صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1488
أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا عمران بن موسى القزاز بخبر غريب غريب نا عبد الوارث نا عبد العزيز - وهو ابن صهيب - عن أنس بن مالك قال : لم يخرج إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثا فأقيمت الصلاة فذهب أبو بكر يصلى بالناس فرفع النبي صلى الله عليه وسلم الحجاب فما رأينا منظرا أعجب إلينا منه حيث وضح لنا وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فأوما رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أبي بكر أن تقدم وأرخى نبي الله صلى الله عليه وسلم الحجاب فلم نوصل إليه حتى مات صلى الله عليه وسلم قال أبو بكر : هذا الخبر من الجنس الذي كنت أعلمت أن الإشارة المفهومة من الناطق قد تقوم مقام المنطق إذا النبي صلى الله عليه وسلم أفهم الصديق بالإشارة إليه أنه أمره بالإمامة فاكتفى بالإشارة إليه عند النطق بأمره بالإقامة
" حضرت انسا بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تین روز تک (نماز پڑھانے کے لیے) ہمارے پاس تشریف نہ لائے، پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے، (اسی دوران میں) نبی کریم ﷺ نے پردہ ہٹایا، تو رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کے نظر آنے والے منظر سے زیادہ پسندیدہ منظر ہم نے نہیں دیکھا۔" پس رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اشارہ فرمایا کہ آگے بڑھو ( اور نماز پڑھاؤ) پھر نبی کریم ﷺ نے پردہ لٹکایا اور ہم اپ ﷺ کی وفات تک آپ کے پاس نہیں پہنچ سکے۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں کہ یہ روایت اس قسم سے تعلق رکھتی ہے جسے میں نے بیان کی ہے کہ سمجھا جانے والا اشارہ کبھی کلام کے قائم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اشارے سے سمجھا دیا کہ آپ نے انہیں امامت کرانے کا حکم دے رہے ہیں۔ لہٰذا آپ نے بول کر نماز پڑھانے کا حکم دینے کی بجائے صرف اشارے کو کافی سمجھا ہے۔"
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← عمران بن موسى القزاز بخبر غريب غريب ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1488
