Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1251

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ قَدْ خَرَّجْتُهُ قَبْلُ.

امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں ،سیدہ ام ہانی کی یہ حدیث میں اس سے پہلے بیان کر چکا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ نے فتح مکہ والے دن چاشت کی آٹھ رکعات ادا کی تھیں۔

أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ أُمِّ هَانِئٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the gates of voluntary prayers in travel · Hadith 1251

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1252

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَعْرَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لِيَأْخُذْ كُلُّ إِنْسَانٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ، فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ" فَفَعَلْنَا (1)، فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْغَدَاةَ. قَدْ خَرَّجْتُ هَذِهِ الْقِصَّةَ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ فِي نَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ.

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ (ایک سفر میں ) ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رات کے آخری پہر آرام کے لیے پڑائو ڈالا تو ہم بیدار نہ ہو سکے حتی کہ سورج طلوع ہو گیا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہر شخص اپنی سواری کے سر کو پکڑ لے( اور یہاں سے چل پڑے) کیو نکہ اس جگہ شیطان ہمارے پاس آگیا ہے اور اس نے ہمیں (نماز سے) غافل کر دیا ہے (چنانچہ کچھ آگے جا کر) آپ نے پانی منگوا کر وضو کیا۔(فجر کی) دو سنتیں ادا کیں، پھر اقامت کہی گئی تو آپ نے صبح کی نماز پڑھائی۔ میں یہ واقعہ اس جگہ کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی بیان کر چکا ہوں ، جس میں نبی کریم ﷺ کی صبح کی نماز سے سوئے رہ جانے کا تذکرہ ہے حتی کہ سورج طلوع ہو گیا تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the gates of voluntary prayers in travel · Hadith 1252

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1253

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَخْبَرَنَا أَبِي وَشُعَيْبٌ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي بُسْرَةَ الْغِفَارِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَفَرًا فَلَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْرُكُ رَكْعَتَيْنِ حِينَ تَزِيغُ الشَّمْسُ.

حضرت براہ بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ اٹھارہ سفر کیے ہیں ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو (ان سفروں میں ) سورج کے زوال کے وقت دو رکعات چھوڑتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا ، جناب یونس بن عبداللہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: میں نے آپ کو ظہر سے پہلے دو رکعات چھوڑتے کبھی نہیں دیکھا۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُ ← أبي بسرة الغفاري ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← أَبِي وَشُعَيْبٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the gates of voluntary prayers in travel · Hadith 1253

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1254

وقد روى الكوفيون أعجوبة عن ابن عمر إني خائف أن لا تجوز روايتها إلا تبين علتها لا إنها أعجوبة في المتن إلا أنها أعجوبة في الإسناد في هذه القصة رووا عن نافع و عطية بن سعد العوفي عن ابن عمر قال : صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم في الحضر والسفر فصليت معه في الحضر الظهر أربع ركعات وبعدها ركعتين والعصر أربع ركعات ليس بعدها شيء والمغرب ثلاثا وبعدها ركعتين والعشاء أربعا وبعدها ركعتين والغداة ركعتين وقبلها ركعتين وصليت معه في السفر الظهر ركعتين وبعدها ركعتين والعصر ركعتين وليس بعدها شيء والمغرب ثلاثا وبعدها ركعتين وقال هي وتر النهار لا ينقص في حضر ولا سفر والعشاء ركعتين وبعدها ركعتين والغداة ركعتين وقبلها ركعتين ناه أبو الخطاب نا مالك بن سعير نا ابن أبي ليلى عن نافع و عطية بن سعد العوفي عن ابن عمر وروى هذا الخبر جماعة من الكوفيين عن عطية عن ابن عمر منهم أشعت بن سوار و فراس و حجاج بن أرطاة منهم من اختصر الحديث ومنهم من ذكره بطوله وهذا الخبر لا يخفى على عالم بالحديث أن هذا غلط وسهو عن ابن عمر قد كان ابن عمر رحمه الله ينكر التطوع في السفر ويقول لو كنت متطوعا ما باليت أن أتم الصلاة وقال : رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يصلي قبلها ولا بعدها في السفر

امام صاحب فرماتے ہیں : کوفیوں نے حضرت ابن عمر سے ایک عجوبہ (حیرت انگیز ،طرفہ تماشا) بیان کیا ہے مجھے ڈر ہے کہ اسے بیان کرنا جائز نہیں ہو گا الا یہ کہ اس کی علت بیان کی جائے یہ عجوبہ متن میں نہیں ہے بلکہ اس قصے کی سند میں ہے ۔ کوفیوں نے حضرت نافع اور عطیہ بن سعد العوفی کے واسطے سے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حضر اور سفر میں نمازیں پڑھی ہیں ۔ تو میں نے آپ کے ساتھ حضر میں میں نماز ظہر چار رکعات اور اس کے بعد دو رکعات ادا کیں ۔ عصر کی چار رکعات ادا کیں اس کے بعد کچھ نہیں پڑھا اور مغرب کی تین رکعات اور اس کے بعد دو رکعات ادا کیں اور عشا کی چار رکعات اور اس کے بعد دو رکعات ادا کیں ۔ اور نماز فجر دو رکعات اور اس پہلے بھی دو رکعات ادا کیں اور میں نے سفر میں آپ کے ساتھ نماز ظہر دو رکعات اور اس کے بعد بھی دو رکعات پڑھیں ۔ نماز عصر دو رکعات ادا کیں اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھی۔ مغرب کی نماز تین رکعات اور اس کے بعد دو رکعات ادا کیں ، اور آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دن کے وتر ہیں۔ یہ حضر اور سفر میں کم نہیں ہوتی۔ اور نماز عشا دو رکعات اور اس کے بعد بھی دو رکعات ادا کیں ، صبح کی نماز دو رکعات اور اس سے پہلے بھی دو رکعات (سنتیں ) ادا کیں ۔ امام صاحب فرماتے ہیں : ہمیں یہ روایت ابو الخطاب نے مالک بن سعید کے واسطے سے ابن ابی لیلیٰ سے بیان کی ہے اور وہ نافع اور عطیہ بن سعد عوفی کے واسطے سے حضرت ابن عمر ؓ سے بیان کرتے ہیں ۔ یہ روایت اہل کوفہ کی ایک جماعت نے عطیہ کے واسطے سے حضرت ابن عمر سے بیان کی ہے۔ ان میں اشعت بن سوار ، فراس اور حجاج بن ارطاۃ شامل ہیں ۔ ان میں سے کچھ راوی اسے مختصر اور کچھ تفصیل کے ساتھ مکمل حدیث بیان کرتے ہیں ۔ یہ حدیث کسی محدث پر پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ کہ یہ حضرت ابن عمر ؓ کی طرف غلط طور پر منسوب کی گئ ہے ۔ کیو نکہ حضرت ابن عمرؓ اللہ ان پر رحم کرے، تو سفر میں نفل نماز پڑھنے سے انکار کرتے تھے ، اور فرماتے تھے: اگر میں نے نفل ہی پڑھنے ہوتے تو پھر مجھے فرض نماز ہی مکمل اور پوری پڑھ لینی چاہیے تھی ۔ نیز انہوں نے فرمایا : میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ سفر میں فرض نماز سے پہلے اور بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے۔

ابن عمر إني خائف ← وقد روى الكوفيون أعجوبة

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the gates of voluntary prayers in travel · Hadith 1254

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1255

حدثنا بندار نا يحيى نا بن أبي ذئب حدثني عثمان بن عبد الله بن سراقة قال سمعت بن عمر يقول : رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يصلي قبلها ولا بعدها في السفر

جناب عبداللہ بن سراقہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ کو فرماتے سنا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو سفر میں دیکھا ہے کہ آپ فرض نماز سے پہلے اور اس کے بعد (نفل) نماز نہیں پڑھتے تھے۔

رأيت رسول الله لا يصلي قبلها ولا بعدها في السفر ← بن عُمَرَ ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the gates of voluntary prayers in travel · Hadith 1255

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1256

وحدثناه بندار نا عثمان - يعني ابن عمر - نا ابن أبي ذئب عن عثمان بن عبد الله بن سراقة : أنه رأى حفص بن عاصم يسبح في السفر ومعهم في ذلك السفر عبد الله بن عمر فقيل : أن خالك ينهى عن هذا فسألت ابن عمر عن ذلك فقال : رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يصنع ذلك لا يصلي قبل الصلاة ولا بعدها قلت : أصلى بالليل ؟ فقال : صل بالليل ما بدأ لك

عثمان بن عبداللہ بن سرا قہ سے مروی ہے کہ انہوں نے جناب حفص بن عاصم کو سفر میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ بھی ان کے ساتھ تھے۔ تو ان کے ساتھ کہا گیا : آپ کے ماموں (عبداللہ بن عمر) اس سے منع کرتے ہیں ۔چنانچہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ یہ کام نہیں کیا کرتے تھے۔ آپ فرض نماز سے پہلے اور بعد میں (نفل) نماز نہیں پڑھتے تھے۔ میں نے عرض کی : میں رات کو (نفل) پڑھ سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا : رات کو جتنی چاہو (نفل) نماز پڑھ لو۔

عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عُثْمَانُ -يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ-، ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the gates of voluntary prayers in travel · Hadith 1256

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1257

حدثنا بندار نا يحيى بن سعيد نا عيسى بن حفص ح نا يحيى بن حكيم نا يحيى بن سعيد عن عيسى بن حفص - يعني ابن عاصم بن عمر بن الخطاب - قال بندار : قال : نا أبي وقال يحيى : حدثني أبي قال : كنت مع بن عمر في سفر فصلى الظهر والعصر ركعتين ثم انصرف إلى طنفسة له فرأى قوما يسبحون - يعني يصلون - قال ما يصنع هؤلاء قال : قلت يسبحون قال : لو كنت مصليا قبلها أو بعدها لأتممتها صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى قبض فكان لا يزيد على ركعتين وأبا بكر وعمر وعثمان كذلك هذا لفظ حديث يحيى بن حكيم قال أبو بكر : فابن عمر رحمه الله ينكر التطوع في السفر بعد المكتوبة ويقول : لو كنت مسبحا لأتممت الصلاة فكيف يرى النبي صلى الله عليه وسلم يتطوع بركعتين في السفر بعد المكتوبة من صلاة الظهر ثم ينكر على من يفعل ما فعل النبي صلى الله عليه وسلم و سالم و حفص بن عاصم أعلم بابن عمر وأحفظ لحديثه من عطية بن سعد

عیسیٰ بن حفص بن عاصم کہتے ہیں مجھے میرے والد گرامی جناب حفص بن عاصم ؒ نے بیان کیا ہے کہ میں ایک سفر میں حضرت بن عمر ؓ کے ساتھ تھا تو انہوں نے نماز ظہر اور عصر کی دو رکعات ادا پڑھیں ۔ پھر وہ اپنے قالین یا گدے کی طرف تشر یف لے گئے تو انہوں نے کچھ لوگوں کو نفل پڑھتے ہوئے دیکھا : انہوں نے پوچھا : یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی نفل پڑھ رہے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا :اگر میں نے اس (فرض نماز) سے پہلے یا بعد میں (نفل) نماز پڑھنی ہوتی تو میں اسے (فرض نماز ) کو ہی مکمل پڑھ لیتا ۔ میں رسول اللہ ﷺ کی وفات تک آپ کی صحبت میں رہا ہوں ، آپ ( سفر میں ) دو رکعات سے زیادہ ادا نہیں کرتے تھے۔ اور حضرت ابو بکر ، عمر اور عثمان ؓ کی صحبت بھی میں نے اختیار کی ہے وہ بھی اسی طرح ( صرف فرض نماز دو گانہ) ادا کرتے تھے۔ یہ جناب یحیٰی بن حکیم کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں:حضرت ابن عمر ، اللہ ان پر رحم کرے، تو سفر میں فرض نماز کے بعد نفل نماز سے پڑھنے سے منع کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے اگر میں نے نفل ہی پڑھنے ہوتے تو میں فرض نماز مکمل ادا کر لیتا ۔ لہذا یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کو سفر میں نماز ظہر کے فرضوں کے بعد دو رکعت سنت پڑھتے ہوئے دیکھیں اور پھر اس شخص کو منع کریں جو نبی کریم ﷺ کہ اس فعل کے مطابق عمل کرے؟ حضرت سالم اور حفص بن عاصم ؒ حضرت ابن ؓ کی حدیث کو عطیہ بن سعد کی نسبت زیادہ جاننے والے اور یاد رکھنے والے ہیں ( ان کی روایات درج ذیل ہیں جو عطیہ کی روایات کے خلاف ہیں ۔)

عِيسَى بْنِ حَفْصٍ يَعْنِي ابْنَ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← عِيسَى بْنِ حَفْصٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the gates of voluntary prayers in travel · Hadith 1257

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1258

وقد حدثنا محمد بن يحيى ثنا أبو اليمان أخبرنا شعيب عن الزهري أخبرني سالم بن عبد الله : أن عبد الله بن عمر كان لا يسبح في السفر سجدة قبل صلاة المكتوبة ولا بعدها حتى يقوم من جوف الليل وكان لا يترك القيام من جوف الليل

حضرت سالم بن عبداللہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سفر میں فرض نماز سے پہلے اور اس کے بعد کوئی نفل نماز نہیں پڑھتے تھے حتی کہ آدھی رات ہو جاتی تو اٹھ کر نفل ادا کرتے ۔ اور وہ رات کو نماز تہجد کھبی نہیں چھوڑتے تھے ۔

الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← وقد

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the gates of voluntary prayers in travel · Hadith 1258

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1259

وحدثنا محمد بن يحيى ثنا أبو اليمان أخبرنا شعيب عن الزهري أخبرني عاصم بن عبد الله أن حفص بن عاصم بن عمر ابن الخطاب أخبره : أنه سأل عبد الله بن عمر عن تركه السبحة في السفر فقال له عبد الله : لو سبحت ما باليت أن أتم الصلاة قال الزهري : فقلت لسالم : هل سألت أنت عبد الله بن عمر عما سأله عنه حفص بن عاصم ؟ قال سالم : لا انا كنا نهابه عن بعض المسألة قال أبو بكر : فخبر سالم و حفص يدلان على أن خبر عطية عن ابن عمر وهم و ابن أبي ليلى واهم في جمعه بين نافع و عطية في خبر ابن عمر في التطوع في السفر إلا أن هذا من الجنس الذي نقول : إنه لا يجوز أن يحتج بالإنكار على الإثبات و ابن عمر رحمه الله وإن لم ير النبي صلى الله عليه وسلم متطوعا في السفر فقد رآه غيره يصلي متطوعا في السفر والحكم لمن يخبر برؤية النبي صلى الله عليه وسلم لا لمن لم يره هذه مسألة قد بينتها في غير موضع من كتبنا

جناب حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب ؒ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے سفر میں ان کے نفل نماز نہ پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو حضرت عبداللہ ؓ نے اسے جواب دیا : اگر میں نے نفل ہی پڑھنے تھے تو میں اپنی فرض نماز ہی مکمل کر لیتا ۔ امام زہری کہتے ہیں : میں نے حضرت سالم سے کہا : کیا آپ نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ وہی مسلہ پوچھا تھا جو حضرت حفص بن عاصم نے ان سے پوچھا تھا ؟ حضرت سالم نے فرمایا : نہیں ، بے شک ہم ان سے بعض مسائل پوچھتے ہوئے ڈرتے تھے ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ سے عطیہ بن سعد کی روایت وہم ہے اور ابن ابی لیلیٰ کو سفر میں نفل نماز کے متعلق حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کرنے میں نافع اور عطیہ کو جمع کرنے میں وہم ہوا ہے۔ مگر یہ مسلہ اسی جنس سے تعلق رکھتا ہے جس کے متعلق ہم بیان کر چکے ہیں کہ ( کسی راوی کے کسی چیز کے ) انکار سے اس کے اثبات کے خلاف دلیل نہیں لی جا سکتی۔ اگر حضرت ابن عمر اللہ ان پر رحم کرے، نے نبی کریم ﷺ کو سفر میں نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا تو ان کے علاوہ صحابہ کرام نے آپ کو سفر میں نفل نما ز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔ لہذا ترجیح اس صحابی کی حدیث کو ہو گی جس نے نبی کریم ﷺ کو (نفل نماز ادا کرتے )دیکھا ہے ، نہ کہ اس صحابی کی روایت جس نے آپ کو (سفر میں نفل نماز پڑھتے ) نہیں دیکھا ۔ اس مسئلہ کو میں اپنی کتابوں میں کئی مقامات پر بیان کر چکا ہوں۔

عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the gates of voluntary prayers in travel · Hadith 1259

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1260

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، نَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ هَاشِمٍ، نَا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ، -وَكَانَ لَهُ مَرُوءَةٌ وَعَقْلٌ- عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْزِلُ مَنْزِلًا إِلَّا وَدَّعَهُ بِرَكْعَتَيْنِ.

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جس منزل پر بھی پڑائو ڈالتے تو اس رخصت ہوتے وقت دو رکعات ادا فرماتے۔

كَانَ النَّبِيُّ لَا يَنْزِلُ مَنْزِلًا إِلَّا وَدَّعَهُ بِرَكْعَتَيْنِ. ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ، -وَكَانَ لَهُ مَرُوءَةٌ وَعَقْلٌ- ← عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ هَاشِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the gates of voluntary prayers in travel · Hadith 1260

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1261

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَاميُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ -وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ- عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى عَشْرَ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الصُّبْحَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ يُصَرِّحُ بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فِي السَّفَرِ، وَالْأَخْبَارُ (1) الَّتِي رَوَيْنَاهَا فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ" فِي نَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَأَنَّهُ صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ عَلَى الدَّوَابِّ

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی سواری بٹھائی ، پھر آپ اسے اترے اور دس رکعات ادا کیں اور ایک وتر ادا کیا ۔ آپ نے دو دورکعات ادا کیں ، پھر ایک وتر ادا کیا ، پھر فجر کی دو سنتیں ادا کیں ، اور ہمیں نماز فجر پڑھائی ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : یہ روایت صراحت کر رہی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سفر میں فجر کی دو سنتیں ادا کی ہیں ۔ اور وہ روایات جو ہم نت کتاب الکبیر میں بیان کی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کہ صبح کی نماز سے سوئے رہ گئے تھے حتی کہ سورج طلوع ہو گیا تھا اور آپ نے فجر کی دو سنتیں ادا کیں اور پھر نماز فجر پڑھائی ۔( وہ بھی سفر میں نفل نماز پڑھنے کے جواز کی دلیل ہیں۔)

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← شرحبيل بن سعد ← سُلَيْمَانُ -وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ- ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the gates of voluntary prayers in travel · Hadith 1261

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1262

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، نَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ عَلَى الرَّاحِلَةِ قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ.

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں لہ رسول اللہ ﷺ سواری پر نفل نماز پڑھتے تھے۔ آپ کا منہ چاہے جدھر بھی ہوتا ۔ اور اس میں وتر بھی پڑھتے تھے مگر آپ اس پر فرض نماز ادا نہیں کرتے تھے۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the gates of voluntary prayers in travel · Hadith 1262

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals