Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1500

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا أحمد بن عبدة أخبرنا عباد بن عباد المهلبي عن عاصم عن أبي عثمان عن أبي بن كعب وحدثنا محمد بن عبد الأعلى الصنعاني نا المعتمر عن أبيه نا أبو عثمان عن أبي بن كعب وثنا يوسف بن موسى نا جرير عن سليمان التيمي عن أبي عثمان عن أبي بن كعب وهذا حديث عباد : قال : رجل من الأنصار بيته أقصى بيت بالمدينة فكان لا تخطئه الصلاة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فتوجعت له فقلت يا فلان : لو إنك اشتريت حمارا يقيك الرمض ويرفعك من الموقع ويقيك هوام الأرض فقال : إني والله ما أحب أن بيتي مطنب ببيت محمد صلى الله عليه وسلم قال : فحملت به حملا حتى أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له قال فدعاه فسأله فذكر له مثل ذلك وذكر أنه يرجو في أمره فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : أن لك ما احتسبت وفي حديث الصنعاني : فأخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم فسأله عن ذلك فقال : يا نبي الله لكيما يكتب أثرى ورجوعي إلى أهلي وإقبالي إليه أو كما قال قال : أعطاك الله ذلك كله وأعطاك ما احتسبت أجمع أو كما قال

" حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری شخص کا گھر مدینہ منورہ میں سب گھروں سے دور تھا۔ مگر اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس کی نماز باجماعت فوت نہیں ہوتی تھی، تو مجھے اس پر بڑا ترس آیا ( کہ اتنی مشقت برداشت کرتا ہے) میں نے (اس سے) کہا: اے فلاں! اگر تم ایک گدھا خریدلو، جو تمہیں گرمی کی تپش سے بچائے، پتھروں سے زخمی ہونے سے تمہیں محفوظ کرے اور تمہیں زمینی زہریلے کیڑو مکوڑوں سے بچالے (تو یہ کام بہت اچھا ہے) اس نے کہا: اللہ کی قسم! بے شک میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر محمد ﷺ کے گھر کے ساتھ متصل ہو۔ حضرت ابی کہتےہیں! یہ بات مجھ پر بڑی گراں گزری، حتی کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ بات ذکر کر دی۔ آپ نے اسے بلا کر اس بارے میں پوچھا تو اس نے آپ کو بھی وہی بات کہی۔ اور یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے اس کام میں اجرو ثواب کی امید رکھتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا: بے شک تمہیں تمہاری نیت کے مطابق اجروثواب ملے گا۔" " جناب صنعانی کی روایت میں ہے: " میں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی چنانچہ آپ نے اس سے اس بارے میں دریافت کیا۔ تو اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی (میں یہ کام اس لیے کرتا ہوں) تاکہ میرے قدموں کے آثار لکھیں جائیں، اور میرااپنے گھروالوں کی طرف لوٹنا اور میرا (مسجد کی طرف) آنا لکھا جائے، یا جس طرح اس نے کہا۔ آپ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ تمہیں یہ سب کچھ عطا کریں گے۔ا ور جس چیز کی تم نے نیت کی اللہ تمہیں وہ سب بھی عطا فرمائے۔ یا جیسے آپ نے فرمایا۔"

أبي بن كعب وهذا حديث عباد ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبُو عُثْمَانَ ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← عَاصِمٍ، ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1500

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1501

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن العلاء بن كريب و موسى بن عبد الرحمن المسروقي قالا ثنا أبو أسامة عن بريد عن أبي بردة عن أبي موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن أعظم الناس أجرا في الصلاة أبعدهم إليها ممشى فأبعدهم والذي ينتظر الصلاة حتى يصليها مع الإمام في جماعة أعظم أجرا من الذي يصليها ثم ينام جميعها لفظ واحد

" حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یقیناً نماز میں سب سے عظیم اجروثواب کا حق دار وہ شخص ہے جو اُن سب سے زیادہ دور سے چلا کر آتا ہے، پھر وہ جو اس سے بھی دور سے آتا ہے۔ اور جو شخص نماز کا انتظار کرتا ہے حتی کہ اسے امام کے ساتھ با جماعت ادا کرتا ہے، اس شخص سے بڑے اجروثواب کا مالک ہے جو نماز (اکیلا) پڑھ کر سو جاتا ہے۔" دونوں راویوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← محمد بن العلاء بن كريب و موسى بن عبد الرحمن المسروقي ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1501

