صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3076
ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ. ثَنَا أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- ثَنَا أَفْلَحُ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَبْكِي. فَقَالَ: "مَا شَأْنُكِ؟ " قَالَتْ: لَا أُصَلِّي. قَالَ: "فَلَا يَضُرُّكِ إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ، كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ: حَتَّى نَزَلَ الْمُحَصَّبَ وَنَزَلْنَا مَعَهُ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: "اخْرُجْ بِأُخْتِكَ فَلْتُهِلَّهُ (1) بِعُمْرَةٍ".
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں ۔ ( مقام سرف پر) رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائےتو میں رو رہی تھی ۔ آپ نے فرمایا :"تمھیں کیا ہوا ہے ؟ "اماں جی نے عرض کی: مجھے نماز نہیں پڑھنی ( ایام ماہواری شروع ہوگئے ہیں) آپ نے فرمایا: "یہ حیض تمھارے لیے نقصان کا باعث نہیں ہے ۔ یقیناً تو بھی آدم ؑ کے بیٹیوں میں سے ایک بیٹی ہے ، اللہ تعالیٰ نے جو چیز تم پر لازم کی ہے وہ سب عورتوں پر کی ہے ۔ " پھر مکمل حدیث بیان کی ، اور فرمایا: حتی کہ آپ وادی محصب میں ٹھہرے توہم بھی آپ کے ساتھ وہاں ٹھہرے ۔ پھر آپ نے حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ کو بلایا تو انھیں حکم دیا: "اپنی بہن کو لے کر حدود حرم سے باہر چلے جاؤ تاکہ وہ عمرے کا احرام باندھ لیں ( اور عمرہ اد اکر لے )۔"
"اخْرُجْ بِأُخْتِكَ فَلْتُهِلَّهُ بِعُمْرَةٍ". ← حَتَّى نَزَلَ الْمُحَصَّبَ وَنَزَلْنَا مَعَهُ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحَدِيثَ. ← عَلَيْهِنَّ"، ← اللَّهُ عَلَيْكِ مَا ← "فَلَا يَضُرُّكِ إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ، ← لَا أُصَلِّي. ← «مَا شَأْنُكَ؟» ← أَبْكِي، ← فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَفْلَحُ ← أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ
Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3076
