صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1500
أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا أحمد بن عبدة أخبرنا عباد بن عباد المهلبي عن عاصم عن أبي عثمان عن أبي بن كعب وحدثنا محمد بن عبد الأعلى الصنعاني نا المعتمر عن أبيه نا أبو عثمان عن أبي بن كعب وثنا يوسف بن موسى نا جرير عن سليمان التيمي عن أبي عثمان عن أبي بن كعب وهذا حديث عباد : قال : رجل من الأنصار بيته أقصى بيت بالمدينة فكان لا تخطئه الصلاة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فتوجعت له فقلت يا فلان : لو إنك اشتريت حمارا يقيك الرمض ويرفعك من الموقع ويقيك هوام الأرض فقال : إني والله ما أحب أن بيتي مطنب ببيت محمد صلى الله عليه وسلم قال : فحملت به حملا حتى أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له قال فدعاه فسأله فذكر له مثل ذلك وذكر أنه يرجو في أمره فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : أن لك ما احتسبت وفي حديث الصنعاني : فأخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم فسأله عن ذلك فقال : يا نبي الله لكيما يكتب أثرى ورجوعي إلى أهلي وإقبالي إليه أو كما قال قال : أعطاك الله ذلك كله وأعطاك ما احتسبت أجمع أو كما قال
" حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری شخص کا گھر مدینہ منورہ میں سب گھروں سے دور تھا۔ مگر اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس کی نماز باجماعت فوت نہیں ہوتی تھی، تو مجھے اس پر بڑا ترس آیا ( کہ اتنی مشقت برداشت کرتا ہے) میں نے (اس سے) کہا: اے فلاں! اگر تم ایک گدھا خریدلو، جو تمہیں گرمی کی تپش سے بچائے، پتھروں سے زخمی ہونے سے تمہیں محفوظ کرے اور تمہیں زمینی زہریلے کیڑو مکوڑوں سے بچالے (تو یہ کام بہت اچھا ہے) اس نے کہا: اللہ کی قسم! بے شک میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر محمد ﷺ کے گھر کے ساتھ متصل ہو۔ حضرت ابی کہتےہیں! یہ بات مجھ پر بڑی گراں گزری، حتی کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ بات ذکر کر دی۔ آپ نے اسے بلا کر اس بارے میں پوچھا تو اس نے آپ کو بھی وہی بات کہی۔ اور یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے اس کام میں اجرو ثواب کی امید رکھتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا: بے شک تمہیں تمہاری نیت کے مطابق اجروثواب ملے گا۔" " جناب صنعانی کی روایت میں ہے: " میں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی چنانچہ آپ نے اس سے اس بارے میں دریافت کیا۔ تو اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی (میں یہ کام اس لیے کرتا ہوں) تاکہ میرے قدموں کے آثار لکھیں جائیں، اور میرااپنے گھروالوں کی طرف لوٹنا اور میرا (مسجد کی طرف) آنا لکھا جائے، یا جس طرح اس نے کہا۔ آپ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ تمہیں یہ سب کچھ عطا کریں گے۔ا ور جس چیز کی تم نے نیت کی اللہ تمہیں وہ سب بھی عطا فرمائے۔ یا جیسے آپ نے فرمایا۔"
أبي بن كعب وهذا حديث عباد ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبُو عُثْمَانَ ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← عَاصِمٍ، ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1500