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1502

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا يونس بن عبد الأعلى نا عبد الله بن وهب أخبرني عمرو بن الحارث عن دراج حدثه عن أبي الهيثم عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رأيتم الرجل يعتاد المسجد فاشهدوا عليه بالإيمان قال الله : { إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر }

" حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد (میں آتے، نماز پڑھنے اور اس کی دیکھ بھال کرنے) کا عادی ہوتو اس کے لیے ایماندر ہونے کی گواہی دے دو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ) ۔ (التوبۃ: 18) "یقیناً مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1502

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1503

وأخبرنا الشيخ الفقيه أبو الحسن علي بن المسلم السلمي نا عبد العزيز بن أحمد بن محمد قال أخبرنا الأستاذ الإمام أبو عثمان إسماعيل بن عبد الرحمن الصابوني قراءة عليه قال أخبرنا أبو طاهر محمد بن الفضل بن محمد بن إسحاق بن خزيمة ثنا أبو بكر محمد بن إسحاق بن خزيمة نا يونس بن عبد الأعلى ثنا ابن وهب أخبرنا ابن أبي ذئب عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن سعيد بن يسار عن أبي هريرة : عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : لا يوطن الرجل المساجد للصلاة إلا تبشبش الله به من حين يخرج من بيته كما يتبشبش أهل الغائب بغائبهم إذا قدم عليهم

" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: " جو شخص بھی مساجد کو نماز کے لیے اپنا ٹھکانہ بنا لیتا ہے تو اس کے گھر سے نکلنے کے وقت اللہ تعالیٰ اس سے اسی طرح خوش ہوتے ہیں جس طرح غیر موجود شخص کی آمد پر اس کے گھر والے خوش ہوتے ہیں۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1503

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1504

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا يعقوب بن إبراهيم الدورقي و سلم بن جنادة قالا حدثنا أبو معاوية قال الدورقي ثنا الأعمش قال سلم عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا توضأ احدكم ثم أتى المسجد لا ينهزه إلا الصلاة لا يريد إلا الصلاة فإذا دخل المسجد كان في صلاة ما كانت الصلاة هي تحسبه والملائكة يصلون على أحدكم ما دام في مجلسه الذي صلى فيه فيقولون : اللهم اغفر له اللهم ارحمه اللهم تب عليه ما لم يؤذ فيه وما لم يحدث فيه

" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرکے مسجد جاتا ہے، وہ اسے صرف نماز ہی اٹھاتی ہے وہ صرف نماز ہی کے لیے آتا ہے چنانچہ جب وہ مسجد میں داخل ہوجاتا ہے تو وہ نماز ہی کے حکم میں رہتا ہے جب تک نماز اسے روکے رکھتی ہے۔ اور تم میں سے کوئی شخص جب تک اپنی نماز والی جگہ پر بیٹھا رہتا ہے، فرشتے اس کے لیے ان الفاظ میں دعا کرتے رہتے ہیں: " اے اللہ! اس شخص کو معاف فرما، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما، جب تک وہ مسجد میں کسی کو تکلیف نہ دے، جب تک وہ اس میں بے وضو نہ ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← سلم ← الْاَعْمَشِ ← الدَّوْرَقِيُّ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← يعقوب بن إبراهيم الدورقي و سلم بن جنادة ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1504

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1505

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ -يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ- عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَالزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، ائْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ، عَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا".

"حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب نماز کھڑی ہو جاتے تو تم نماز کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ تم سکون اور وقار کے ساتھ چلتے ہوئے آؤ، جو نماز پالو وہ پڑھ لو اور جو حصہ تم سے فوت ہو جائے اسے مکمل کرلو۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← أَبِي سَلَمَةَ، وَالزُّهْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَی الْفَزَارِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1505

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1506

نَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ؛ ح ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، نَا يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- قَالَا: ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَذَّنَ [160 - أ] مُؤَذِّنٌ، فَقَامَ رَجُلٌ فَخَرَجَ، فَقَالَ: "أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَقَالَ بُنْدَارٌ: فَقَدْ خَالَفَ أَبَا الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

"جناب ابو شعثاء محاربی سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ہم حضرت ابوہریرۃؓ کے ساتھ مسجد میں تھے، مؤذن نے اذان کہی تو ایک شخص تو اس نے ابو القاسم ؑ کی نافرمانی کی ہے۔" جناب بندار کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: اس شخص نے ابو القاسم ؑ (کے حکم) کی مخالفت کی ہے۔

بُنْدَارٌ: فَقَدْ خَالَفَ أَبَا الْقَاسِمِ ← اَمَّا ھٰذَا فَقَدْ عَصَی اَبَا الْقَاسِمِ ← كُنَّا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَذَّنَ أ] مُؤَذِّنٌ، فَقَامَ رَجُلٌ فَخَرَجَ، ← أَبِي الشَّعْثَاءَ الْمُحَارِبِيِّ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1506

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1507

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثَنَا الْأَعْمَشُ؛ (ح) وَثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ؛ (ح) وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- ثَنَا شُعْبَةُ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ؛ (ح) وَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، نَا شُعْبَةُ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ؛ (ح) وَثَنَا أَبُو عمار (1) وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، قَالَا: ثَنَا وَكِيعٌ. قَالَ أَبُو عمار: ثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، وَقَالَ سَلْمٌ: عَنْ فِطْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "يَؤُمُّ الْقَوْمَ (2) أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً، فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً، فَأَقْدَمُهُمْ فِي الْهِجْرَةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِنًّا". هَذَا حَدِيثُ أَبِي مُعَاوِيَةَ. وَفِي حَدِيثِ شُعْبَةَ: "أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً". وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ: أَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ.

"حضرت ابو مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"لوگوں کو امامت وہ شخص کرائے گا جو اُن میں سے سب سے زیادہ قرآن مجید پڑھنے والا ہو۔اگر وہ قرآن مجید کے پڑھنے میں برابر ہوں تو سنت نبوی کو زیادہ جاننے والا امامت کراۓ گا۔اگر وہ سنت کے علم میں برابر ہوں، تو ان میں سے پہلے ہجرات کرنے والا امات کراۓگا اور اگر وہ ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو ان میں سے عمر میں بڑا شخص امامت کراۓ گا۔"یہ حدیث جناب ابومعاویہ کی ہے۔جناب شعبہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں:"ان کی امامت اللہ کی کتاب کو زیادہ پڑھنے والا اور عالم کراۓ گا اور قراءت میں مقدم شخص کراۓ گا۔ان کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں:"سنت کو زیادہ جاننے والا امامت کراۓگا۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← اَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← فِطْرٍ ← فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، وَقَالَ سَلْمٌ: ← أَبُو عَمَّارٍ، ← وَكِيعٌ، ← وَثَنَا أَبُو عمار وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← وَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- ← وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← وَثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1507

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1508

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ؛ وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ وَهِشَامٍ؛ وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ وَهِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ثَنَا شُعْبَةُ: بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِنَحْوِهِ.

"حضرت ابو سعید خدری ؓ، نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:" جب تین افراد ہوں تو ان میں سے ایک انہیں امامت کراۓ اور ان میں سے امامت کا زیادہ حق دار وہ شخص ہے جو قرآن کو زیادہ پڑھنے اور جاننے والاہو۔

شُعْبَةُ: بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِنَحْوِهِ. ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← "إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ". ← النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، وَهِشَامٌ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ وَهِشَامٍ؛ وَثَنَا بُنْدَارٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← قَتَادَةُ؛ وَثَنَا بُنْدَارٌ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1508

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1509

أنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَينُ بْنُ حُرَيْثٍ (1)، نَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْثًا وَهُمْ نَفَرٌ، فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَالَ: "مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"؟ فَاسْتَقْرَأَهُمْ، حَتَّى مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ وَهُوَ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، قَالَ: "مَاذَا مَعَكَ يَا فُلَانُ؟ " قَالَ: مَعِي كَذَا وَكَذَا، وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ. قَالَ: "مَعَكَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ؟ " قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "اذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرُهُمْ". فَقَالَ رَجُلٌ -هُوَ مِنْ أَشْرَفِهِمْ- وَالَّذِي كَذَا وَكَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَنَعَنِي أَنْ أَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ إِلَّا خَشْيَةَ أَنْ لَا أَقُومَ بِهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "تَعَلَّمِ الْقُرْآنَ، فَاقْرَأْهُ وَارْقُدْ، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ، وَقَامَ (2) بِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا يَفُوحُ رِيحُهُ (3) عَلَى كُلِّ مَكَانٍ، وَمَنْ تَعَلَّمَهُ وَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ أُوكِئَ عَلَى مِسْكٍ".

"حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ کرنا چاہا جبکہ وہ چند افراد پر مشتمل تھا۔رسول اللہﷺ نے انہیں بلایا اور پوچھا: تمہیں کتنا قرآن یاد ہے؟ پھر آپ نے ان سے قرآن سنا،حتی کہ جب آپ ان میں سے ایک کم سن شخص کے پاس پہنچے تو اس سے پوچھا:اے فلاں! تمہیں کون کون سی سورتیں یاد ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے فلاں فلاں سورت اور سورۂ بقرہ یادہے۔آپ نے پوچھا : تمہیں سورۂ بقرہ بھی یاد ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں! اس پر آپ نے فرمایا: جاؤ تم ان کے امیر ہو۔ایک شخص جو اُن میں شرف و منزلت والا تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم! جس کی صفات اس اس طرح ہیں، میں نے قرآن مجید صرف اس ڈر کی وجہ سے نہیں سیکھا کہ میں اس پر عمل نہیں کر سکوں گا (اسے نماز تہجد میں پڑھ نہیں سکوں گا)۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" قرآن مجید سیکھو، اسے پڑھو اور سو بھی جایاکرو۔بے شک قرآن مجید کی مثال اس شخص کے لیے جو اسے سیکھتا ہے،اسے پڑھتاہے اور نماز تہجد میں اس کی تلاوت کرتاہے، اس تھیلے جیسی ہے جس میں کستوری بھری ہواور اس کی خوشبو ہر جگہ مہک رہی ہو اور اسے اپنے سینے میں محفوظ کر کے سویا رہا (نمازتہجد میں اسے تلاوت نہ کیا) تو اس کی مثال اس تھیلے جیسی ہے جس کی کستوری کو تسمے سے بند کر دیا گیا ہو(لہذا س کی مہک بکھرتی نہیں)۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1509

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1510

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَا: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَا: ثَنَا خَالِدٌ؛ ح وَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ؛ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ -وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ،- قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَا وَصَاحِبٌ لِي فَلَمَّا أَرَدْنَا الْإِقْفَالَ [160 - ب]، قَالَ لَنَا: "إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا، ثُمَّ أَقِيمَا، ثُمَّ لْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا". زَادَ الدَّوْرَقِيُّ فِي حَدِيثِهِ قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: فَأَيْنَ الْقِرَاءَةُ؟ قَالَ: كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ.

"حضرت مالک بن حویرث ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں (دینی مسائل سیکھنے کے لیے ) حاضر ہوۓ،پھر جب ہم نے واپس جانے کا ارادہ کیا تو آپ نے ہمیں فرمایا:"جب نماز کا وقت ہو جاۓ تو اذان کہنا،پھر اقامت کہنا پھر تم میں سے بڑا شخص تمہاری امامت کراۓ۔جناب الدورقی نے اپنی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے:"کہتے ہیں: میں نے حضرت ابو قلابہ سے پوچھا: قراءت قرآن میں مہارت کو معیار کیوں نہیں بنایا؟ انہوں نے فرمایا:" وہ دونوں صحابی قراءت کے لحاظ سے برابر تھے۔(اس لیے بڑی عمر والا امامت کا حق دار ٹھہرایاگیا)۔

مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ -وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ،- ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← خَالِدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1510

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1511

أنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَا: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ. أَنَّ الْمُهَاجِرِينَ لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، نَزَلُوا إِلَى جَنْبِ قُبَاءٍ، حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، أَمَّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا، مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأَسْدِ. هَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ.

"حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ:"مہاجرین جب مدینہ منورہ تشریف لاۓ تو وہ قباء کی ایک جانب فروکش ہوۓ۔نماز کا وقت ہوا تو حضرت ابو حزیفہ ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم ؓ نے انہیں سب سے زیادہ قرآن یاد تھا۔ان مہاجرین میں حضرت عمر بن خطاب اور ابو سلمہ بن عبدالاسدؓ جیسے(جلیل القدر) صحابہ موجود تھے۔" یہ حدیث جناب احمد بن سنان کی ہے۔

نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1511

chevron_left Previous
1…878889…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals