Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1512

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: ثَنَا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، نَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا عَلَى حَاضِرٍ فَكَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا رَاجِعِينَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَأَدْنُو مِنْهُمْ، فَأَسْمَعُ، حَتَّى حَفِظْتُ قُرْآنًا. قَالَ: وَكَانَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ بِإِسْلَامِهِمْ فَتْحَ مَكَّةَ، فَلَمَّا فُتِحَتْ، جَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِيهِ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا وَافِدُ بَنِي فُلَانٍ، وَجِئْتُكَ بِإِسْلَامِهِمْ، فَانْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلَامِ قَوْمِهِ. فَلَمَّا رَجَعَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "قَدِّمُوا أَكْثَرَكُمْ قُرْآنًا". قَالَ: فَنَظَرُوا وَأَنَا لَعَلَى حِوَاءٍ. قَالَ الدَّوْرَقِيُّ: حِوَاءٍ عَظِيمٍ. وَقَالَ أَبُو هَاشِمٍ: حِوَاءٍ، وَقَالَا: فَمَا وَجَدُوا فِيهِمْ أَحَدًا أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي، فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ، فَصَلَّيْتُ بِهِمْ، وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ لِي، فَكُنْتُ إِذَا رَكَعْتُ أَوْ سَجَدْتُ، فَتَبْدُو عَوْرَتِي، فَلَمَّا صَلَّيْنَا تَقُولُ لَنَا عَجُوزٌ دَهْرِيَّةٌ: غَطُّوا عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ. قَالَ: فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا. قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ: مِنْ مَعْقِدِ الْبَحْرَيْنِ، فَذَكَرَ أَنَّهُ فَرِحَ بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا. قَالَ الدَّوْرَقِيُّ: قَالَ: "لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا".

"حضرت عمروبن سلمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ:"ہم ایک ایسی جگہ رہائش پذیر تھے جہاں لوک آتے جاتے رہتے تھے۔لہذا قافلے نبی کریم ﷺ کی خدمت سے واپسی پر ہمارے پاس سے گزرتے، تو میں ان کے قریب ہو کر ان سے(قرآن مجید) سنتا رہتا۔حتیٰ کہ میں نے کا کافی سارا قرآن مجید حفظ کرلیا۔وہ کہتے ہیں:لوگ اسلام قبول کرنے کے لیے فتح مکہ کے منتطرتھے۔جب مکہ فتح ہو گیا تو لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔ایک آدمی آکرکہتا: اے اللہ کے رسول! میں فلاں قبییلے کا قاصد ہوں اور آپ کی خدمت میں ان کے اسلام قبول کرنے کی خبر لے کر حاضرہوا ہوں۔لہٰذا میرے والد گرامی بھی اپنی قوم کے اسلام لانے کی خبر لے کر گۓ،پھر جب واپس آۓ تو کہا:رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہےکہ تم اس شخص کو اپنا امام بناؤ جسے قرآن مجید زیادہ یاد ہو۔کہتے ہیں:لوگوں نے اس بارے میں غوروفکر اور مشورہ کیا (کہ کسے امام بنایا جاۓ) جبکہ میں بستی میں تھا۔جناب دورقی کی روایت میں ہے:"میں ایک عظیم بستی میں تھا"تو لوگوں کو مجھ سے زیادہ قرآن مجید یاد کرنے والا کوئی شخص نہ ملا۔لہٰذا انہوں نے مجھے اپنا امام بنا لیا حالانکہ میں نا بالغ لڑکا تھا۔تو میں نے انہیں نماز پڑھائی۔میں نے اپنی ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی۔جب میں رکوع یا سجدہ کرتا تو میری شرم گاہ ننگی ہو جاتی۔جب ہم نے نماز مکمل کی تو ایک طویل العمربڑھیا نے کہا: اپنے قاری کی شرم گاہ کو ہم سے ڈھانپو۔وہ کہتے ہیں:"انہوں نے مجھے ایک قمیص بنا کردی۔" راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہون نےیہ کہا تھا کہ بحرین کے بنے ہوۓ ازار بند کی قمیص بنا کر دی۔"یہ بھی بیان کیا کہ وہ قمیص ملنے پر بے حدخوش ہوۓ تھے۔"جناب دورقی کی روایت میں ہے:"تم میں سے زیادہ قرآن جاننے والے کو تمہاری امامت کرانی چاہیے۔"

عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1512

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1512

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ".

امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں:"اس مسئلے کی دلیل نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث ہے کہ لوگوں کی امامت ان میں سے وہ شخص کراۓ جسے قرآن زیادہو(خواہ وہ بیٹا ہو یا آزاد کردہ غلام۔)"

أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ النَّبِيِّ "يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ".

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1512

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1512

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: ثَنَا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، نَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا عَلَى حَاضِرٍ فَكَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا رَاجِعِينَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَأَدْنُو مِنْهُمْ، فَأَسْمَعُ، حَتَّى حَفِظْتُ قُرْآنًا. قَالَ: وَكَانَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ بِإِسْلَامِهِمْ فَتْحَ مَكَّةَ، فَلَمَّا فُتِحَتْ، جَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِيهِ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا وَافِدُ بَنِي فُلَانٍ، وَجِئْتُكَ بِإِسْلَامِهِمْ، فَانْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلَامِ قَوْمِهِ. فَلَمَّا رَجَعَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "قَدِّمُوا أَكْثَرَكُمْ قُرْآنًا". قَالَ: فَنَظَرُوا وَأَنَا لَعَلَى حِوَاءٍ. قَالَ الدَّوْرَقِيُّ: حِوَاءٍ عَظِيمٍ. وَقَالَ أَبُو هَاشِمٍ: حِوَاءٍ، وَقَالَا: فَمَا وَجَدُوا فِيهِمْ أَحَدًا أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي، فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ، فَصَلَّيْتُ بِهِمْ، وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ لِي، فَكُنْتُ إِذَا رَكَعْتُ أَوْ سَجَدْتُ، فَتَبْدُو عَوْرَتِي، فَلَمَّا صَلَّيْنَا تَقُولُ لَنَا عَجُوزٌ دَهْرِيَّةٌ: غَطُّوا عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ. قَالَ: فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا. قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ: مِنْ مَعْقِدِ الْبَحْرَيْنِ، فَذَكَرَ أَنَّهُ فَرِحَ بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا. قَالَ الدَّوْرَقِيُّ: قَالَ: "لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا".

اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ کبھی امام کی نمازناقص رہ جاتی ہے جبکہ مقتدیوں کی نماز مکمل ہوجاتی ہے ان لوگوں کے قول کے بر خلاف جن کا دعوی ہے کہ مقتدی کی نماز اپنے امام کی نماز کے ساتھ متصل ہوتی ہے۔اس لیے جب امام کی نماز فاسد ہوجاۓگی تو مقتدی کی فاسد ہوجاۓگی۔

عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1512

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1513

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ؛ ح وَثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثَنَا عَفَّانُ، نَا وُهَيْبٌ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ؛ ح وَثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ، وَأَتَمَّ الصَّلَاةَ فَلَهُ وَلَهُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكِ شَيْئًا، فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ". هَذَا حَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ، وَمَعْنَى أَحَادِيثِهِمْ سَوَاءٌ.

حضرت عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوۓ سنا:"جس شخص نے لوگوں کو صحیح (اول) وقت پر امامت کرائی اور مکمل نماز پڑھائی، تو اسے اور مقتدیوں کو بھی اجروثواب ملے گا اور جس شخص نے اس میں کوئی کمی وکوتاہی کی تو اس کا گناہ امام ہی کو ہو گا، مقتدیوں کو نہیں۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1513

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1514

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، نَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا، قَالَ: حَدَّثَنِي بَكْرٌ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَخَلَّفَ، فَتَخَلَّفَ مَعَهُ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وقَالَ: قَالَ: فَانْتَهَيْنَا إِلَى النَّاسِ وَقَدْ صَلَّى عَبْدُ الرَّحْمَنِ [161 - أ] بْنُ عَوْفٍ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَحَسَّ بِجِيئَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ صَلِّ، فَلَمَّا قَضَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ الصَّلَاةَ وَسَلَّمَ، قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمُغِيرَةُ فَأَكْمَلَا مَا سَبَقَهُمَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ قَدْ يَغْلَطُ فِيهَا مَنْ لَا يَتَدَبَّرُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ وَلَا يَفْهَمُ الْعِلْمَ وَالْفِقْهَ، زَعَمَ بَعْضُ مَنْ يَقُولُ بِمَذْهَبِ الْعِرَاقِيِّينَ أَنَّ مَا أَدْرَكَ مَعَ الْإِمَامِ آخِرَ صَلَاتِهِ، أَنَّ فِي هَذِهِ اللَّفْظَةِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمُغِيرَةَ إِنَّمَا قَضَيَا الرَّكْعَةَ الْأُولَى، لِأَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِنَّمَا سَبَقَهُمَا بِالْأُولَى لَا بِالثَّانِيَةِ، وَكَذَلِكَ ادَّعَوْا فِي قَوْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا"، فَزَعَمُوا أَنَّ فِيهَ دَلَالَةً عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا يَقْضِي أَوَّلَ صَلَاتِهِ لَا آخِرَهَا. وَهَذَا التَّأْوِيلُ مَنْ تَدَبَّرَ الْفِقْهَ، عَلِمَ أَنَّ هَذَا التَّأْوِيلَ خِلَافُ قَوْلِ أَهْلِ الصَّلَاةِ جَمِيعًا، إِذْ لَوْ كَانَ الْمُصْطَفَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمُغِيرَةُ بَعْدَ سَلَامِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَضَيَا الرَّكْعَةَ الْأُولَى الَّتِي فَاتَتْهُمَا، لَكَانَا قَدْ قَضَيَا رَكْعَةً بِلَا جِلْسَةٍ وَلَا تَشَهُّدٍ، إِذِ الرَّكْعَةُ الَّتِي فَاتَتْهُمَا، وَكَانَتْ أَوَّلَ صَلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، كَانَتْ رَكْعَةً بِلَا جِلْسَةٍ وَلَا تَشَهُّدٍ. وَفِي اتِّفَاقِ أَهْلِ الصَّلَاةِ أَنَّ الْمُدْرِكَ مَعَ الْإِمَامِ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ يَقْضِي رَكْعَةً بِجِلْسَةٍ وَتَشَهُّدٍ وَسَلَامٍ، مَا بَانَ وَصَحَّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَقْضِ الرَّكْعَةَ الْأُولَى الَّتِي لَا جُلُوسَ فِيهَا، وَلَا تَشَهُّدَ، وَلَا سَلَامَ، وَأنَّهُ قَضَى الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ الَّتِي فِيهَا جُلُوسٌ وَتَشَهُّدٌ وَسَلَامٌ. وَلَوْ كَانَ مَعْنَى قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا" مَعْنَاهُ أَنِ اقْضُوا مَا فَاتَكُمْ، كَمَا ادَّعَاهُ مَنْ خَالَفَنَا فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ، كَانَ عَلَى مَنْ فَاتَتْهُ رَكْعَةٌ مِنَ الصَّلَاةِ مَعَ الْإِمَامِ أَنْ يَقْضِيَ رَكْعَةً بِقِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسَجْدَتَيْنِ بِغَيْرِ جُلُوسٍ وَلَا تَشَهُّدٍ وَلَا سَلَامٍ. وَفِي اتِّفَاقِهِمْ مَعَنَا أَنَّهُ يَقْضِي رَكْعَةً بِجُلُوسٍ وَتَشَهُّدٍ مَا بَانَ وَثَبَتَ أَنَّ الْجُلُوسَ وَالتَّشَهُّدَ وَالسَّلَامَ مِنْ حُكْمِ الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ، لَا مِنْ حُكْمِ الْأُولَى، فَمَنْ فَهِمَ الْعِلْمَ وَعَقَلَهُ وَلَمْ يُكَابِرْ، عَلِمَ أَنْ لَا تَشَهُّدَ وَلَا جُلُوسَ لِلتَّشَهُّدِ وَلَا سَلَامَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ.

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں کی:"نبی کریم (قافلے سے) پیچھے رہ گئے اور حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ بھی آپ کے ساتھ پیچھے ر ہ گئے۔"پھر انہوں نے مکمل حدیث بیان کی۔ وہ فرماتے ہیں:"پھر ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ انہیں ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنا چاہا۔لہٰذا نبی کریم ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ تم ہی نماز پڑھاؤ، پھر جب حضرت عبدالرحمان ؓ نے نماز مکمل کی اور اسلام پھیرا، تو نبی کریم ﷺ اور حضرت مغیرہؓ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے وہ رکعت مکمل کی جو حضرت عبد الرحمان ؓ (ان کے آنے سے) پہلے پڑھا چکے تھے۔" امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:"اس مسٔلہ میں ان لوگوں نے غلطی کی ہے جو اس میں تدبرووتفکر نہیں کرسکے اور نہ وہ علم و دانش سے کام لیتے ہیں۔اہل عراق کا مذہب اختیار کرنے والے بعض افراد کا یہ دعویٰ ہے کہ نمازی جو حصہ امام کے ساتھ پاۓ گا وہ اس کی آخری نماز ہوگی اور (وہ یہ کہتے ہیں کہ) اس روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ اور حضرت مغیرۃ ؓ نے پہلی رکعت مکمل کی تھی۔کیونکہ حضرت عبدالرحمان ؓ ان کےآنے سے پہلے رکعت پڑھاچکے تھے، دوسری رکعت نہیں۔اسی طرح انہوں نے نبی کریم ﷺ کے اس فرمان "اور تمہاری جونماز امام کے ساتھ فوت ہوجاۓ اس کی قضادے لو۔" میں بھی دعویٰ کیاہے کہ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نمازی ابتدائی نماز کی قضادے گا، اآخری حصے کی قضانہیں دے گا۔علمی سوجھ بوجھ رکھنے والا ہرشخص جان لےگا کہ یہ تاویل تمام مسلمانوں کے قول کے خلاف ہے۔کیونکہ اگر رسول اللہ ﷺ اور حضرت مغیرہؓ نے حضرت عبدالرحمان ؓ کے سلام پھیرنے کے بعد پہلی رکعت کی قضادی ہوتی جواُن سے فوت ہو گئ تھی،تو وہ یہ رکعت بغیر جلسہ اور تشہد کے پوری کرتے،کیونکہ ان کی جو رکعت رہ گئی تھی وہ حضرت عبدالرحمانؓ کی پہلی رکعت تھی وہ بغیر جلسہ اور تشیہد کے تھی۔تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ جس شخص کو امام کے ساتھ نماز فجر کی ایک رکعت مل جاۓ وہ دوسری رکعت جلسہ،تشہد اور سلام کے ساتھ مکمل کرے گا۔ اس سے بات کی وضاحت اور تصحیح ہوگئ کہ نبی کریم ﷺ نے پہلی رکعت کہ قضا نہیں دی کہ جس میں جلسہ،تشہد اور اسلام نہیں ہوتا بلکہ آپ نے دوسری رکعت کی قضادی ہے،جس میں جلسہ،تشہد اور سلام پھیرنا ہوتا ہے۔اور اگر آپ کے اس فرمان "تمہاری جو نماز فوت ہو جاۓ اسے پورا کر لو" کا معنی یہ ہوتا کہ تم فوت شدہ نماز کی قضادے لو جیسا کہ اس مسئلہ میں ہمارے مخالفین کا موقف ہے تو پھر اس شخص کے لیے جس کی امام کے ساتھ ایک رکعت فوت ہوجاۓ،ضروری ہے کہ وا یک رکعت قیام،رکوع اور سجدوں کے ساتھ ادا کرے اور اس میں جلسہ ، تشہد اور سلام نہ پھیرے۔حالانکہ اہل عراق کا ہمارے ساتھ اتفاق ہے کہ وہ یہ رکعت جلسہ اورتشہد کے ساتھ ادار کرے گا۔اس سےیہ بات واضح ہوگئی کہ جلسہ،تشہد اور سلام پھیرنا یہ آخری رکعت کے احکام ہیں،پہلی رکعت کے نہیں۔لہٰذا جو شخص علمی فہم و فراست رکھتا ہو اور عنا دوہٹ دھری اس کا شیوہ نہ ہو وہ جانتا ہے کہ تشہد،تشہد کے لیے بیٹھنا اور اسلام پھیرنا نماز کی پہلی رکعت نہیں ہے(بلکہ یہ دوسری رکعت کے احکام ہیں)۔"

أَبِيهِ ← حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ← بَكْرٌ، ← حُمَيْدًا، ← الْمُعْتَمِرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1514

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1515

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَزْوَةَ تَبُوكَ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ حَتَّى نَجِدَ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَصَلَّى لَهُمْ، فَأَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ، فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الْأَخِيرَةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَامَ (1) رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُتِمُّ صَلَاتَهُ، فَأَفْزَعَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ، فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاتَهُ، أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: "أَحْسَنْتُمْ"، أَوْ قَالَ: "أَصَبْتُمْ". يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي الْخَبَرِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الصَّلَاةَ إِذَا حَضَرَتْ وَكَانَ الْإِمَامُ الْأَعْظَمُ غَائِبًا عَنِ النَّاسِ، أَوْ مُتَخَلِّفًا عَنْهُمْ فِي سَفَرٍ، فَجَائِزٌ لِلرَّعِيَّةِ أَنْ يُقَدِّمُوا رَجُلًا مِنْهُمْ يَؤُمُّهُمْ، إِذِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ حَسَّنَ فِعْلَ الْقَوْمِ أَوْ صَوَّبَهُ، إِذْ صَلَّوُا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا بِتَقْدِيمِهِمْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ لِيَؤُمَّهُمْ، وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ بِانْتِظَارِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَأَمَّا إِذَا كَانَ الْإِمَامُ الْأَعْظَمُ حَاضِرًا، فَغَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ أَحَدٌ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، لِأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[161 - ب] قَدْ زَجَرَ عَنْ أَنْ يُؤَمَّ السُّلْطَانُ بِغَيْرِ أَمْرِهِ.

"حضرت مغیرہ بن شعیہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کہ معیت میں غزوہ تبوک میں شرکت کی۔حضرت مغیرہ ؓ فرماتے ہیں: میں آپ کے ساتھ آیا حتٰی کہ ہم نے دیکھا کہ لوگوں نے حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ کو آ گے بڑھایا ہوا ہے اور وہ انہیں نماز پڑھ رہے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے ایک رکعت پالی اور آخری رکعت پالی اور آخری رکعت لوگوں کے ساتھ ادا کی۔پھر جب حضرت عبدالرحمان ؓ نے اسلام پھیرا، تو رسول اللہ ﷺ اپنی نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔اس سے مسلمان پریشان ہو گئے اور انہوں نے بکثرت سبحان اللہ پڑھنا شروع کر دیا۔جب نبی اکرم ﷺ نے اپنی نماز مکمل کی تو ان کی طرف متوجہ ہوۓ،پھرفرمایا: تم نے بہت اچھا کام کیا ہے،یا فرمایا: تم نے درست کام کیا ہے۔آپ ان پر رشک کررہے تھے کہ انہوں نے نماز کو اس کے وقت پر ادا کیاہے" امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:"اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ نماز کا وقت ہو جاۓ اور امام اعظم لوگوں میں موجود نہ ہو یا وہ سفر میں ان کے پیچھے رہ گیا ہو تو رعایا کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی آدمی کو اپنا امام بنا لیں جو انہیں نماز پڑھاۓ"کیونکہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام (ؓ) کے فعل کی تحسین فرمائ ہے یا اسے درست قراردیاہے۔جبکہ انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ کو امامت کے لیے آگے بڑھا لیا تھا اور نماز کو اس کے وقت پر ادا کیاتھا۔آپ نے انہیں اپنا انتظار کرنے کا حکم نہیں دیا۔مگر جب امام اعظم موجود ہو تو پھر اس کی اجازت کے بغیر کسی شخص کے لیے امامت کرانا جائز نہیں ہے۔کیونکہ نبی کریم ﷺ نے حکمران و امیر کی اجازت کے بغیر اس کی امامت کرانے سے منع کیاہے"

حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1515

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1516

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ثَنَا شُعْبَةُ؛ ح وَثَنَا الصَّنْعَانِيُّ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ (2)؛ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[قَالَ]: "وَلَا تَؤُمَّنَّ رَجُلًا فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا فِي أَهْلِهِ، وَلَا تَجْلِسْ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، أَوْ قَالَ: يَأْذَنُ لَكَ".

"حضرت ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"تم کسی شخص کو اس کی سلطنت و حکومت اور اس کے گھر میں امامت نہ کراؤ اور نہ اس کی خصوصی مسند پر بیٹھو مگر اس کی اجازت کے ساتھ۔یا فرمایا: الاّ یہ کہ وہ تمہیں اجازت دے دے۔"

أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ← اَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← وَثَنَا الصَّنْعَانِيُّ، ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1516

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1517

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ- نَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَتَاهُمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، ثُمَّ قَالَ لِبِلَالٍ: "يَا بِلَالُ! إِذَا حَضَرَتِ الْعَصْرُ، وَلَمْ آتِ، فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ... "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. وَذَكَرَ فِي الْخَبَرِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ، فَقَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، وَأَوْمَأَ إِلَيْهِ: امْضِ فِي صَلَاتِكَ.

"حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ:"بنو عمروبن عوف کے لوگوں کا باہمی جھگڑا ہوگیا،نبی کریم ﷺ کو اس کی اطلاع ہویٔ تو آپ نے ظہر کی نماز پڑھایٔ،پھر ان کی صلح کرانے کے لیے ان کے پاس تشریف لے گئے ، آپ نےحضرت بلال ؓ سے فرمایا:"اے بلال! جب نماز عصر کا وقت ہوجاۓ اور میں واپس نہ آؤں تو تم حضرت ابوبکر سے عرض کرنا کہ وہ لوگوں کو نمازپڑھادیں۔"پھر مکمل حدیث بیان کی اور اس حدیث میں یہ بھی بیان کیا کہ نبی کریمﷺ(دوران نماز ہی میں)تشریف لے آۓ اور حضرت ابوبکر ؓ کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور آپ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی نماز جاری رکھو۔"

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو حَازِمٍ ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1517

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1518

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ الْهُذَلِيِّ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ مِنْهُمْ صَلَاةٌ، وَلَا تَصْعَدُ إِلَى السَّمَاءِ، وَلَا تُجَاوِزُ رُؤوسَهُمْ: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَرَجُلٌ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ وَلَمْ يُؤْمَرْ، وَامْرَأَةٌ دَعَاهَا زَوْجُهَا مِنَ اللَّيْلِ فَأَبَتْ عَلَيْهِ".

"جناب عطاء بن دینار ہذلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"تین افراد کی نماز قبول نہیں ہوتی،نہ آسمان کی طرف چڑھتی ہے اور نہ وہ ان کے سروں سے اوپراٹھتی ہے۔(ا) وہ شخص جس نے کسی قوم کی امامت کرائی حالانکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں۔(۲) وہ عورت جسے اس کا شوہر رات کو بلاتا ہے تو وہ انکار کر دیتی ہے۔"

عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ الْهُذَلِيِّ؛ ← ابْنِ لَهِيعَةَ وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1518

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1519

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَرْفَعُهُ، يَعْنِي مِثْلَ هَذَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمْلَيْتُ الْجُزْءَ الْأَوَّلَ وَهُوَ مُرْسَلٌ، لِأَنَّ حَدِيثَ أَنَسٍ الَّذِي بَعْدَهُ حَدَّثَنَاهُ عِيسَى فِي عَقِبِهِ يَعْنِي بِمِثْلِهِ، لَوْلَا هَذَا لَمَا كُنْتُ أُخَرِّجُ الْخَبَرَ الْمُرْسَلَ فِي هَذَا الْكِتَابِ.

"جناب عمروبن ولید حضرت انس بن مالک ؓ سے مذکورہ بالا جیسی روایت بیان کرتے ہیں جسے حضرت انس ؓ مرفوعاً بیان کرتے ہیں۔" امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:"میں نے حدیث کا پہلا حصہ لکھوادیا ہے حالانکہ وہ مرسل ہے کیونکہ اس کے بعد آنے والی حضرت انس ؓ کی حدیث اسی کے مثل ہے جو ہمیں جناب عیسٰی نے بیان کی ہے۔اگر یہ روایت موجود نہ ہوتی تو میں اپنی اس کتاب میں مرسل روایت بیان نہ کرتا"

أَبُو بَكْرٍ: أَمْلَيْتُ الْجُزْءَ الْأَوَّلَ وَهُوَ مُرْسَلٌ، لِأَنَّ حَدِيثَ أَنَسٍ الَّذِي بَعْدَهُ ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَرْفَعُهُ، يَعْنِي مِثْلَ هَذَا. ← عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1519

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1520

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَطِيَّةَ -رَجُلٌ مِنَّا-؛ وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبَانِ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارِ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ -يُكْنَى أَبَا عَطِيَّةَ- وَهَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ قَالَ: أَتَانَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقِيلَ لَهُ: تَقَدَّمْ، قَالَ: لِيَؤُمَّكُمْ رَجُلٌ مِنْكُمْ. فَلَمَّا صَلَّوْا، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "إِذَا زَارَ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَلَا يَؤُمَّهُمْ، وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ". وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، قَالَ: لِيَتَقَدَّمْ بَعْضُكُمْ حَتَّى أُحَدِّثَكُمْ لِمَ لَا أَتَقَدَّمُ.

جناب ابو عطیہ کہتے ہیں کہ:"حضرت مالک بن حویرث ؓ ہمارے پاس تشریف لاۓتو نماز کا وقت ہوگیا۔ان سے عرض کی گئی کہ آگے بڑھیں(اور جماعت کرادیں)۔"انہوں نے فرمایا:تم ہی میں سے کسی شخص کو جماعت کرانی چاہیے۔جب انہون نے نماز ادا کر لی تو فرمایا:"میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوۓ سنا ہے۔"جب کویٔ شخص کسی قوم کی ملاقات کے لیے جاۓ تو وہ انہیں امامت نہ کراۓ، انہی میں سے کسی شخص کو ان کی امامت کرانی چاہیے" جناب وکیع کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: انہوں نے فرمایا:"تم میں سے کوئی شخص آگے بڑھے (اور جماعت کراۓ) میں تمہیں بتاؤں گا کہ میں آگے کیوں نہیں بڑھا۔"

لِيَتَقَدَّمْ بَعْضُكُمْ حَتَّى أُحَدِّثَكُمْ لِمَ لَا أَتَقَدَّمُ. ← "إِذَا زَارَ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَلَا يَؤُمَّهُمْ، وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ". وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، ← النَّبِيِّ ← لِيَؤُمَّكُمْ رَجُلٌ مِنْكُمْ. فَلَمَّا صَلَّوْا، ← أَتَانَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقِيلَ لَهُ: تَقَدَّمْ، ← رَجُلٍ مِنْهُمْ -يُكْنَى أَبَا عَطِيَّةَ- وَهَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ ← بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو عَطِيَّةَ -رَجُلٌ مِنَّا-؛ وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ← بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيُّ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1520

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1521

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلٍ: أَنَّهُ جَاءَهُ نَفَرٌ يَتَمَارَوْنَ فِي الْمِنْبَرِ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ؟ وَمَنْ عَمِلَهُ؟ فَقَالَ سَهْلٌ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ، وَمَنْ عَمِلَهُ، وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوَّلَ يَوْمٍ قَامَ عَلَيْهِ، أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى فُلَانَةَ، قَالَ: إِنَّهُ لَيُسَمِّيهَا يَوْمَئِذٍ، وَنَسِيتُ اسْمَهَا: أَنْ مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ يَعْمَلْ لِي أَعْوَادًا [162 - أ] أُكَلِّمِ النَّاسَ عَلَيْهَا، فَعَمِلَ هَذِهِ الثَّلَاثَ الدَّرَجَاتِ مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ عَلَيْهِ، فَكَبَّرَ، فَكَبَّرَ النَّاسُ خَلْفَهُ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعَ النَّاسُ، ثُمَّ رَفَعَ وَنَزَلَ الْقَهْقَرَى، ثُمَّ سَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِ صَلَاتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ -فَقَالَ: "إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي، وَتَعَلَّمُوا صَلَاتِي".

حضرت سہل ؓ سے روایت ہے کہ:"ان کے پاس کچھ لوگ آئے جو اس بات میں جھگڑے رہے تھے کہ منبر نبوی کس لکڑی سے بناہے؟ اور اسے کس شخص نے بنایا تھا؟ تو حضرت سہل ؓ فرماتے ہیں:"آگاہ ہو، اللہ کی قسم!مجھے خوب علم ہے کی یہ کس لکڑی سے بنا ہے اور اسے کس نے بنایا ہے اور میں نے رسولاللہﷺ نے فلاں عورت کی طرف پیغام بھیجا۔جناب ابو حارم کہتے ہیں کہ:"حضرت سہل نے اس دن عورت کا نام ذکر کیا تھا میں بھول گیا ہوں کہ وہ اپنے برھئ غلام کو حکم دے کہ وہ میرے لیے سیڑھیوں والا منبر بنا دے تاکہ میں اس پر کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کروں۔اس نے غابہ مقام کے جھاؤ کی لکڑی سے یہ تین سیڑھیاں بنا دیں۔اور میں نے اللہ اکبر کہا (اور نماز شروع کر دی) صحابہ کرام نے بھی آپ کے پیچھے (صفیں بنا کر) تکبیر کہی،پھر آپ نے (منبر ہی پر) رکوع کیا اور لوگوں نے بھی رکوع کیا۔پھر رکوع سے سر اٹھایا اور الٹے پاؤں نیچے اتر آۓ پھر منبر کی جڑ میں سجدہ کیا۔پھر آپ دوبارہ منبر پر چڑھے حتٰی کہ آپ نے اپنی نماز مکمل کی۔پھر صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:"میں نے یہ عمل اس لیے کیا ہے تاکی تم میری اقتداکرواور میری نماز(کاطریقہ)سیکھ لو۔"

أَبِي ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1521

chevron_left Previous
1…888990…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals