمایا ان کو اجازت دو اور جنت کی بشارت سناؤ۔ میں نے آکر انکو اجازت دی اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ آپ کو جنت کی بشارت دیتے ہیں۔ پھر سیدنا عمر آئے تو انہوں نے بھی انہی کی مثل بات کی میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا : سیدنا عمر آپ کے پاس آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں ۔تو فرمایا انکو اجازت دو اور جنت کی بشارت سناؤ۔ میں نے آکر ان کو اجازت دی اور کہا رسول اللہ ﷺ آپ کو جنت کی بشارت دیتے ہیں پھر سیدنا عثمان آئے تو انہوں نے بھی انہی کی مثل بات کی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے انکی اجازت مانگی آپ ﷺ تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوئے پھر فرمایا جاؤ اجازت دو ان کو پریشانیوں اور مصیبتوں کی بدولت جنت کی خوشخبری سناؤ۔(2)

فَجِئْتُهُ فَأَذِنْتُ لَهُ وَقُلْتُ: ← «ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» ← فَجِئْتُ فَقُلْتُ: هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ، ← أَبُو بَكْرٍ: اسْتَأْذِنْ لِي عَلَيْهِ أَهْلِي لَكَ، ← لِي: «أَمْسِكْ عَلَيَّ الْبَابَ» ← قُلْتُ: دَخَلَ الْحُشَّ ← أَهْلِي لَكَ، رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ ← فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ ← «أَمْسِكْ عَلَيَّ الْبَابَ» ← دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ حُشًّا ← أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ: أَنَّہُ ← عبيد بن ركانة ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخِيهِ، ← حَنْظَلَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ← أَبِي، قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ الْمَكِّيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 285

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 286

286 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الْمُحَيَّاةِ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ قَالَ: خَرَجْتُ فِي سَفَرٍ مَعَنَا رَجُلٌ يَسُبُّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَنَهَيْنَاهُ، فَلَمْ يَنْتَهِ، فَخَرَجَ لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ، فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ الدُّبُرُ، يَعْنِي: الزَّنَابِيرُ، فَاسْتَغَاثَ، فَأَغَثْنَاهُ، فَحَمَلَتْ عَلَيْنَا حَتَّى تَرَكْنَاهُ، فَمَا أَقْلَعَتْ عَنْهُ حَتَّى قَطَّعَتْهُ.

ابو المحیاۃ نے ایک شخص سے روایت بیان کی کہ وہ کہتے ہیں : ہم سفر پر تھے ہمارے ساتھ ایک شخص تھا جو سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر کو گالیاں دے رہا تھا ہم نے اس کو روکا کہ وہ باز نہ آیا۔ اسی دوران جب وہ قضائے حاجت کے لیے باہر گیا تو اس کے پیشاب والی جگہ پر بھڑ جمع تھے ۔ اس کی فریاد پر ہم نے اس کی مدد کی پس کیا دیکھتے ہیں کہ اس کے پاخانے کی جگہ پر بھڑ جمع ہوئے تھے ۔ انہوں نے اس وقت اس کو نہیں چھوڑ ا جب تک بھڑوں نے اس جگہ کو کاٹ نہ دیا ۔ (1)

رَجُلٌ: ← أَبِي الْمُحَيَّاةِ ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 286

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 287

287 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّبَرِيُّ الْجَوْهَرِيُّ قثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ قثنا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ قثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ الذُّهْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي فُلْفُلَةُ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي: فِي الْمَنَامِ - مُتَعَلِّقًا بِالْعَرْشِ، ثُمَّ رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ أَخَذَ بِحِقْوَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَأَيْتُ عُمَرَ أَخَذَ بِحِقْوَيْ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ رَأَيْتُ عُثْمَانَ أَخَذَ بِحِقْوَيْ عُمَرَ، ثُمَّ رَأَيْتُ الدَّمَ مُنْصَبًّا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ. فَحَدَّثَ الْحَسَنُ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَعِنْدَهُ نَاسٌ مِنَ الشِّيعَةِ، فَقَالُوا: مَا رَأَيْتَ عَلِيًّا؟ قَالَ: مَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَرَاهُ أَخَذَ بِحِقْوَيْ رَسُولِ اللَّهِ مِنْ عَلِيٍّ، وَلَكِنْ إِنَّمَا هِيَ رُؤْيَا. فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو مَسْعُودٍ: وَإِنَّكُمْ لَتَجِدُونَ عَلَى الْحَسَنِ فِي رُؤْيَا رَآهَا، لَقَدْ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ غُزَاةً قَدْ أَصَابَ الْمُسْلِمِينَ جَهْدٌ شَدِيدٌ حَتَّى عُرِفَتِ الْكَآبَةُ فِي وُجُوهِ الْمُسْلِمِينَ، وَالْفَرَحُ فِي وُجُوهِ الْمُنَافِقِينَ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَاللَّهِ لَا تَغِيبُ الشَّمْسُ حَتَّى يَأْتِيَكُمُ اللَّهُ بِرِزْقٍ» ، فَعَلِمَ عُثْمَانُ أَنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سَيَصْدُقَانِ فَوَجَّهَ رَاحِلَتَهُ، فَإِذَا هُوَ بِأَرْبَعَ عَشْرَةَ رَاحِلَةً، فَاشْتَرَاهَا وَمَا عَلَيْهَا مِنْ طَعَامٍ، فَوَجَّهَ مِنْهَا سَبْعًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَجَّهَ بِسَبْعٍ إِلَى أَهْلِهِ، فَلَمَّا رَأَى الْمُسْلِمُونَ الْعِيرَ قَدْ جَاءَتْ، فَعُرِفَ الْفَرَحُ فِي وُجُوهِ الْمُؤْمِنِينَ وَالْكَآبَةُ فِي وُجُوهِ الْمُنَافِقِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذَا؟» قَالُوا: أَرْسَلَ بِهَا عُثْمَانُ هَدِيَّةً لَكَ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو لِعُثْمَانَ، مَا سَمِعْتُهُ يَدْعُو لِأَحَدٍ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ: «اللَّهُمَّ أَعْطِ عُثْمَانَ، وَافْعَلْ بِعُثْمَانَ» رَافِعًا يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ.

سیدنا حسن بن علی سے روایت ہےکہ میں نےخواب میں رسول اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ عرش سے چمٹے ہوئے ہیں اور ابو بکر نے آپ ﷺ کے ازار بند کو پکڑا ہوا ہے ۔ سیدنا عمر نے ابو بکر کے ازار بند کو پکڑا ہوا ہے ۔سیدنا عثمان نے سیدنا عمر کے ازار بند کو پھر میں نے خون دیکھا جو آسمان سے زمین پر برس رہا تھا اس وقت سیدنا حسن کے پاس کچھ شیعہ لوگ تھے انہوں نے پوچھا سیدنا علی المرتضیٰ کو کیسا دیکھا ؟ سیدنا حسن نے فرمایا : اس بات سے بڑھ کر پسندیدہ بات بھلا کیا ہو سکتی ہے اگر میں سید نا علی کو رسول اللہ ﷺ کاازار بند پکڑتے ہوئے دیکھتا لیکن یہ ایک خواب تھا۔ سیدنا ابو مسعود بن عمرو کہتے ہیں کہ تم سیدنا حسن کو خواب کے بارے میں کیا خیال کرتےہو۔ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں تھا۔ جس میں مسلمانوں کو سخت تکلیف پہنچی جوان کے چہروں سے ظاہر ہو رہی تھی اور منافقین بے حد خوش تھے جب آپ ﷺ کو پتا چلا کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم ٹھہر جاؤ ابھی تمہیں غروب آفتاب سے پہلے کھانا ملے گا سیدنا عثمان کو علم ہوگیا کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ سچے ہیں جھوٹ نہیں بولتے تو انہوں نے چودہ اونٹوں کو خریدا اور اس میں کھانا لاد سات اونٹ آپﷺ کی طرف بھیجے اور سات اونٹ اپنے گھر کی طرف بھیجے جب مسلمانوں نے اونٹوں کو آتے ہوئے دیکھا تو بہت خوش ہوئے اور منافقین غمزہ ہوئے ۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : سیدنا عثمان نے آپ ﷺ کی خدمت میں ہدیہ بھیجا ہے (راوی کہتے ہیں ) میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے فوراَ ہاتھ اُٹھائے اور دعا فرمانے لگے : میں نے ایسی دعا نہ کبھی اس سے پہلے سنی تھی اور نہ ہی اس کے بعد آپ فرما رہے تھے اے اللہ ! عثمان کو مزید عطا کر اور عثمان کے ساتھ اسی طرح کر۔ (آپ ﷺ کے ہاتھوں کی بلندی اس قدر بھی ) یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کے بغلوں کی سفیدی دیکھ لی ۔ (1)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 287

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 288

288 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الْحِمْصِيُّ الطَّائِيُّ قثنا سَلَمٌ الْخَوَّاصُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَيَّانَ أَبِي خَالِدٍ الْأَحْمَرِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَعْرَابِيٍّ: «إِذَا أَنَا مُتُّ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَمُوتَ فَمُتْ» .

سیدنا سہل بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دیہاتی سے فرمایا : کہ اگر میں فوت ہو گیا تو ابو بکر عمرو عثمان بھی فوت ہو گئے تو تم بھی موت کی تیار کرنا (یعنی پھر تمہارا وقت اجل بھی قریب ہی ہو گا۔)(2)

سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ حَيَّانَ أَبِي خَالِدٍ الْأَحْمَرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الْحِمْصِيُّ الطَّائِيُّ قثنا سَلَمٌ الْخَوَّاصُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 288

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 289

289 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَشْكَابَ قثنا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ قثنا شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ وَهُوَ يَنْكُتُ بِعَسِيبٍ مَعَهُ رَطْبَةً فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَقَرَعَ عَلَيْنَا الْبَابَ رَجُلٌ خَفِيُّ الصَّوْتِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ هَذَا؟» قُلْتُ: أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: «افْتَحْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ غَلِيظُ الصَّوْتِ، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» قُلْتُ: عُمَرُ، قَالَ: «افْتَحْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» ، قَالَ: فَلَبِثَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَرَعَ الْبَابَ، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» قُلْتُ: عُثْمَانُ، فَقَالَ: «افْتَحْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ بَعْدَ بَلْوَى» ، قَالَ: يَقُولُ عُثْمَانُ: الْمُسْتَعَانُ اللَّهُ، الْمُسْتَعَانُ اللَّهُ.

سیدنا ابو بردہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ پانی کے ایک گڑھے پر بیٹھا ہوا تھا آپ ﷺ ایک چھڑی کے ساتھ گدلے پانی کو ہلا رہے تھے کہ اسی دوران دروازے پر کسی نے آہستہ آواز میں دستک دی ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کون ؟ میں ابو بکر آپ نے فرمایا : جاؤ ان کے لیے دروازہ کھولو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو پھر دوسرے آنے والے نے بھاری آواز میں دستک دی ۔ فرمایا کون؟ عرض کیا :عمر فرمایا : ان کے لیے دروازہ کھولو اور جنت کی خوشخبری سنا دو ،پھر ایک اور شخص نے دروازہ کھٹکھٹایا ۔ فرمایا کون ؟ عرض کیا عثمان ،فرمایا ان کے لیے دروازہ کھولو اور پریشانیوں کا سامنا کرنے کے بعد جنت کی خوشخبری دو۔ تو سیدنا عثمان فرما رہے تھے اللہ مدد گار ہے اللہ مددگار ہے۔ (3)

أَبِيهِ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَشْكَابَ قثنا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ قثنا شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 289

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 290

290 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ قثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْكُوفِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ: «هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ» .

سیدنا علی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہو ا تھا کہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر تشریف لائے جب آپ ﷺ نے انکی طرف دیکھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے علی ! یہ اہل جنت کے اولین و آخرین کے عمر رسیدہ لوگوں کے سردار ہیں ۔ البتہ انبیا اور رسل اس سے مستثنیٰ ہیں پھر فرمایا : اے علی ان دونوں کو خبر نہ دینا۔ (1)

كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ إِذْ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، ← عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ الْكُوفِي ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ قثنا هُشَيْمٌ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 290

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 291

291 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ أَبُو جَعْفَرٍ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ قَالَ: قَالَ أَبُو قُحَافَةَ لِابْنِهِ أَبِي بَكْرٍ: يَا بُنَيَّ، إِنِّي أَرَاكَ تُعْتِقُ رِقَابًا ضِعَافًا، فَلَوْ أَنَّكَ إِذْ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ عَتَقْتَ رِجَالًا جُلْدًا يَمْنَعُونَكَ وَيَقُومُونَ دُونَكَ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا أَبَتِ، إِنِّي إِنَّمَا أُرِيدُ مَا أُرِيدُ، قَالَ: فَيُتَحَدَّثُ مَا نَزَلَ هَؤُلَاءِ الْآيَاتُ إِلَّا فِيهِ وَفِيمَا قَالَ لَهُ أَبُوهُ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى} [الليل: 5] إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَا لِأَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَى إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى وَلَسَوْفَ يَرْضَى} [الليل: 20] .

سیدنا عبداللہ بن زبیر اپنے اہل خانہ میں سے کسی ایک سے روایت کرتے ہیں کہ (سیدنا ابو بکر صدیق کے والد) سیدنا ابو قحافہ نے اپنےبیٹے سیدنا ابو بکر سے کہا : اے میرے بیٹے! میں دیکھتا ہوں کہ تم کمزور غلاموں کو آزاد کرتے ہو اگر تم ایسا کرنا ہی ہے تو طاقتور اور قوی غلاموں کو آزاد کرواؤتاکہ وہ تمہاری حفاظت کر سکیں اور تمہاری خاطر لڑ سکیں تو سیدنا ابو بکر صدیق نے عرض کیا اے ابا جان میرا ارادہ وہی ہے جو میں جانتا ہوں ۔ راوی نے کہا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ مندرجہ ذیل آیات اسی موقع پر ہی نازل کی گئی کہ جب سیدنا ابو بکر صدیق کے باپ نے ان سے یہ کہا تھا ۔ "پس جس نے (اپنا مال اللہ کی راہ میں ) دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور اس نے (انفاق فی سبیل اللہ اور تقویٰ کے ذریعے( نیکی (یعنی دین حق اور آخرت ) کی تصدیق کی ہم سے لے کر کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جارہا ہو مگر وہ صرف اپنے رب کی خوشنودی کے لیے مال خرچ کرتا ہے۔ اور عنقریب وہ (اللہ کی عطا سے اور اس کی وفاسے) راضی ہو جائے گا۔(2)

أَبُو قُحَافَةَ لِابْنِهِ أَبِي بَكْرٍ: يَا بُنَيَّ، إِنِّي أَرَاكَ تُعْتِقُ رِقَابًا ضِعَافًا، فَلَوْ أَنَّكَ ← بعض أَهله ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ أَبُو جَعْفَرٍ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 291

chevron_left Previous
1…91011…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him