صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 361
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ. ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، نَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ، وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمُ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ قَرْنَا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ. فَقَالَ عُمَرُ: أَفَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "قُمْ يَا بِلَالُ! فَنَادِ بِالصَّلَاةِ".
" حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ مسلمان جب مدینہ منورہ آئے تو وہ یونہی جمع ہو جاتے تو نماز کےلیے ایک وقت مقرر کر لیتے ، انہیں کوئی بلاتا نہیں تھا، پھر ایک دن انہوں نے اس سلسلے میں بات چیت کی تو ان کے بعض افراد نے کہا کہ عیسائیوں کے گھنٹے جیسا گھنٹہ بنا لو ، جبکہ بعض نے کہا کہ یہودیوں کے نرسنگے جیسا نرسنگا بنا لو، حضرت عمرؓ نے کہاک کہ تم ایک آدمی کو کیوں نہیں بھیجتے جو نماز کا اعلان کرے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اے بلال: اٹھو نماز کےلیے اعلان کرو۔"
حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 361
