"حضرت سائب بن یزید ؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جمعہ کے دن جس اذان کا ذکر کیا ہے وہ اس وقت دی جاتی تھی جب امام ( خطبہ جمعہ کےلیے ) تشریف لے آتا اور ( دوسری اذان یعنی اقامت ) نبی کریمﷺ ، حضرت ابوبکر اور عمرؓ کے عہد میں اس وقت کہی جاتی جب نماز کھڑی ہوتی ۔ حتیٰ کہ جب حضرت عثمان ؓ کا عہد آیا تو لوگ زیادہ ہوگئے ، لہٰذا انہوں نے تیسری اذان زوراء مقام پر کہنے کا حکم دیا ۔ چنانچہ وہ اذان آج تک باقی ہے ۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : "حدیث کے ان الفاظ "اور جب نماز کھڑی ہوتی "سے مراد دوسری اذان یعنی اقامت مراد ہے ۔ اور اذان واقامت کو اذانان ( دو اذانیں ) کہا جاتا ہے ۔ کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا آپ فرماتے ہیں :"ہر دو اذانوں کے درمیان ( نفل ) نماز ہے ۔ اس سے آپ ﷺ کی مراد ہر اذان اور اقامت کے درمیان ہے ۔ اور عرب دو ملی ہوئی چیزوں کو ایک ہی نام دے دیتے ہیں ، ارشاد باری تعالیٰ ہے :(وَلَاِ بَوَیْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّھْھُمَا السُّدُسُ) "والدین میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے ۔ "اورارشاد باری تعالیٰ ہے (وَوَرِثَۃُ اَبَوَاہْ فَلأمِّہِ الثُّلُثُ) "اور اس کے وارث اس کے والدین ہوں تو اس کی والدہ کو تیسرا حصہ ملے گا ۔ "جبکہ والدین سے مراد ماں اور باپ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے دونوں کےلیے "أبوین"(دو باپ ) کا لفظ بولا ہے ۔ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث بھی اسی قسم سے تعلق رکھتی ہے ۔ "رسول اللہو کے عہد میں ہمارا کھانا دو سیاہ چیزیں ہوتی تھیں: کھجور اور پانی ۔" جبکہ سیاہ رنگ صرف کھجور کا ہوتا ہے پانی کا نہیں ۔ اس کے باوجود عائشہ ؓ نے دونوں کو اسودین ( دو سیاہ چیزیں) کا نام دیا ہے ۔ جبکہ ان دونوں کو ملا دیا گیا تھا۔ اسی قسم کی ایک مثال "سُنَّۃُ الْعُمَرَیْنِ" عمرین کا طریقہ اور سنت "اور اس سے مراد حضرت ابوبکر اور عمر کا طریقہ ہوتا ہے ، اور اس سے مراد حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کا طریقہ نہیں ہے ، جیسا کہ بعض لوگوں کو اس سے غلط فہمی اور وہم ہوا ہے ۔ اور اس بات کی دلیل کہ حدیث کے ان الفاظ "اور جب نما زکھڑی ہوتی " سے مراد دوسری اذان ہے جسے اقامت کہتے ہیں ۔ ( درج ذیل حدیث ہے ) ۔
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1773
اس اذان کا بیان جو رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں موجود تھی ۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جب وہ اذان دے دی جائے تو جمعہ کےلیے جلدی کی جائے اور اس وقت کا بیان جب یہ اذان دی جاتی تھی اور اس شخص کا ذکر جس نے امام کے تشریف لانے سے پہلے پہلی اذان دینی شروع کی تھی
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1774
"حضرت ابو ایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :" جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا اور اگر اس کے پاس خوشبو ہوتو اس نے خوشبو لگائی اور اپنا عمدہ لباس زیب تن کیا پھر وہ مسجد چلا گیا اور اگر اس کا جی چاہا تو اس نے نماز نفل ادا کی اور اس نے کسی کو تکلیف نہ دی ، پھر جب اس کا امام آگیا تو اس نے خاموشی اختیار کی حتیٰ کہ نماز ادا کرلیتا ہے تو اس کے یہ اعمال اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیانی گناہوں کا کفارہ بن جائیں گے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : "یہ اسی جنس سے متعلق ہے جس کے متعلق میں کہتا ہوں کہ عرب کے نزدیک انصات سے مراد کبھی ایک دوسرے سے بات چیت سے خاموشی ہوتی ہے ، قرآن مجید کی تلاوت ، ذکر ، الہٰی اور دعا کرنے سے خاموشی مراد نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث ہے :"صحابہ کرام نماز کے دوران بات چیت کر لیتے تھے حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوگئی ( وَإِذَا قُرِیءَالْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہُ وَأَنْصِتُوْا) "اور جب قرآن پڑھا جائے تو تم اسے غور سے سنو اور خاموش ہوجاؤ ۔"اس آیت میں انہیں ایک دوسرے سے گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے اور انہیں قرآن مجید کی تلاوت کے وقت خاموش رہنے کا حکم دیا ہے ۔ یہ خاموشی لوگوں کی باہمی گفتگو سے ہوگی ؟ قراءت قرآن ، تسبیحات ، تکبیر ، ذکر اور دعا سے خاموش رہنا مراد نہیں ہے کیونکہ یہ بات یقینی ہے کہ نبی کریمﷺ کے اس فرمان " پھر جب امام تشریف لے آیا تو وہ خاموش ہوگیا حتیٰ کہ اس نے نماز پڑھ لی ۔" سے آپ کی مراد یہ نہیں کہ جمعہ میں حاضر ہونے والا شخص نماز شروع کرتے وقت اللہ اکبر نہیں کہے گا اور نہ رکوع کو جاتے وقت تکبیر کہے گا اور نہ رکوع میں تسبیحات پڑھے گا اور نہ رکوع سے سر اٹھا کر "رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ"پڑھے گا اور نہ سجدے کےلیے جھکتے وقت اَللہُ اَکْبَرُکہے گا اور نہ سجدے میں تسبیح پڑھے گا اور نہ قعدہ میں تشہد پڑھے گا ۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے دین کو سمجھتا ہے اسے اس وقت کا وہم نہیں ہوتا ۔ لہٰذا یہ بات حتمی اور یقینی ہے کہ اس حدیث میں انصات ( خاموشی ) کا مطلب لوگوں کی باہمی گفتگو اور کلام سے خاموشی ہے ۔ اس کا مطلب تکبیر ، قراءت قرآن ، تسبیح اور ذکر وغیرہ سے خاموشی نہیں ہے جن کا نمازی کو نماز کے دوران حکم دیا گیا ہے کہ وہ یہ اعمال انجام دے ۔ اسی طرح نبی کریمﷺ کے اس فرمان کا معنی ہے ، اگر یہ صیح ثابت ہو۔ "جب امام قراءت کرے تو خاموشی اختیار کرو۔"یعنی لوگوں سے بات چیت ختم کردو ۔ میں مسئلہ "امام کے پیچھے قراءت کرنا" کے تحت انصات کا معنی اور اس لفظ کے کتنے معانی ہوسکتے ہیں ، میں بیان کر چکا ہوں۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1775
"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جمعہ کے دن لکڑی کے ایک ستون ، تنے یا کھجور کے درخت سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے تھے ( اور خطبہ ارشاد فرماتے تھے ) ۔ مبارک راوی کو شک ہے کہ کون سا لفظ بیان کیا تھا۔ پھر جب لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا:"میرے لیے منبر بناؤ"تو صحابہ نے آپ کےلیے منبر بنا دیا ۔ لہٰذا ٓپ منبر پر تشریف فرما ہوگئے تو لکڑی ، اپنے بچے کی جدائی میں رونے والی ماں کی طرح رونے لگی ۔ وہ اسی طرح روتی رہی حتی ٰ کہ رسول اللہﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے ، پھر آپ نے جا کر اسے گلے سے لگایا تو وہ خاموش ہوگئی ۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : "الوالہسے مراد وہ عورت ہے جس کا بچہ فوت ہوگیا ہو( اور وہ اس کی جدائی میں روتی ہو) "
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1776
"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہو تے تو مسجد میں نصب ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگاتے ، پھر خطبہ ارشاد کرتے ۔ پھر ایک رومی شخص آیا تو اس نے عرض کی :کیا ہم آپ کےلیے ایک ایسی چیز نہ بنا دیں کہ آپ اس پر بیٹھ جائیں تو کھڑے محسوس ہوں ؟ اس نے آپ ﷺ کےلیے ایک منبر بنایا جس کی دو سیڑھیاں تھیں اور آپ تیسری سیڑھی پر بیٹھتے تھے ۔ پھر جب آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو تنے نے بیل کی طرح رونا شروع کر دیا ۔ حتیٰ کہ رسول اللہﷺ کی جدائی میں اس کے رونے کی آواز سے مسجد گونج اٹھی ۔ چنانچہ رسول اللہﷺ منبر سے اتر کر اس کے پاس تشریف لائے اور اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا جبکہ وہ رو رہا تھا۔ جب نبی کریمﷺ نے اسے اپنے ساتھ چمٹا یا تو وہ خاموش ہوگیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا:"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر میں اسے اپنے ساتھ نہ چمٹاتا تو یہ رسول اللہﷺ کی جدائی میں تاقیامت اسی طرح رہتا ۔ پھر رسول اللہﷺ کے حکم سے تنے کو دفن کر دیا گیا۔" حضرت جابر ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:"یہ اللہ تعالیٰ کے ذکر ( خطبہ ) کی جدائی میں رویا ہے ۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1777
"حضر ت خالد ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو ایک کمان یا لاٹھی کا سہارا لیے ہوئے دیکھا ، جب وہ مسلمانوں کے پاس آئے تھے ۔ کہتے ہیں : میں نے آپ کو یہ سورت پڑھتے ہوئے سنا:(وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ)تو میں نے یہ سورت جاہلیت میں یاد کر لی تھی جبکہ میں ابھی مشرک ہی تھا۔ پھر میں نے مسلمان ہونے کے بعد اس کی تلاوت کی۔ پھر مجھے ثقیف کے لوگوں نے بلایا اور پوچھا : تم نے اس شخص ( محمدﷺ) سے کیا سنا ہے ؟ تو میں نے یہ سورت انہیں سنا دی تو ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے قریشی کہنے لگے : ہماپنے ساتھی کو زیادہ جانتے ہیں اگر ہم اس کی دعوت کو حق مانتے تو اس کی اتباع کر لیتے ۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1778
"جناب ابو حازم بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہﷺ کے منبر کے متعلق اختلاف کیا کہ وہ کس چیز سے بنا تھا ۔ تو انہوں نے حضرت سہل بن سعد ؓ کے پاس ( ایک شخص کو پوچھنے کےلیے ) بھیجا تو انہوں نے فرمایا: لوگوں میں مجھ سے زیادہ اس بات کو جاننے والا کوئی شخص باقی نہیں ہے ۔ وہ جنگل کے جھاؤ کی لکڑی سے بنا تھا۔" امام ابوبکرل فرماتے ہیں : "الاثل سے مراد الطرفاء(جھاؤ سے ملتا جلتا درخت ) ہے ۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1779
"حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جب نبی کریمﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو آپ نے لوگوں سے کہا بیٹھ جاؤ۔"تو حضرت ابن مسعود ؓ نے آپ کا یہ حکم سنا جبکہ وہ مسجد کے دروازے پر تھے تو وہ ( وہیں ) بیٹھ گئے تو نبی کریمﷺ نے انہیں فرمایا: " اے ابن مسعود ( اندر ) آجاؤ۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1780
"حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ جمعہ کے دن دو خطبے دیا کرتے تھے ، ان کے درمیان بیٹھتے تھے ۔ " امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے جناب بندار کو فرماتے ہوئے سنا کہ امام یحییٰ بن سعیدؒ شیخ بکر اوی کو بلند مرتبہ قرار دیتے تھے اور ان کی عزت وتکریم کرتے تھے ۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1781
"جناب ابووائل بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر ؓ نے ہمیں بڑا بلیغ اور مختصر خطبہ ارشاد فرمایا۔ پھر جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے ان سے عرض کی : "اے ابو یقظان آپ نے بڑا بلیغ اور مختصر خطبہ ارشاد فرمایا ہے ، اگر آپ اسے طویل کرتے تو بہت اچھا ہوتا ۔ انہوں نے فرمایا: بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے : " بلاشبہ آدمی کی لمبی نماز اور مختصر خطبہ اس کے فقیہ ہونے کی علامت ہے ۔ لہٰذا تم نماز کو طویل اور خطبہ کو مختصر کیا کرو۔"کیونکہ بعض بیان جادو ( کا اثر ) رکتھے ہیں ۔"جناب عبدالرحمان بن عبدالملک بن ابجر نے مذکورہ بالا کی طرح روایت بیان کی ہے مگر یہ الفاظ بیان نہیں کیے :"اگر آپ طویل خطبہ دیتے تو اچھا تھا۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1782
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1783
"حضرت حکم بن حزن کی نبی کریمﷺ سےمروی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور پاکیزہ ، مختصر اور بابرکت کلمات کے ساتھ اللہ کی ثنا ء بیان کی۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1784