صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2244
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ؛ ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الْمَسْرُوقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدةُ بْنُ عَبْد اللَّه الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ إِذْ أَتَاهُ رَجُل يَمْشِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: "أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّه وَمَلَائِكَتِهِ وَكِتَابِهِ وَلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: "أَنْ تَعْبُدَ اللَّه لَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: "الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّه كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: "مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنِ أَشْرَاطِهَا، إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ رَبَّهَا - يَعْنِي السَّرَارِيَّ - فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ فَذَلِكَ أَشْرَاطُهَا، وَإِذَا صَارَ الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ رُؤوسَ النَّاسِ فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّه، ثُمَّ تَلَا: (إِنَّ اللَّه عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ) إِلَى آخِرِ السُّورَةِ [لقمان:34]. ثُمَّ أَدْبَرَ الرَجُل، فَقَالَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "هَذَا جِبْرِيلُ يُعَلِّمُ النَّاسَ دِينَهُمْ" هَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو حَيَّانَ هَذَا اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، تَيْمَ الرَّبَاب (1).
"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران میں کہ رسول اللہﷺ (گھر سے باہر ) لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے جب ایک شخص چلتے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا:"اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: "ایمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتاب ، اس کی ملاقات اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور تو آخرت کے دن اٹھنے پر یقین رکھے ۔" اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: "اسلام یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے ، اور نماز قائم کرے اور توفرض زکاۃ ادا کرے اور رمضان المبارک کے روزے رکھے ۔" اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! احسان کی حقیقت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: "احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے کہ گویا تو اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے کیونکہ اگر تو اسے دیکھ نہیں رہا تو بلاشبہ وہ توتمہیں دیکھ رہا ہے ۔ "اس نے پوچھا : اے ا للہ کے رسول! قیامت کب آئے گی ؟ آپ نے فرمایا: "جس شخص سے قیامت کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔ لیکن میں تمہیں اس کی نشانیاں بتا دیتا ہوں ۔ جب لونڈی اپنے مالک کو جنے گی تو یہ قیامت کی نشانی ہوگی اور جب بکریوں کے چرواہے بلند وبالا عمارات بنانے میں فخر وغرور کا اظہار کریں گے تو یہ قیامت کی نشانی ہوگی اور جب ننگے بدن ، ننگے پاؤں چلنے والے( فقراء) لوگوں کے سردار بن جائیں گے تو یہ قیامت کی نشانی ہوگی۔ قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:(اِنَّ اللہَ عِنْدَہْ عَلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَافِی الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَاتَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ)(لقمان:۳۴)"بے شک قیامت کا علم اللہ ہی کا پاس ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور وہی جانتا ہے جو ماؤں کے پیٹوں میں ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بے شک اللہ خوب جاننے والا پوری طرح باخبر ہے ۔"پھر وہ شخص پشت پھیر کر چلا گیا تو نبی کریمﷺ نے فرمایا : "یہ جبرائیلؑ ہیں ، لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے"یہ روایت جناب محمد بن بشر کی ہے ۔"
بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّه يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ إِذْ أَتَاهُ رَجُل يَمْشِي، فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← أَبُو حَيَّانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← وحدثنا عبدة بن عبد الله الخزاعي ← أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الْمَسْرُوقِيُّ، ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← جَرِيرٌ ← وحدثنا يوسف بن موسى ← أَبُو حَيَّانَ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ
Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2244
