Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ الجَنَابَۃِ · حديث 224

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، [33 - أ] نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ زَيدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ حَدَّثَهُ: أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عَنِ الرَّجُلِ يُجَامِعُ فَلَا يُنْزِلُ. قَالَ: لَيْسَ عَلَيْهِ غُسْلٌ. ثُمَّ قَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَسَأَلْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ، وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، فَقَالُوا مِثْلَ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَحَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

’’حضرت یز ید بن خالد جہنی ؒ بیان کرتے ہیں کہ انہو ں نے حضرت عثمان بن عفان ؓ سے اس شخص کے متعلق پو چھا جو جماع کرتا ہے تو منی کا انزال نہیں ہوتا ( تو وہ کیا کرے ؟) انہوں نے فرمایا :’’ اس پر غسل کرنا ضروری نہیں ہے ۔‘‘ پھر حضرت علی بن ابی طالب ، زبیر بن عوام ، طلحہ بن عبیداللہ اور حضر ت ابی بن کعب ؓ سے ( یہی مسئلہ ) پو چھا تو انہوں نے بھی اسی طرح جواب دیا ۔‘‘ ابو سلمہ کہتے ہیں : مجھے حضرت عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ انہوں نےحضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے ( یہ مسئلہ ) پوچھا تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے ایسا جواب نقل کیا ۔‘‘

مِثْلَ ذَلِکَ۔ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← مِثْلَ ذَلِکَ۔ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللہِ ← الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، ← فَسَأَلْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← عُثْمَانَ، ← «لَيْسَ عَلَيْهِ غُسْلٌ»، ثُمَّ ← الرَّجُلِ يُجَامِعُ، فَلَا يُنْزِلُ، ← أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ← أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ ← أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ ← يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the door to the washing of the sheath · Hadith 224

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ الجَنَابَۃِ · حديث 225

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيَعْقُوبُ بْنُ جَعْفَرٍ أَوْ مِمَّنْ دُونَهُ. لِأَنَّ ابْنَ وَهْبٍ رَوَى عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ أَرْضَى عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ. هَذِهِ اللَّفْظَةُ حَدَّثَنِيهَا (1) أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرٌو. وَهَذَا الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُسَمِّهِ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَبَا حَازِمٍ سَلَمَةَ بْنَ دِينَارٍ. لِأَنَّ مُبَشِّرَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ رَوَى هَذَا الْخَبَرَ عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي بذلك مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ (2)، وَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْحَمَّالُ.

’’حضرت سہل انصاری ؓ جنہوں نے نبی اکرم ﷺ ( کے زمانہ ) کو پایا ہے اور آ پ کے عہد مبارک میں وہ پندرہ برس کے تھے ، کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابی بن کعب ؓ نے بیان کیا : ’’ وہ فتوی جو صحابہ کرام ؓ دیا کرتے تھے کہ: پانی پانی سے ہےغسل منی نکلنے سے واجب ہوتا ہے ،رسول اللہ ﷺ نے ابتدائے اسلا م میں اس کی رخصت دی تھی ، پھر بعد میں آپ نے غسل کرنے کا حکم دے دیا تھا ۔ ‘‘ امام ابو بکر ؒ اپنے استاد احمد بن منیع کی سند سے حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : ’’پانی پانی سے واجب ہوتا ہے ‘‘ یہ فتوی اسلام کے شروع میں بطور رخصت تھا پھر اس سے منع کر دیا گیا ۔ امام صاحب ایک اور سند ذ کر کرتے ہیں ۔

عَمْرٌو. وَهَذَا الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُسَمِّهِ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ يُشْبِهُ ← عَمِّي، ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ. هَذِهِ اللَّفْظَةُ حَدَّثَنِيهَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← مَنْ، أَرْضَى ← الزُّهْرِيِّ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← يَعْقُوبُ بْنُ جَعْفَرٍ أَوْ مِمَّنْ دُونَهُ. لِأَنَّ ابْنَ وَهْبٍ رَوَى ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the door to the washing of the sheath · Hadith 225

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ الجَنَابَۃِ · حديث 226

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا أبو موسى نا محمد بن جعفر نا معمر عن الزهري قال أخبرني سهل بن سعد قال : إنما كان قول الأنصار : الماء من الماء رخصة في أول الإسلام ثم أمرنا بالغسل قال أبو بكر : في القلب من هذه اللفظة التي ذكرها محمد بن جعفر - أعني قوله أخبرني سهل بن سعد - و أهاب أن يكون هذا وهما من محمد بن جعفر أو ممن دونه لأن ابن وهب روى عن عمرو بن الحارث عن الزهري قال : أخبرني من أرضى عن سهل بن سعد عن أبي بن كعب هذه اللفظة حدثنيها أحمد بن عبد الرحمن بن وهب حدثنا عمي قال حدثني عمرو وهذا الرجل الذي لم يسمه عمرو بن الحارث يشبه أن يكون أبا حازم سلمة بن دينار لأن ميسرة بن إسماعيل روى هذا الخبر عن أبي غسان محمد بن مطرف عن أبي حازم عن سهل بن سعد عن مسلم بن الحجاج وقال : حدثنا أبو جعفر الحمال

’’حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں : انصا ر صحابہ کا یہ فتوی تھا کہ (غسل کا ) پانی ( منی کے ) پانی سے واجب ہوتا ہے ۔ یہ ابتد ائے اسلام میں رخصت تھی پھر ہمیں غسل کرنے کا حکم دے دیا گیا ۔ ‘‘ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں کہ : محمد بن جعفر نے اپنی روایت میں جو یہ کہا ہے کہ ’’ اخبرنی سھل بن سعد ‘‘ مجھے سہل بن سعد نے روایت بیان کی ۔ ‘‘ تو اس لفظ کے بارے میں میرے دل میں کھٹکا ہے ، مجھے خدشہ ہے کہ یہ محمد بن جعفر یا ان سے نیچے کے کسی راوی کا وہم ہے ( یعنی امام ز ہری یہ روایت براہ راست حضرت سہل سے بیان نہیں کرتے بلکہ ان کے درمیان ایک استاد کا واسطہ ہے ) کیو نکہ ابن وھب نے عمرو بن حارث سے اور انہوں نے امام زہری سے روایت کی تو انہوں نے کہا : ’’ اخبربی من ارضی عب سھل بن سعد عن ابی بن کعب ‘‘ مجھے میرے پسندیدہ استاد نے حضرت سہل بن سعد سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت بیان کی ہے ۔ ‘‘ امام صاحب کہتے ہیں : مجھے یہ روایت احمد بن عبد الرحمان بن وہب نے اپنے چچا سے اور انہوں نے عمر و سے بیان کی ہے ۔ اور عمر و بن حارث نے اپنی سند میں شخص کا نا م نہیں لیا ( اور اسے پسند یدہ شخص قرار دیا ہے ) ممکن ہے وہ ابو حازم سلمہ بن دینار ہوں ۔ کیونکہ میسرہ بن اسماعیل نے یہ حدیث غسا ن محمد بن مطرف سے اور انہوں نے ابو حازم سے اور انہو ں نے سہل بن سعد سے اور انہوں نے مسلم بن حجاج سے بیان کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں :ہمیں ابو جعفر حمال نے بیان کیا ہے ۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the door to the washing of the sheath · Hadith 226

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ الجَنَابَۃِ · حديث 227

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ. نَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، نَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ: أَنَّهُمْ كَانُوا جُلُوسًا، فَذَكَرُوا مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ. فَقَالَ مَنْ حَضَرَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ: إِذَا مَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ. وَقَالَ مَنْ حَضَرَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ: لَا حَتَّى يَدْفُقَ. قَالَ أَبُو مُوسَى: أَنَا آتِيكُمْ بِالْخَبَرِ. فَقَامَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا. فَسَلَّمَ. ثُمَّ قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ وَأَنَا أَسْتَحِي مِنْهُ. فَقَالَتْ: لَا تَسْتَحْيِ أَنْ تَسْأَلَ عَنْ شَيْءٍ تَسْأَلُ عَنْهُ أُمَّكَ الَّتِي وَلَدَتْكَ. فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّكَ. قَالَ: قُلْتُ: مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ؟ قَالَتْ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ؛ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ، وَمَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ".

’’حضرت ابو موسی اشعری ؓ سے روایت ہے کہ وہ (صحابہ کرام ) بیٹھے ہوئے تھے توانہوں نےغسل واجب کرنے والی چیز کا تذکرہ کیا۔ حاضرین میں سے ایک مہاجر صحابی نے فرمایا: ’’جب ختنہ (شرم گاہ ) ختنے سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔‘‘ حاضرین میں سے ایک انصاری صحابی نے فرمایا : ’’نہیں حتی کہ وہ (منی ) زور اور جوش سے نکل جائے ۔ ‘‘(اس تذکرے کوسن کر ) حضرت ابو موسی ؓ نے کہا :میں تمہیں اس کے متعلق خبر لا کر دیتا ہوں ۔ وہ حضرت عائشہ ؓ کے پاس گئے ، انہیں سلام کیا ، پھر عرض کی : میں آ پ سے ایک چیز کے متعلق پو چھنا چاہتا ہوں مگر اس سے شرماتا ہوں ۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: ’’ایسا سوال پوچھتے ہوئے مت شرماؤ جسے تم اپنے جنبے والی ( حقیقی ) ماں سے پو چھ سکتے ہو۔ بے شک میں بھی تمہاری ماں ہوں ۔‘‘کہتے ہیں ، میں نے عرض کی : غسل کس چیز سے واجب ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا:تم علم والے ( باخبر اور مسئلے سے واقف ) کے پاس آ ئے ہو ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جب (مرد ) عورت کے چاروں شاخوں کے درمیان بیٹھ گیا اور ختنہ ختنے سے مل گیا تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔‘‘

عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ؛ ← قُلْتُ: مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ؟ ← "أُمُّكَ" ← شَيْءٍ تَسْأَلُ عَنْهُ أُمَّكَ الَّتِي وَلَدَتْكَ. فَإِنَّمَا ← لَا تَسْتَحْيِ أَنْ تَسْأَلَ ← أَسْتَحِي مِنْهُ. ← شَيْءٍ ← إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ ← آتِيكُمْ بِالْخَبَرِ. فَقَامَ إِلَى عَائِشَةَ فَسَلَّمَ. ثُمَّ ← أَبُو مُوسَى، ← مَنْ حَضَرَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ: لَا حَتَّى يَدْفُقَ. ← مَنْ حَضَرَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ: إِذَا مَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ. ← أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ: أَنَّهُمْ كَانُوا جُلُوسًا، فَذَكَرُوا مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ. ← أَبِي بُرْدَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the door to the washing of the sheath · Hadith 227

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ الجَنَابَۃِ · حديث 228

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ أَمْلَيْتُ خَبَرَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى".

’’امام ابو بکر فرماتے ہیں:میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کی نبی اکرم ﷺ سے روایت بیان کرچکاہوں کہ آ پ نے فرمایا:’’اعمال کا دارومدار نیت پر ہے ، اور آ دمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نیت کی ۔‘‘

النَّبِيِّ "الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى". ← أَبُو بَكْرٍ: قَدْ أَمْلَيْتُ خَبَرَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the door to the washing of the sheath · Hadith 228

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ الجَنَابَۃِ · حديث 229

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، نَا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا خَبَرٌ غَرِيبٌ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ.

’’حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی عورتوں سے ایک ہی غسل کے ساتھ شب باشی کیا کرتے تھے ۔ ‘‘ امام ابوبکر کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ۔ مشہور سند میں معمر قتادہ سے روایت کرتے ہیں ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the door to the washing of the sheath · Hadith 229

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ الجَنَابَۃِ · حديث 230

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطِيفُ عَلَى نِسَائِهِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ. غَيْرَ أَنَّ الرِّبَاطِيَّ، قَالَ: عَنْ مَعْمَرٍ. وَقَالَ: يَطُوفُ.

’’حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی (سب ) عورتوں سے ایک غسل سے شب باشی کیا کرتے تھے ‘‘ ( امام صاحب کہتے ہیں ) رباطی ( راوی ) نے عن معمر کہا اور ’’یطیف ‘‘ کی بجائے ’’یطوف ‘‘ کہا ہے ( معنی ایک ہی ہے ) ۔‘‘

مَعْمَرٍ. وَقَالَ: يَطُوفُ. ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَطِيفُ عَلَى نِسَائِهِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ. غَيْرَ أَنَّ الرِّبَاطِيَّ، ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the door to the washing of the sheath · Hadith 230

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ الجَنَابَۃِ · حديث 231

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ الْمَكِّيُّ، نَا مُعَاذٌ -يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ-، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ، وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ (1). قَالَ: فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: وَهَلْ كَانَ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِي قُوَّةَ ثَلَاثِينَ رَجُلًا.

’’حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رات اور دن کے وقت میں ، ایک ہی غسل کے ساتھ اپنی تمام بیویوں کے پاس چکر لگا لیا کرتے تھے اور وہ گیارہ تھیں ۔ ( قتادہ ) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے کہا : کیاآپ اس کی طاقت رکھتے تھے ؟انہوں نے فرمایا :ہم (آپس میں ) گفتگو کیا کرتے تھے کہ آ پ کو تیس مردوں کی طاقت دی گئی ہے ۔‘‘

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذٌ -يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ الْمَكِّيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the door to the washing of the sheath · Hadith 231

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ الجَنَابَۃِ · حديث 232

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، نَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ الْحَلَبِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ [34 - أ] عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ؛ أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَهُ قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَجَاءَهُ حَبْرٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ، فَقَالَ: سَلَامٌ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ. فَدَفَعْتُهُ دَفْعَةً كَادَ يُصْرَعُ مِنْهَا. فَقَالَ: لِمَ تَدْفَعُنِي؟ فَقُلْتُ، أَلَا تَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ الْيَهُودِيُّ: إِنَّمَا نَدْعُوهُ بِاسْمِهِ الَّذِي سَمَّاهُ بِهِ أَهْلُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ اسْمِي مُحَمَّدٌ الَّذِي سَمَّانِي بِهِ أَهْلِي". قَالَ الْيَهُودِيُّ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ. قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَيَنْفَعُكَ إِنْ حَدَّثْتُكَ؟ " قَالَ: أَسْمَعُ بِأُذُنَيَّ. فَنَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعُودٍ مَعَهُ. فَقَالَ: "سَلْ"، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فِي الظُّلْمَةِ دُونَ الْجِسْرِ". قَالَ: فَمَنْ أَوَّلُ النَّاسِ إِجَازَةً؟ قَالَ: "فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ". قَالَ: فَمَا تُحْفَتُهُمْ حِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: "زِيَادَةُ كَبِدِ النُّونِ". قَالَ: فَمَا غِذَاؤُهُمْ عَلَى أَثَرِهِ؟ قَالَ: "يُنْحَرُ لَهُمْ ثَوْرُ الْجَنَّةِ الَّذِي كَانَ يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِهَا". قَالَ: فَمَا شَرَابُهُمْ عَلَيْهِ؟ قَالَ: "مِنْ عَيْنٍ فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا". قَالَ: صَدَقْتَ. وَجِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ لَا يَعْلَمُهُ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ رَجُلٌ أَوْ رَجُلَانِ. قَالَ: "يَنْفَعُكَ إِنْ حَدَّثْتُكَ؟ " قَالَ: أَسْمَعُ بِأُذُنَيَّ. قَالَ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْوَلَدِ؟ قَالَ: "مَاءُ الرَّجُلِ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ. فَإِذَا اجْتَمَعَا فَعَلَا مَنِيُّ الرَجُلٍ مَنِيَّ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَا بِإِذْنِ اللَّهِ. وَإِذَا عَلَا مَنِيُّ الْمَرْأَةِ مَنِيَّ الرَّجُلِ آنَثَا بِإِذْنِ اللَّهِ". قَالَ الْيَهُودِيُّ: صَدَقْتَـ، وَإِنَّكَ لِنَبِيٌّ. ثُمَّ انْصَرَفَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "سَأَلَنِي هَذَا عَنِ الَّذِي سَأَلَنِي عَنْهُ، وَمَا لِي عِلْمٌ بِشَيْءٍ مِنْهُ، حَتَّى أَتَانِي اللَّهُ بِهِ".

رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس یہودی علماءمیں سے ایک عالم آیا تو اس نے کہا : اے محمد (ﷺ) تم پر سلام ہو ! تو میں نے اسے ایسے زور سے دھکا دیا کہ وہ گرتے گرتے بچا ۔ اس نے کہا : تم مجھے دھکا کیوں دیتے ہو؟ میں نے کہا : تم ( نبی علیہ السلا م کا نا م لینے کی بجائے ) رسول اللہ ﷺ نہیں کہ سکتے ؟ یہودی (عالم ) نےکہا : ہم تو انہیں اسی نا م سے پکا رتے ہیں جو ان کے گھر والوں نے ان کا رکھا ہے ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :بے شک میرا نام محمد ہے جو میرے گھر والوں نے رکھا ہے ۔ یہودی نے کہا :میں آ پ سے سوال پوچھنے کےلیے آ یا ہوں ۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا : اگر میں تمہیں کچھ بیا ن کروں تو کیاوہ تمہیں نفع دے گا ؟ اس نے کہا میں اپنے دونوں کانوں سے سنوں گا ( یعنی پو ری توجہ سے آپ کا ارشاد سنو ں گا ) چنانچہ رسول اللہ ﷺ اپنے پاس ایک چھڑی سے کرید نے لگے ( جیسے متفکرشخص کرتا ہے ) پھر فرمایا:’’ پوچھو ۔ یہودی نے کہا : ( اس دن ) لوگ کہاں ہوں گے جس دن یہ زمین وآسمان دوسری زمین و آسمان سے بدل دیے جائیں گے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ( وہ) اندھیرے میں پل صراط کے قریب ہوں گے ۔ اس نے کہا : سب سے پہلے کن لوگوں کو ( پل صراط عبور کرنے کی ) اجازت ملے گی؟ آپ نے فرمایا:مہاجرین کو۔ اس نے کہا :جنت میں داخل ہونے پر انہیں کیا تحفہ ملے گا؟ آ پ نے فرمایا :مچھلی کے جگر کاٹکڑا ۔ اس نے پو چھا :اس کے بعد ان کی غذا کیا ہو گی ؟ آپ نے فرمایا : ان کےلیے جنت کا وہ بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت کے اطراف میں چراکرتاتھا ۔ اس نے سوال کیا:اس کھانے کے بعد وہ کیا پیئں گے ؟ آ پ نے فرمایا :’’ وہ جنت کے سلسبیل نامی چشمے سے پیئں گے ۔ اس نے کہا :آ پ نے سچ فرمایا ہے ۔ اور میں آپ سے اس چیز کے متعلق پوچھنے کے لیے آ یا ہوں جسے اہل زمین میں سے ایک نبی اور ایک دو آ دمیوں کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔آ پ نےفرمایا :اگر میں تمہیں ( اس چیز کے متعلق ) بتا دوں تو کیا وہ تمہیں نفع دے گی ؟ اس نے کہا :میں اپنے دونوں کانوں سے سنوں گا ۔اس نے کہا :میں آ پ سے بچے کے متعلق پو چھنے کےلیے آ یا ہوں آ پ نے فرمایا :مرد کا پانی سفید ہوتا ہے اور عو رت کا زرد ہوتا ہے ، جب دونوں پانی اکھٹے ہوتے ہیں اور مرد کی منی عو رت کی منی پر غالب آجاتی ہے تو اللہ تعالی کے حکم سے لڑکا پیدا ہوتا ہے۔اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آجاتی ہے تو اللہ تعالی کے حکم سے لڑکی پیدا ہو تی ہے۔‘‘ یہودی نے کہا :آپ نے سچ فرمایا ہے ۔ اور بلاشبہ آ پ نبی ہیں۔ پھر وہ چلا گیا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اس نے مجھ سے جب جن جن چیز وں کے متعلق پو چھا ، مجھے ان میں سے کسی چیز کا علم نہیں تھا حتی کہ اللہ تعالی نے مجھے اس کا علم دے دیا ۔ ‘‘

لِمَ تَدْفَعُنِي؟ فَقُلْتُ، أَلَا تَقُولُ: ← سَلَامٌ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ. فَدَفَعْتُهُ دَفْعَةً كَادَ يُصْرَعُ مِنْهَا. ← كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ فَجَاءَهُ حَبْرٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ، ← أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ؛ أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا سَلَّامٍ، ← أَنَّهُ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ أ] ← أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ الْحَلَبِيُّ ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the door to the washing of the sheath · Hadith 232

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ الجَنَابَۃِ · حديث 233

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ بْنَ رَوْحٍ حَدَّثَهُمْ عَنْ عُقَيْلٍ -وَهُوَ ابْنُ خَالِدٍ- قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ-، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي [34 - ب] سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ".

’’حضرت ابو سعید خدری ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آ پ نےفرمایا :بے شک ( غسل کا) پانی ( معنی کے ) پانی سے واجب ہوتا ہے ۔‘‘

"إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ". ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ أَبِي ب] سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ-، أَنَّ أَبَاهُ ← عُقَيْلٍ -وَهُوَ ابْنُ خَالِدٍ- ← مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ بْنَ رَوْحٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the door to the washing of the sheath · Hadith 233

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ الجَنَابَۃِ · حديث 234

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ. وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، نَا زُهَيْرٌ -وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيِّ-، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ".

’’حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’پانی پانی سے ہے ۔‘‘

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ← زُهَيْرٌ -وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيِّ-، ← أَبُو عَامِرٍ ← أَبُو عَامِرٍ. وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the door to the washing of the sheath · Hadith 234

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ الجَنَابَۃِ · حديث 235

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا وَكِيعٌ، نَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ؛ وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ؛ وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ؛ وَحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي الْمَنَامِ مَا يَرَى الرَّجُلُ. قَالَ: "إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ". قَالَتْ: قُلْتُ: فَضَحْتِ النِّسَاءَ. وَهَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "تَرِبَتْ يَمِينُكِ، وَفِيمَا يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا إِذًا". هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ. غَيْرَ أَنَّ الدَّوْرَقِيَّ لَمْ يَقُلْ "إِذًا". وَانْتِهَاءُ حَدِيثِ مَالِكٍ عِنْدَ قَوْلِهِ: "إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ"، وَلَمْ يَذْكُرُ مَا بَعْدَهَا مِنَ الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ عَائِشَةَ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ.

’’حضرت ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ام سلیم ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ ئیں ، تو انہوں نے آ پ سے اس عورت کے متعلق پوچھا جو خواب میں مرد کی طرح دیکھتی ہے ۔ آ پ نے فرمایا :جب وہ پانی دیکھتے تو اسے غسل کرنا چاہیے ۔

ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← وَكِيعٌ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← وَكِيعٌ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the door to the washing of the sheath · Hadith 235

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals