Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1773

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى، نَا أَبُو عَامِرٍ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ -وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ- قَالَ: كَانَ النِّدَاءُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ فِي الْقُرْآنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ، وَإِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، حَتَّى كَانَ عُثْمَانُ، فَكَثُرَ النَّاسُ، فَأَمَرَ بِالنِّدَاءِ الثَّالِثِ عَلَى الزَّوْرَاءِ (1)، فَثَبَتَ حَتَّى السَّاعَةِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي قَوْلِهِ "وَإِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ" يُرِيدُ النِّدَاءَ الثَّانِيَ: الْإِقَامَةَ. وَالْأَذَانُ وَالْإِقَامَةُ يُقَالُ لَهُمَا: أَذَانَانِ، أَلَمْ تَسْمَعِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ" وَإِنَّمَا أَرَادَ بَيْنَ كُلِّ أَذَانٍ وَإِقَامَةٍ. وَالْعَرَبُ قَدْ تُسَمِّي الشَّيْئَيْنِ بِاسْمِ الْوَاحِدِ إِذَا قَرَنَتْ بَيْنَهُمَا. قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: (وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ) [النساء: 11] وَقَالَ: (وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ) [النساء: 11] وَإِنَّمَا هُمَا أَبٌ وَأُمٌّ، فَسَمَّاهُمَا اللَّهُ أَبَوَيْنِ. وَمِنْ هَذَا الْجِنْسِ خَبَرُ عَائِشَةَ: كَانَ طَعَامُنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَسْوَدَيْنِ، التَّمْرَ وَالْمَاءَ. وَإِنَّمَا السَّوَادُ لِلتَّمْرِ خَاصَّةً دُونَ الْمَاءِ، فَسَمَّتْهُمَا عَائِشَةُ الْأَسْوَدَيْنِ لَمَّا قَرَنَتْ بَيْنَهُمَا. وَمِنْ هَذَا الْجِنْسِ قِيلَ: سُنَّةُ الْعُمَرَيْنِ. وَإِنَّمَا أُرِيدَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، لَا كَمَا تَوَهَّمَ مَنْ ظَنَّ أَنَّهُ أُرِيدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ. وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّهُ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: وَإِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ النِّدَاءَ الثَّانِيَ الْمُسَمَّى إِقَامَةً.

"حضرت سائب بن یزید ؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جمعہ کے دن جس اذان کا ذکر کیا ہے وہ اس وقت دی جاتی تھی جب امام ( خطبہ جمعہ کےلیے ) تشریف لے آتا اور ( دوسری اذان یعنی اقامت ) نبی کریمﷺ ، حضرت ابوبکر اور عمرؓ کے عہد میں اس وقت کہی جاتی جب نماز کھڑی ہوتی ۔ حتیٰ کہ جب حضرت عثمان ؓ کا عہد آیا تو لوگ زیادہ ہوگئے ، لہٰذا انہوں نے تیسری اذان زوراء مقام پر کہنے کا حکم دیا ۔ چنانچہ وہ اذان آج تک باقی ہے ۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : "حدیث کے ان الفاظ "اور جب نماز کھڑی ہوتی "سے مراد دوسری اذان یعنی اقامت مراد ہے ۔ اور اذان واقامت کو اذانان ( دو اذانیں ) کہا جاتا ہے ۔ کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا آپ فرماتے ہیں :"ہر دو اذانوں کے درمیان ( نفل ) نماز ہے ۔ اس سے آپ ﷺ کی مراد ہر اذان اور اقامت کے درمیان ہے ۔ اور عرب دو ملی ہوئی چیزوں کو ایک ہی نام دے دیتے ہیں ، ارشاد باری تعالیٰ ہے :(وَلَاِ بَوَیْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّھْھُمَا السُّدُسُ) "والدین میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے ۔ "اورارشاد باری تعالیٰ ہے (وَوَرِثَۃُ اَبَوَاہْ فَلأمِّہِ الثُّلُثُ) "اور اس کے وارث اس کے والدین ہوں تو اس کی والدہ کو تیسرا حصہ ملے گا ۔ "جبکہ والدین سے مراد ماں اور باپ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے دونوں کےلیے "أبوین"(دو باپ ) کا لفظ بولا ہے ۔ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث بھی اسی قسم سے تعلق رکھتی ہے ۔ "رسول اللہو کے عہد میں ہمارا کھانا دو سیاہ چیزیں ہوتی تھیں: کھجور اور پانی ۔" جبکہ سیاہ رنگ صرف کھجور کا ہوتا ہے پانی کا نہیں ۔ اس کے باوجود عائشہ ؓ نے دونوں کو اسودین ( دو سیاہ چیزیں) کا نام دیا ہے ۔ جبکہ ان دونوں کو ملا دیا گیا تھا۔ اسی قسم کی ایک مثال "سُنَّۃُ الْعُمَرَیْنِ" عمرین کا طریقہ اور سنت "اور اس سے مراد حضرت ابوبکر اور عمر کا طریقہ ہوتا ہے ، اور اس سے مراد حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کا طریقہ نہیں ہے ، جیسا کہ بعض لوگوں کو اس سے غلط فہمی اور وہم ہوا ہے ۔ اور اس بات کی دلیل کہ حدیث کے ان الفاظ "اور جب نما زکھڑی ہوتی " سے مراد دوسری اذان ہے جسے اقامت کہتے ہیں ۔ ( درج ذیل حدیث ہے ) ۔

السَّائِبِ -وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ- ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1773

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1774

أَنَّ سَلْمَ بْنَ جُنَادَةَ حدثنا، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ أَذَانَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، حَتَّى كَانَ زَمَنُ عُثْمَانَ، فَكَثُرَ النَّاسُ فَأَمَرَ بِالْأَذَانِ الْأَوَّلِ بِالزَّوْرَاءِ.

اس اذان کا بیان جو رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں موجود تھی ۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جب وہ اذان دے دی جائے تو جمعہ کےلیے جلدی کی جائے اور اس وقت کا بیان جب یہ اذان دی جاتی تھی اور اس شخص کا ذکر جس نے امام کے تشریف لانے سے پہلے پہلی اذان دینی شروع کی تھی

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← وَكِيعٌ، ← أَنَّ سَلْمَ بْنَ جُنَادَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1774

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1775

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَوْكَرِ بْنِ رَافِعٍ الْبَغْدَادِيُّ، نَا

"حضرت ابو ایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :" جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا اور اگر اس کے پاس خوشبو ہوتو اس نے خوشبو لگائی اور اپنا عمدہ لباس زیب تن کیا پھر وہ مسجد چلا گیا اور اگر اس کا جی چاہا تو اس نے نماز نفل ادا کی اور اس نے کسی کو تکلیف نہ دی ، پھر جب اس کا امام آگیا تو اس نے خاموشی اختیار کی حتیٰ کہ نماز ادا کرلیتا ہے تو اس کے یہ اعمال اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیانی گناہوں کا کفارہ بن جائیں گے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : "یہ اسی جنس سے متعلق ہے جس کے متعلق میں کہتا ہوں کہ عرب کے نزدیک انصات سے مراد کبھی ایک دوسرے سے بات چیت سے خاموشی ہوتی ہے ، قرآن مجید کی تلاوت ، ذکر ، الہٰی اور دعا کرنے سے خاموشی مراد نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث ہے :"صحابہ کرام نماز کے دوران بات چیت کر لیتے تھے حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوگئی ( وَإِذَا قُرِیءَالْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہُ وَأَنْصِتُوْا) "اور جب قرآن پڑھا جائے تو تم اسے غور سے سنو اور خاموش ہوجاؤ ۔"اس آیت میں انہیں ایک دوسرے سے گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے اور انہیں قرآن مجید کی تلاوت کے وقت خاموش رہنے کا حکم دیا ہے ۔ یہ خاموشی لوگوں کی باہمی گفتگو سے ہوگی ؟ قراءت قرآن ، تسبیحات ، تکبیر ، ذکر اور دعا سے خاموش رہنا مراد نہیں ہے کیونکہ یہ بات یقینی ہے کہ نبی کریمﷺ کے اس فرمان " پھر جب امام تشریف لے آیا تو وہ خاموش ہوگیا حتیٰ کہ اس نے نماز پڑھ لی ۔" سے آپ کی مراد یہ نہیں کہ جمعہ میں حاضر ہونے والا شخص نماز شروع کرتے وقت اللہ اکبر نہیں کہے گا اور نہ رکوع کو جاتے وقت تکبیر کہے گا اور نہ رکوع میں تسبیحات پڑھے گا اور نہ رکوع سے سر اٹھا کر "رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ"پڑھے گا اور نہ سجدے کےلیے جھکتے وقت اَللہُ اَکْبَرُکہے گا اور نہ سجدے میں تسبیح پڑھے گا اور نہ قعدہ میں تشہد پڑھے گا ۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے دین کو سمجھتا ہے اسے اس وقت کا وہم نہیں ہوتا ۔ لہٰذا یہ بات حتمی اور یقینی ہے کہ اس حدیث میں انصات ( خاموشی ) کا مطلب لوگوں کی باہمی گفتگو اور کلام سے خاموشی ہے ۔ اس کا مطلب تکبیر ، قراءت قرآن ، تسبیح اور ذکر وغیرہ سے خاموشی نہیں ہے جن کا نمازی کو نماز کے دوران حکم دیا گیا ہے کہ وہ یہ اعمال انجام دے ۔ اسی طرح نبی کریمﷺ کے اس فرمان کا معنی ہے ، اگر یہ صیح ثابت ہو۔ "جب امام قراءت کرے تو خاموشی اختیار کرو۔"یعنی لوگوں سے بات چیت ختم کردو ۔ میں مسئلہ "امام کے پیچھے قراءت کرنا" کے تحت انصات کا معنی اور اس لفظ کے کتنے معانی ہوسکتے ہیں ، میں بیان کر چکا ہوں۔"

مُحَمَّدُ بْنُ شَوْكَرِ بْنِ رَافِعٍ الْبَغْدَادِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1775

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1776

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- عَنِ الْمُبَارَكِ -وَهُوَ ابْنُ فَضَالَةَ- عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، يَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ خَشَبٍ أَوْ جِذْعٍ أَوْ نَخْلَةٍ، -شَكَّ الْمُبَارَكُ- فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ قَالَ: "ابْنُوا لِي مِنْبَرًا". فَبَنَوْا لَهُ الْمِنْبَرَ. فَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ، حَنَّتِ الْخَشَبَةُ حَنِينَ الْوَالِهِ، فَمَا زَالَتْ حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمِنْبَرِ، فَأَتَاهَا فَاحْتَضَنَهَا فَسَكَنَتْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الْوَالِهُ: يُرِيدُ [بِهِ] الْمَرْأَةَ إِذَا مَاتَ لَهَا وَلَدٌ.

"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جمعہ کے دن لکڑی کے ایک ستون ، تنے یا کھجور کے درخت سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے تھے ( اور خطبہ ارشاد فرماتے تھے ) ۔ مبارک راوی کو شک ہے کہ کون سا لفظ بیان کیا تھا۔ پھر جب لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا:"میرے لیے منبر بناؤ"تو صحابہ نے آپ کےلیے منبر بنا دیا ۔ لہٰذا ٓپ منبر پر تشریف فرما ہوگئے تو لکڑی ، اپنے بچے کی جدائی میں رونے والی ماں کی طرح رونے لگی ۔ وہ اسی طرح روتی رہی حتی ٰ کہ رسول اللہﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے ، پھر آپ نے جا کر اسے گلے سے لگایا تو وہ خاموش ہوگئی ۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : "الوالہسے مراد وہ عورت ہے جس کا بچہ فوت ہوگیا ہو( اور وہ اس کی جدائی میں روتی ہو) "

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← الْمُبَارَكِ -وَهُوَ ابْنُ فَضَالَةَ- ← عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1776

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1777

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، نَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، ثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِلَى جِذْعٍ مَنْصُوبٍ فِي الْمَسْجِدِ فَيَخْطُبُ فَجَاءَ رُومِيٌّ، فَقَالَ: أَلَا نَصْنَعُ لَكَ شَيْئًا تَقْعُدُ وَكَأَنَّكَ قَائِمٌ؟ فَصَنَعَ لَهُ مِنْبَرًا، لَهُ دَرَجَتَانِ، وَيَقْعُدُ عَلَى الثَّالِثَةِ، فَلَمَّا قَعَدَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ خَارَ الْجِذْعُ خُوَارَ الثَّوْرِ؛ حَتَّى ارْتَجَّ الْمَسْجِدُ بِخُوَارِهِ حُزْنًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَنَزَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمِنْبَرِ فَالْتَزَمَهُ وَهُوَ يَخُورُ، فَلَمَّا الْتَزَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَوْ لَمْ أَلْتَزِمْهُ مَا زَالَ هَكَذَا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ حُزْنًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدُفِنَ، يَعْنِي الْجِذْعَ. وَفِي خَبَرِ جَابِرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ هَذَا بَكَى لِمَا فَقَدَ مِنَ الذِّكْرِ".

"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہو تے تو مسجد میں نصب ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگاتے ، پھر خطبہ ارشاد کرتے ۔ پھر ایک رومی شخص آیا تو اس نے عرض کی :کیا ہم آپ کےلیے ایک ایسی چیز نہ بنا دیں کہ آپ اس پر بیٹھ جائیں تو کھڑے محسوس ہوں ؟ اس نے آپ ﷺ کےلیے ایک منبر بنایا جس کی دو سیڑھیاں تھیں اور آپ تیسری سیڑھی پر بیٹھتے تھے ۔ پھر جب آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو تنے نے بیل کی طرح رونا شروع کر دیا ۔ حتیٰ کہ رسول اللہﷺ کی جدائی میں اس کے رونے کی آواز سے مسجد گونج اٹھی ۔ چنانچہ رسول اللہﷺ منبر سے اتر کر اس کے پاس تشریف لائے اور اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا جبکہ وہ رو رہا تھا۔ جب نبی کریمﷺ نے اسے اپنے ساتھ چمٹا یا تو وہ خاموش ہوگیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا:"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر میں اسے اپنے ساتھ نہ چمٹاتا تو یہ رسول اللہﷺ کی جدائی میں تاقیامت اسی طرح رہتا ۔ پھر رسول اللہﷺ کے حکم سے تنے کو دفن کر دیا گیا۔" حضرت جابر ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:"یہ اللہ تعالیٰ کے ذکر ( خطبہ ) کی جدائی میں رویا ہے ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1777

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1778

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَّامٍ الْمِصْرِيُّ، نَا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، نَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ -وَهُوَ الْعَدْوَانِيُّ- عَنْ أَبِيهِ. أَنَّهُ أَبْصَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى قَوْسٍ أَوْ عَصًا حِينَ أَتَاهُمْ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: (وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ (1))، فَعَلمتُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَنَا مُشْرِكٌ، ثُمَّ قَرَأْتُهَا فِي الْإِسْلَامِ. فَدَعَتْنِي ثَقِيفُ، فَقَالُوا: مَا سَمِعْتَ مِنَ هَذَا الرَّجُلِ؟ فَقَرَأْتُهَا عَلَيْهِمْ.، فَقَالَ مَنْ مَعَهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ: نَحْنُ أَعْلَمُ بِصَاحِبِنَا لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّهُ -كَمَا يَقُولُ- حَقٌّ لَتَابَعْنَاهُ.

"حضر ت خالد ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو ایک کمان یا لاٹھی کا سہارا لیے ہوئے دیکھا ، جب وہ مسلمانوں کے پاس آئے تھے ۔ کہتے ہیں : میں نے آپ کو یہ سورت پڑھتے ہوئے سنا:(وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ)تو میں نے یہ سورت جاہلیت میں یاد کر لی تھی جبکہ میں ابھی مشرک ہی تھا۔ پھر میں نے مسلمان ہونے کے بعد اس کی تلاوت کی۔ پھر مجھے ثقیف کے لوگوں نے بلایا اور پوچھا : تم نے اس شخص ( محمدﷺ) سے کیا سنا ہے ؟ تو میں نے یہ سورت انہیں سنا دی تو ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے قریشی کہنے لگے : ہماپنے ساتھی کو زیادہ جانتے ہیں اگر ہم اس کی دعوت کو حق مانتے تو اس کی اتباع کر لیتے ۔"

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ -وَهُوَ الْعَدْوَانِيُّ- ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَّامٍ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1778

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1779

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: اخْتَلَفُوا فِي مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ، فَأَرْسَلُوا إِلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فَقَالَ: مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي، هُوَ مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الْأَثْلُ هُوَ الطَّرْفَاءُ.

"جناب ابو حازم بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہﷺ کے منبر کے متعلق اختلاف کیا کہ وہ کس چیز سے بنا تھا ۔ تو انہوں نے حضرت سہل بن سعد ؓ کے پاس ( ایک شخص کو پوچھنے کےلیے ) بھیجا تو انہوں نے فرمایا: لوگوں میں مجھ سے زیادہ اس بات کو جاننے والا کوئی شخص باقی نہیں ہے ۔ وہ جنگل کے جھاؤ کی لکڑی سے بنا تھا۔" امام ابوبکرل فرماتے ہیں : "الاثل سے مراد الطرفاء(جھاؤ سے ملتا جلتا درخت ) ہے ۔"

أَبِي حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1779

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1780

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، نَا الْوَلِيدُ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا اسْتَوَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ لِلنَّاسِ: "اجْلِسُوا" فَسَمِعَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ وَهُوَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَجَلَسَ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "تَعَالَ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ".

"حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جب نبی کریمﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو آپ نے لوگوں سے کہا بیٹھ جاؤ۔"تو حضرت ابن مسعود ؓ نے آپ کا یہ حکم سنا جبکہ وہ مسجد کے دروازے پر تھے تو وہ ( وہیں ) بیٹھ گئے تو نبی کریمﷺ نے انہیں فرمایا: " اے ابن مسعود ( اندر ) آجاؤ۔"

لَهُ النَّبِيُّ "تَعَالَ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ". ← لِلنَّاسِ: "اجْلِسُوا" فَسَمِعَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ وَهُوَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَجَلَسَ. ← لَمَّا اسْتَوَى النَّبِيُّ عَلَى الْمِنْبَرِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الْوَلِیْدُ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1780

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1781

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ثَنَا أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْبَكْرَاوِيُّ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ [188 - أ] قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خُطْبَتَيْنِ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ بُنْدَارًا يَقُولُ: كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يُجِلُّ هَذَا الشَّيْخَ -يَعْنِي الْبَكْرَاوِيَّ.

"حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ جمعہ کے دن دو خطبے دیا کرتے تھے ، ان کے درمیان بیٹھتے تھے ۔ " امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے جناب بندار کو فرماتے ہوئے سنا کہ امام یحییٰ بن سعیدؒ شیخ بکر اوی کو بلند مرتبہ قرار دیتے تھے اور ان کی عزت وتکریم کرتے تھے ۔"

كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يُجِلُّ هَذَا الشَّيْخَ -يَعْنِي الْبَكْرَاوِيَّ. ← بُنْدَارًا ← أَبُو بَکْرٍ ← كَانَ النَّبِيُّ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خُطْبَتَيْنِ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا. ← ابْنِ عُمَرَ أ] ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْبَكْرَاوِيُّ، ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1781

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1782

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ، نَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَرْحَبِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلَكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: قَالَ أَبُو وَائِلٍ: خَطَبَنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأَبْلَغَ وَأَوْجَزَ، فَلَمَّا نَزَلَ، قُلْنَا لَهُ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ! لَقَدْ أَبَلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ فَلَوْ كُنْتُ نَفَّسْتَ. قَالَ: إِنَّنِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ، فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ، وَأَقْصِرُوا الْخُطْبَةَ، فَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا". أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِهِ رَجَاءُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُذْرِيُّ أَبُو الْحَسَنِ، ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عُصَيْمٍ الْجُعْفِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ: بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُلْ: فَلَوْ كُنْتَ نَفَّسْتَ.

"جناب ابووائل بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر ؓ نے ہمیں بڑا بلیغ اور مختصر خطبہ ارشاد فرمایا۔ پھر جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے ان سے عرض کی : "اے ابو یقظان آپ نے بڑا بلیغ اور مختصر خطبہ ارشاد فرمایا ہے ، اگر آپ اسے طویل کرتے تو بہت اچھا ہوتا ۔ انہوں نے فرمایا: بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے : " بلاشبہ آدمی کی لمبی نماز اور مختصر خطبہ اس کے فقیہ ہونے کی علامت ہے ۔ لہٰذا تم نماز کو طویل اور خطبہ کو مختصر کیا کرو۔"کیونکہ بعض بیان جادو ( کا اثر ) رکتھے ہیں ۔"جناب عبدالرحمان بن عبدالملک بن ابجر نے مذکورہ بالا کی طرح روایت بیان کی ہے مگر یہ الفاظ بیان نہیں کیے :"اگر آپ طویل خطبہ دیتے تو اچھا تھا۔"

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1782

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1783

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: كَانَتْ خُطْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَصْدًا.

"امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت جابر بن سمرہ ؓ کی حدیث میں ہے :" رسول اللہﷺ کا خطبہ درمیانہ ہوتا تھا۔"

أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: كَانَتْ خُطْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ قَصْدًا.

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1783

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1784

وَفِي خَبَرِ الْحَكَمِ بْنِ حَزَنٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؛ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ كَلِمَاتٍ طَيِّبَاتٍ خَفِيفَاتٍ مُبَارَكَاتٍ.

"حضرت حکم بن حزن کی نبی کریمﷺ سےمروی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور پاکیزہ ، مختصر اور بابرکت کلمات کے ساتھ اللہ کی ثنا ء بیان کی۔"

النَّبِيِّ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ كَلِمَاتٍ طَيِّبَاتٍ خَفِيفَاتٍ مُبَارَكَاتٍ. ← وَفِي خَبَرِ الْحَكَمِ بْنِ حَزَنٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1784

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals