صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 301
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ -رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ-؛ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ، إِذْ سَمِعْتُ قَائِلًا يَقُولُ: خُذْ بَيْنَ الثَّلَاثَةِ، فَأُوتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، قَالَ: "فَشُرِحَ صَدْرِي إِلَى كَذَا وَكَذَا". قَالَ قَتَادَةُ: قُلْتُ: مَا يَعْنِي بِهِ؟ قَالَ: إِلَى أَسْفَلِ بَطْنِهِ - " فَاسْتُخْرِجَ قَلْبِي، فَغُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ أُعِيدَ مَكَانَهُ، ثُمَّ حُشِيَ إِيمَانَا وَحِكْمَةً. ثُمَّ أُوتِيتُ بِدَابَّةٍ أَبْيَضَ، يُقَالُ لَهُ: الْبُرَاقُ، فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَقَعُ [44 - ب] خُطَاهُ أَقْصَى طَرْفِهِ، فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ. ثُمَّ انْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا، وَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: مَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، [قِيلَ]: وَبُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَفُتِحَ لَنَا، قَالَ: مَرْحَبًا بِهِ، وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جاء. فَأَتَيْتُ عَلَى آدَمَ، فَقُلْتُ: فَقُلْتُ لَهُ: لَمْ يُرِدْ بِهِ، فَقُلْتُ لِأَنَسٍ، إِنَّمَا أَرَادَ فَقُلْتُ لِلْجَارُودِ.
"حضرت انس بن مالک سے روایت ہے اپنی قوم کے ایک شخص حضرت مالک بن صعصعہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ نے فرمایا:"اس اثنا میں کہ میں بیت اللہ کے پاس سونے اور بیدار ہونے کی درمیانی حالت میں تھا جب میں نے ایک کہنے والے کو کہتے ہونے سنا : تین میں سے درمیان والے کو لے لو۔ چنانچہ میرے پاس سونے کا ایک تھال لایا گیا جس میں آب زمزم تھا۔ آپ نے فرمایا : میرا سینہ یہاں سے یہاں تک کھولا گیا۔"قتادہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی: آپ کا سینہ پیٹ کے نچلے حصے تک چیرا گیا "تو میرا دل نکالا گیا، اسے آب زمزم سے دھویا گیا پھر اس سے اس کی جگہ لوٹا دیا گیا۔ پھر اسے ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا۔ پھر میرے پاس گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا ایک سفید جانور لایا گیا جسے براق کہا جاتا ہے مجھے اس پر سوار کیا گیا، پھر میں چل پڑا حتی کہ ہم آسمان دنیا پر پہنچ گئے ۔ جبرائیل ؑ نے دروازہ کھلوایا تو کہا گیا : کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل ؑ ہوں ۔ پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے ؟ جبرائیل ؑ نے جواب دیا: ہاں۔ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا(فرشتوں نے) کہا :خوش آمدید ، آپ کا تشریف لانا مبارک ہو۔ پھر میں آدمﷺ کے پاس آیا تو میں نے پوچھا:اے جبرائیل یہ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا: یہ آپ کے والد بزرگوار آدمؑ ہیں۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے فرمایا: نیک بیٹے اور نیک بخت نبی کو خوش آمدید۔ فرمایا: پھر ہم چلتے رہے حتی کہ دوسرے آسمان پر آگئے ۔ جبرائیل نے دروازہ کھلوایا، کہاگیا کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا: اور آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جواب دیا کہ محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا : کہ انہیں بلایا گیا ہے ؟ کہا: ہاں۔ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا(فرشتوں نے) کہا: خوش آمدید ، آپ کا آنا مبارک ہو۔ پھر میں حضرت یحییٰ اور عیسیٰ ؑ کے پاس گیا تو میں نے کہا: اے جبرائیل یہ کون حضرات ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : یحییٰ اور عیسیٰؑ ہیں۔ سعید کہتے ہیں کہ میرے خیال میں انہوں نے اپنی روایت میں کہا تھا:"دو خالہ زاد بھائی"تو میں نے کہا ان دونوں کو سلام کیا۔"او رانہوں نے فرمایا:نیک بھائی اور برگذیدہ نبی کو خوش آمدید ۔ آپ نے فرمایا : پھر ہم چلتے ہوئے تیسرے آسمان پر پہنچے تو جبرائیل ؑ نے دروازہ کھلوایا تو کہا گیا: کون ہے : انہوں نے جواب دیا: جبرائیل ہوں ۔ پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا:محمد(ﷺ) ہیں۔ پوچھا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں ۔ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا اور فرشتوں نے کہا: خوش آمدید ، خوش آمدید ، آپ نے فرمایا: پھر میں حضرت یوسف ؑ کے پاس آیا تو میں نے انہیں سلام کیا۔ تو انہوں نے فرمایا : نیک نبی اور صالح بھائی کو خوش آمدید۔ پھر ہم چوتھے آسمان کی طرف چل پڑے وہاں بھی جبرائیل اور دربانوں کو سابقہ کلام کی طرف بات چیت ہوئی۔ پھر میں حضرت ادریس ؑ کے پاس آیا تو میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے فرمایا: صالح بھائی اور برگزدیہ نبی کو خوش آمدید۔ پھر ہم پانچویں آسمان پر پہنچے تو میں حضرت ہارون ؑ کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا ۔ تو انہوں نے فرمایا : نیک بخت بھائی اور صالح نبی کو خوش آمدید ۔ پھر ہم چھٹے آسمان کی طرف چل پڑے ۔پھر میں موسیٰ کے پاس آیا ۔ ان سب پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے فرمایا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے ۔ فرمایا: پھر میں سدرۃ المنتہی کی طرف لوٹ آیا۔ اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ اس ( بیری) کے بیر ہجر بستی کے مٹکوں جیسے ہیں ۔ اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ آپ نے چار نہریں سدرہ کی جڑ سے نکلتی بیان فرمایا کہ آپ نے چار نہریں سدرہ کی جڑ سے نکلتی ہوئی دیکھیں ۔ دو نہریں ظاہری ہیں اور دو باطنی ہیں۔ تو میں نے پوچھا : اے جبرائیل! یہ نہریں کیسی ہیں؟ انہوں نےجواب دیا: یہ دو باطنی (ڈھانپی ہوئی) نہریں تو جنت میں گئی ہین۔ اور یہ دو ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں ۔ پھر ہمارے لیے بیت المعمور بلند کر دیا گیا ۔ میں نے کہا : جبرائیل ؑ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ بیت المعمور ہے ۔ ہر روز ستر ہزار فرشتے اس میں داخل ہوتے ہیں۔ جب وہ اس سے نکل جاتے ہیں تو پھر دوبارہ کبھی اس میں نہیں لوٹتے ۔ آپ نے فرمایا: پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے ایک میں شراب اور دوسرے میں دودھ تھا۔ دونوں برتن مجھے پیش کیے گئے تو میں نے دودھ کو اختیار کیا۔ تو مجھے کہا گیا:آپ نے ٹھیک انتخاب کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آ پ کو خیر بھلائی والی چیز اختیار کرنے کی راہنمائی کی ہے ۔ آپ کی امت بھی آپ کی پیروی کرے گی۔ پھر مجھ پر ہر روز پچاس نمازیں فرض کی گئی ،میں انہیں لے کر حضرت موسیٰ ؑ کے پاس پہنچا تو انہوں نے پوچھا : آپ کو کس چیز کا حکم دیا گیا ہے ؟ میں نے کہا: ہر روز پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا: بے شک آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی، میں نے آپ سے پہلے بنی اسرائیل کو آزمایا ہے اور انہیں بڑی اچھی طرح پرکھا ہے ( ان کی اصلاح کی بھرپو کو شش کی ہے ) آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور اپنی امت کےلیے تخفیف کا مطالبہ کریں۔ میں واپس گیا( اور کمی کا مطالبہ کیا ) تو مجھ سے پانچ نمازیں کم کردی گئیں پھر میں مسلسل اپنے رب اور موسیٰؑ کے درمیان چکر لگا تا رہا ، اللہ تعالیٰ مجھے کمی سے نوازتے رہے اور موسیٰؑ مجھے( مزید) کمی کا مطالبہ کرنے کا کہتے رہے ۔ حتی کہ میں ہر روز پانچ نمازوں کی ادائیگی کا حکم لے کر لوٹ آیا۔ انہوں نے فرمایا: بے شک آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ، میں نے آپ سے پہلے بنی اسرائیل کو آزمایا ہے اور بنی اسرائیل کا بڑا سخت امتحان لیا ہے ۔ آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور اپنی امت کےلیے کمی کا سوال کریں۔ آپ نے فرمایا: میں رب کے پاس متعدد بار گیا ہوں حتی کہ مجھے شرم آنے لگی ہے ۔ لہٰذا اب میں راضی ہوں اور ( اس حکم کو) تسلیم کرتا ہوں ۔ مجے آواز دی گئی : بے شک میں نے اپنا فریضہ جاری کر دیا ہے اور اپنے بندوں سے تخفیف کر دی ہے اور ہر نیکی کا ثواب دس گنا کر دیا ہے ۔
مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 301
