Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2244

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ؛ ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الْمَسْرُوقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدةُ بْنُ عَبْد اللَّه الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ إِذْ أَتَاهُ رَجُل يَمْشِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: "أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّه وَمَلَائِكَتِهِ وَكِتَابِهِ وَلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: "أَنْ تَعْبُدَ اللَّه لَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: "الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّه كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: "مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنِ أَشْرَاطِهَا، إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ رَبَّهَا - يَعْنِي السَّرَارِيَّ - فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ فَذَلِكَ أَشْرَاطُهَا، وَإِذَا صَارَ الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ رُؤوسَ النَّاسِ فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّه، ثُمَّ تَلَا: (إِنَّ اللَّه عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ) إِلَى آخِرِ السُّورَةِ [لقمان:34]. ثُمَّ أَدْبَرَ الرَجُل، فَقَالَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "هَذَا جِبْرِيلُ يُعَلِّمُ النَّاسَ دِينَهُمْ" هَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو حَيَّانَ هَذَا اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، تَيْمَ الرَّبَاب (1).

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران میں کہ رسول اللہﷺ (گھر سے باہر ) لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے جب ایک شخص چلتے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا:"اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: "ایمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتاب ، اس کی ملاقات اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور تو آخرت کے دن اٹھنے پر یقین رکھے ۔" اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: "اسلام یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے ، اور نماز قائم کرے اور توفرض زکاۃ ادا کرے اور رمضان المبارک کے روزے رکھے ۔" اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! احسان کی حقیقت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: "احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے کہ گویا تو اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے کیونکہ اگر تو اسے دیکھ نہیں رہا تو بلاشبہ وہ توتمہیں دیکھ رہا ہے ۔ "اس نے پوچھا : اے ا للہ کے رسول! قیامت کب آئے گی ؟ آپ نے فرمایا: "جس شخص سے قیامت کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔ لیکن میں تمہیں اس کی نشانیاں بتا دیتا ہوں ۔ جب لونڈی اپنے مالک کو جنے گی تو یہ قیامت کی نشانی ہوگی اور جب بکریوں کے چرواہے بلند وبالا عمارات بنانے میں فخر وغرور کا اظہار کریں گے تو یہ قیامت کی نشانی ہوگی اور جب ننگے بدن ، ننگے پاؤں چلنے والے( فقراء) لوگوں کے سردار بن جائیں گے تو یہ قیامت کی نشانی ہوگی۔ قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:(اِنَّ اللہَ عِنْدَہْ عَلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَافِی الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَاتَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ)(لقمان:۳۴)"بے شک قیامت کا علم اللہ ہی کا پاس ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور وہی جانتا ہے جو ماؤں کے پیٹوں میں ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بے شک اللہ خوب جاننے والا پوری طرح باخبر ہے ۔"پھر وہ شخص پشت پھیر کر چلا گیا تو نبی کریمﷺ نے فرمایا : "یہ جبرائیلؑ ہیں ، لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے"یہ روایت جناب محمد بن بشر کی ہے ۔"

بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّه يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ إِذْ أَتَاهُ رَجُل يَمْشِي، فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← أَبُو حَيَّانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← وحدثنا عبدة بن عبد الله الخزاعي ← أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الْمَسْرُوقِيُّ، ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← جَرِيرٌ ← وحدثنا يوسف بن موسى ← أَبُو حَيَّانَ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2244

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2245

حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ عَبْدةَ، أَخْبَرَنا حَمَّادُ -يَعْنِي ابْنَ زَيْد - عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ- قَالَ: سَمِعَتُهُ يَقُولُ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْد الْقَيْسِ عَلَى الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! إِنَّ (2) هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَقَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كُفَّارُ مُضَرَ وَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَّا فِي شَهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِشَيْءٍ نَأْخُذُهُ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا. قَالَ: "آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّه وَشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمْسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ".

"حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ ربیعہ قبیلے کے لوگ ہیں او رہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے کافر حائل ہیں اور ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینے میں ہی آسکتے ہیں تو آپ ہمیں کوئی ایسی چیز بتاد یں جس پر ہم خود عمل پیرا ہوں اور اپنے پیچھے رہ جانے والے افراد کو اس کی دعوت دیں ۔ آپ نے فرمایا: "میں تمہیں چار کاموں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں ۔ میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے اور اس بات کی گواہی دینے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، نماز قائم کرنے ، زکوٰۃ ادا کرنے اور تمہیں جو غنیمت حاصل ہو اس میں سے خمس ادا کرنے کا حکم دیتا ہوں اور میں تمہیں کدو کے برتن ، سبز رنگ گھڑے ، لکڑی کرید کر بنائے گئے برتن اور تار کول لگے ہوئے برتن سے منع کرتا ہوں۔"

قَدِمَ وَفْدُ عَبْد الْقَيْسِ عَلَى الرَّسُولِ فَقَالَ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2245

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2246

حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ عَبْدةَ، أَخْبَرَنا عَبَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيَّ- حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْد الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِثْلِهِ. وَقَالَ: "الْإِيمَانُ بِاللَّه". ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه [228 - ب] وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّه، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ التَّغْلِيظِ فِي مَنْعِ الزَّكَاةِ

"حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوا ۔ پھر مذکورہ بالا کی طرح روایت بیان کی ۔ اور فرمایا: " اللہ پر ایمان لانا" پھر انہیں اس کی تفسیر یہ بتائی کہ اس سے مراد یہ گواہی دینا ہے کہ اللہ کےسوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔"پھر لمبی حدیث بیان کی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ ← عباد يعني ابن عباد المهلبي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2246

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2247

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ -وَهُوَ ابْنُ دَاوَرَ أَبُو الْعَوَّامِ الْقَطَّانُ-، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِي، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا أَبَا بَكْرٍ! أَتُرِيدُ أَنْ تُقَاتِلَ الْعَرَبَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسُ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه وَأَنِّي رَسُولُ اللَّه وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ"، وَاللَّه لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا مِمَّا كَانُوا يُعْطُونَ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَأُقَاتِلَنَّهُمْ عَلَيْهِ. قَالَ، قَالَ عُمَرُ: فَلَمَّا رَأَيْتُ رَأْيَ أَبِي بَكْرٍ قَدْ شَرَحَ [عَلَيْهِ] عَلِمْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ. جَمِيعُهُمَا لَفْظًا وَاحِدًا، غَيْر أَنَّ بُنْدَارًا قَالَ: لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَيْهِ.

"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتےہیں کہ جب رسول اللہﷺ وفات پاگئے تو عرب ( کے کچھ قبائل) مرتد ہوگئے ۔ (حضرت ابوبکرؓ خلیفہ مقرر ہوگئے تو انہوں نے مرتدین کے ساتھ جنگ کا ارادہ کیا ) اس پر حضرت عمر ؓ نے عرض کیا : اے ابوبکر! کیا آپ عربوں کے ساتھ جنگ کرنا چاہتے ہیں ؟ تو حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: یقیناً رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے : "مجھے لوگوں کے ساتھ اس وقت جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ یہ گواہی نہ دیں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبو د برحق نہیں اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں اور وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں ۔"ابوبکرؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر انہوں نے بکری کا میمنا بھی مجھ سے روکا جو وہ رسول اللہ ﷺ کو ادا کیا کرتے تھے تو میں اس کی ادائیگی کے لیے ان کے ساتھ جنگ کروں گا ۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں : پھر جب میں نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر ؓ اپنی رائے پر پوری طرح مطمئن ہیں تو میں نے بھی جان لیا کہ حق یہی ہے ۔ دونوں راویوں نے ایک ہی جیسے الفاظ میں حدیث بیان کی ہے ۔ جب کی بندار راوی نے یہ الفاظ مختلف بیان کیے ہیں۔"لَقَاتَلُتُھُمْ عَلَیْہِ"( میں ان کے ساتھ اس پر جنگ کر وں گا)۔"

أَبُو بَكْرٍ: إِنَّمَا ← عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا أَبَا بَكْرٍ! أَتُرِيدُ أَنْ تُقَاتِلَ الْعَرَبَ؟ ← لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ ارْتَدَّتْ الْعَرَبُ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، ← عِمْرَانُ -وَهُوَ ابْنُ دَاوَرَ أَبُو الْعَوَّامِ الْقَطَّانُ-، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلَابِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2247

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2248

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَنْبَسِ سَعِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، ثُمَّ حُرِّمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّه".

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں حتیٰ کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں ، پھر ان کا خون اور ان کے مال مجھ پر حرام ہوں گے اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي ← أَبُو الْعَنْبَسِ سَعِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبِي نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2248

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2249

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَامِرٌ الْعُقَيْلِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَة يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثُلَّةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، وَأَوَّلُ ثُلَّةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ، فَأَمَّا أَوَّلُ ثُلَّةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَالشَّهِيدُ، وَعَبْد مَمْلُوكٌ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ، وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ. وَأَمَّا أَوَّلُ ثُلَّةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَأَمِيرٌ مُسَلَّطٌ، وَذُو ثَرْوَةٍ مِنْ مَالٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّ اللَّه فِي مَالِهِ، وَفَقِيرٌ فَخُورٌ".

