صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالمُجبَسَاتِ · حديث 2483
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرٍ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيَسْتَأْمِرَ فِيهَا، قَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرٍ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَمَا تَأْمُرُ بِهِ؟ قَالَ: "إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ [251 - ب] بِهَا" قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ: أَنْ لَا تُبَاعَ، أُصُولُهَا لَا تُبَاعُ، وَلَا تُوهَبُ، وَلَا تُوَرَّثُ، فَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ، وَالْقُرْبَى، وَالرِّقَابِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَالضَّعِيفِ. لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُطْعِمُ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهَا. قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَحَدَّثْتُ بِهِ مُحَمَّدًا، فَقَالَ: غَيْرُ مُتَأَمِّلٍ مَالًا. قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَحَدَّثَنِي مَنْ قَرَأَ الْكِتَابَ: غَيْرُ مُتَأَثِّلٍ مَالًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُمْ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: أَوَّلُ صَدَقَةٍ تُصُدِّقَ بِهَا فِي الْإِسْلَامِ صَدَقَةُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَأَنَّ عُمَرَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ لِي مَالًا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "احْبِسْ أَصْلَهُ وَسَبِّلْ تَمْرَهُ" قَالَ: فَكَتَبَ. حَدَّثَنَا يُونُسُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ.
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ کو خبیر میں کچھ میں کچھ زمین وباغات ملے تو وہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں اس کے بارے میں مشورہ کرنے کےلیے حاضر ہوئے کہتے ہیں : میں نے خیبر میں جو زمین حاصل کی ہے اس جیسا قیمتی مال کبھی مجھے نہیں ملا تو آپ اس کی متعلق مجھےکیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: "اگر تم چاہو تو اس زمین کی اصل ملکیت اپنے پاس رکھ کر اس کے فوائد وثمرات کا صدقہ کر دو ۔"ابن عمر فرماتے ہیں : تو حضرت عمر ؓ نے اس زمین کو اس شرط پر صدقہ کر دیا کہ اس کی اصل فروخت نہیں کی جائے گی نہ ہبہ کی جائے گی، نہ میراث بنائی جائے گی انہوں نے اس کے فوائد وثمرات کو فقراء رشتہ داروں ، گردنیں آزاد کرانے ، مجاہدین فی سبیل اللہ ، مسافروں اور کمزور لوگوں کےلیے صدقہ کر دیا ، جو شخص اس کی نگرانی کرے گا وہ اس میں سے معروف طریقے سے کھا سکتا ہے اور اپنے دوست واحباب کو بھی کھلا سکتا ہے مگر دولت اکٹھی کرنے والا نہ ہو ( اپنی ملکیت نہ بنائے ) جناب ابن عون کہتے ہیں:میں نے یہ روایت محمد کو بیان کی تو انھوں نے کہا: غیر متاء مل مالا وہ مال کا خواہش مند اور امید وار نہ ہو۔ جناب ابن عون کہتےہیں: مجھے کتاب پڑھنے والے شخص نے "غیر متأثل مالاً"وہ"مال جوڑنے والا نہ ہو "کے الفاظ بیان کیے ہیں ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں: عبداللہ بن عمر العمری نے امام نافع کے واسطے سے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں : اسلام میں سب سے پہلا وقف ہونے والا صدقہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کا صدقہ ہے ۔ حضرت عمر ؓ نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا: بے شک میرے پاس کچھ مال ہے اور میں اسے صدقہ کرنا چاہتا ہوں ۔ تو رسول اللہﷺنے فرمایا: اس کا اصل اپنی ملکیت میں کر لو اور اس کا پھل و ثمرات صدقہ کر دو۔"لہٰذا حضرت عمر ؓ نے ( یہ وقف نامہ) لکھ دیا۔
ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی
Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The collections of alms gates and dentists · Hadith 2483
