Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ فُضُولِ التَّطھِیرِوَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ اِیجَابٍ · حديث 206

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نَا عَبْدُ الْأَعْلَى، نَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ -قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هُوَ أَبُو سَاسَانَ (1) - عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَرَ بْنِ جُدْعَانَ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى تَوَضَّأَ. ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: "إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ إِلَّا عَلَى طُهْرٍ" أَوْ قَالَ: "عَلَى طَهَارَةٍ". وَكَانَ الْحَسَنُ يَأْخُذُ بِهِ".

’’حضرت مہاجر بن قنفذ بن عمر بن جدعان ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے جبکہ آپ وضو کر رہے تھے ، انہوں نے آ پ کو سلام کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے سلام کاجواب نہ دیا حتی کہ وضو کر لیا (اور سلام کا جواب دیا ) پھر ا س سے معذرت کی اور فرمایا: ’’میں نے ناپسند کیا کہ میں بغیر طہارت کے اللہ تعالی کا ذ کر کروں ۔‘‘ حضرت حسن بصری ؒ اس حدیث کے مطابق عمل کرتے تھے (یعنی سلام کا جواب با وضو حالت میں دیتے تھے ۔

أَبُو بَكْرٍ: هُوَ أَبُو سَاسَانَ ← حصين بن المنذر ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response · Hadith 206

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ فُضُولِ التَّطھِیرِوَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ اِیجَابٍ · حديث 207

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عن أبيه، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي كُرَيْبٍ.

’’حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺہر وقت اللہ تعالی کاذکر کیا کرتے تھے ۔‘‘ یہ ابو بکر یب کی حدیث کے الفاظ ہیں۔‘‘

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الْبَهِيِّ، ← خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response · Hadith 207

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ فُضُولِ التَّطھِیرِوَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ اِیجَابٍ · حديث 208

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَا وَرَجُلَانِ: رَجُلٌ مِنَّا وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَحْسَبُ فَبَعَثَهُمَا وَجْهًا، وَقَالَ: إِنَّكُمَا عِلْجَانِ فَعَالِجَا عَنْ دِينِكُمَا، ثُمَّ دَخَلَ الْمَخْرَجَ ثُمَّ خَرَجَ، فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَتَمَسَّحَ بِهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَرَأَ الْقُرْآنَ قِرَاءَةً فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ. فَقَالَ عَلِيٌّ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِي الْخَلَاءَ فَيَقْضِي الْحَاجَةَ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَأْكُلُ مَعَنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَلَا يَحْجُبُهُ عَنِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ، لَيْسَ الْجَنَابَةَ. أَوْ إِلَّا الْجَنَابَةُ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ شُعْبَةُ: هَذَا ثُلُثُ رَأْسِ مَالِي. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ كُنْتُ بَيَّنْتُ فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ أَنَّ بَيْنَ الْمَكْرُوهِ وَبَيْنَ الْمُحَرَّمِ فُرْقَانَا. وَاسْتَدْلَلْتُ عَلَى الْفَرْقِ بَيْنَهُمَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا، وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ ثَلَاثًا. كَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَمَنْعٍ وَهَاتِ". فَفَرَّقَ بَيْنَ الْمَكْرُوهِ، وَبَيْنَ الْمُحَرَّمِ بِقَوْلِهِ فِي خَبَرِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ: "كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ إِلَّا عَلَى طُهْرٍ". قَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا كَرِهَ ذَلِكَ إِذِ الذِّكْرُ عَلَى طُهْرٍ أَفْضَلُ، لَا أَنَّ (1) ذِكْرَ اللَّهِ عَلَى غَيْرِ طُهْرٍ مُحَرَّمٌ. إِذِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ كَانَ يُقْرَأُ الْقُرْآنَ عَلَى غَيْرِ طُهْرٍ، وَالْقُرْآنُ أَفْضَلُ الذِّكْرِ. وقد كان النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ، عَلَى مَا رُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -. وَقَدُ يَجُوزُ أَنْ تَكُونَ كَرَاهَتُهُ لِذِكْرِ اللَّهِ إِلَّا عَلَى طُهْرٍ، ذِكْرُ اللَّهِ الَّذِي هُوَ فَرْضٌ عَلَى الْمَرْءِ دُونَ مَا هُوَ مُتَطَوَّعٌ بِهِ. فَإِذَا كَانَ ذِكْرُ اللَّهِ فَرْضًا لَمْ يُؤَدِّ الْفَرْضَ عَلَى غَيْرِ طُهْرٍ حَتَّى يَتَطَهَّرَ، ثُمَّ يُؤَدِّي ذَلِكَ الْفَرْضَ عَلَى طَهَارَةٍ. لِأَنَّ رَدَّ السَّلَامِ فَرْضٌ عِنْدَ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ، فَلَمْ يَرُدّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -وَهُوَ عَلَى غَيْرِ طُهْرٍ حَتَّى تَطَهَّرَ ثُمَّ رَدَّ السَّلَامَ. فَأَمَّا مَا [كَانَ] الْمَرْءُ مُتَطَوِّعًا (2) بِهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَلَوْ تَرَكَهُ فِي حَالَةٍ هُوَ فِيهَا غَيْرُ طَاهِرٍ، لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ إِعَادَتُهُ، فَلَهُ أَنْ يَذْكُرَ اللَّهَ مُتَطَوِّعًا بِالذِّكْرِ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُتَطَهِّرٍ.

’’حضرت عمر و بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن سلمہ کو سنا ، انہوں نے فرمایا:میں اور دودوسرے افراد حضرات علی ؓ کےپاس گئے ، ایک آ دمی ہم سے ( یعنی ہمارے قبیلے کافرد ) اور ایک بنی اسد سے تھا۔میرا خیال ہے کہ انہوں نےان دونوں کو ایل سمت (علاقے کا عامل یاگورنر بنا کر) بھیجا اور فرمایا ’’ تم دونوں خوب صحت مند اور طاقتور ہو لہذا اپنے فرض کو خوب اچھی طرح انجام دینا ۔ پھر آپ بیت الخلاءمیں داخل ہوئے پھر ( قضائے حاجت سے فارغ ہو کر باہر ) نکلے،پھر ایک چلو پانی لیا اور ( اپنے ہاتھو ں کو ) دھویا ، پھر ( ہمارے پاس )آ ئے ، اور قرآن مجید کی کچھ تلاوت کی ، تو ہم نے اسے ناپسند کیا،توحضرت علی ؓ نے فرمایا : ’’ رسو ل اللہ ﷺ بیت الخلاء میں داخل ہو کر قضائے حاجت کیا کرتے تھے ،پھر باہر تشریف لاتے تو ہمارے سا تھی روٹی اور گوشت کھاتے اور قرآن مجید کی تلا وت کرتے اور جنابت کے سوا کوئی چیز بھی آپ کو قرآن کی تلا وت سے نہیں روکتی تھی ۔ ‘‘ امام ابو بکر ؒ نے یہ حدیث امام شعبہ سے بھی روایت کی ہے ۔ امام شعبہ فرماتے ہیں : یہ حدیث میرے اصل مال (یعنی علم ) کا تہائی حصہ ہے ۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں : میں کتاب البیوع میں بیان کر چکا ہوں کہ مکروہ اور احرام کے درمیان فرق ہے۔ میں نے ان دونوں میں فرق کے لیے نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان سے دلیل لی ہے ’’ان اللہ کرہ لکم ثلاثا و حرم علیکم ثلاثا ۔۔۔۔‘‘ اللہ تعالی نے تمہارے لیے تین چیزوں کو ناپسند کیا ہے اور تین چیزوں کو تم پر حرام قرار دیا ہے ۔ تمہارے لیے قیل و قال (بے مقصد گفتگو )، کثرت سوال اور مال ضائع کرنے کو مکروہ اور ناپسند کیا ہے ۔ ماؤں کی نافرمانی، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے اور بخل ولا لچ کو تم پر حرام قرار دیا ہے ۔آپ نے مہاجربن قنفذ کی حدیث میں اپنے اس فرمان سے مکروہ اور حرام میں فرق کیا ہے ۔ ’’کر ھت ان اذکر اللہ علی طھر‘‘میں نے بغیر طہارت کے اللہ تعالی کا ذکر کرنے کو ناپسند کیا ۔‘‘یہ ممکن ہے کہ آپ نے اسے اس لیے ناپسند کیاہو کہ طہارت کی حالت میں اللہ تعالی کا ذکر کرنا افضل ہے ۔اس لیے نہیں کہ بغیر طہارت ذکر کرنا حرام ہے ، کیو نکہ نبی اکر م ﷺ بغیر طہارت کے قرآن مجید پڑھا کرتے تھے اور قرآن مجید کی تلا وت افضل ترین ذکر ہے ، اور نبی اکرم ﷺ ہر حالت میں اللہ تعالی کا ذکر کیا کرتے تھے ، جیسا کہ ہمیں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث بیان کی گئی ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بغیرو ضو کے آپ کا ذکر کو مکروہ سمجھنا اس لیے ہو کہ اس ذکر سے مراد وہ ذ کر ہو جو مسلمان پرنفل کی بجائے فرض ہوتا ہے ۔ اور جو ذکر الہی فرض ہو وہ بغیر طہارت کے ادا نہیں ہوتا ۔ بلکہ اسے طہارت حاصل کر کے ہی ادا کرنا چاہیے ۔ کیونکہ اکثر علمائےکرام کے نزدیک سلام کاجواب دینا فرض ہے ، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے بغیر طہارت کے سلام کا جواب نہیں دیا تھا حتی کہ آ پ نے طہارت حاصل کر کے سلام کا جواب دیا۔ لیکن اگر کوئی شخص نفلی ذکر کر رہا ہو اور ناپاکی کی حالت میں اسے ترک کر دیتا ہے تو اس پر اس ذکر کا اعادہ کرنا ضروری نہیں ہے ۔ لہذا اس کے نفلی ذکر کرنا جائز ہے اگر چہ وہ پاک ( با وضو ) نہ ہو ۔‘‘

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response · Hadith 208

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ فُضُولِ التَّطھِیرِوَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ اِیجَابٍ · حديث 209

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نَا شُعَيْبٌ -يَعْنِي ابْنَ اللَّيْثِ- نا اللَّيْثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ عَاصِمِ [31 - ب] بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْحَرَّةِ، بِالسُّقْيَا الَّتِي كَانَتْ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "ائْتُونِي بِوَضُوءٍ"، فَلَمَّا تَوَضَّأَ قَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: "أَبِي إِبْرَاهِيمُ كَانَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ، وَدَعَاكَ لِأَهْلِ [مَكَّةَ]، وَأَنَا مُحَمَّدٌ، عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُبَارِكَ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ مِثْلَ مَا بَارَكْتَ لِأَهْلِ مَكَّةَ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ".

حضرت علی بن ابی طالب ؓ بیان کرتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کے سا تھ روانہ ہوئے حتی کہ جب ہم سقیامقام پر حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی پتھریلی سیاہ زمین پر پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے لیے (وضو کا) پانی لاؤ،پھر جب آپ نے وضو کر لیا تو قبلہ کی طر ف منہ کر کے کھڑے ہوئے ، پھر اللہ اکبر کہا ، پھر کہا : ’’(اے اللہ ) میرے باپ ابراہیم تیرے بندے اور تیرے خلیل تھے اور انہوں نے تجھ سے اہل مکہ کے لیے دیاکی تھی ، اور میں محمد تیرا بندہ اور رسول ہوں ، میں تجھ سے اہل مدینہ کے لیے دیا کرتا ہوں کہ تو ان کے مد اور صاع میں اسی طرح برکت عطا فرما جس طرح تو نے اہل مکہ کو برکت عطا فرمائی تھی ،برکت دو برکتوں کے ساتھ (عطا فرما ) ۔‘‘

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ ← عَاصِمِ ب] بْنِ عَمْرٍو، ← عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبٌ، يَعْنِي ابْنَ اللَّيْثِ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response · Hadith 209

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ فُضُولِ التَّطھِیرِوَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ اِیجَابٍ · حديث 210

وَقَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ: عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى بِأَرْضِ سَعْدٍ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: [نَا] عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ.

’’حضرت ابو قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے وضو کیا، پھر حضرت سعد ؓ کی زمین میں نماز ادا کی ۔ پھر باقی قصہ بیان کیا۔‘‘

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← وَقَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ:

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response · Hadith 210

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ فُضُولِ التَّطھِیرِوَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ اِیجَابٍ · حديث 211

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ: أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ: "يَنَامُ، وَيَتَوَضَّأُ إِنْ شَاءَ".

’’حضرت عمر ؓ سے روایت ہے : انہو ں نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا: کیا ہم میں سے کوئی شخص جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے ؟آپ نے فرمایا : سو سکتا ہے ، اور اگر چاہے تو وضو کر لے۔‘‘

"يَنَامُ، وَيَتَوَضَّأُ إِنْ شَاءَ". ← عُمَرَ: أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← سُفْيَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response · Hadith 211

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ فُضُولِ التَّطھِیرِوَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ اِیجَابٍ · حديث 212

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، نَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، فَقَالَ: إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ: "إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ فَلْيَتَوَضَّأْ".

’’حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پو چھا :کیا ہم میں سے کوئی شخص جنابت کی حالت میں سو جائے ؟آ پ نے فرمایا : جب وہ سو نے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ وضو کرلے ۔‘‘

"إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ فَلْيَتَوَضَّأْ". ← إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ ← سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ← بِهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response · Hadith 212

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ فُضُولِ التَّطھِیرِوَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ اِیجَابٍ · حديث 213

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَفِظْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ.

’’ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ جب جنابت کی حا لت میں سو نے کا ارادہ کرتے تو نماز جیسا وضو کر لیتے۔‘‘

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ. ← عَائِشَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← حَفِظْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response · Hadith 213

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ فُضُولِ التَّطھِیرِوَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ اِیجَابٍ · حديث 214

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ بِاللَّيْلِ، فَمَا أَصْنَعُ؟ قَالَ: "اغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ، ثُمَّ ارْقُدْ".

’’حضرت عبداللہ بن دینار کہتے ہیں کہ مین نے حضرت ابن عمر ؓ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’حضرت عمر ؓ نے رسو ل اللہ سے پوچھا کہ میں رات کو جنبی ہو جاتا ہوں ، تو میں کیا کروں ؟ آ پ نے فرمایا : ’’اپنی شرم گاہ دھو لو اور وضو کر لو پھر سو جاؤ۔ ‘‘

"اغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ، ثُمَّ ارْقُدْ". ← سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ بِاللَّيْلِ، فَمَا أَصْنَعُ؟ ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response · Hadith 214

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ فُضُولِ التَّطھِیرِوَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ اِیجَابٍ · حديث 215

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ، وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ.

’’حضرت عائشہ ؓ سے روایت کہ نبی اکرم ﷺ جنابت کی حالت میں کچھ کھانے یا سو نے کا ارادہ کرتے تو وضو کر لیتے ۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response · Hadith 215

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ فُضُولِ التَّطھِیرِوَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ اِیجَابٍ · حديث 216

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ [31 - أ] أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ"، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ "إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ" مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ إِنَّ الْعَرَبَ تَقُولُ: إِذَا فَعَلْتَ كَذَا، تُرِيدُ إِذَا أَرَدْتَ فِعْلَ ذَلِكَ الشَّيْءِ، كَقَوْلِهِ -جَلَّ وَعَلَا-: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ) [المائدة: 6] وَمَعْنَاهُ إِذَا أَرَدْتُمُ الْقِيَامَ إِلَى الصَّلَاةِ.

’’حضرت براءبن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا : ’’جب تم ( سونے کے لیے ) اپنے بستر پر آنے لگو تو نماز کے وضو جیسا وضو کر لو ، پھر اپنی دائیں کروٹ پر لیٹو ۔‘‘ پھر بقیہ حدیث بیان کی ۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں :’’حدیث کے یہ الفاظ ’’اذا أتیت مضجعک ‘‘ اسی جنس سے ہے جسے ہم بیان کرتے ہیں کہ عرب لوگ کہتے ہیں :’’اذا فعلت کذا ‘‘ جب تو اس طرح کرے ‘‘ ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ جب تم اس کام کو کرنے کا ارادہ کرو ‘‘ جیسا کہ ارشاد باری تعالی (یَا أَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِذَا قُمْتُمْإِلَی الصَّلٰوۃِ )’’اے مومنو ! جب تم نماز کے لیے اٹھو ‘‘ اور اس کا یہ معنی ہے کہ جب تم نماز کے لیے اٹھنے کا ارادہ کرو ۔ ‘‘

الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ أ] ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response · Hadith 216

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ فُضُولِ التَّطھِیرِوَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ اِیجَابٍ · حديث 217

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَالْعَبَّاسُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانٍ الْوَرَّاقُ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ شُرَحْبِيلَ -وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ-، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْجُنُبِ هَلْ يَأْكُلُ أَوْ يَنَامُ؟ قَالَ: "إِذَا تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".

’’حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے جنبی شخص کے متعلق پو چھا گیا کہ کیا وہ کچھ کھا سکتا ہے یا وہ سو سکتا ہے ؟آپ نے فرمایا : ’’(ہاں ) جب وہ نماز کے وضو جیسا وضو کر لے ۔‘‘

"إِذَا تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ". ← الْجُنُبِ هَلْ يَأْكُلُ أَوْ يَنَامُ؟ ← سُئِلَ النَّبِيُّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← شُرَحْبِيلَ -وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ-، ← أَبُو أُوَيْسٍ الْمَدَنِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانٍ الْوَرَّاقُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَالْعَبَّاسُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response · Hadith 217

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals