صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الاِستِقَاءِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1405
نَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَسْأَلُهُ عَنِ الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَسْأَلَنِي؟. خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا، مُتَبَذِّلًا، مُتَخَشِّعًا، مُتَضَرِّعًا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ، وَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ.
"جناب اسحاق بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ امراء میں سے ایک امیر نے مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں ان سے نماز استسقاء کے بارے میں پوچھوں۔تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اس نے مجھے سے خود کیوں نہ پوچھ لیا؟رسول اللہ ﷺ تواضع اختیارکرکے،سادہ لباس پہن کر کے،خشوع وخضوع کا اظہار کرتے اور لاچاری اور بے بسی کا اظہارکئے ہوئے باہر تشریف لے گئے،تو آپ نے نمازعید کی طرح دورکعات اداکیں اور تمہارے اس خطبے کی طرح خطبہ ارشاد نہیں فرمایا تھا…."
الِاسْتِسْقَاءِ ← أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَسْأَلُهُ ← أَبِيهِ ← هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it · Hadith 1405
