Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ فَضلِ الجُمُعَۃِ · حديث 1727

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، نَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، نَا الْعَلَاءُ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ -يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ الْمَدَنِيَّ-، نَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ بُنْدَارٌ: عَنِ الْعَلَاءِ، وَقَالَ أَبُو مُوسَى، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، ثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي [ابْنَ] زُرَيْع- نَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ بِيَوْمٍ، وَلَا تَغْرُبُ أَفْضَلَ أَوْ أَعْظَمَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ لَا تَفْزَعُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلَّا هَذَيْنِ الثَّقَلَيْنِ: الْجِنَّ وَالْإِنْسَ". قَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَابْنُ بَزِيعٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ: "عَلَى يَوْمٍ أَفْضَلَ"، وَلَمْ يَشُكُّوا.

"حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:"سورج کسی ایسے دن میں نہ طلوع ہوتا ہے نہ غروب کہ جو دن جمعہ کے دن سے افضل یا اعظم ہو ۔ اور جنوں اور انسانوں کے سوا ہر جانور جمعہ کے دن خوفزدہ ہوتا ہے اور ڈرتا ہے ۔ "جناب علی بن حجر ، ابن بزیع او ر محمد بن ولید کی روایت میں ہے :"کسی افضل دن پر "اور انہوں نے "افضل "یا"اعظم"کے الفاظ میں شک نہیں کیا۔(بلکہ صرف افضل کا لفظ بیان کیا ہے ۔)"

شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ الْمَدَنِيَّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← الْعَلَاءِ ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections are the gates of the preference of the congregation · Hadith 1727

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ فَضلِ الجُمُعَۃِ · حديث 1728

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "سَيِّدُ الْأَيَّامِ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: غَلِطْنَا فِي إِخْرَاجِ الْحَدِيثِ، لِأَنَّ هَذَا مُرْسَلٌ. مُوسَى بْنُ أَبِي عُثْمَانَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَبُوهُ أَبُو عُثْمَانَ التَّبَّانُ رَوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَخْبَارًا سَمِعَهَا مِنْهُ.

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"جمعہ کا دن باقی تمام دنوں کا سردار ہے ۔ اسی دن آدم ؑ پیدا کیے گئے، اسی دن جنت میں داخل کیے گئے اور اسی دن جنت سے نکالے گئے اور قیامت بھی جمعہ ہی کے دن قائم ہوگی ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : "اس حدیث کو روایت کرنے میں ہم سے غلطی ہوئی ہے کیونکہ یہ مرسل روایت ہے"جناب موسیٰ بن ابی عثمان نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایات نہیں سنیں ۔ جبکہ ان کے والد گرامی جناب ابو عثمان تبان نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے سنی ہوئی روایات بیان کی ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ← أَبِيهِ ← وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections are the gates of the preference of the congregation · Hadith 1728

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ فَضلِ الجُمُعَۃِ · حديث 1729

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا يعقوب بن ابراهيم الدروقي حدثنا محمد بن مصعب ـ يعني القرقسائي ـ ثنا الأوزاعي عن أبي عمار عن عبد الله بن فروخ عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : خير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم و فيه أدخل الجنة و فيه أخرج منها و فيه تقوم الساعة قال أبو بكر : قد اختلفوا في هذه اللفظة في قوله فيه خلق آدم إلى قوله و فيه تقوم الساعة أهو عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم أو عن أبي هريرة عن كعب الأحبار ؟ قد خرجت هذه الأخبار في كتاب الكبير من جعل هذا الكلام رواية من أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم و من جعله عن كعب الأحبار و القلب إلى رواية من جعل هذا الكلام عن أبي هريرة عن كعب أميل لأن محمد بن يحيى حدثنا قال : نا محمد بن يوسف : ثنا الأوزاعي عن يحيى عن أبي سلمة عن أبي هريرة : خير يوم تطلع فيه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم و فيه أسكن الجنة و فيه أخرج منها و فيه تقوم الساعة قال قلت له : أشيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : بل شيء حدثناه كعب و هكذا رواه أبان بن يزيد العطار و شيبان بن عبد الرحمن النحوي عن يحيى بن أبي كثير قال أبو بكر : و أما قوله : خير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فهو عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم لا شك و لا مرية فيه و الزيادة التي بعدها : فيه خلق آدم إلى آخره هذا الذي اختلفوا فيه فقال بعضهم عن النبي صلى الله عليه و سلم و قال بعضهم : عن كعب قال أبو بكر : و أما قوله : خير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فهو عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم لا شك و لامرية فيه و الزيادة التي بعدها : فيه خلق آدم إلى آخره هذا الذي اختلفوا فيه فقال بعضهم عن النبي صلى الله عليه و سلم و قال بعضهم : عن كعب

"حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہےکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:"جمعہ کا دن وہ بہترین دن ہے جس میں سورج طلوع ہوا ہے ۔ اسی دن حضرت آدمؑ کو پیدا کیا گیا اور اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا اور اسی دن قیامت قاتم ہوگی۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں :"اس روایت کے الفاظ"اسی دن آدمی ؑ کو پیدا کیا گیا "سے لے کر "اسی دن آدمؑ کو پیدا کیا گیا"سے لے کر "اسی دن قیامت قائم ہوگی"تک کے الفاظ میں علمائے کرام کا اختلاف ہے کہ کیا یہ الفاظ حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہﷺ سے بیان کیے ہیں یا جناب کعب الاحبار ؒ سے روایت کیے ہیں ؟ میں نے کتاب الکبیر میں یہ روایات بیان کر دی ہیں کہ کن راویوں نے یہ کلام حضرت ابوہریرہؓ کے واسطے سے نبی کریمﷺ سے روایت کیا ہے اور کن راویوں نے اسے جناب کعب الاحبار کا کلام بنا کر روایت کیا ہے ۔ جبکہ میرا دل ان راویوں کی روایت کی طر ف زیادہ مائل ہے جنہوں نے اسے حضرت ابوہریرہؓ کے واسطے سے جناب کعب ؓ کے کلام کے طور پر بیان کیا ہے ۔ کیونکہ ہمیں جناب محمد بن یحییٰ نے اپنی سند سے حضرت ابوہریرہؓ سے بیان کیا کہ "بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوا ہے وہ جمعہ کا دن ہے اسی دن حضرت آدم ؑ پیدا ہوئے اور اسی دن انہیں جنت میں بسایا گیا اور اسی دن انہیں وہاں سے نکالا گیا اور اسی دن قیامت قائم ہوگی ۔"جناب ابوسلمہ کہتے ہیں : میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے پوچھا : "کیا آپ نے یہ چیز رسول اللہﷺ سے سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا: ( نہیں ) بلکہ یہ چیز ہمیں کعب ؓ نے بیان کی ہے ۔ اسی طرح یہ روایت جناب ابان بن یزید عطار اور سیطان بن عبدالرحمان نحوی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کی ہے ۔ امام ابوبکرؒ بیان کرتے ہیں : حدیث کے یہ الفاظ "جمعہ کا دن وہ بہترین دن ہے جس میں سورج طلوع ہوا ہے ۔"تو اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ یہ الفا ظ حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہﷺ سے بیان کیے ہیں اور اس کے بعد والے الفاظ "اسی دن حضرت آدمؑ پیدا کیے گئے " سے لے کر آخر تک۔ تو ان میں علمائے کرام کا اختلاف ہے ۔ کچھ کے نزدیک یہ نبی کریمﷺ سے مروی ہیں اور بعض دوسرے علماء کے نزدیک یہ جناب کعب ؓ سے مروی ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ← أَبِي عَمَّارٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← محمد بن مصعب يعني القرقسائي ← يعقوب بن إبراهيم الدروقي، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections are the gates of the preference of the congregation · Hadith 1729

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ فَضلِ الجُمُعَۃِ · حديث 1730

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ السِّمْنَانِيُّ، ثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ؛ ح وَحَدَّثَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا الْهَيْثَمُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْيدٍ -وَهُوَ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ- عَنْ طَاوُوسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ الْأَيَّامَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى هَيْئَتِهَا، وَيَبْعَثُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ زَهْرَاءَ مُنِيرَةً أَهْلُهَا يَحُفُّونَ بِهَا كَالْعَرُوسِ تُهْدَى إِلَى كَرِيمِهَا، تُضِيءُ لَهُمْ، يَمْشُونَ فِي ضَوْئِهَا، أَلْوَانُهُمْ كَالثَّلْجِ بَيَاضًا، وَرِيحُهُمْ يَسْطَعُ كَالْمِسْكِ، يَخُوضُونَ فِي جِبَالِ الْكَافُورِ يَنْظُرُ إِلَيْهِمُ الثَّقَلَانِ مَا يُطْرِقُونَ تَعَجُّبًا، حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ، لَا يُخَالِطُهُمُ أَحَدٌ إِلَّا الْمُؤَذِّنُونَ الْمُحْتَسِبُونَ". هَذَا حَدِيثُ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى.

"حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ، دنوں کو ان کی اصلی حالت پر اٹھائے گا۔ اور جمعہ کا دن جگمگاتا ہوا روشن بنا کر اٹھایا جائے گا۔ جمعہ والے لوگ اسے اس طرح گھیرے ہوں گے جیسے دلہن ( عزیز واقارب کے جھرمٹ میں) دولہا کے سپرد کی جاتی ہے ۔ جمعہ ان کےلیے روشنی کرے گا اور وہ اس کی روشنی میں چل رہے ہوں گے۔ ان کے رنگ برف کی طرح سفید ہوں گے ، ان کی خوشبو اور مہک کستوری کی طرح پھیل رہی ہوگی ۔ وہ کافور کے پہاڑوں میں داخل ہو رہے ہوں گے ۔ انہیں جن اور انسان دیکھ رہے ہوں گے ( ان کے بلند مقام ومرتبے پر ) تعجب وحیرت کی وجہ سے وہ اپنی نظریں نہیں جھکائیں گے ۔ حتیٰ کہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔ ان کے ساتھ کوئی اور شخص شریک نہیں ہوگا ، صرف اجرو ثواب کی نیت سے اذانیں دینے والے موذن ان کے ساتھ شریک ہوں گے ۔ "یہ جناب زکریا بن یحییٰ کی حدیث ہے ۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← طَاوُوسٍ، ← أَبُو مَعْيدٍ -وَهُوَ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ- ← الْهَيْثَمُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← وَحَدَّثَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ السِّمْنَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections are the gates of the preference of the congregation · Hadith 1730

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ فَضلِ الجُمُعَۃِ · حديث 1731

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ثَنَا الْحَجَّاجُ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو [عَلِي] الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ وَجَمَاعَةٌ قَالُوا: ثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ -مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِي، فَقَالَ: "إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ، وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَخَلَقَ آدَمَ بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، آخِرَ خَلْقٍ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ، فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ".

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا تو فرمایا:"اللہ تعالیٰ نے مٹی کو ہفتے کے روز پیدا فرمایا۔ اور اس میں پہاڑ اتوار والے دن بنائے ۔ اوردرخت سوموار والے دن پیدا کیے اور منگل والے دن ناپسندیدہ اشیاء کو پیدا کیا ۔ بدھ والے دن نور پیدا کیا۔ اور زمین پر جانور جمعرات والے دن پھیلائے اور آدمؑ کو جمعہ والے دن عصر کے بعد کیا۔ یہ آخری مخلوق تھی جو جمعہ والے دن آخری گھڑی میں پیدا کی ۔ عصر اور رات کے درمیانی حصے میں۔"

أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ بِيَدِي، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ ← أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الْحَجَّاجِ، ← أَبُو [عَلِي] الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ وَجَمَاعَةٌ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الْحَجَّاجِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections are the gates of the preference of the congregation · Hadith 1731

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ فَضلِ الجُمُعَۃِ · حديث 1732

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ الْقَرْثَعِ الضَّبِّيِّ، -قَالَ: وَكَانَ الْقَرْثَعُ مِنْ القُرَّاءِ (1) الْأَوَّلِينَ- عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "يَا سَلْمَانُ! مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟ " قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "يَا سَلْمَانُ! مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟ " قَالَ، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "يَا سَلْمَانُ! مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟ " قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "يَا سَلْمَانُ! ما يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟ بِهِ جُمِعَ أَبُوكَ -أَوْ أَبُوكُمْ- أَنَا أُحَدِّثُكَ عَنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَمَا أُمِرْتُمْ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ (2) حَتَّى يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ فَيَقْعُدَ فَيُنْصِتَ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ".

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا تو فرمایا:"اللہ تعالیٰ نے مٹی کو ہفتے کے روز پیدا فرمایا۔ اور اس میں پہاڑ اتوار والے دن بنائے ۔ اوردرخت سوموار والے دن پیدا کیے اور منگل والے دن ناپسندیدہ اشیاء کو پیدا کیا ۔ بدھ والے دن نور پیدا کیا۔ اور زمین پر جانور جمعرات والے دن پھیلائے اور آدمؑ کو جمعہ والے دن عصر کے بعد کیا۔ یہ آخری مخلوق تھی جو جمعہ والے دن آخری گھڑی میں پیدا کی ۔ عصر اور رات کے درمیانی حصے میں۔"

سَلْمَانَ ← وَكَانَ الْقَرْثَعُ مِنْ القُرَّاءِ الْأَوَّلِينَ- ← الْقَرْثَعِ الضَّبِّيِّ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections are the gates of the preference of the congregation · Hadith 1732

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ فَضلِ الجُمُعَۃِ · حديث 1733

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نَا حُسَيْنٌ -يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ الْجُعْفِيَّ-، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ قُبِضَ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، [183 - أ] وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ". قَالُوا: وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ؟ فَقَالَ: "إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ".

"حضرت اوس بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا:"تمہارے افضل واعلیٰ دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے ۔ اسی دن حضرت آدم ؑ پیدا کیے گئے اور اسی دن فوت کیے گئے اور اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن ( لوگوں پر) بے ہوشی طاری ہوگی ۔ تو تم اس دن میں مجھ پر بکثرت درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: ہمارا درود آپ ﷺ کو کیسے پیش کیا جائے گا جب کہ آپ کا جس مبارک تو بوسیدہ ہوچکا ہوگا ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: "بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیائے کرام کے اجسام کھائے ۔"

اَوسِ بْنِ اَوْسٍ ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ الْجُعْفِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections are the gates of the preference of the congregation · Hadith 1733

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ فَضلِ الجُمُعَۃِ · حديث 1734

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ؛ مِثْلَهُ، وَقَالَ: يَعْنُونَ قَدْ بَلِيتَ.

"امام صاحب اپنے استاد محمد بن رافع کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ کا مطلب یہ تھا کہ آپ ﷺ کا جسم مبارک تو مٹی میں فنا ہوچکا ہوگا۔"

يَعْنُونَ قَدْ بَلِيتَ. ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ؛ مِثْلَهُ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections are the gates of the preference of the congregation · Hadith 1734

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ فَضلِ الجُمُعَۃِ · حديث 1735

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ".

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بے شک جمعہ کے دن ایک گھڑی ہے جو مسلمان بندہ اس گھڑی کو اللہ تعالیٰ سے خیرو بھلائی مانگتے ہوئے پالے تو اللہ تعالیٰ اسے وہی چیز عطا کردیتا ہے ۔"

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections are the gates of the preference of the congregation · Hadith 1735

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ فَضلِ الجُمُعَۃِ · حديث 1736

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح، وَخَبَرِ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ: لَا يُوَافِقُهَا.

"جنا ب سعید بن حارث کی روایت میں ہے : "نہیں موافقت کرتا مومن اس گھڑی کی ۔ "جبکہ محمد بن ابراہیم کی روایت میں ہے :"(نہیں موافقت کرتا اس گھڑی کی ) مومن اس حال میں کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ سے جو سوال کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے وہی عطا کردیتا ہے ۔"جناب سعید بن حارث کی روایت کے الفاظ یہ ہیں :"اس گھڑی کی مسلم شخص موافقت کرتا ہے اس حال میں کہ وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی سوال کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے وہی عطا کر دیتے ہیں۔"

وَخَبَرِ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ: لَا يُوَافِقُهَا. ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections are the gates of the preference of the congregation · Hadith 1736

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ فَضلِ الجُمُعَۃِ · حديث 1737

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، نَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ". وَقَالَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا وَيُزَهِّدُهَا. وَقَالَ بُنْدَارٌ: "وَقَالَ بِيَدِهِ، قُلْنَا: يُزَهِّدُهَا يُقَلِّلُهَا". لَيْسَ فِي خَبَرِ ابْنِ عُلَيَّةَ: "إِيَّاهُ".

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم ﷺ نے فرمایا:"بے شک جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان اس گھڑی کو اس حال میں پالیتا ہے کہ وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی خیر وبھلائی مانگتا ہے ، اللہ اسے وہ عطا کر دیتا ہے ۔"ا ور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اس کے مختصر عرصہ کو بیان کیا ۔ جناب بندار کی روایت میں ہے : "ہم نے کہا کہ آپ ﷺ اس گھڑی کو بہت مختصر بیان کر رہے تھے ۔"جنا ب ابن علیہ کی روایت میں "ایّاہ"کے الفاظ نہیں ہیں ۔"

أَبُو الْقَاسِمِ‏.‏ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections are the gates of the preference of the congregation · Hadith 1737

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ فَضلِ الجُمُعَۃِ · حديث 1738

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جِئْتُ الطُّورَ، فَلَقِيتُ هُنَاكَ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، فَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَحَدَّثَ عَنِ التَّوْرَاةِ، فَمَا اخْتَلَفْنَا حَتَّى مَرَرْتُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ قُلْتُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فِي كُلِّ جُمُعَةٍ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُؤْمِنٌ وَهُوَ يُصَلِّي فَيَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ". فَقَالَ كَعْبٌ: بَلْ فِي كُلِّ سَنَةٍ. فَقُلْتُ: مَا كَذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَرَجَعَ، فَتَلَا، ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فِي كُلِّ يَوْمِ جُمُعَةٍ. ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ مَعَ قِصَّةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ.

اس بات کا بیان جس گھڑی کا ہم تذکرہ کیا ہے وہ تمام جمعہ کے دنوں میں ہوتی ہے ۔ یہ نہیں کہ وہ کچھ جمعوں میں ہوتی ہے اور کچھ میں نہیں ہوتی

التَّوْرَاةِ، فَمَا اخْتَلَفْنَا حَتَّى مَرَرْتُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ قُلْتُ، ← رَسُولِ اللَّهِ وَحَدَّثَ ← جِئْتُ الطُّورَ، فَلَقِيتُ هُنَاكَ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، فَحَدَّثْتُهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections are the gates of the preference of the congregation · Hadith 1738

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals