Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ الأَبوَابِ ، الأَوَانِیِّ اللَّوَاتِی یُتَوَضَّأُ فِیھِنَّ أَویُغتَسَلُ · حديث 123

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ -قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ- وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا- قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: "صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ [20 - ب] لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ، فَأَعْهَدَ إِلَى النَّاسِ". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ مِنْ نُحَاسٍ، وَسَكَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ مِنْهُنَّ، حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ، ثُمَّ خَرَجَ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى مَرَّةً، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، مَرَّةً أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ: مِنْ نُحَاسٍ، وَلَمْ يَقُلْ: ثُمَّ خَرَجَ.

"حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنی اس بیماری میں فرمایا جس میں آپ فوت ہوگئے :"مجھ پر سات مشکیزوں کا پانی ڈالو جن کے بندھن (ڈوری ، تسمہ) نہ کھولے گئے ہوں شاید کہ میں سکون پاؤں تو لوگوں کو وصیت کروں۔"حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں:"ہم نے آپ کو حضرت حفصہ ؓ کے پیتل کے ٹب میں بٹھایا اور ن کے مشکیزوں سے آپ پر پانی ڈالا ، حتی کہ آپ ہماری طرف اشارہ کرنے لگے کہ تم ن ے( حکم کی ) تعمیل کردی ہے ۔ پھرآپ باہر تشریف لے گئے۔ امام صاحب ایک اور سند ے حضرت عائشہ سے ایسی ہی روایت بیان کرتے ہیں مگر اس میں یہ الفاظ بیان نہیں کیے :" من نحاس"پیتل کا ٹب"اور" ثم خرج"پھر آپ باہر تشریف لے گئے۔"

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← عَبْدَ الرَّزَّاقِ- وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them · Hadith 123

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ الأَبوَابِ ، الأَوَانِیِّ اللَّوَاتِی یُتَوَضَّأُ فِیھِنَّ أَویُغتَسَلُ · حديث 124

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ: "أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا بِوُضُوءٍ، فَجِيءَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ -أَحْسَبُهُ قَالَ: قَدَحُ زُجَاجٍ- فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ فِيهِ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَحَزَرْتُهُمْ مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ. فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ كَأَنَّهُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: "رَوَى هَذَا الْخَبَرَ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالُوا: [رَ] حْرَاحٌ، مَكَانَ الزُّجَاجِ، بِلَا شَكٍّ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا أَبُو النُّعْمَانِ، نَا حَمَّادٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ. وَقَالَ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ: أُتِيَ بِقَدَحِ زُجَاجٍ. وَقَالَ فِي حَدِيثِ أَبِي النُّعْمَانِ: بِإِنَاءِ رَحْرَاحٍ (1). قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَالرَّحْرَاحُ إِنَّمَا يَكُونُ الْوَاسِعَ مِنْ أَوَانِي الزُّجَاجِ لَا الْعَمِيقَ مِنْهُ.

"حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے وضو کےلیے پانی منگوایا تو آپ کے اس پانی کا ایک پیالہ لایا گیا، راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ شیشے کا پیالہ لایا گیا ، آپ نے اپنی انگلیاں اس میں رکھیں (تو پانی آپ کی انگلیوں سےچشمے کی طرح پھوٹنے لگا) چنانچہ لوگوں نے باری باری وضو کرنا شروع کر دیا ، میں نے ان کا اندازہ لگایا تو وہ تقریباً ستر اور اسّی کے درمیان تھے۔ میں پانی کو دیکھنے لگا گویا کہ وہ آپ کی انگلیوں کے درمیان سے ابل رہا ہے "امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں :"اس حدیث کو حماد بن زید سے کئی رایوں نے بیان کیا ہے کہ اور انہوں نے رحراح:(کشادہ برتن ) کا لفظ الزجاج:(شیشے کے برتن ) کی جگہ بغیر کسی شک وشبہ کے بیان کیا ہے ۔ امام صاحب فرماتے ہیں : ہمیں محمد بن یحیٰی نے ابو نعمان سے اور انہوں نے حماس سے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ سلیمان بن حارث کی روایت میں ہے :" اُتِیَ بِقَدْحِ زُجَاجٍ"(آپ کے پاس شیشے کا پیالہ لایا گیا۔) اور ابو نعمان کی روایت میں ہے :"شیشے کا برتن لایا گیا۔"امام ابوبکر کہتے ہیں:"رحراح، شیشے کے کھلے برتن کو کہتے ہیں، گہرے کو (رحراح ) نہیں کہتے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them · Hadith 124

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ الأَبوَابِ ، الأَوَانِیِّ اللَّوَاتِی یُتَوَضَّأُ فِیھِنَّ أَویُغتَسَلُ · حديث 125

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ يَدَيْهِ رِكْوَةٌ يَتَوَضَّأُ مِنْهَا، إِذْ جَهَشَ النَّاسُ نَحْوَهُ، قَالَ: فَقَالَ: "مَا لَكُمْ؟ " قَالُوا: مَا لَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ، وَلَا نَشْرَبُ إِلَّا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ قَالَ: "فَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي الرِّكْوَةِ، وَدَعَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ. قَالَ: فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ أَمْثَالَ الْعُيُونِ. قَالَ: فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا. قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً، وَلَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا.

"حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کو حدیبیہ والے دن پیاس لگی (جبکہ پانی نہیں تھا) اور رسو ل اللہﷺ کے سامنے چمڑے کا ایک چھوٹا ڈل رکھا تھا جس سے آپ وضو کررہے تھے اچانک لوگ پریشان ہو کر آپ کے پاس آکر عرض گزار ہوئے ، آپ نے پوچھا :"تمہیں کیا ہوا ہے ؟"انہوں نے عرض کی: ہمارے پاس وضو کرنے اور پینے کےلیے پانی نہیں ہے ۔ صرف یہی پانی ہے جو آپ کے سامنے رکھا ہے ۔ تو آپ نے اپن دست مبارک اس ڈول میں رکھے اور اللہ تعالیٰ کی مثیت کے مطابق دعا کی ، لہٰذا پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے چشموں کی مانند ابلنے لگا۔جابر کہتے ہیں: ہم ن (خوب سیر ہو کر پانی) پیا اور وضو کیا ۔ حضرت سالم کہتے ہیں: میں نے جابر ؓ سے عرض کی: آپ کتنے افراد تھے؟ انہوں نے فرمایا : ہم پندرہ سو تھے اور اگر ایک لاکھ افراد بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی ہوتا۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← حُصَيْنٍ ← هُشَيْمٌ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them · Hadith 125

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ الأَبوَابِ ، الأَوَانِیِّ اللَّوَاتِی یُتَوَضَّأُ فِیھِنَّ أَویُغتَسَلُ · حديث 126

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَعْبٍ صَغِيرٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ [21 - أ] فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: أَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَأَنْتُمْ؟ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِالْوَضُوءِ.

"حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس چمڑے کے بڑے اور موٹے ۔ دل کا چھوٹا برتن لایا گیا۔ تو آپ نے اس سے وضو کیا۔(جناب عمرو بن عامر کہتے ہیں) میں نے حضرت انسؓ سے پوچھا : کیا نبی اکرمﷺ ہر نماز کے وقت وضو کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ میں نے پوچھا: اور تم لوگ؟ انہوں نے فرمایا: ہم ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھا کرتے تھے۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them · Hadith 126

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ الأَبوَابِ ، الأَوَانِیِّ اللَّوَاتِی یُتَوَضَّأُ فِیھِنَّ أَویُغتَسَلُ · حديث 127

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَبَقِيتُ (2) رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَيْفَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ. فَبَالَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ نَامَ. ثُمَّ قَامَ وَأَطْلَقَ شِنَاقَ الْقِرْبَةِ، فَصَبَّ فِي الْقَصْعَةِ -أَوِ الْجَفْنَةِ- فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ، وَقَامَ يُصَلِّي. فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ، فَجِئْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ.

"حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ ؓ کے گھر رات گزاری ، میں رسول اللہﷺ کی تاک میں رہا کہ آپ رات کو کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ لہٰذا (رات کو) آپ ن پیشاب کیا ، پھر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر سوگئے ، پھر آپ (کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ) اٹھے اور مشکیزے کی رسی کھولی، اور بڑے پیالے یا ٹب میں پانی انڈیلا ، پھر آپ نے دو وضوں کے درمیان وضو کیا( نہ بہت اعلیٰ نہ بہت ہلکا ) اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنا شروع کردی، تو میں اٹھا اور میں نے بھی وضو کیا ، پھر میں آپ کی بائیں جانب آکر (کھڑا ہوگیا ) تو آپ نے مجھے (کان سے) پکڑ کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them · Hadith 127

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ الأَبوَابِ ، الأَوَانِیِّ اللَّوَاتِی یُتَوَضَّأُ فِیھِنَّ أَویُغتَسَلُ · حديث 128

حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ الْوَاسِطِيُّ (2)، ثَنَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ-، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِتَغْطِيَةِ الْوَضُوءِ، وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِكْفَاءِ الْإِنَاءِ (3). قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ أَوْقَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْمَ الْوَضُوءِ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي يُتَوَضَّأُ بِهِ. وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ الْعَرَبَ يُوقِعُ الِاسْمَ عَلَى الشَّيْءِ فِي الِابْتِدَاءِ عَلَى مَا يَؤُولُ إِلَيْهِ الْأَمْرُ فِي الْمُتَعَقَّبِ. إِذِ الْمَاءُ قَبْلَ أَنْ يُتَوَضَّأَ بِهِ إِنَّمَا وَقَعَ عَلَيْهِ اسْمُ الْوَضُوءِ، لِأَنَّهُ يَؤُولُ إِلَى أَنْ يُتَوَضَّأَ [بِهِ].

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں وضو (کے پانی ) کو ڈھانپنے ، مشکیزوں ( کے منہ رسی سے ) باندھنے ، اور(خالی) برتنوں کو الٹا کر کے رکھنے کا حکم دیا ہے ۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں :"نبی اکرمﷺ نے جس پانی سے وضو کیا جائے گا اسے وضو کا نام دیا ہے ۔ یہ اسی جنس سے ہے جسے میں اپنی کتابوں میں کئی مقامات پر بیان کر چکا ہوں کہ عرب کسی چیز کو ابتدا ہی میں وہ نام دے دیتے ہیں جو اسے کام کے اختتام پر ملنا تھا۔ کیونکہ پانی کو اس سے وضو کرنے سے پہلے ہی وضو کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ بالآخر اس سے وضو کیا جائے گا۔"

أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ بِتَغْطِيَةِ الْوَضُوءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ وَإِكْفَاءِ الْإِنَاءِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ-، ← أَبُو يُونُسَ الْوَاسِطِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them · Hadith 128

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ الأَبوَابِ ، الأَوَانِیِّ اللَّوَاتِی یُتَوَضَّأُ فِیھِنَّ أَویُغتَسَلُ · حديث 129

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ؛ وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو حُمَيْدٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَدَحِ مِنْ لَبَنٍ بِالْبَقِيعِ غَيْرِ مُخَمَّرٍ (4)، فَقَالَ: "أَلَا خَمَّرْتَهُ. وَلَوْ تَعْرِضُ عَلَيْهِ بِعُودٍ". قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: إِنَّمَا أَمَرَ بِالْأَبْوَابِ أَنْ يُغَلَّقَ لَيْلًا، وَإِنَّمَا أَمَرَ بِالْأَسْقِيَةِ أَنْ يُخَمَّرَ لَيْلًا. وَقَالَ الدَّارِمِيُّ: إِنَّمَا أَمَرَ بِالْآنِيَةِ أَنْ تُخَمَّرَ لَيْلًا، وَبِالْأَوْعِيَةِ أَنْ تُوكَأَ لَيْلًا. وَلَمْ يَذْكُرِ: الْأَبْوَابَ.

"حضرت ابوحمید ؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پا س نقیع سے بغیر ڈھانپے دودھ کا پیالہ لے کر آیا ، تو آپ نے فرمایا:"تم نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں؟ اگرچہ چوڑائی کے رخ لکڑی رکھ کر ہی ڈھانپتے۔ حضرت ابوحمید فرماتے ہیں : بلاشبہ آپ نے رات کے وقت دروازے بند کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اور رات کے وقت مشکیزوں کو ڈھانپنے کا حکم دیا ہے ۔ دارمی کی روایت میں ہے:"بلاشبہ آپ نے رات کے وقت برتنوں کو ڈھانپنے اور مشکیزوں کو باندھنے کا حکم دیا ہے ۔"اور دروازہ کا ذکر نہیں کیا۔"

"أَلَا خَمَّرْتَهُ. وَلَوْ تَعْرِضُ عَلَيْهِ بِعُودٍ". ← أَتَيْتُ النَّبِيَّ بِقَدَحِ مِنْ لَبَنٍ بِالْبَقِيعِ غَيْرِ مُخَمَّرٍ ← أَبُو حُمَيْدٍ: ← جَابِرًا ← أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them · Hadith 129

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ الأَبوَابِ ، الأَوَانِیِّ اللَّوَاتِی یُتَوَضَّأُ فِیھِنَّ أَویُغتَسَلُ · حديث 130

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ حَجَّاجٍ -يَعْنِي مُحَمَّدًا (1) - قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ؛ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: إِنَّمَا أَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَسْقِيَةِ أَنْ تُوكَأَ [21 - ب] لَيْلًا، وَبِالْأَبْوَابِ أَنْ تُغَلَّقَ لَيْلًا.

"حضرت ابوحمید ؓ فرماتے ہیں کہ بے شک نبی اکرم ﷺ نے رات کے وقت مشکیزوں کے منہ باندھنے اور دروازے بند کرنے کا حکم دیا ہے ۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ حَجَّاجٍ -يَعْنِي مُحَمَّدًا ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them · Hadith 130

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ الأَبوَابِ ، الأَوَانِیِّ اللَّوَاتِی یُتَوَضَّأُ فِیھِنَّ أَویُغتَسَلُ · حديث 131

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَغْلِقْ بَابَكَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ مُغْلَقًا، وَأَطْفِئْ مِصْبَاحَكَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَأَوْكِ سِقَاءَكَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ وَاذْكُرِ اللَّهَ، وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرُضُهُ عَلَيْهِ".

۔ "حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:" اسم اللہ "پڑھ کر اپنا دروازہ بند کرو، کیونکہ شیطان بند دروازہ نہیں کھولتا، "بسم اللہ "پڑھ کر اپنا چراغ بجھا دو، "بسم اللہ"پڑھ کر اپنا مشکیزہ باندھ دو، اور "بسم اللہ "پڑھ کر اپنا برتن ڈھانپ د واگرچہ اس پر اک لکڑی ہی چوڑائی کے رخ پر رکھ دو۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them · Hadith 131

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ الأَبوَابِ ، الأَوَانِیِّ اللَّوَاتِی یُتَوَضَّأُ فِیھِنَّ أَویُغتَسَلُ · حديث 132

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَغْلِقُوا أَبُوابَكُمْ، وَأَوْكُوا أَسْقِيَتَكُمْ، وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ، وَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ غَلَقًا، وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً، وَلَا يَكْشِفُ غِطَاءً، وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا أَضْرَمَتْ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ نَارًا. وَكُفُّوا فَوَاشِيَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى أَنْ تَذْهَبَ فَجْوَةُ الْعِشَاءِ".

"حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہﷺ نے فرمایا:"(رات کے وقت) اپنے درازے بند کرو ، مشکیزے باندھ دو، برتن ڈھانپ دو، چراغ بجھا دو ، کیونکہ شیطان بند (دروازہ ) نہیں کھولتا ، اور نہ رسی کھولتا ہے ، اور نہ ڈھکن اٹھاتا ہے ، اور بعض اوقات چوہیا گھرو الوں پر ان کے گھر کو آگ لگا کر جلا دیتی ہے ۔ اور اپنے جانوروں اور گھر والوں ( بچوں) کو غروب آفتاب سے لے کر عشاء کے اندھیرے چھا جانے تک روکے رکھو( انہیں باہر جانے کی اجازت نہ دو) امام صاحب فرماتے ہیں : ہمیں استاد یوسف نے بیان کیا کہ "فحوۃ العشاء"تصحیف ہے ، اصل لفظ "فجوۃ العشاء"ہے جس کے معنی "عشا کے اندھیروں کی شدت ہے ۔"امام ابوبکر فرماتے ہیں: "اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے برتن ڈھانپنے ، اور مشکیزوں کے منہ باندھنے کا حکم اس لیے دیا ہے کیونکہ شیطان مشکیزے کا سر بندھن نہیں کھولتا اور نہ برتن کا ڈھکن اٹھاتا ہے ، اس لیے کہ برتن ڈھانپنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے اور نہ اس لیے کہ برتن نہ ڈھانپنے سے پانی ناپاک ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے فرما یا ہے کہ شیطان جب مشکیزہ کھلا ہوا پاتا ہے تو اس سے پی لیتا ہے ۔ یہ اس بات کے مشابہ ہے کہ جب نبی اکرمﷺ نے مشکیزوں کے منہ باندھنے اور برتنوں کو ڈھانپنے کا حکم دیا اور بیان فرما دیا کہ شیطان کھلے مشکیزے سے پی لیتا ہے تو اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جب وہ برتن بغیر ڈھانپے ہوئے پائے گا تو اس سے بھی پی لے گا۔"امام صاحب فرماتے ہیں : ہمیں یہ حدیث بیان کی گئی ہے جو میں نے ذکر کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بیان کیا ہے کہ شیطان کھلا مشکیزہ پائے گا تو وہ اس سے پی لے گا۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← فِطْرِ بن خليفة ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them · Hadith 132

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ الأَبوَابِ ، الأَوَانِیِّ اللَّوَاتِی یُتَوَضَّأُ فِیھِنَّ أَویُغتَسَلُ · حديث 133

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن يحيى نا إسماعيل بن عبد الكريم الصنعاني أبو هشام نا إبراهيم بن عقيل بن معقل بن منبه عن أبيه عقيل عن وهب بن منبه قال هذا ما سألت عنه جابر بن عبد الله الأنصاري : وأخبرني أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول : أوكوا الأسقية وغلقوا الأبواب إذا رقدتم بالليل وخمروا الشراب والطعام فإن الشيطان يأتي فإن لم يجد الباب مغلقا دخله وإن لم يجد السقاء موكأ شرب منه وإن وجد الباب مغلقا والسقاء موكأ لم يحل وكأ ولم يفتح مغلقا وإن لم يجد أحدكم لإنائه ما يخمر به فليعرض عليه عودا وإنما بدأنا بذكر السواك قبل صفة الوضوء لبدء النبي صلى الله عليه وسلم به قبل الوضوء عند دخول منزله

"حضرت وہب بن منبہ کہتے ہیں :"یہ وہ حدیث یا مسئلہ ہے جو میں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے پوچھا اور انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے:"جب تم رات کو سونے لگو تو مشکیزوں کے سر بندھن باندھ دو اور دروازے اچھی طرح بند کر لو اور کھانے پینے ( کے برتنوں کو ڈھانپ لو کیونکہ شیطان آتا ہے تو اگر دروازہ بند نہ ہو تو وہ داخل ہوجاتا ہے ۔ اور اگر مشکیزہ بندھا ہوا نہ پائے تو اس سے پی لیتا ہے ۔ اور اگر وہ دروازے بند پائے اور مشکیزے کو بندھا ہوا پائے تو وہ رسی نہیں کھولتا اور نہ بند ( دروازہ )کھولتا ہے ۔ اور اگر تم میں سے کسی کو اپنا برتن ڈھانپنے کےلے کوئی چیز نہ ملے تو اس پر آڑی ترچھی لکڑی ہی رکھ دے۔"

هذا ما سألت عنه جابر بن عبد الله الأنصاري وأخبرني ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أبيه عقيل ← إبراهيم بن عقيل بن معقل بن منبه ← إسماعيل بن عبد الكريم الصنعاني أبو هشام ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them · Hadith 133

All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals