Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ الضُّحٰی وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1221

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، نَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- نَا مُحَمَّدٌ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ- عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: أَوْصَانِي حبيبي بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَبَدًا، أَوْصَانِي بِصَلَاةِ الضُّحَى، وَبِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَبِصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ.

حضرت ابو ذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے خلیل ﷺ نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی ، میں انہیں کبھی ترک نہیں کروں گا ۔ ان شا اللہ۔ آپ نے مجھے نماز چاشت ادا کرنے کی وصیت فرمائی۔ اور سونے سے پہلے وتر ادا کرنے کی وصیت کی اور ہر مہینے تین روزے رکھنے کی وصیت فرمائی۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← مُحَمَّدٌ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ- ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it · Hadith 1221

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ الضُّحٰی وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1222

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ، بِصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَلَا أَنَامُ إِلَّا عَلَى الْوِتْرِ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى.

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے خلیل ﷺ نے مجھے تین کاموں کی وصیت فرمائی۔ ہر مہینے تین روزے رکھنے ، اور یہ کہ میں وتر پڑھ کر سویا کروں ، اور چاشت کی دو رکعات پڑھنے کی وصیت فرمائی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it · Hadith 1222

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ الضُّحٰی وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1223

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، ثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ- عَنِ الْعَوَّامِ -هُوَ ابْنُ حَوْشَبٍ- حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ لَسْتُ بِتَارِكِهِنَّ، أَنْ لَا أَنَامُ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَأَنْ لَا أَدَعَ رَكْعَتَيِ الضُّحَى فَإِنَّهَا صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ.

حضرت ابو ہریعہؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے دوست اور خلیل ﷺ نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ، میں انہیں نہیں چھوڑوں گا ، یہ کہ میں وتر پڑھ کر سویا کروں، اور یہ کہ میں نماز چاشت کی دو رکعات کو ترک نہ کروں کیونکہ وہی نماز اوا بین ہے۔ اور ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کی وصیت فرمائی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ← العوام هو ابن حوشب ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ-، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it · Hadith 1223

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ الضُّحٰی وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1224

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ الرَّقِّيُّ بِبَغْدَادَ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يُحَافِظُ عَلَى صَلَاةِ الضُّحَى إِلَّا أَوَّابٌ". قَالَ: "وَهِيَ صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يُتَابَعْ هَذَا الشَّيْخُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى إِيصَالِ هَذَا الْخَبَرِ. رَوَاهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ مُرْسَلًا؛ وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَوْلَهُ.

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز چاشت کی حفاظت اور اہتمام صرف اداب (بہت زیادہ توبہ کرنے والا شخص) ہی کرتا ہے اور فرمایا کہ اور یہی نماز اوابین ہے۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : اس خبر کو موصول بیان کرنے میں شیخ اسماعیل بن عبداللہ کی متابعت کسی راوی نے نہیں کی ۔ اس روایت کو دراوردی نے محمد بن عمرو کے واسطے سے حضرت ابو سلمہ سے مرسلا بیان کیا ہے اور حماد بن سلمہ نے بھی محمد بن عمرو کے واسطے سے حضرت ابو سلمہ کے قول کی حیثیت سے بیان کیا ہے ۔(یعنی اسے موقوف بیان کیا ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ الرَّقِّيُّ بِبَغْدَادَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it · Hadith 1224

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ الضُّحٰی وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1225

نَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا مَهْدِيٌّ -وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ- عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "يُصْبِحُ أَحَدُكُمْ وَعَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْهُ صَدَقَةٌ. فَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ وَتَحْمِيدَةٍ، وَتَكْبِيرَةٍ، وَتَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ، وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ، وَتُجْزِئُ مِنْ كُلِّ ذَلِكَ رَكْعَتَا الضُّحَى".

حضرت ابو ذر ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص صبح کرتا ہے تو اس کے ہر جوڑ پر صدقہ واجب ہو تا ہے چنانچہ ہر تحلیل(لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ) ، ہر تحمید (اَلَحَمدُلِلہِ)اور تکبیر (اَللہُ اَکْبَر)اور(ہرتسبیح سبحان اللہ)کہنا صدقہ بن جاتا ہے ۔ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ بن جاتا ہے اور ان سب سے چاشت کی دو رکعت کفایت کر جاتی ہیں۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← یَّحْیَی بْنِ عَقِیلٍ ← وَاصِلٍ، ← مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it · Hadith 1225

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ الضُّحٰی وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1226

نَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبي بُرَيْدَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "فِي الْإِنْسَانِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ مَفْصِلًا، فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ مِنْهُ صَدَقَةً". قَالَ: وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: "النُّخَامَةُ فِي الْمَسْجِدِ تَدْفِنُهَا، أَوِ الشَّيْءُ تُنَحِّيهِ عَنِ الطَّرِيقِ. فَإِنْ لَمْ تَقْدِرْ فَرَكْعَتَا الضُّحَى تُجْزِئُكَ".

حضرت بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو سنا، آپ فرما رہے تھے: ہر انسان کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں۔ اس پر واجب ہے کہ وہ ہر جوڑ کا صدقہ ادا کرے انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی (اتنا زیادہ) صدقہ کرنے کی طاقت کون رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا مسجد میں پڑی بلغم کو دفنا دے یا راستے سے (تکلیف دہ) کوئی چیز ہٹا دے، اگر تو یہ بھی نہ کر سکے تو چاشت کی دو رکعت تجھے کفایت کر جائیں گی۔

الطَّرِيقِ. فَإِنْ لَمْ تَقْدِرْ فَرَكْعَتَا الضُّحَى تُجْزِئُكَ". ← "النُّخَامَةُ فِي الْمَسْجِدِ تَدْفِنُهَا، أَوِ الشَّيْءُ تُنَحِّيهِ ← وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ ← كُلِّ مَفْصِلٍ مِنْهُ صَدَقَةً". ← "فِي الْإِنْسَانِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ مَفْصِلًا، فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبي بُرَيْدَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← أَبِيهِ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it · Hadith 1226

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ الضُّحٰی وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1227

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، نَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- نَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ يُصَلُّونَ الضُّحَى فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ حِينَ أَشْرَقَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ". وَثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

زید بن ارقم کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ ایک قوم پر نکلے اس حال میں کہ وہ لوگ مسجد قبا میں سورج چڑھنے کے بعد چاشت کی نماز ادا کر رہے تھے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اوابین کی نماز اس وقت (پڑھنی چاہیے) ہے جب اونٹنی کا بچہ تپش محسوس کرے۔ امام ابو بکر نے زید بن ارقم سے دوسری سند کے ساتھ بھی اسی طرح کی حدیث بیان کی ۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it · Hadith 1227

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ الضُّحٰی وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1228

نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، نَا عَمِّي، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ- عَنْ بُكَيْرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَنَسٍ؛ وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، نَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، نَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيِّ، حَدَّثَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: "إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ، فَسَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً: سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَقْتُلَ أُمَّتِي بِالسِّنِينَ فَفَعَلَ؛ وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ فَفَعَلَ؛ وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا فَأَبَى عَلَيَّ"، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: "أَنْ لَا يَبْتَلِيَ أُمَّتِي بِالسِّنِينَ".

انس بن مالک فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو سفر کے دوران آٹھ رکعات چاشت کی نمازپڑھتے دیکھا چنانچہ جب آپ نماز مکمل کر کے پھرے تو فرمایا: میں نے یہ نماز ڈرتے ہوئے اور رغبت کرتے ہوئے پڑھی ہے ، میں نے اپنے پرودگار سے تین چیزیں مانگی ہیں ۔تو اس نے دو عطا کر دی ہیں اور ایک روک لی ہیں ، میں نے پہلی چیز یہ مانگی کہ اللہ میری امت کو قحط سالی سے ہلاک مت کرنا، اللہ تعالی نے دعا قبول فرمائی ۔ دوسری چیز رب تعالی سے یہ مانگی کہ میری امت پر ان کے دشمن کو غلبہ مت دینا ، اللہ تعالی نے ایسا ہی کیا (یعنی دعا قبول فرمائی) تیسری چیز یہ مانگی کہ اللہ تعالی نے انہیں مختلف فرقوں میں تقسیم نہ فرما نا تو یہ بات مجھ پر اللہ نے رد کر دی ۔ جناب احمد بن عبدالرحمن کے الفاظ ہیں کہ اللہ میری امت کی آزمائش قحط سالی کے ساتھ نہ کرنا۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ فِي سَفَرٍ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِ رَكْعَاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الضحاك بن عبد الله القرشي ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ← أَنَسٍ، ← الضَّحَّاكِ الْقُرَشِيِّ ← بُكَيْرٍ، ← عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it · Hadith 1228

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ الضُّحٰی وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1229

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ، نَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي الضُّحَى إِلَّا أَنْ يَقْدَمَ مِنْ غَيْبَةٍ.

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ صرف سفر سے واپسی پر ہی نماز چاشت ادا کیا کرتے تھے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it · Hadith 1229

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ الضُّحٰی وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1230

ثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ -وَهُوَ ابْنُ شَقِيقٍ- عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى قَطُّ إِلَّا أَنْ يَقْدَمَ مِنْ سَفَرٍ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ ابْنِ عُمَرَ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ الْمُخْبِرَ وَالشَّاهِدَ الَّذِي يَجِبُ قَبُولُ خَبَرِهِ وَشَهَادَتِهِ مَنْ يُخْبِرُ بِرُؤْيَةِ الشَّيْءِ وَسَمَاعِهِ وَكَوْنِهِ، لَا مَنْ يَنْفِي الشَّيْءَ، وَإِنَّمَا يَقُولُ الْعُلَمَاءُ لَمْ يَفْعَلْ فُلَانٌ كَذَا وَلَمْ يَكُنْ كَذَا عَلَى الْمُسَامَحَةِ وَالْمُسَاهَلَةِ فِي الْكَلَامِ، وَإِنَّمَا يُرِيدُونَ أَنَّ فُلَانًا لَمْ يَفْعَلْ كَذَا عِلْمِي، وَإِنَّ كَذَا لَمْ يَكُنْ عِلْمِي. وَابْنُ عُمَرَ إِنَّمَا أَرَادَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي الضُّحَى إِلَّا أَنْ يَقْدَمَ مِنْ غَيْبَةٍ، أَيْ لَمْ أَرَهُ صَلَّى، وَلَمْ يُخْبِرْنِي ثِقَةٌ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الضُّحَى إِلَّا أَنْ يَقْدَمَ مِنْ غَيْبَةٍ. وَهَكَذَا خَبَرُ عَائِشَةَ، رَوَاهُ كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ وَالْجُرَيْرِيُّ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ. حَدَّثَنَاهُ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، نَا كَهْمَسٌ، ح وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسٍ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، نَا الْجُرَيْرِيُّ؛ ح وَثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَهَذِهِ اللَّفْظَةُ الَّتِي فِي خَبَرِ كَهْمَسٍ وَالْجُرَيْرِيِّ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ أَنَّهَا تَكَلَّمَتْ بِهَا عَلَى الْمُسَامَحَةِ وَالْمُسَاهَلَةِ، وَإِنَّمَا مَعْنَاهَا مَا قَالُوا فِي خَبَرِ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي. وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ مَا تَأَوَّلْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى صَلَاةَ الضُّحَى فِي غَيْرِ الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَقْدَمُ فِيهِ مِنَ الْغَيْبَةِ، سَأَذْكُرُ هَذِهِ الْأَخْبَارَ فِي مَوْضِعَهَا مِنْ هَذَا الْكِتَابِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَالْخَبَرُ الَّذِي يَجِبُ قَبُولُهُ وَيُحْكَمُ بِهِ هُوَ خَبَرُ مَنْ أَعْلَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى، لَا خَبَرُ مَنْ قَالَ: إِنَّهُ لَمْ يُصَلِّ (1).

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی نماز چا شت پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا ، مگر یہ کہ آپ سفر سے واپس تشریف لاتے تو دو رکعات ادا فرماتے : امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت ابن عمر ؓ کی روایت اسی جنس اور قسم سے تعلق رکھتی ہے جس میں اپنی کتابوں میں کئی جگہ بیان کر چکا ہوں کہ وہ مخبر اور شاہد جس کی خبر اور شہادت قبول کرنا واجب ہے۔ وہ ہے جو کسی چیز کو دیکھنے ، اسے سننے یا اس کے واقع ہونے کی خبر و شہادت دیتا ہے ، اس سے مراد وہ مخبر یا شاہد نہیں جو کسی چیز کی نفی کرتا ہے (کہ وہ واقعی نہیں ہوئی) بے شک علمائے کرام کہ دیتے ہیں کہ فلاں شخص نے یہ کام نہیں کیا ، اور یہ کام اس طرح نہیں ہوا ، وہ یہ بات چشم پوشی کرتے اور تساہل برتتے ہوئے کہہ دیتے ہیں۔اور بلاشبہ ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ میرے علم کے مطا بق فلاں شخص نے یہ کام نہیں کیا اور میرے علم کے مطابق فلاں کام نہیں ہوا۔ اور حضرت ابن عمر ؓ کا یہ کہنا کہ نبی کریم ﷺ صرف سفر سے واپسی پر نماز چاشت پڑھتے تھے۔ تو ان سے ان کی مراد یہ ہے کہ میں نے آپ کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا اور نہ مجھے کسی ثقہ آدمی نے بتایا ہے کہ آپ سفر سے واپسی کے علاوہ بھی نماز چاشت پڑھتے تھے ۔ اسی روایت کو کہمس بن حسن اور جریری نے عبداللہ بن شفیق سے روایت کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ نماز چاشت پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں ، الا یہ آپ سفر سے (واپس ) تشریف لاتے (تو ادا کرتے ) امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : کہمس اور جریری کی روایت کے یہ الفاظ اسی طرح ہیں جیسے میں نے بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے یہ بات تسامح اور تساہل کرتے ہوئے فرمائی ہے۔ اور ان الفاظ کا معنی وہی ہے جیسا کہ خالد الخدا کی روایت میں ہے کہ : میں نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھتے نہیں دیکھا اور ان اس تاویل کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سفر سے واپسی کے دن کے علاوہ دن میں بھی نماز چاشت ادا کی ہے۔ میں عنقریب یہ روایات اس کتاب میں ان کے مقام پر بیان کروں گا ۔ ان شا اللہ لہٰذا وہ روایت جسے قبول کرنا اور اس کے مطابق فیصلہ کرنا واجب ہے وہ اس شخص کی روایت ہے جس نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نماز چاشت ادا کی ہے ۔ نہ کہ اس شخص کی روایت جو کہتا ہے کہ آپ نے نماز نہیں پڑھی۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ شَقِيقٍ، ← خَالِدٌ، ← مُعْتَمِرٌ ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it · Hadith 1230

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ الضُّحٰی وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1231

وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ [134 - ب] مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بَيْتِهِ سُبْحَةَ الضُّحَى، فَقَامُوا وَرَاءَهُ فَصَلَّوْا فِي بَيْتِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي بَيْتِهِ، يَعْنِي بَيْتَ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ.

حضرت عتبان بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان کے گھر میں نماز چاشت پڑھی تو صحابہ کرام بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے ، سب نے ان کے گھر میں نماز چاشت ادا کی ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : ان کے گھر سے مراد حضرت عتبان بن مالک ؓ کا گھر ہے۔

عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ: ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ ب] مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it · Hadith 1231

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ الضُّحٰی وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1232

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ، ثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى. قَالَ الْمُخَرِّمِيُّ: هَكَذَا حَدَّثَنَا بِهِ مُخْتَصَرًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ عِنْدِي مُخْتَصَرٌ مِنْ حَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ أَمْلَيْتُهُ قَبْلُ، قَالَ فِي الْخَبَرِ: إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا عِنْدَ الْعَصْرِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَهَذِهِ صَلَاةُ الضُّحَى.

حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز چاشت پڑھا کرتے تھے ۔ جناب مخرمی کہتے ہیں کہ ہمیں (ہمارے استاد نے) اس طرح مختصر روایت بیان کی ہے ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : میرے نزدیک یہ روایت عاصم بن ضمرہ کی روایت کا اختصار ہے وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے متعلق حضرت علی ؓ سے پوچھا : میں یہ روایت اس سے پہلے لکھو ا چکا ہوں اس رویت میں ہے : جب سورج مشرقی جانب اتنا بلمد ہوتا ہے جتنا عصر کے وقت مغربی جانب بلند ہوتا ہے تو آپ دو رکعات ادا فرماتے اور یہی چاشت کی نماز ہے ۔

بِهِ مُخْتَصَرًا. ← الْمُخَرِّمِيُّ: هَكَذَا ← كَانَ النَّبِيُّ يُصَلِّي الضُّحَى. ← عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ← بُنْدَارٌ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it · Hadith 1232

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals