Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1879

أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ، أَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا أَبُو عَامِرٍ، ثَنَا قُرَّةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ لِي جَرَّةً أَنْتَبِذُ لِي فِيهَا، فَأَشْرَبُ مِنْهُ، فَإِذَا أَطَلْتُ الْجُلُوسَ مَعَ الْقَوْمِ خَشِيتُ أَنْ أُفْتَضَحَ مِنْ حَلَاوَتِهِ. فَقَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: "مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ، فَحَدِّثْنَا عَمَلًا مِنَ الْأَمْرِ إِذَا أَخَذْنَا بِهِ دَخَلْنَا بِهِ الْجَنَّةَ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا (1). قَالَ: "آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ؟ " قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغَانِمِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ".

"جناب ابوحمزہ ضبعی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ سے عرض کی : میرا ایک مٹکا ہے جس میں میں نبیذ تیا کرتا ہوں پھر میں اس سے پی لیتا ہوں ۔پھر جب میں لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہوں تو میں ڈرتا ہوں کہ اس کے نشے اور حلاوت کی وجہ سے رسوا نہ ہوجاؤں۔ تو انہو ں نے فرمایا: عبدالقیس کا وفد رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: وفد کو خوش آمدید تم بغیر رسوا ہوئے اور شرمسار ہوئے بہت اچھے آئے ہو ۔ "انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! بے شک ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے مشرکین حائل ہیں اور ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں ہی میں حاضر ہوسکتے ہیں ۔ لہٰذا آپ ہمیں ایسے اسلامی اعمال بتائیں جب پر عمل کر کے ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور اپنے پیچھے رہ جانے والے افراد کو اس کی دعوت دیں۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں چار کاموں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کر تا ہوں ۔( جن کاموں کا حکم دیتا ہوں وہ یہ ہیں) اللہ پر ایمان لانا۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی خوب جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور نماز قائم کرنا ار زکوٰۃادا کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور غنمیتوں میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا اور میں تمہیں کد و کے برتن ، کریدی ہوئی لکڑی کے برتن ، سبز لاکھی مٹکے اور روغنی برتن میں نبیذ بنانے سے منع کرتا ہوں ۔"

أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ ← قُرَّۃَ ← أَبُو عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الصَّابُونِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1879

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1880

حَدَّثَنَا [196 - ب] سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْجُمَحِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ، شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ شَهْرِ رَمَضَانَ".

" حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ فرمایا: "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ۔ اس بات کی گواہی دینا کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ ادا کرنا ، بیت اللہ کا حج کرنا اور ماہ رمضان کے روزے رکھنا۔"

ابْنِ عُمَرَ ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، ← حَنْظَلَةَ الْجُمَحِيِّ، ← وَكِيعٌ، ← ب] سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1880

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1881

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثَنَا عَاصِمٌ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ- قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: بِمِثْلِهِ. جِمَاعُ أَبْوَابِ فَضَائِلِ شَهْرِ رَمَضَانَ وَصِيَامِهِ

"حضرت ابن عمر ؓ سے مذکورہ بالا کی طرح رسول اللہﷺ سے حدیث مروی ہے ۔"

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِي ← عَاصِمٌ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ- ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1881

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1882

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- نَا أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا جَاءَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو سُهَيْلٍ عَمُّ مَالِكِ [بْنِ] أَنَسٍ.

رمضان المبارک میں جنت کے دروازوں کے کھلنے کا بیان

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← أَبُو سُهَيْلٍ، ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1882

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1883

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ مَرَدَةُ الْجِنِّ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ، وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجِنَانِ، فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَنَادَى مُنَادٍ: يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ".

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین کے سر کش جنوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں پھر اس کا کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا اور جنت کے تمام دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اس میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور ایک اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے اے خیر کے طالب ! آگے بڑھ ( خوب نیکیاں کر لے ) اور اے برائی کے چاہنے والے رک جا۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے جہنم سے آزاد ہونے والے بہت سارے لوگ ہوتے ہیں ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1883

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1884

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، ثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَظَلَّكُمْ شَهْرُكُمْ هَذَا بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا مَرَّ بِالْمُسْلِمِينَ شَهْرٌ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْهُ، وَلَا مَرَّ بِالْمُنَافِقِينَ شَهْرٌ شَرٌّ لَهُمْ مِنْهُ -بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -- لَيُكْتَبُ أَجْرُهُ وَنَوَافِلُهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَهُ، وَيُكْتَبُ إِصْرُهُ وَشَقَاؤُهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَهُ، وَذَلِكَ أَنَّ الْمُؤْمِنَ يُعِدُّ فِيهِ الْقُوَّةَ مِنَ النَّفَقَةِ لِلْعِبَادَةِ، وَيَعُدُّ فِيهِ الْمُنَافِقُ اتِّبَاعَ غَفَلَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَاتِّبَاعَ عَوْرَاتِهِمْ، فَغُنْمٌ يَغْنَمُهُ الْمُؤْمِنُ". هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى. وَقَالَ بُنْدَارٌ: "فَهُوَ غُنْمٌ لِلْمُؤْمِنِينَ، يَغْتَنِمُهُ الْفَاجِرُ". عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ هَذَا يُقَالُ لَهُ مَوْلَى بَنِي رُمَّانَةَ مَدَنِيٌّ.

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس تمہارا یہ مبارک مہینہ آگیا ہے ۔ رسول اللہﷺ کی قسم کے ساتھ مسلمانوں کے لیے اس سے بہتر کوئی مہینہ مسلمانوں کے پاس نہیں گزرتا اور نہ منافقین کے لیے اس سے بڑ ھ کر کوئی برا مہینہ گزرتا ہے ۔رسول اللہﷺ کی قسم کے ساتھ ، یہ مہینہ شروع ہونے سے پہلے ( مومن ) کا اجر اور اس کے نوافل لکھ دئیے جاتے ہیں اور ( منافق) کا گناہوں پر اصرار اور بدبختی اس مہینے کے شروع ہونے سے پہلے لکھ دی جاتی ہے ۔ اور یہ اس طرح کہ مومن اس مہینے میں عبادت کےلیے مالی قوت جمع کر لیتا ہے ۔ اور منافق مومنوں کی غفلت وبے خبری اور ان کے عیوب ونقائص تلاش کرنے کی تیاری کرتا ہے ۔ پس یہ مہینہ غنیمت ہے جس سے مومن فائدہ حاصلہ کرتا ہے ۔"یہ جناب یحییٰ کی روایت ہے اور جنا ب بندا ر کی روایت میں ہے : پس وہ مومنوں کےلیے غنیمت ہے جس سے فاجر شخص فائدہ حاصل کر لیتا ہے ۔"

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← أَبُو عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1884

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1885

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ حَمْزَةَ الْقَيْسِيُّ (1)، ثَنَا خَلَفٌ أَبُو الرَّبِيعِ -إِمَامُ مَسْجِدِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ-، ثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "يَسْتَقْبِلُكُمْ وَتَسْتَقْبِلُونَ". ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَحْيٌ نَزَلَ؟ قَالَ: "لَا" قَالَ: عَدُوٌّ حَضَرَ؟ قَالَ: "لَا". قَالَ: فَمَاذَا؟ قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَغْفِرُ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ لِكُلِّ أَهْلِ هَذِهِ الْقِبْلَةِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَيْهَا، فَجَعَلَ رَجُلٌ يَهُزُّ رَأْسَهُ، وَيَقُولُ: [197 - أ] بَخٍ بَخٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "يَا فُلَانُ! ضَاقَ بِهِ صَدْرُكَ؟ " قَالَ: لَا، وَلَكِنْ ذَكَرْتُ الْمُنَافِقَ، فَقَالَ: "إِنَّ الْمُنَافِقِينَ هُمُ الْكَافِرُونَ، وَلَيْسَ لِكَافِرٍ مِنْ ذَلِكِ شَيْءٌ".

"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:"وہ تمہارے پاس آنے والا ہے اور تم استقبال کرنے والے ہو۔ آپ ﷺ نے تین بار فرمایا ۔ تو حضرت عمر بن خطاب ؓ نے عرض کی : "اے اللہ کے رسول ! کیا وحی نازل ہونے والی ہے ؟ آپ نے فرمایا: نہیں ۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا :"پھر کیا آنے والا ہے ؟ آپ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ ، ماہ رمضان کی پہلی رات اس قبلے والے ہر شخص کو معاف فرما دیتے ہیں اور آپ نے قبلہ کی طرف اشارہ کیا تو ایک شخص اپنے سر کو ہلا ہلا کر واہ واہ کہنے لگا ۔ تو رسول اللہﷺ نے اسے کہا: اے فلاں ! کیا اس بات سے تمہارا سینہ تنگ ہوا ہے ۔( تمہیں یہ بات پسند نہیں آئی )؟ اس نے جواب دیا : نہیں ، لیکن مجھے منافق یا دآگئے ( کہ وہ بھی اہل قبلہ ہونے کی وجہ سے بخشش دئیے جائیں گے ) تو آپ نے فرمایا: "بے شک منافقین کا فر ہیں اور کافر کو اس مبارک فضیلت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← خَلَفٌ أَبُو الرَّبِيعِ -إِمَامُ مَسْجِدِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ-، ← عَمْرُو بْنُ حَمْزَةَ الْقَيْسِيُّ ← زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1885

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1886

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، ثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو عَتَّابٍ؛ وَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا: ثَنَا جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ بُرْدَةَ، عَنِ -ابْنِ مَسْعُودٍ- قَالَ أَبُو الْخَطَّابِ: -الْغِفَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ عَنْ -ابْنِ مَسْعُودٍ (1)، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي الْخَطَّابِ- قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ ذَاتَ يَوْمٍ [وَقَدْ أ] هَلَّ (2) رَمَضَانُ، فَقَالَ: "لَوْ يَعْلَمُ الْعِبَادُ مَا رَمَضَانُ لَتَمَنَّتْ أُمَّتِي أَنْ يَكُونَ السَّنَةَ كُلَّهَا". فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! حَدِّثْنَا، فَقَالَ: "إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَزَيَّنُ لِرَمَضَانَ مِنْ رَأْسِ الْحَوْلِ إِلَى الْحَوْلِ، فَإِذَا كَانَ أَوَّلُ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ هَبَّتْ رِيحٌ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ فَصَفَقَتْ وَرَقَ الْجَنَّةِ فَتَنْظُرُ الْحُورُ الْعِينُ إِلَى ذَلِكَ فَيَقُلْنَ: يَا رَبِّ! اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ فِي هَذَا الشَّهْرِ أَزْوَاجًا تُقِرُّ أَعْيُنَنَا بِهِمْ، وَتُقِرُّ أَعْيُنَهُمْ بِنَا"، قَالَ: "فَمَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ إِلَّا زُوِّجَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فِي خَيْمَةٍ مِنْ دُرَّةٍ مِمَّا نَعَتَ اللَّهُ: (حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ) [الرحمن: 72] عَلَى كُلِّ امْرَأَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً لَيْسَ مِنْهَا حُلَّةٌ عَلَى لَوْنِ الْأُخْرَى، تُعْطَى سَبْعينَ لَوْنًا مِنَ الطِّيبِ، لَيْسَ مِنْهُ لَوْنٌ عَلَى رِيحِ الْآخَرِ، لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونَ أَلْفَ وَصِيفَةٍ لِحَاجَتِهَا، وَسَبْعُونَ أَلْفَ وَصِيفٍ، مَعَ كُلِّ وَصِيفٍ صَحْفَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، فِيهَا لَوْنُ طَعَامٍ تَجِدُ لَآخِرِ (1) لُقْمَةٍ مِنْهُ لَذَّةً لَا تَجِدُ لِأَوَّلِهِ، لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونَ سَرِيرًا مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ، عَلَى كُلِّ سَرِيرٍ سَبْعُونَ فِرَاشًا بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ، فَوْقَ كُلِّ فِرَاشٍ سَبْعُونَ أَرِيكَةً، وَيُعْطَى زَوْجُهَا مِثْلَ ذَلِكَ عَلَى سَرِيرٍ مِنْ يَاقُوتٍ أَحْمَرَ، مُوَشَّحٍ بِالدُّرِّ، عَلَيْهِ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، هَذَا بِكُلِّ يَوْمٍ صَامَهُ مِنْ رَمَضَانَ، سِوَى مَا عَمِلَ مِنَ الْحَسَنَاتِ". وَرُبَّمَا خَالَفَ الْفِرْيَابِيَّ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ فِي الْحَرْفِ وَالشَّيْءِ فِي مَتْنِ الْحَدِيثِ. ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ (2)، نَا جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ بُرْدَةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ غِفَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: نَحْوَهُ، إِلَى قَوْلِهِ: (حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ) [الرحمن: 72].

"جناب ابوخطاب غفاری ؒ حضرت ابو مسعود ؓ سے روایت کرتے ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو ایک دن فرماتے ہونے سنا ، جبکہ رمضان المبارک شروع ہو چکا تھا۔ آپ نے فرمایا:"اگر بندے رمضان المبارک کی اہمیت وشان جان لیں تو میری امت تمنا کرے کہ سارا سال ہی رمضان رہے ۔ تو بنو خزاعہ کے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے نبی ! ہمیں ( اس کی شان کے متعلق ) بیان کریں ۔ پس آپ نے فرمایا: بے شک جنت کو رمضان کےلیے پورا سال آراستہ کیا جاتا ہے پھر جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش کے نیچے سے ہوا چلتی ہے جس سے جنت( کے درختوں ) کے پتے بجتے لگتے ہیں ۔ حورعین یہ منظر دیکھ کر کہتی ہیں : "اے ہمارے رب! اس مہینے میں اپنے بندوں میں سے ہمارے خاوند بنا جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کی آنکھیں ہمارے ساتھ ٹھنڈی ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "لہٰذا جو شخص بھی رمضان میں ایک روزہ رکھتا ہے تو اس کی شادی ایک حورعین سے کردی جاتی ہے جو موتی سے بنے خیمے میں ہوتی ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کیا ہے :(حُوْرٌ مَّقْصُوْرَاتٌ فِی الْخِیَامِ) "حورین خیموں میں محفوظ ہوں گی۔"(الرحمٰن:۷۲) ہر عورت ستر جوڑے پہنے ہو گی ۔ کسی جوڑے کا رنگ دوسرے کے ساتھ ملتا نہیں ہوگا اسے ستر قسم کی خوشبوئیں دی جائیں گی۔ ان میں سے کوئی خوشبو دوسری سے ملتی جلتی نہ ہوگی ۔ ان میں سے ہر عورت کی خدمت کےلیے ستر ہزار خادمائیں ہوں گی۔ اورستر ہزار خاوم ہوں گے ۔ ہر خادم کے پاس سونے کا ایک پیالہ ہوگا ۔ اس میں ایسا کھانا ہوگا کہ ہر لقمے کی لذت مختلف ہوگی ۔ ہر عورت کےلیے سرخ یا قوت سے بنے ستر پلنگ ہوں گے ۔ ہر پلنگ پر ستر بچھونے ہوں گے جن کے استر موٹے ریشم کے ہوں گے ۔ ہر بچھونے پر ستر آراستہ تکیے ہوں گے ۔ اور اس کے خاوند کو بھی سرخ یا قوت کے پلنگ پر جس پر موتیوں کی جھالر ہوگی اسی طرح کی تعمتیں عطا ہوں گی۔ وہ سونے کے دو کنگن پہنے ہوگا۔ یہ انعامات رمضان کے ہر روزے کے بدلے میں ہوں گے اور دیگر نیک اعمال کا بدلہ الگ ہوگا۔" بعض اوقات فریابی نے سہل بن حماد کی متن حدیث کے بعض کے بعض الفاظ میں مخالفت کی ہے ۔ جناب سلم بن جنادہ کی روایت میں ہے : "رسول اللہﷺ نے فرمایا:آپ کے اس فرمان (حُوْرٌ مَّقْصُوْرَاتٌ فِی الْخِیَا)تک روایت بیان کی ۔"

ذَاتَ يَوْمٍ هَلَّ رَمَضَانُ، ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، ← أَبُو الْخَطَّابِ: -الْغِفَارِيُّ، ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← نافع بن بردة ← الشَّعْبِيِّ، ← جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو عَتَّابٍ ← أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1886

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1887

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ زِيَادٍ، ثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ، فَقَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ، شَهْرٌ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، جَعَلَ اللَّهُ صِيَامَهُ فَرِيضَةً، وَقِيَامَ لَيْلِهِ تَطَوُّعًا، مَنْ تَقَرَّبَ فِيهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَيْرِ، كَانَ كَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ، وَمَنْ أَدَّى فِيهِ فَرِيضَةً، كَانَ كَمَنْ أَدَّى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ، وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ، وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ، وَشَهْرُ الْمُوَاسَاةِ، وَشَهْرٌ يَزْدَادُ فِيهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ، مَنْ فَطَّرَ فِيهِ صَائِمًا كَانَ مَغْفِرَةً لِذُنُوبِهِ، وَعِتْقَ رَقَبَتِهِ مِنَ النَّارِ، وَكَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ". قَالُوا: لَيْسَ كُلُّنَا نَجِدُ مَا يُفَطِّرُ الصَّائِمَ. فَقَالَ: "يُعْطِي اللَّهُ هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلَى تَمْرَةٍ، أَوْ شَرْبَةِ مَاءٍ، أَوْ مَذْقَةِ لَبَنٍ، وَهُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ، وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ، وَآخِرُهُ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ، مَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوكِهِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، وَأَعْتَقَهُ مِنَ النَّارِ، وَاسْتَكْثِرُوا [197 - ب] فِيهِ مِنْ أَرْبَعِ خِصَالٍ: خَصْلَتَيْنِ تُرْضُونَ بِهِمَا رَبَّكُمْ، وَخَصْلَتَيْنِ لَا غِنًى بِكُمْ عَنْهُمَا، فَأَمَّا الْخَصْلَتَانِ اللَّتَانِ تُرْضُونَ بِهِمَا رَبَّكُمْ، فَشَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَتَسْتَغْفِرُونَهُ، وَأَمَّا اللَّتَانِ لَا غِنًى بِكُمْ عَنْهُمَا، فَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَتَعُوذُونَ بِهِ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ أَشْبَعَ فِيهِ صَائِمًا، سَقَاهُ اللَّهُ مِنْ حَوْضِي شَرْبَةً لَا يَظْمَأُ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ".

"حضرت سلمان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں شعبان کے آخری روزہ خطبہ ارشاد فرمایا تو کہا: "لوگو! تمہارے پاس بڑا عظیم مہینہ آگیا ہے ۔ یہ مہینہ بڑا مبارک ہے ۔ اس میں ایک ایسی رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے روزے فرض اور اس کی راتوں کا قیام نفل قرار دیا ہے ۔ جو شخص اس میں کوئی نیک کام کر کے اللہ کا تقرب حاصل کرتا ہے تو گویا اس نے دیگر مہینوں میں ادا کیے گئے فرض جیسا کام ہے ۔ اور جس شخص نے اس میں فر ض ادا کیا تو گویا وہ اس شخص جیسا ثواب حاصل کرے گا جس نے ستر فرائض دیگر مہینوں میں ادا کیے ہوں ۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے ۔ یہ ہمدردی اور غمخواری کا مہینہ ہے ۔ اس مہینے کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے ۔ جس نے اس مہینے میں روزے دار کا روزہ افطار کروایا تو وہ اس کے گناہوں کی بخشش کا باعث ہوگا اور جہنم سے اس کی گردن کی آزادی کا ذریعہ بنے گا اور اسے روزے دار کے برابر ثواب ملے گا جبکہ روزے دار کے ثواب میں بھی کچھ کمی نہیں ہوگی ۔ صحابہ نے عرض کیا: ہم میں سے ہر شخص کو افطاری کرانے کا سامان میسر نہیں ہے ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی عطا کرتے ہیں جو روزے دار کو ایک کھجور یا پانی کے گھونٹ یا کچی لسی کے ایک گھونٹ سے روزہ افطار کراتا ہے ۔ ا س مہینے کا ابتدائی حصہ باعث رحمت ہے ، درمیانہ حصہ مغفرت و بخشش کا ہے اور آخری حصہ جہنم سے آزادی حاصل کرنے کا ہے ۔ جس شخص نے اپنے غلام کو تخفیف وآسانی حاصل کرنے کا ہے ۔ جس شخص نے اپنے غلام کو تخفیف وآسانی دی تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دیتے ہیں اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتے ہیں ۔ اس مہینے میں چار کام بکثرت کرو ۔ دو کاموں سے تم اپنے رب کی رضا وخوشنودی حاصل کر لو گے اور دو کاموں سے تم بے پروا نہیں ہوسکتے ۔ رہے وہ دو کام جن سے تم اپنے رب کی رضا حاصل کر لو گے تو وہ اس بات کی گواہی دینا کہ ایک اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور اس سے گناہوں کی بخشش مانگتا ہے ۔ اور وہ دو چیزیں جن سے تم بے پروا نہیں ہوسکتے تو وہ یہ ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے اس کی پناہ میں آجاؤ۔ اور جس شخص نے اس مہینے میں روزے دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا تو اللہ تعالیٰ اسے میرے حوض سے پانی پلانے گا جس سے وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہیں ہوگا۔"

سَلْمَانَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← يُوسُفُ بْنُ زِيَادٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1887

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1888

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ -وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ- عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَقِيَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: "آمِينَ، آمِينَ، آمِينَ". فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا كُنْتَ تَصْنَعُ هَذَا؟! فَقَالَ: "قَالَ لِي جِبْرِيلُ: أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَ عَبْدٍ -أَوْ بَعُدَ- دَخَلَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ، فَقُلْتُ: آمِينَ. ثُمَّ قَالَ: رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ -أَوْ بَعُدَ- أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا لَمْ يُدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، فَقُلْتُ: آمِينَ. ثُمَّ قَالَ: رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ -أَوْ بَعُدَ- ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ. فَقُلْتُ: آمِينَ".

"حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ منبر پر چڑھے تو فرمایا:آمین ۔ آمین ۔ آمین ۔ آپ سے عرض کی گئی : اے اللہ کے رسول! آپ یہ کام پہلے نہیں کیا کرتے تھے ( آج کیا بات ہوئی ؟ ) تو آپ نے فرمایا:"مجھے جبرائیل ؑ نے کہا: اللہ تعالیٰ اس شخص کی ناک خاک آلود کرے یا وہ رحمت سے دور ہوا، جو رمضان کے آنے کے باوجود بخشش و مغفرت حاصل کرنے سے محروم رہا تو میں نے کہا: آمین ۔ پھر اس نے کہا: اس شخص کی ناک خاک آلود ہو یا وہ رحمت الہٰی سے دور ہوجائے جس نے اپنے والدین یا ا ن میں سے کسی ایک کو پایا ( پھر ان کی خدمت نہ کرنے سے ) وہ اسے جنت میں داخل نہ کراسکے ۔ تو میں نے کہا: آمین ۔ پھر اس نے دعا کی : اس شخص کی ناک بھی خاک آلود ہو یا وہ اللہ کی رحمت سے دو رہو جس کے پاس کا ذکر ہو اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے تو میں نے کہا: آمین۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← سُلَيْمَانُ -وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ- ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1888

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1889

ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ الْعَابِدِيُّ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى يَنْسَلِخَ، يَأْتِيهِ جِبْرِيلُ فَيَعْرِضُ عَلَيْهِ الْقُرْآنَ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ.

"حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سب لوگوں سے بڑھ کر خیر بھلائی کی سخاوت کرنے والے تھے ۔ اور آپ رمضان میں سب سے زیادہ سخاوت کرتے تھے حتی کہ رمضان ختم ہوجاتا ۔ جبرائیل ؑ آپ کے پاس آتے اور آپ سے قرآن مجید کا دو ر کرتے لہٰذا جب جبرائیل ؑ آپ سے ملتے تو رسول اللہﷺ تیز ہوا سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ خیر کی سخاوت کرتے ۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ الْعَابِدِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1889

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1890

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الصَّوْمُ جُنَّةٌ".

"حضرت ابوہریرہؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:" روزہ ڈھال ہے ۔"

"الصَّوْمُ جُنَّةٌ". ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1890

chevron_left Previous
1234…31
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals