صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1127
نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ -وَقَرَأَه عَلَيْنَا مِنْ كِتَابِهِ- نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ؛ وَثَنَا بُنْدَارٌ أَيْضًا، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ؛ ح وَثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، نَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي؛ ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَهُوَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَاسْتُأُذِنَّا فَأُدْخِلْنَا عَلَيْهَا، فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! نَبِّئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ [124 - أ]-تَعْنِي قَوْلَهُ: (وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (4)) -[القلم]، قَالَ: بَلَى. قَالَتْ: فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ. فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! نَبِّئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ: (يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ)؟ قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى. قَالَتْ: فَإِنَّ اللَّهَ فَرَضَ الْقِيَامَ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ، وَأَمْسَكَ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ، ثُمَّ ذَكَرُوا الْحَدِيثَ، وَفِي آخِرِ الْحَدِيثِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِحَدِيثِهَا، فَقَالَ: صَدَقَتْ.
حضرت سعد بن ہشام بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت حکیم بن افلح کے پاس آیا ، پھر ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئے ، ہم نے اجازت طلب کی تو ہمیں حاضری کی اجازت مل گئی۔ہم نے عرض کی اے ام المو منین :مجھے رسول اللہ ﷺکے اخلاق حسنہ کے بارے میں بتائیں ۔ تو انہوں نے فرمایا : کیا آپ قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتے۔ ان کی مراد اللہ تعالی کا یہ فرمان تھا :(وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ)(القلم:۴)" یقینا آپ خلق عظیم پر کار بند ہیں" انہوں نے کہا :کیوں نہیں ، میں یہ فرمان تلاوت کرتا ہوں ام المومنین نے فرمایا :بلا شبہ رسول اللہ ﷺکا اخلاق قرآن ہی تھا ۔ پھر میں نے عرض کی :اے ام المومنین ،مجھے رسول اللہ ﷺ کے قیام "رات کی نماز"کے متعلق خبر دیں ۔ انہوں نے فرمایا : کیا تم سورۃ المزل کی تلاوت نہیں کرتے ۔ وہ کہتے ہیں : میں عرض کی : جی کرتا ہوں پس انہوں نے فرمایا : بے شک اللہ تعالی نے اس سورت کی ابتدا میں رات کا قیام فرض کیا تھا ۔تو اللہ کے نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام نے ایک سال تک رات کا قیام کیا حتی کے ان کے قدم سوجھ گئے ۔ اور اللہ تعالی نے اس سورت کے آخری حصہ کو آسمان میں بارہ مہبیے روکے رکھا ۔ پھر اللہ تعالی نے اس سورت کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی۔ لہذا رات کا قیام فرض ہونے کے بعد نفل ہو گیا۔پھر انہوں نے بقیہ حدیث بیان کی ۔حدیث کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : "تو میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں ام المومنین کی گفتگو سنائی ۔ تو انہوں نے فرمایا :"اماں جی نے سچ فرمایا ہے ۔"
سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٍ جَمِيعًا ← مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← بُنْدَارٌ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدَةُ ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← سَعِيدٌ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← بُنْدَارٌ، أَيْضًا ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ -وَقَرَأَه عَلَيْنَا ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayer at night · Hadith 1127
