Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 1

عَنْ یَحْیَ بْنِ یَعْمَرَ قَالَ:قُلْتُ:یَعْنِیْ لِعَبْدِاللہِ بْنِ عُمُرُ۔یَا اَبَا عَبْدِالرَّحْمَنِ إِنَّ أَقْوَاماًیَزْعُمُوْنَ أَنَّ لَیْسَ قَدْرٌ۔قَالَ:ھَلْ عِنْدَنَا مِنْھُمْ أَحَدٌ ؟ قُلْتُ:بَلٰی۔ قَالَ:فَأَبْلِغْھُمْ عَنِّی إِذَالَقَیْتَھُمْ اَنَّ ابْنَ عُمَرَیَبْرَأُ إِلَی اللہِ مِنْکُمْ وَأَنْتُمْ بُرَءُامِنْہُ ۔ ثُمَّ قَالَ:، حَدَّثَنِی عُمَرُبْنُ الْخَطَّابِ قَالَ: بَیْنَمَانَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَرَسُوْلِ اللہِﷺفِی أُنَاسٍ إِذْجَاءَ رَجُلٌ لَیْسَ عَلَیْہِ سَحْنَاءُ سَفَرِوَلَیْسَ مِنْ اَھْلِ الْبَلَدِ ، یَتَخَطّٰی حَتَّی وَرَدَفَجَلَسَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُوْلِ اللہِﷺ، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ مَاالْإِسْلَامُ؟ قَالَ :الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْھَدَأَنْ لَّاإِلٰہَ إِلَّااللہُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًارَسُوْلُ اللہِ، وَأَنْ تُقِیْمَ الصَّلاۃَ وَتُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ ، وَتَحُجَّ الْبَیْتَ، وَتَعْتَمِرَ، وَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ، وِأَنْ تَتِمَّ الْوَضُوْءَوَتَصُوْمَ رَمَضَانَ قَالَ:فَإِذَافَعَلْتُ ذٰلِکَ فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ قَالَ: صَدَقْتَ۔ وَذَکَرَالْحَدِیْثَ بِطُوْلِہِ فِی الْسُّؤَالِ عَنِ الْإِیْمَانِ وَالْإِحْسَانِ وَالسَّاعَۃِ

''حضرت یحیی بن یعمر سےروایت ہے،وہ کہتے ہین کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے عرض کی : اے ابوعبدالرحمان! کچھ لوگون کا عقیدہ ہے کہ تقدیر (کوی چیز)نہیں۔ انہوں نے پوچھا: کیا ہمارے ہاں (اس دور میں)ان لوگوں میں سے کوی موجود ہے؟میں نے کہا : جی ہاں (موجود ہیں۔انہوں فرمایا:جب تم ان سے ملوتومیری طرف سے انہیں یہ پیغام دیناکہ ابن عمرؓاللہ تعالی کی طرف تم سےبےزاری اور قطع تعلقی کا اظہارکرتے ہیں اورتم ان سےبےزار ہو۔پھر فرمایا:مجھےعمربن خطابؓ نے بیان کیا کہ اثنا میں کہ ہم رسول اللہﷺکےپاس کچھ لوگوں کےساتھ بیٹھے ہوئے تھے تواچانک ایک آدمی آیااوررسول اللہﷺکےسامنے بیٹھ گیا۔تواس نے پوچھا:اے محمد(ﷺ)اسلام کیاہے؟آپ نے فرمایا:اسلام یہ ہےکہ تو گواہی دے کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد(ﷺ)اللہ کے رسول ہیں،تونمازقائم کرے،زکوۃادا کرے ،بیت اللہ کا حج کرے،عمرہ ادا کرے، غسل جنابت کرے،اور ؤیہ کہ تو مکمل وضو کرے اور رمضان المبارک کےروزے رکھے۔اس نے کہا:جب میں یہ (فرائض)ادا کر لوں تومیں مسلمان ہوں؟آپ نے فرمایا :جی ہاں(تم یہ فرائض ادا کرکےمسلمان بن جاو گے) اس نے کہا: آپ نےسچ فرمایا۔ انہوں نے ایمان،احسان اورقیامت کے بارے میں سوال کے متعلق مکمل حدیث بیان کی۔

یَحْیَ بْنِ یَعْمَرَ قَالَ:قُلْتُ:یَعْنِیْ لِعَبْدِاللہِ بْنِ عُمُرُ۔یَا اَبَا عَبْدِالرَّحْمَنِ

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The Ablution Book · Hadith 1