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "جنت میں داخل ہونے والے پہلے تین افراد اور جہنم میں داخل ہونے والے پہلے تین شخص مجھے دکھائے گئے ۔ جنت میں سب سے پہلے جانے والے تین شخص مجھے دکھائے گئے ۔ جنت میں سب سے پہلے جانے والے تین شخص یہ ہیں : شہید ، وہ غلام جس نے اپنے رب کی خوب عبادت کی اور اپنے آقا کے ساتھ خیر وخواہی کی اور تیسرا وہ شخص جو کثیر الاولاد اور وہ تین شخص جو جہنم میں سب سے پہلے داخل ہوں گے وہ یہ ہیں : ظالم وجابر بادشاہ اور وہ دولت مند جو اپنے مال میں سے اللہ کا حق ( زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا اور تیسرا وہ فقیر ہے جو فخر وغرور کرتا ہے ۔"

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← عَامِرٍ الْعُقَيْلِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2249

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2250

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قَالَ عَبْد اللَّه: آكِلُ الرِّبَا وَمُوكِلُهُ وَشَاهِدَاهُ، إِذَا عَلِمَاهُ، وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُوتَشِمَةُ وَلَاوِي الصَّدَقَةِ وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ الْهِجْرَةِ، مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

"حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ سود کھانے والا اور سود کھلانے والا اور اس کے دونوں گواہ ، جبکہ انہیں اس کا علم ہو اور گود نے والی عورت اور گودوانے والی عورت اور زکوٰۃ کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنے والا اور ہجرت کرنے کے بعد مرتد ہونے والا اعرابی شخص ، یہ سب لوگ محمد ( ﷺ) کی زبانی قیامت والے دن لعنتی ہوں گے ۔"

مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى بْنُ عِيسَى ← عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2250

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2251

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّعْلَبِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ إِسْحَاقُ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، وَقَالَ جَعْفَرٌ: عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ إِسْحَاقُ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: "هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ"، قَالَ: فَجَلَسْتُ فَلَمْ أَتَقَارَّ (2) أَنْ قُمْتُ، فَقُلْتُ: مَنْ هُمْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي؟ قَالَ: "هُمُ الْأَكْثَرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ، وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَأَهُ بِأَخْفَافِهَا كُلَّمَا نَفَدَتْ أُخْرَاهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا، [229 - أ] حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ". هَذَا حَدِيثُ إِسْحَاقَ. وَقَالَ جَعْفَرٌ: عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ" ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ إِلَى آخِرِهِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا قَبْلَ هَذَا الْحَدِيثِ.

"حضرت ابوزر ؓ بیان کرتےہیں کہ میں نبی کریمﷺ کے پاس پہنچا جبکہ آپ کعبہ شریف کے سائے میں تشریف فرما تھے ۔ جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا:"رب کعبہ کی قسم! وہی لوگ زیادہ خسارہ پانے والے ہیں ۔"تو میں بیٹھ گیا لیکن مجھے قرار وسکون نہ آیا تو میں کھڑا ہوگیا اور عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا: "وہ زیادہ دولت مند لوگ ہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اپنامال اپنے دائیں ، بائیں ، آگے اور پیچھے ( بوقت ضرورت) خرچ کیا یہ آپ نے چار مرتبہ فرمایا اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں اور جو بھی شخص اونٹوں ، گائیوں یا بکریوں کا مالک ہو اور وہ ان کی زکوٰۃ نہ دیتا ہو تو یہ جانور قیامت کے دن خوب موٹے تازے اور فربہ ہو کر آئیں گے اور اسے اپنے سینگوں سے ٹکریں ماریں گے ، اور اپنے پاؤں تلے روندیں گے ، جب پچھلا جانور گزر جائے گا تو پہلا جانور اس پر لوٹ آئے گا ۔ ( یہ عذاب مسلسل جاری رہے گا) حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا ۔"یہ جناب اسحاق کی حدیث ہے ۔ اور جناب جعفر کی روایت میں ہے ۔ حضرت ابوذرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "جو بھی اونٹوں کا مالک شخص ۔۔۔۔۔"پھر اس جگہ سے آخر تک مذکورہ بالا کی طرح روایت بیان کی ، لیکن انہوں نے حدیث کا ابتدائی حصہ بیان نہیں کیا۔"

فَجَلَسْتُ فَلَمْ أَتَقَارَّ ← هُمْ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْکَعْبَةِ ← انْتَهَيْتُ إِلَی النَّبِيِّ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْکَعْبَةِ فَلَمَّا رَآنِي ← إِسْحَاقُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَعْفَرٌ، ← الْاَعْمَشِ ← إِسْحَاقُ ← وَكِيعٌ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّعْلَبِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2251

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2252

حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ عَبْدةَ، أَخْبَرَنا عَبْد الْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ- حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيه، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَا مِنْ عَبْد لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا أُتِيَ بِهِ وَبِمَالِهِ فَأُحْمِيَ عَلَيْهِ صَفَائِحُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّه بَيْنَ عِبَادِهِ، يَوْمًا مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ. وَلَا عَبْد [لَا] (1) يُؤَدِّي صَدَقَةَ إِبِلِهِ إِلَّا أُتِيَ بِهِ وَإِبِلُهُ عَلَى أَوْفَرِ مَا كَانَتْ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَسِيرُ عَلَيْهِ كُلَّمَا مَضَى آخِرُهَا رُدَّ أَوَّلُهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّه بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ. وَلَا عَبْد [لَا] (1) يُؤَدِّي صَدَقَةَ غَنَمِهِ إِلَّا أُتِيَ بِهِ وَبِغَنَمِهِ عَلَى أَوْفَرِ مَا كَانَتْ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَسِيرُ عَلَيْهِ كُلَّمَا مَضَى عَنْهُ آخِرُهَا رُدَّ أَوَّلُهَا تَطَأَهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ، وَلَا جَلْحَاءُ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّه بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّه! الْخَيْلُ؟ قَالَ: "الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. وَالْخَيْلُ لِثَلَاثَةٍ؛ هِيَ لِرَجُل أَجْرٌ، وَلِرَجُل سِتْرٌ، وَعَلَى رَجُل وِزْرٌ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ [قَالُوا]: الْحُمُرُ يَا رَسُولَ اللَّه؟ قَالَ: "مَا أَنْزَلَ اللَّه عَلَيَّ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْجَامِعَةَ الْفَاذَّةَ (فمن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (7) وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ) [الزلزلة: 7 - 8]. الْجَلْحَاءُ: الَّتِي لَيْسَ لَهَا قَرْنٌ، وَالْعَقْصَاءُ الْمَكْسُورَةُ الْقَرْنِ.

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "جو شخص بھی اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اسے ( قیامت کے دن ) اس کے مال سمیت لایا جائے گا ۔ پھر اس مال کی تختیاں ( بنا کر انہیں ) جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا ۔ پھر ان تختیوں سے اس کے پہلو ، پیشانی اور کمر پر داغ لگائے گائیں گے ۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیں گے ۔ ( اسے یہ سزا) ایک ایسے دن میں ( مسلسل دی جائے گی) جس کی مقدار تمہاری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہوگی ۔ پھر وہ اپنا راستہ جنت یا جہنم کی طر ف دیکھ لے گا اور جو بھی شخص اپنے اونٹوں کی زکوٰۃ نہیں دیتا تو اسے اس کے اونٹوں سمیت لایا جائے گا جو خوب موٹے تازے ہوں گے ۔ اسے ایک وسیع ہموار میدان میں اوندھے منہ لٹایا جائے گا۔ پھر وہ اونٹ اسے روندیں گے ، جب آخری اونٹ گزر جائے گا تو پہلا اونٹ واپس لایا جائے گا ۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیں گے ۔ ( اس کے ساتھ یہ سلوک ) سارا دن ہوتا رہے گا جس کی مقدار تمہاری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہے ۔ پھر وہ اپنا راستہ جنت یا جہنم کی طرف دیکھ لے گا اور جو بھی شخص اپنی بکریوں کی زکوٰۃ نہیں دیتا تو اسے اس کی بکریون سمیت لایا جائے گا جو خوب موٹی تازی ہوں گی تو اس شخص کو ایک وسیع ہموار میدان میں الٹا لٹایا جائے گا اور بکریاں اس کے اوپر چلیں گی ۔ جب بھی آخری بکری گزر جائے گی تو پہلی کو دوبارہ لایا جائے گا ۔ وہ بکریاں اسے اپنے کھروں کے ساتھ روندیں گی اور سینگوں سے ٹکریں ماریں گی۔ ان میں کوئی بکری مڑے سینگوں والی یا بغیر سینگوں کے نہیں ہوگی ۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دیں گے ۔ ( اسے یہ عذاب مسلسل ) پورا دن ہوتا رہے گا جس کی مقدار تمہاری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال ہوگی ۔ پھر وہ اپنا راستہ جنت یا جہنم کی طر ف دیکھے گا ۔ "صحابہ کرام نے عرض کی: اے اللہ کے رسولﷺ!گھوڑوں کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک خیرو برکت لکھی ہوئی ہے اور گھوڑے تین قسم کے ہیں ۔ ایک قسم آدمی کےلیے اجرو ثواب کا باعث ہے ۔ ایک آدمی کےلیے بچاؤ کا باعث ہے اور ایک آدمی کےلیے عذاب کا باعث ہے ۔"پھر مکمل حدیث بیان کی ۔ صحابہ کرام نے عرض کی:"اے اللہ کے رسول!گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں فرمایا سوائے اس جامع منفرد آیت کے ( فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہْ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّ یَّرَہْ)(الزلزال:۸،۷) "جس شخص نے ذرہ بھر بھالئی کی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی وہ بھی اسے دیکھ لے گا ۔"اَلْجَلحَاء:وہ بکری جس کے سینگ نہ ہوں ۔اَلْعَقُصَاء: جس کے سینگ ٹوٹے ہوئے یا مڑے ہوئے ہوں۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2252

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2253

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ فِي كُلِّهَا: فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ. وَقَالَ أَيْضًا: ثُمَّ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ.

"امام صاحب نے اپنے استاد زیاد بن یحییٰ کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے ۔ مکمل حدیث بیان کی اور اس میں تمام جگہوں پر یہ الفاظ ہیں : "اسے یہ عذاب سارا دن مسلسل ہوتا رہے گا جس کی مقدار تمہارے حساب کے مطابق پچاس ہزار سال ہوگی ۔ "اوریہ الفاظ بھی بیان کیے :"پھر وہ جانور اسے روندیں گے ۔"

أَيْضًا: ثُمَّ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ. ← فِي كُلِّهَا: فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ. ← الحديث بطوله ← سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَی

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2253

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2254

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا اللَّيْثٌ؛ ح، وَحَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، عَنْ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ ذَا زَبِينَتَيْنِ يَتْبَعُ (1) صَاحِبَهُ وَهُوَ يَتَعَوَّذُ مِنْهُ، فَلَا يَزَالُ يَتْبَعُهُ وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ حَتَّى تُلْقِمَهُ أُصْبُعَهُ". لَمْ يَقُلِ الرَّبِيعُ: وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ. وَقَالَ أَيْضًا: كَنْزُ أَحَدِكُمْ.

حضرت ابوہریرہؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا: " تم میں سے کسی ایک شخص کا خزانہ ( جس کی زکوٰۃ اد انہیں کی گئی تھی وہ ) قیامت کے دن دو سیاہ نقطوں والا گنجا اژدھا بن کر خزانے والے کا پیچھا کرے گا جبکہ خزانے والا اس سے پناہ مانگے گا ۔ پھر وہ مسلسل اس کے پیچھے لگا رہے گا اور وہ اس سے بھاگتا پھرے گا حتی ٰ کہ سانپ اس کی انگلی چبا لے گا ۔"جناب ربیع کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں : "اور وہ سانپ سے بھاگتا پھرے گا ۔"اور یہ الفاظ بیان کیے ہیں : "تم میں سے کسی ایک کا خزانہ ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبٌ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2254

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2255

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ كَنْزًا مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يَتْبَعُهُ، فَيَقُولُ: وَيْلَكَ مَا أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُكُ الَّذِي تَرَكْتَهُ بَعْدَكَ، فَلَا يَزَالُ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ يَدَهُ فَيُقَصْقِصُهَا، ثُمَّ يَتْبَعَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ".

"حضرت ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"جس شخص نے اپنے پیچھے خزانہ چھوڑا ( جس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی گئی تھی ) تو وہ قیامت کے دن اس کے لیے گنجا سانپ بن جائے گا جس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے ۔ وہ سانپ اس کا پیچھا کرے گا وہ پوچھے گا : تیری بربادی ہو تو کون ہے ؟ تو وہ جواب دے گا : میں تیرا وہ خزانہ ہوں جو تو ( مرنے کے بعد) اپنے پیچھے چھوڑ آیا تھا تو وہ مسلسل اس کا پیچھا کرتا رہے گا حتیٰ کہ اس کا ہاتھ منہ میں ڈال کر چبا لے گا پھر اس کے بعد اس کا سارا جسم چبا ڈالے گا ۔"

ثَوْبَانَ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2255

chevron_left Previous
1234…22
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals