Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 301

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ -رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ-؛ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ، إِذْ سَمِعْتُ قَائِلًا يَقُولُ: خُذْ بَيْنَ الثَّلَاثَةِ، فَأُوتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، قَالَ: "فَشُرِحَ صَدْرِي إِلَى كَذَا وَكَذَا". قَالَ قَتَادَةُ: قُلْتُ: مَا يَعْنِي بِهِ؟ قَالَ: إِلَى أَسْفَلِ بَطْنِهِ - " فَاسْتُخْرِجَ قَلْبِي، فَغُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ أُعِيدَ مَكَانَهُ، ثُمَّ حُشِيَ إِيمَانَا وَحِكْمَةً. ثُمَّ أُوتِيتُ بِدَابَّةٍ أَبْيَضَ، يُقَالُ لَهُ: الْبُرَاقُ، فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَقَعُ [44 - ب] خُطَاهُ أَقْصَى طَرْفِهِ، فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ. ثُمَّ انْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا، وَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: مَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، [قِيلَ]: وَبُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَفُتِحَ لَنَا، قَالَ: مَرْحَبًا بِهِ، وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جاء. فَأَتَيْتُ عَلَى آدَمَ، فَقُلْتُ: فَقُلْتُ لَهُ: لَمْ يُرِدْ بِهِ، فَقُلْتُ لِأَنَسٍ، إِنَّمَا أَرَادَ فَقُلْتُ لِلْجَارُودِ.

"حضرت انس بن مالک سے روایت ہے اپنی قوم کے ایک شخص حضرت مالک بن صعصعہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ نے فرمایا:"اس اثنا میں کہ میں بیت اللہ کے پاس سونے اور بیدار ہونے کی درمیانی حالت میں تھا جب میں نے ایک کہنے والے کو کہتے ہونے سنا : تین میں سے درمیان والے کو لے لو۔ چنانچہ میرے پاس سونے کا ایک تھال لایا گیا جس میں آب زمزم تھا۔ آپ نے فرمایا : میرا سینہ یہاں سے یہاں تک کھولا گیا۔"قتادہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی: آپ کا سینہ پیٹ کے نچلے حصے تک چیرا گیا "تو میرا دل نکالا گیا، اسے آب زمزم سے دھویا گیا پھر اس سے اس کی جگہ لوٹا دیا گیا۔ پھر اسے ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا۔ پھر میرے پاس گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا ایک سفید جانور لایا گیا جسے براق کہا جاتا ہے مجھے اس پر سوار کیا گیا، پھر میں چل پڑا حتی کہ ہم آسمان دنیا پر پہنچ گئے ۔ جبرائیل ؑ نے دروازہ کھلوایا تو کہا گیا : کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل ؑ ہوں ۔ پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے ؟ جبرائیل ؑ نے جواب دیا: ہاں۔ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا(فرشتوں نے) کہا :خوش آمدید ، آپ کا تشریف لانا مبارک ہو۔ پھر میں آدمﷺ کے پاس آیا تو میں نے پوچھا:اے جبرائیل یہ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا: یہ آپ کے والد بزرگوار آدمؑ ہیں۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے فرمایا: نیک بیٹے اور نیک بخت نبی کو خوش آمدید۔ فرمایا: پھر ہم چلتے رہے حتی کہ دوسرے آسمان پر آگئے ۔ جبرائیل نے دروازہ کھلوایا، کہاگیا کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا: اور آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جواب دیا کہ محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا : کہ انہیں بلایا گیا ہے ؟ کہا: ہاں۔ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا(فرشتوں نے) کہا: خوش آمدید ، آپ کا آنا مبارک ہو۔ پھر میں حضرت یحییٰ اور عیسیٰ ؑ کے پاس گیا تو میں نے کہا: اے جبرائیل یہ کون حضرات ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : یحییٰ اور عیسیٰؑ ہیں۔ سعید کہتے ہیں کہ میرے خیال میں انہوں نے اپنی روایت میں کہا تھا:"دو خالہ زاد بھائی"تو میں نے کہا ان دونوں کو سلام کیا۔"او رانہوں نے فرمایا:نیک بھائی اور برگذیدہ نبی کو خوش آمدید ۔ آپ نے فرمایا : پھر ہم چلتے ہوئے تیسرے آسمان پر پہنچے تو جبرائیل ؑ نے دروازہ کھلوایا تو کہا گیا: کون ہے : انہوں نے جواب دیا: جبرائیل ہوں ۔ پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا:محمد(ﷺ) ہیں۔ پوچھا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں ۔ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا اور فرشتوں نے کہا: خوش آمدید ، خوش آمدید ، آپ نے فرمایا: پھر میں حضرت یوسف ؑ کے پاس آیا تو میں نے انہیں سلام کیا۔ تو انہوں نے فرمایا : نیک نبی اور صالح بھائی کو خوش آمدید۔ پھر ہم چوتھے آسمان کی طرف چل پڑے وہاں بھی جبرائیل اور دربانوں کو سابقہ کلام کی طرف بات چیت ہوئی۔ پھر میں حضرت ادریس ؑ کے پاس آیا تو میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے فرمایا: صالح بھائی اور برگزدیہ نبی کو خوش آمدید۔ پھر ہم پانچویں آسمان پر پہنچے تو میں حضرت ہارون ؑ کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا ۔ تو انہوں نے فرمایا : نیک بخت بھائی اور صالح نبی کو خوش آمدید ۔ پھر ہم چھٹے آسمان کی طرف چل پڑے ۔پھر میں موسیٰ کے پاس آیا ۔ ان سب پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے فرمایا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے ۔ فرمایا: پھر میں سدرۃ المنتہی کی طرف لوٹ آیا۔ اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ اس ( بیری) کے بیر ہجر بستی کے مٹکوں جیسے ہیں ۔ اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ آپ نے چار نہریں سدرہ کی جڑ سے نکلتی بیان فرمایا کہ آپ نے چار نہریں سدرہ کی جڑ سے نکلتی ہوئی دیکھیں ۔ دو نہریں ظاہری ہیں اور دو باطنی ہیں۔ تو میں نے پوچھا : اے جبرائیل! یہ نہریں کیسی ہیں؟ انہوں نےجواب دیا: یہ دو باطنی (ڈھانپی ہوئی) نہریں تو جنت میں گئی ہین۔ اور یہ دو ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں ۔ پھر ہمارے لیے بیت المعمور بلند کر دیا گیا ۔ میں نے کہا : جبرائیل ؑ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ بیت المعمور ہے ۔ ہر روز ستر ہزار فرشتے اس میں داخل ہوتے ہیں۔ جب وہ اس سے نکل جاتے ہیں تو پھر دوبارہ کبھی اس میں نہیں لوٹتے ۔ آپ نے فرمایا: پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے ایک میں شراب اور دوسرے میں دودھ تھا۔ دونوں برتن مجھے پیش کیے گئے تو میں نے دودھ کو اختیار کیا۔ تو مجھے کہا گیا:آپ نے ٹھیک انتخاب کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آ پ کو خیر بھلائی والی چیز اختیار کرنے کی راہنمائی کی ہے ۔ آپ کی امت بھی آپ کی پیروی کرے گی۔ پھر مجھ پر ہر روز پچاس نمازیں فرض کی گئی ،میں انہیں لے کر حضرت موسیٰ ؑ کے پاس پہنچا تو انہوں نے پوچھا : آپ کو کس چیز کا حکم دیا گیا ہے ؟ میں نے کہا: ہر روز پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا: بے شک آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی، میں نے آپ سے پہلے بنی اسرائیل کو آزمایا ہے اور انہیں بڑی اچھی طرح پرکھا ہے ( ان کی اصلاح کی بھرپو کو شش کی ہے ) آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور اپنی امت کےلیے تخفیف کا مطالبہ کریں۔ میں واپس گیا( اور کمی کا مطالبہ کیا ) تو مجھ سے پانچ نمازیں کم کردی گئیں پھر میں مسلسل اپنے رب اور موسیٰؑ کے درمیان چکر لگا تا رہا ، اللہ تعالیٰ مجھے کمی سے نوازتے رہے اور موسیٰؑ مجھے( مزید) کمی کا مطالبہ کرنے کا کہتے رہے ۔ حتی کہ میں ہر روز پانچ نمازوں کی ادائیگی کا حکم لے کر لوٹ آیا۔ انہوں نے فرمایا: بے شک آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ، میں نے آپ سے پہلے بنی اسرائیل کو آزمایا ہے اور بنی اسرائیل کا بڑا سخت امتحان لیا ہے ۔ آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور اپنی امت کےلیے کمی کا سوال کریں۔ آپ نے فرمایا: میں رب کے پاس متعدد بار گیا ہوں حتی کہ مجھے شرم آنے لگی ہے ۔ لہٰذا اب میں راضی ہوں اور ( اس حکم کو) تسلیم کرتا ہوں ۔ مجے آواز دی گئی : بے شک میں نے اپنا فریضہ جاری کر دیا ہے اور اپنے بندوں سے تخفیف کر دی ہے اور ہر نیکی کا ثواب دس گنا کر دیا ہے ۔

مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 301

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 302

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن يحيى نا عفان بن مسلم نا همام بن يحيى العوذي ثم المحملي قال : سمعت قتادة يحدث عن أنس بن مالك أن مالك بن صعصعة حدثهم : أن النبي صلى الله عليه وسلم حدثهم عن ليلة أسري به فذكر الحديث بطوله وقال قتادة : فقلت للجارود وهو إلى جنبي : ما يعني به ؟ قال من ثغرة نحره إلى شعرته وقد سمعته يقول : من قصته إلى شعرته فذكر محمد بن يحيى الحديث بطوله قال أبو بكر : هذه اللفظة دالة على أن قول قتادة في خبر سعيد : فقلت له لم يرد به فقلت لأنس إنما أراد فقلت للجارود

"حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ حضرت مالک بن صعصہ ؓ نے انہیں حدیث بیاان کی کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں اسراء والی رات کے متعلق بیان فرمایا : پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ قتادہ ؒ کہتے ہیں : میں نے جارود ؒ سے پوچھا جبکہ وہ میرے پہلو تشریف فرما تھے، اس سے آپ کی کیا مراد ہے ( کہ میرا سینہ یہاں سے یہاں تک کھولا گیا) انہوں نے فرمایا:"( اس کا مطلب ہے کہ) آپ کا سینہ کھولا گیا۔"اور میں نے انہیں یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ آپ کے سینے کے بالوں سے لے کر (زیر ناف) بالوں تک کھولا گیا۔ پھر محمد بن یحییٰ نے مکمل حدیث بیان کی ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں : اس حدیث کے الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ حضرت سعید کی روایت میں قتادہ ؒ کا یہ کہنا ہے:"فقلت لہ"میں نے ان سے کہا:"اس سے مراد یہ نہیں کہ انہوں نے حضرت انس سے کہا تھا بلکہ ان کی اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے جارود سے کہا تھا۔"

أنس بن مالك أن مالك بن صعصعة ← قَتَادَةَ ← همام بن يحيى العوذي ثم المحملي ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 302

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 303

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ، نَا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: إِنَّ الصَّلَاةَ أَوَّلَ مَا افْتُرِضَتْ رَكْعَتَيْنِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ، وَأُتِمَّتْ صَلَاةُ الْحَضَرِ. فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ: فَمَا لَهَا كَانَتْ تُتِمُّ؟ فَقَالَ: "إِنَّهَا تَأَوَّلَتْ مَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِمِثْلِهِ. غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي كُلِّهَا: عَنْ.

"حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک ابتداء میں نماز دو رکعت فرض ہوئی تھی پھر سفر کی نماز ( دو رکعت ) برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز (چار رکعت ) مکمل کر دی گئی۔"تو میں نے عروہ سے کہا: پھر کیا وجہ ہے کہ آپ (سفر میں) پور ی نماز ادا کرتی ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: وہ حضرت عثمان ؓ کی تاویل جیسی تاویل کرتی تھیں ۔ امام صاحب اپنے استاد سعید بن عبدالرحمٰن مخزومی کی سند مذکورہ روایت ہی کی طرح بیان کرتے ہیں: مگر اس میں "سمع ، اخبرنی"کی بجائے تمام جگہ"عن "سے روایت کی گئی ہے "

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 303

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 304

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ (1)، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَرَضَ اللَّهُ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً.

"حضرت ابن عباس ؓ یبان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی اکرم ﷺ کی زبانی حضر میں چار رکعت اور سفر میں دو رکعت اور خوف میں ایک رکعت نماز فرض کی ہے ۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← بُکَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 304

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 305

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ الْمُقْرِئُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ -قَالَ أَحْمَدُ: أَخْبَرَنَا- وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ، نَا دَاوُدُ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ-، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فَرْضُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَالْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ زِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ، وَتُرِكَتْ صَلَاةُ الْفَجْرِ لِطُولِ الْقِرَاءَةِ، وَصَلَاةُ الْمَغْرِبِ لِأَنَّهَا وِتْرُ النَّهَارِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَمْ يُسْنِدْهُ أَحَدٌ أَعْلَمُهُ غَيْرُ مَحْبُوبِ بْنِ الْحَسَنِ. رَوَاهُ أَصْحَابُ دَاوُدَ، فَقَالُوا: عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ خَلَا مَحْبُوبِ بْنِ الْحَسَنِ.

"حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں:(ابتدائے اسلام میں) سفر اور حضر کی نماز دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں ۔ پھر جب رسول اللہﷺ مدینہ منورہ میں مقیم ہوگئے تو حضر کی نماز میں دو دو رکعت زیادہ کر دی گئیں اور نماز فجر کی لمبی قراءت کی وجہ سے ( پہلی حالت ہی) پر چھوڑ دیا گیا۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ۔ میرے علم کے مطابق اسے محبوب بن حسن کے سوا کسی راوی نے مسند بیان نہیں کیا۔ اس روایت کو داؤد کے شاگردوں نے بیان کرتے ہوئے عن الشعبی عن عائٰشۃ کہا ہے ( یعنی انہوں نے شعبی کے استاد مسروق کو ذکر نہیں کیا ) جبکہ محبوب بن حسن نے ( مسروق کا نام لے کر ) سند کو متصل بیان کیا ہے ۔"

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ الْمُقْرِئُ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 305

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 306

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، نَا أَبُو سُهَيْلٍ -وَهُوَ عَمُّ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ- عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -وَهُوَ ثَائِرُ الرَّأْسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ؟ قَالَ: "الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ؛ إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا". قَالَ: أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الزَّكَاةِ؟ قَالَ: فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَرَائِعِ الْإِسْلَامِ. قَالَ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا، وَلَا أَنْقُصُ (1) شَيْئًا مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ -أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ-".

"حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے ، اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نمازوں میں سے کیا فرض کیا ہے ؟ آ نے فرمایا : پانچ نمازیں ہیں الایہ کہ تم کوئی نفلی نماز پڑھ لو۔ اس نے کہا: مجھے بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر زکوٰۃ میں سے کیا فرض کیا ہے ؟ کہا: تو رسو ل اللہ ﷺ نے اسے ( زکوٰۃ) کے متعلق اسلامی احکام بتائیے ۔ اس نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو معزز ومکرم بنایا ہے میں نفلی کام بالکل نہیں کروں گا اور جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فرض کیا ہے میں اس میں کوئی کمی نہیں کروں گا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کے باپ کی قسم : اگر اس نے سچ کہا تو کامیاب ہوگیا۔ یا فرمایا: اس کے باپ کی قسم : اگر اس نے سچ کہا تو جنت میں داخل ہوجائے گا۔"

أَبِيهِ ← أَبُو سُهَيْلٍ وَهُوَ عَمُّ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 306

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 307

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ؛ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا أَبُو عَامِرٍ، نَا قُرَّةُ جَمِيعًا عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ -وَهُوَ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ- قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ جَرَّةً لِي أَنْتَبِذُ لي فِيهَا فَأَشْرَبُ مِنْهُ، فَإِذَا أَطَلْتُ الْجُلُوسَ مَعَ الْقَوْمِ خَشِيتُ [46 - أ] أَنْ أَفْتَضِحَ مِنْ حَلَاوَتِهِ. قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: "مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ، غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الْأَشْهُرِ الْحُرُمِ، فَحَدِّثْنَا جُمَلًا مِنَ الْأَمْرِ إِذَا أَخَذْنَا عَمِلْنَا بِهِ دَخَلْنَا (2) بِهِ الْجَنَّةَ. وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا. قَالَ: "آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ"؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغَانِمِ. وَأَنْهَاكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي الدُّبَّا، وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ.

"حضرت ابوجمرہ نصر بن عمران ؒ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا: میرے پاس ایک گھڑا ہے جس میں میں نبیذ بناتا ہوں ۔ اور اس سے پیتا ہوں ۔ پھر جب میں لوگوں کے پاس دیر تک بیٹھتا ہوں تو اس کی حلاوت کی وجہ سے رسوائی اور بدنامی سے ڈرتا ہوں ( کہ لوگ خیال کریں گے کہ یہ نشہ ہے ) انہوں نے فرمایا: عبدالقیس کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: وفد کو خوش آمدید ، نہ ذلیل وخوار ہوئے اور نہ شرمندہ و نادم ہوئے(یعنی خوشی سے مسلمان ہو کر معزز ہوئے) تو انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! بے شک ہمار ے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے مشرک (حائل ہیں ۔ اور ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں ہی میں آسکتے ہیں ۔ لہٰذا آپ ہمیں دین کے جملہ احکام بیان فرمائیں کہ جب ہم انہیں حاصل کر کے ان کے مطابق عمل کر لیں ( یا جب ہم میں سے کوئی شخص ان کے مطابق عمل کر لے ) تو جنت میں داخل ہو جائے اور ہم اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی ان کی دعوت دیں۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں چار چیز وں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں ۔ کیا تمہیں پتہ ہے کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی بخوبی جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اور نماز قائم کرنا ، اور زکوٰۃ ادا کرنا ، اور رمضان کے روزے رکھنا اور غنیمتوں میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا ۔ اور میں تمہیں کدو کے برتن ، کریدی ہوئی لکڑی کے برتن ، سبز لا کھی مرتبان اور تار کول لگے برتن میں نبیذ بنانے سے منع کرتا ہوں۔"

أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ -وَهُوَ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ- ← قُرَّةُ جَمِيعًا ← أَبُو عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 307

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 308

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ حَنْظَلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدِ بْنِ الْعَاصِ يُحَدِّثُ طَاوُسًا: أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَلَا تَغْزُو؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ، وَحَجِّ الْبَيْتِ".

"حضرت عکرمہ بن خالد بن عاص ؒ حضرت طاووس کو بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا: کیا آپ جہاد نہیں کریں گے تو عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا : بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور نماز قائم کرنا ، اور زکوٰۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: إِنِّي ← لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَلَا تَغْزُو؟ ← طَاوُسًا: أَنَّ رَجُلًا ← عكرمة بن خالد بن العاص ← حَنْظَلَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 308

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 309

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، نَا أَبُو النَّضْرِ، نَا عَاصِمٌ -وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ-، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، نَا عَاصِمٌ، أَخْبَرَنِي وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: بِمِثْلِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذَا الْحَدِيثِ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ.

"حضرت ابن عمر ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور محمد ( ﷺ ) اللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا ، اور زکوٰۃ ادا کرنا اور بیت اللہ شریف کا حج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔"امام ابوبکر ؒ اپنے استاد محمد بن یحییٰ کی سند سے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مذکورہ بالا روایت کی طرح روایت بیان کی ۔ امام ابوبکر کہتے ہیں : میں نے اس حدیث کے طرق کتاب الایمان میں بیان کیے ہیں ۔"

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَاصِمٌ -وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ-، ← أَبُو النَّضْرِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 309

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 310

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ الْمِصْرِيُّ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا وَنَاسًا مَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُونَ: كَانَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَكَانَ أَحَدُهُمَا أَفْضَلَ مِنَ الْآخَرِ. فَتُوُفِّيَ الَّذِي هُوَ أَفْضَلُهُمَا". ثُمَّ عَمَّرَ الْآخَرُ بَعْدَهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ تُوُفِّيَ [46 - ب] فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضِيلَةُ الْأَوَّلِ عَلَى الْآخَرِ. فَقَالَ: "أَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي؟ " قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَانَ لَا بَأْسَ بِهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَمَا يُدْرِيكُمْ مَاذَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَاتُهُ. إِنَّمَا مَثَلُ الصَّلَاةِ كَمَثَلِ نَهَرٍ بِبَابِ رَجُلٍ غَمْرٍ عَذْبٍ، يَقْتَحِمُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، فَمَا تَرَوْنَ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ! لَا تَدْرُونَ مَاذَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَاتُهُ ".

"حضرت عامر بن سعد بن وقاص ؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد اور اصحاب رسول سے سنا وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں دو شخص بھائی تھے ۔ ان میں سے ایک دوسرے سے ( دین میں ) افضل و بہتر تھا پھر ان میں سے افضل شخص فوت ہو گیا۔ پھر دوسرا شخص اس کے بعد چالیس راتیں زندہ رہنے کے بعد فوت ہوگیا ۔ تو رسول اللہ ﷺ کے سامنے پہلے بھائی کی فضیلت دوسرے بھائی پر ذکر کی گئی تو آپ ن فرمایا: کیا( دوسرا بھائی) نماز نہیں پڑھتا تھا؟ صحابہ کرام نے عرض کی : کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول وہ ایک اچھا مسلمان تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تو تمہیں کیا معلوم کی اس کی نماز نے اس کو کس مقام مرتبہ پر پہنچا دیا ہے ۔ بے شک نماز کی مثال کسی شخص کے دروازے پر چلنے والی میٹھے پانی سے بھر پور نہر جیسی ہے وہ اس میں ہر روز (غسل کرنے کےلیے ) پانچ مرتبہ داخل ہوتا ہے ۔ تمہارا کیاخیال ہے اس کی میل کچیل باقی رہ جائے گی ؟ تمہیں کیا معلوم اس کی نماز نے اسے کی شاندار مقام پر پہنچا دیا ہے "

عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← عيسى بن إبراهيم الغافقي المصري ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 310

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 311

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ بِالْإِسْكَنْدَرِيَّةِ، نَا الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ-، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ - وَهُوَ شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ-، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ. فَأَعْرَضَ عَنْهُ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ. فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ. قَالَ: "هَلْ تَوَضَّأْتَ حِينَ أَقْبَلْتَ؟ " قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "وَصَلَّيْتَ مَعَنَا؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " اذْهَبْ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ عَفَا عَنْكَ ".

"حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاض ہوا تو اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول : میں نے حد کا ارتکاب کیا ہے تو مجھ پر حد قائم کر دیں ۔ تو آپ نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اور ( پھر ) نماز کھڑی ہو گئی ۔ تو رسو ل اللہ ﷺ نے نماز ادا کی ، پھر جب سلام پھیرا تو اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں نے حد کا ارتکاب کیا ہے تو مجھ پر قائم فرمادیں ۔ آپ نے فرمایا: جب تم آئے تھے تو کیا وضو کیا تھا ؟ اس نے کہا : ہاں آپ نے فرمایا: جاؤ (چلے جاؤ) بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں معاف کر دیا ہے ۔"

أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ فَقَالَ: ← أَبُو أُمَامَةَ ← أَبُو عَمَّارٍ وَهُوَ شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ-، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ بِالْإِسْكَنْدَرِيَّةِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 311

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 312

أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ، نَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ إِمَّا قُبْلَةً -أَوْ مَسًّا بِيَدٍ -أَوْ شَيْئًا، كَأَنَّهُ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا. قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ -عَزَّ وَجَلَّ-: (وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ) [هود: 114]. قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: أَلِي هَذِهِ؟ قَالَ: "هِيَ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَاهُ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، [47 - أ] حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ -وَهُوَ التَّيْمِيُّ- بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ قُبْلَةً، وَلَمْ يَشُكَّ، وَلَمْ يَقُلْ: كَأَنَّهُ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا.

"حضرت ابن مسعود ﷺ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اس نے بتایا کہ اس نے کسی عورت کا بوسہ لیا ہے یا ہاتھ سے اسے چھوا ہے یا کچھ اور کام کیا ہے ۔ گویا کہ وہ آپ سے اس کا کفارہ پوچھ رہا تھا ۔ کہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی( وَأَقِمِ الصَّلَاۃَ طَرَفَیِِ النَّھَارِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذَّا کِرِیْنَ)"دن کے دونوں سروں اور رات کی گھڑیوں میں نماز قائم کرو۔ یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں ۔ یہ نصیحت پکڑنے والوں کے لیے "کہتے ہیں : تو اس شخص نے پوچھا: کیا یہ صرف میرے لیے ہے ؟ آپ نے فرمایا: یہ میرے ہر امتی کےلیے ہے جو اس پر عمل کرے ۔"امام ابوبکر نے سلیمان تمیمی کی سند سے مذکورہ بالا روایت ہی کی طرح روایت بیان کی ہے ۔ اس میں ہے اس نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے اس میں شک کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔ اور نہ یہ الفاظ روایت کیے ہیں کہ : گویا کہ وہ اس کا کفارہ پوچھ رہا تھا۔"

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 312

chevron_left Previous
1234…41
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals