صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1512
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: ثَنَا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، نَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا عَلَى حَاضِرٍ فَكَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا رَاجِعِينَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَأَدْنُو مِنْهُمْ، فَأَسْمَعُ، حَتَّى حَفِظْتُ قُرْآنًا. قَالَ: وَكَانَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ بِإِسْلَامِهِمْ فَتْحَ مَكَّةَ، فَلَمَّا فُتِحَتْ، جَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِيهِ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا وَافِدُ بَنِي فُلَانٍ، وَجِئْتُكَ بِإِسْلَامِهِمْ، فَانْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلَامِ قَوْمِهِ. فَلَمَّا رَجَعَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "قَدِّمُوا أَكْثَرَكُمْ قُرْآنًا". قَالَ: فَنَظَرُوا وَأَنَا لَعَلَى حِوَاءٍ. قَالَ الدَّوْرَقِيُّ: حِوَاءٍ عَظِيمٍ. وَقَالَ أَبُو هَاشِمٍ: حِوَاءٍ، وَقَالَا: فَمَا وَجَدُوا فِيهِمْ أَحَدًا أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي، فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ، فَصَلَّيْتُ بِهِمْ، وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ لِي، فَكُنْتُ إِذَا رَكَعْتُ أَوْ سَجَدْتُ، فَتَبْدُو عَوْرَتِي، فَلَمَّا صَلَّيْنَا تَقُولُ لَنَا عَجُوزٌ دَهْرِيَّةٌ: غَطُّوا عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ. قَالَ: فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا. قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ: مِنْ مَعْقِدِ الْبَحْرَيْنِ، فَذَكَرَ أَنَّهُ فَرِحَ بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا. قَالَ الدَّوْرَقِيُّ: قَالَ: "لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا".
"حضرت عمروبن سلمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ:"ہم ایک ایسی جگہ رہائش پذیر تھے جہاں لوک آتے جاتے رہتے تھے۔لہذا قافلے نبی کریم ﷺ کی خدمت سے واپسی پر ہمارے پاس سے گزرتے، تو میں ان کے قریب ہو کر ان سے(قرآن مجید) سنتا رہتا۔حتیٰ کہ میں نے کا کافی سارا قرآن مجید حفظ کرلیا۔وہ کہتے ہیں:لوگ اسلام قبول کرنے کے لیے فتح مکہ کے منتطرتھے۔جب مکہ فتح ہو گیا تو لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔ایک آدمی آکرکہتا: اے اللہ کے رسول! میں فلاں قبییلے کا قاصد ہوں اور آپ کی خدمت میں ان کے اسلام قبول کرنے کی خبر لے کر حاضرہوا ہوں۔لہٰذا میرے والد گرامی بھی اپنی قوم کے اسلام لانے کی خبر لے کر گۓ،پھر جب واپس آۓ تو کہا:رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہےکہ تم اس شخص کو اپنا امام بناؤ جسے قرآن مجید زیادہ یاد ہو۔کہتے ہیں:لوگوں نے اس بارے میں غوروفکر اور مشورہ کیا (کہ کسے امام بنایا جاۓ) جبکہ میں بستی میں تھا۔جناب دورقی کی روایت میں ہے:"میں ایک عظیم بستی میں تھا"تو لوگوں کو مجھ سے زیادہ قرآن مجید یاد کرنے والا کوئی شخص نہ ملا۔لہٰذا انہوں نے مجھے اپنا امام بنا لیا حالانکہ میں نا بالغ لڑکا تھا۔تو میں نے انہیں نماز پڑھائی۔میں نے اپنی ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی۔جب میں رکوع یا سجدہ کرتا تو میری شرم گاہ ننگی ہو جاتی۔جب ہم نے نماز مکمل کی تو ایک طویل العمربڑھیا نے کہا: اپنے قاری کی شرم گاہ کو ہم سے ڈھانپو۔وہ کہتے ہیں:"انہوں نے مجھے ایک قمیص بنا کردی۔" راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہون نےیہ کہا تھا کہ بحرین کے بنے ہوۓ ازار بند کی قمیص بنا کر دی۔"یہ بھی بیان کیا کہ وہ قمیص ملنے پر بے حدخوش ہوۓ تھے۔"جناب دورقی کی روایت میں ہے:"تم میں سے زیادہ قرآن جاننے والے کو تمہاری امامت کرانی چاہیے۔"
عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1512