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 2

عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَّانِ اَنَّہُ أَخْبَرَ:قَالَ :رَأَیْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا بِوَضُوْءِ فَتَوَضَّأَ عَلَی الْبَلَاطِ ،فَقَالَ:أُحَدِّثُکُمْ بِحَدِیْثٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ یَقُوْلُ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِﷺ یَقُوْلُ:مَنْ تَوَضَّأَ فَأَ حْسَنَ الْوُضُوْءَوَصَلّٰی غُفِرَلَہُ مَابَیْنَہُ وَبَیْنَ الصَّلَاۃِالْأُخْرٰی۔ ھٰذَالَفْظُ حَدِیْثِ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ

’’حضرت حمر ان بن ابان سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں : میں نے حضرت عثمان بن عفانؓ کو دیکھا کہ انہو ں نے وضو کےلیے پانی منگوایا اور بلاط (پتھریلی زمین ) پر وضو کیا ۔پھر فرمایا: میں تم کو رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی ایک حدیث سناتا ہوں۔کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’جس شخص نے بہترین وضو کیا اوا نماز ادا کی تو اس کے اس نماز اور دوسری نماز کے درمیان ہونے والے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘

بَیْنَ الصَّلَاۃِالْأُخْرٰی۔ ھٰذَالَفْظُ حَدِیْثِ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ ← مِنْ رَسُوْلِ اللہِ یَقُوْلُ: ← رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ عَلَى الْبَلاَطِ فَقَالَ أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ ← حُمْرَانَ بْنِ أَبَّانِ اَنَّہُ أَخْبَرَ:

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The Ablution Book · Hadith 2

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 3

حُمْرَانَ مَوْلٰی عُثْمَانَ أَخْبَرَہُ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا یَوْمًا بِوَ ضُوْءٍ فَتَوَ ضَّأَ، فَغَسَلَ کَفَّیْہِ ثَلَاثَ مَرَّاثَ وَاسْتَنْشَرَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْھَہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی إِلَی الْمِرْ فَقِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُسْرٰی مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأَسِہِ ، ثُمَّ غَسَلَ رَجَلَہُ الْیُمْنٰی إِلَی الْکَعْبَیْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی مِثْلَ ذٰلِکَ ، ثُمَّ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ تَوَ ضَّأَ نَحْوَ وَضُوْ ئِیْ ھٰذَا ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْل ُاللہِﷺمَنْ تَوَ ضَّأَ نَحْوَوُ ضُوْئِیْ ھٰذَا ثُمَّ قَالَ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ لَا یُحَدِّثُ فِیْھِمَا نَفْسَہُ غُفِرَلَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَ نْبِہِ ۔ قَالَ ابْنُ شِھَابٍ : وَکَانَ عُلَمَا ؤُ نَا یَقُوْلُوْنَ ھٰذَاالْوُضُوْءُ أَسْبَغُ مَا یَتَوَ ضَّا بِہِ أَ حَدٌ لِلصَّلَاۃِ

’’حضرت عثمان ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت حمران سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت عثمان بن عفان ؓ نے پانی منگوا کر وضو کیا تو اپنے ہاتھوں کو تین دفعہ دھویا ، اور ناک ( میں پانی ڈال کر اسے ) جھاڑا ، پھر اپنے چہرے کو تین بار دھویا ، پھراپنے دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین بار دھویا ، پھر اپنا بایاں ہاتھ تین بار دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاوں ٹخنوں سمیت تین بار دھویا ،پھر اس طرح (تین بار) اپنا بایاں پاوں دھویا ،پھر فرمایا :’’میں نے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے میرے اس وضو جیسا وضو کیا پھر کھڑے ہو کر دو رکعت (نفل نماز ) ادا کی ان میں اپنے نفس کے ساتھ بات چیت بھی نہیں کرتا تو اس کے گزشۃ گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں ۔‘‘ابن شہاب کہتے ہیں : ہمارے علمائے کرام فرمایا کرتے تھے : یہ وہ مکمل وضو ہے جسے کو ئی شخص نماز کےلیے کرتا ہے۔

حُمْرَانُ مَوْلَى عُثْمَانَ

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The Ablution Book · Hadith 3

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 4

عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ :أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ قَالَ : إِذَا تَوَ ضَّا الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ اَو الْمُؤْ مِنُ فَغَسَلَ وَجَھَہُ خَرَجَتْ مِنْ وَجْھِہِ کُلُّ خَطِیْئَۃٍ نَظَرَ إِ لَیْھَا بِعَیْنَیْہِ مَعَ الْمَاءِ أَوْمَعَ اٰ خِرِ قَطْرِ ا الْمَاءِفَإِذَا غَسَلَ یَدَیْہِ خَرَجَ مِنْ یَدَیْہِ کُلُّ خَطِیْئَتہٍ کَانَ بَطَشَتْھَا یَدَاہُ مَعَ الْمَاءِ أَ وْ مَعَ اٰخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَیْہِ خَرَجَتْ کُلُّ خَطِیْئَتہٍ مَشَتْھَارِجْلَاہُ مَعَ الْمَاءِ أَوْمَعَ اٰخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ حَتّٰی یَخْرُجَ نَقِیَّامِنَ الذُّنُوْبِ

’’حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’جب کوئی مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا ہے ، اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو پانی یا پانی کے آ خری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ تمام گناہ نکل جاتے ہیں جنہیں اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ۔ پھر جب اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے ہاتھوں سے وہ تمام گناہ نکل جاتے ہیں جنہیں اس کے ہا تھوں نے کیا تھا ۔ پھر جب اپنے پاوں دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ وہ تمام گناہ نکل جاتے ہیں جن کی طرف اس کےقدم چل کر گئے تھے ۔یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہو جاتا ہے۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The Ablution Book · Hadith 4

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 5

عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِﷺ :أَلَا أَدُلُّکُمْ عَلٰی مَا یَمْحُوْاللہُ بِہِ الْخَطَایَا وَیَرْفَعُ بِہِ الدَّرَجَاتِ؟قَالُوْ ا: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللہِ قَالَ: إِسْبَاغُ الْوُ ضُوْ ءِ عَلَی الْمَکَارِہِ ، وَکَثْرَۃُالْخُطَا إِلَی الْمَسَاجِدِ وَإِنْتِظَارُ الصَّلَاۃِ بَعْدَالصَّلَاۃِ فَذٰلِکُمُ الرِّبَاطُ ،فَذٰلِکُمُ الرِّبَاطُ، لَفْظاًوَاحِدً غَیْرَ أَنَّ عَلِیَّ بْنَ حَجَرٍ قَالَ : فَذٰلِکُمُ الرِّبَاطُ مَرَّۃً۔ وَقَالَ: یُوْ نُسُ فِی حَدِیْثِہِ :أَلَا اَخْبِرُکُمْ بِمَا یَمْحُوْ اللہُ بِہِ الْخَطَایَا وَلَمْ یَقُلْ : قَالُوْابَلٰی

’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول الللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاوں جس سے اللہ تعالی گناہ مٹا دیتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کی : کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسول ، (ضرور فرمائیں ) آپ نے فرمایا : مشقت اور تکلیف کے باوجود مکمل وضو کرنا، مسا جد کی طرف زیادہ قدم چل کر جانا( یعنی مسجد دور ہونے کے باوجود نماز کے لیے مسجد آنا) اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، یہی تمہارا جہاد ہے ، یہی تمہارا جہاد ہے‘‘دونوں مرتبہ، ’’فذلکم الرباط‘‘یہی تمہارا جہاد ہے ‘‘ فرمایا ۔(حدیث کے راوی) علی بن حجر کی روایت میں ’’فذلکم ٍالرباط‘‘ ایک مرتبہ ہے ۔ یونس بن عبدالاعلی کی روایت میں ’’ألاأدلکم‘‘ کی بجائے’’أخبرکم ‘‘میں تمہیں ایسے عمل کی خبر نہ دوں‘‘ کے الفاظ ہیں۔اور صحابہ کرام کا ’’بلیٰ‘‘ کیوں نہیں،(ضرور بیان فرمائیں ) کے الفاظ نہیں ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The Ablution Book · Hadith 5

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 6

عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ،قَالَ:خَرَجَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ إِلَی الْمَقْبَرَۃِ فَسَلَّمَ عَلَی أَھْلِھَا ؛ وَقَالَ:سَلَامٌ عَلَیْکُمْ أَھْلَ دَارِ قَوْمٍ مُوْ مِنِیْنَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَاللہُ بِکُمْ لَا حِقُوْنَ وَدِدْتُ أَنَّا قَدْرَ أَیْنَاإِخْوَانَنَا قَالُوْا : أَ وَلَسْنَا بِإِخْوَانِکَ یَا رَسُوْل َاللہِ؟ قَالَ : أَنْتُمْ أَصْحَابِیْ وَإِخْوَانِیْ قَوْمٌ لَمْ یَأْ تُوْابَعْدُ ۔ وَأَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ ،قَالُوْ : وَکَیْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَّمْ یَاَتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِکَ یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : أَرَأَیْتُمْ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَّہُ خَیْلٌ غُرٌّ مُّحَجَّلَتٌہ بَیْنَ ظَھْرَیْ خَیْل ِبُھْمٌ دُھْمٌ أَلَا یَعْرِفُ خَیْلَہُ؟ قَالُوْ : بَلٰی یَارَسُوْلَ اللہِ ۔ قَالَ فَإِنَّھُمْ یَأْ تُوْنَ غُرًّا مُحَجَّلِیْنَ مِنْ أَ ثَرِ الْوُضُوْءِ وَأَنَّا فَرَطُھُمْ عَلَی الْحَوْضِ ۔ أَلَالَیُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْ ضِیْ کَمَا یُذَادُالْبَعِیْرُ الْضَّالُّ، اُنَا دِیْھِمْ : أَلَا ھَلُمَّ فَیُقَالُ : إِنَّھُمْ قَدْأَحْدَثُوْ ا بَعْدَکَ، وَأَقُوْلَ : سُحْقًا سُحْقَا۔ ھٰذَا لَفْظُ حَدِیْثِ ابْنِ عُلَیَّتَہ

’’ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (ایک روز) قبرستان تشریف لے گئے اور وہاں مدفون لوگوں کو سلام کیا ، آپ نے یوں فرمایا : ’’سلام علیکم أھل دار قوم مومنین وانا ان شاء اللہ بکم لا حقون۔۔‘‘ (اے) مومن قوم کے گھر والوتم پر سلامتی ہو اور بے شک ہم بھی ، اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا ، تم سے ملنے والے ہیں۔میری آرزو اور تمنا ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھیں ۔صحا بہ کرام نے عرض کی:اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے بھا ئی نہیں ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا :تم میرے صحابہ ہو ، میرے بھا ئی وہ لوگ ہیں جو ابھی تک ( دنیا میں ) نہیں آ ئے ۔ اور میں تم سے پہلے کوثر پر ہوں گا ، صحابہ کرام نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! آپ کے جو امتی ابھی تک ( دنیا میں ) نہیں آئے آپ انہیں کیسے پہچانیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تمہارا خیال ہے ، اگر کسی آدمی کے سفید پیشانی اور چمکدار پاوں والے گھوڑے سیاہ فام گھوڑوں میں ملے ہوئے ہوں ، تو کیا وہ اپنے گھوڑے پہچان نہیں لے گا ؟ صحابہ نے جواب دیا : کیوں نہیں،اے اللہ کے رسول ! (وہ ضرور پہچان لے گا )۔ آپ نے فرمایا : ’’بے شک وہ آئیں گے تو ان کے چہرے اور ہاتھ پاوں وضوکے اثر سے چمک رہے ہوں گے ۔ میں حوض کوثر پر ان کا پیش خیمہ ہو ں گا ، خبردار ! میرے حوض سے کچھ لوگوں کو اس طرح دھتکار دیا جائے گا جس طرح گم راہ(بھٹکا ہوا ) اونت دھتکار دیا جاتا ہے ۔ میں انہیں پکاروں گا ، آ جاو ‘‘ تو کہا جائے گا۔ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں ) نئے نئے کام ایجاد کر لئے تھے ۔ تو میں کہوں گا : ( اللہ کی رحمت سے ) دور ہو جاو دور ہو جاو ۔یہ ابن علیہ کی روایت کے الفاظ ہیں۔

أَ وَلَسْنَا بِإِخْوَانِکَ ← قَدْرَ أَیْنَاإِخْوَانَنَا

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The Ablution Book · Hadith 6

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 7

عَنْ أَبِیْ حَازِمٍ قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا ھُرَیْرَۃَ یَتَوَ ضَّأُ فَجَعَلَ یَبْلُغُ بِالْوُ ضُوْ ءِقَرِیْبًا مِنْ إِبْطِہِ فَقُلْتُ لَہُ ۔ فَقَالَ : إِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِﷺیَقُوْلُ : إِنَّ الْحِلْیَتَہ تَبْلُغُ مَوَاضِعَ الطَّھُوْرِ

’’حضرت ابو حازم ؒ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ھریرہ ؓ کو وضو کرتے ہو ئے دیکھا تو وہ وضو کے پانی کو اپنی بغلوں تک پہنچا رہے تھے ۔ میں نے ان سے اس کی وجہ دریافت کی تو انہو ں نے فرمایا : بےشک میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بلاشبہ (مومن) کا زیود وضو کے مقامات تک پہنچے گا۔‘‘ ( اس لیے میں پانی کوبغلوں تک پہنچا رہا ہوں۔)

إِنِّي ← رَأَیْتُ أَبَا ھُرَیْرَۃَ یَتَوَ ضَّأُ فَجَعَلَ یَبْلُغُ بِالْوُ ضُوْ ءِقَرِیْبًا مِنْ إِبْطِہِ فَقُلْتُ لَہُ ← أَبِي حَازِمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The Ablution Book · Hadith 7

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 8

عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : مَرِضَ ابْنُ عَامِرٍ فَجَعَلُوْ ا یَثْنُوْنَ عَلَیْہِ وَابْنُ عُمَرَ سَاکِتٌ ۔ فَقَالَ : أَمَا إِنِّی لَسْتُ بِأَغَشِّھِمْ وَلٰکِنَّ رَسُوْ َل اللہِ ﷺ قَالَ : لَا یَقْبَلُ اللہُ صَلَاۃً بِغَیْرِ طَھُوْ رٍ وَلَا صَدَ قَۃً مِنْ غُلُوْلٍ

’’حضرت مصعب بن سعد سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : ابن عامر بیمار ہو گئے ، تو لوگ ان کی تعریف کرنے لگے ۔ ابن عمر ؓ خاموشی رہے ۔ پھر انہو ں نے فرما یا : سنو ! میں ان سے زیادہ دھو کہ دینے والا نہیں ہوں ، لیکن رسو ل اللہﷺنے فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ طہارت (وضو ) کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا اور نہ خیانت ( کے مال ) سے صدقہ قبول کرتا ہے ۔‘

أَمَا إِنِّی لَسْتُ بِأَغَشِّھِمْ وَلٰکِنَّ رَسُوْ َل اللہِ ← مَرِضَ ابْنُ عَامِرٍ فَجَعَلُوْ ا یَثْنُوْنَ عَلَیْہِ وَابْنُ عُمَرَ سَاکِتٌ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The Ablution Book · Hadith 8

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 9

عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ : لَا تُقْبَلُ صَلَاۃٌ إِلَّا بِطَھُوْ رٍ وَلَا صَدَقَۃٌ مِنْ غُلُوْلٍ ۔

’’حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’وضو کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی اور نہ خیانت سے صدقہ قبول ہوتا ہے ۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The Ablution Book · Hadith 9

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 10

عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَ ۃَ عَنِ النَّبِیِّﷺقَالَ : لَا یَقْبَلُ اللہُ صَلَاۃَ بِغَیْرِ طَھُوْرٍ وَلَا صَدَقَۃً مِنْ غُلُوْلٍ۔

’’حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’اللہ تعالی وضو کے بغیر نماز قبو ل نہیں کرتا اور نہ خیانت (کے مال ) سے صد قہ قبول کرتا ہے ۔‘

النَّبِیِّﷺقَالَ لَا یَقْبَلُ اللہُ صَلَاۃَ بِغَیْرِ طَھُوْرٍ وَلَا صَدَقَۃً مِنْ غُلُوْلٍ۔ ← أَبِیْ ھُرَیْرَ ۃَ

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The Ablution Book · Hadith 10

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 11

عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلَ اللہِ ﷺلَا تُقْبَلُ صَلَاۃُ أَحَدِکُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتّٰی یَتَوَ ضَّأَ۔

’’ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہےوہ کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب تم میں سے کسی شخص کا وضو ٹوٹ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، یہاں تک کہ وہ وضو کر لے۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The Ablution Book · Hadith 11

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 12

عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَ یْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ : أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ کَانَ یَتَوَضَّأُ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ،فَلَمَّا کَا نَ یَوْمَ الْفَتْحِ تَوَ ضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّیْہِ ، وَصَلَّی الصَّلَوَاتِ بِوُضُوْءِوَاحِدٍ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : یَا رَسُوْلَ اللہِ ! إِنَّكَ فَعَلْتَ شَیْئًا لَمْ تَکُنْ تَفْعَلُہُ ۔ قَالَ: إِنِّی عَمَد اً فَعَلْتُہُ یَا عُمَرُ ۔ ھٰذَا حَدِیْثُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مَھْدِیِّ

’’حضر ت بریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے وقت وضو کیا کرتے تھے ۔ پھر جب فتح مکہ کا دن آیا تو آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا اور ایک ہی وضو سے کئی نمازیں ادا کیں ۔ حضرت عمر ؓ نے آپ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول !(آج) آپ نے ایسا عمل کیا ہے جو آپ پہلے نہیں کیا کرتے تھے ۔ آپ نے فرمایا : عمر ! میں نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے (یہ بتا نے کے لیے کہ وضو باقی ہو تو ہر نماز کے لیے دوبارہ وضو کرنا ضروری ہے ۔ )یہ عبدالرحمان بن مہد ی کی روایت ہے۔

أَبِيهِ ← سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَ یْدَۃَ

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The Ablution Book · Hadith 12

chevron_left Previous
1234…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals