Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الوُضُو ءِ وَسُنَنَہِ · حديث 142

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ". لَمْ يَقُلْ [23 - أ] أَحْمَدُ: وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى.

"حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولاللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:"اعمال (کی قبولیت کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کےلیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ۔(یعنی اچھی یا بری نیت کے مطابق جزا یا سزا ملے گی) تو جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوئی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے ۔ اور جس شخص کی ہجرت دنیا کے حصول کےلیے یا کسی عورت سے شادی کےلیے تھی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔"احمد کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں"وانما لا مری مانوی"آدمی کےلیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی"

رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصِ اللَّیْثِیِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs · Hadith 142

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الوُضُو ءِ وَسُنَنَہِ · حديث 143

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ- قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى".

"حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتےہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:"اعمال (کا اجر ثواب) نیت کے مطابق ہے ۔ اور آدمی کےلیے وہی ہے جو اس نےنیت کی۔"

"الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى". ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصِ اللَّیْثِیِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ- ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs · Hadith 143

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الوُضُو ءِ وَسُنَنَہِ · حديث 144

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ وَقَتَادَةَ (1)، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: طَلَبَ (2) بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضُوءًا، فَلَمْ يَجِدُوا. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "هَاهُنَا مَاءٌ؟ "، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضْعَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ الَّذِي فِيهِ الْمَاءُ، ثُمَّ قَالَ: "تَوَضَّئُوا بِسْمِ [اللَّهِ] " فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ وَالْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ آخِرِهِمْ. قَالَ ثَابِتٌ: فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: كَمْ تُرَاهُمْ كَانُوا؟ قَالَ: نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ.

"حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے بعض صحابہ کرامؓ نے پانی تلاش کیا مگر انہیں نہ ملا ۔( وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پانی کی قلت کی شکایت کی ) تو نبی ﷺ نے فرمایا:( کیا تمہارے پاس) کچھ پانی ہے ؟ (آپ کے پاس تھوڑا سا پانی لایا گیا) تو میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنا دست مبارک پانی کےا س برتن میں رکھا ، پھر فرمایا:"بسم اللہ پڑھ کر وضو کرو"تو میں نے آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی ابلتا ہوا دیکھا جبکہ لوگ وضو کررہے تھے حتی کہ سب نے وضو کر لیا۔"ثابت کہتے ہیں : میں نے حضرت انس ؓ سے پوچھا: آپ کے خیال میں وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے فرمایا: ستّر کے قریب تھے۔"

أَنَسٍ، ← ثابت وقتادة ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs · Hadith 144

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الوُضُو ءِ وَسُنَنَہِ · حديث 145

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، نَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلَا يَغْمِسَنَّ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ، حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ". نَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ بِهَذَا فَبَلَغَ وَقَالَ: مِنْ إِنَائِهِ.

"حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:"جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ ہر گز کسی برتن میں نہ ڈالنے حتی کہ اسے تین بار دھو لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے ۔"امام صاحب فرماتے ہیں :"ہمیں بشر بن معاذ نے یہ روایت مرفوع بیان کی اور کہا:" من انائہ" "اپنے برتن سے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs · Hadith 145

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الوُضُو ءِ وَسُنَنَہِ · حديث 146

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، نَا عَمِّي، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ وَجَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ، فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ أَوْ أَيْنَ طَافَتْ يَدُهُ". فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ حَوْضًا، قَالَ: فَحَصَبَهُ ابْنُ عُمَرَ، وَقَالَ: أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَتَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ حَوْضًا! قَالَ أَبُو بَكْرٍ: ابْنُ لَهِيعَةَ لَيْسَ مِمَّنْ أُخَرِّجُ حَدِيثَهُ فِي هَذَا الْكِتَابِ (1)، إِذَا تَفَرَّدَ بِرِوَايَةٍ. وَإِنَّمَا أَخْرَجْتُ هَذَا الْخَبَرَ لِأَنَّ (2) جَابِرَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ مَعَهُ فِي الْإِسْنَادِ.

"حضرت سالم بن عبداللہ اپنے والد محترم حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:"جت تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ تین مرتبہ دھوئے بغیر برتن میں نہ ڈالے کیونکہ وہ تنہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ی ااس کا ہاتھ کہاں گھومتا رہا ہے ۔"تو ایک شخص نے ( حضرت ابن عمر سے ) کہا : حوض کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؟ تو ابن عمر ؓ نے اسے کنکری ماری اور فرمایا:"میں تمہیں رسول اللہﷺ سے (حدیث ) بیان کرتا ہوں اور تم کہتے ہو: حوض کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں :"ابن لھینہ جب روایت کرنے میں اکیلا ہو تو وہ ان راویوں میں سے نہیں جنہوں نے اس روایت کو اس کتاب سے نکالا۔"یہ ( ابن لھیعہ کی ) حدیث اس لیے ذکر کی ہے کہ اس کے ساتھ سند میں جابر بن اماعیل بھی ہے ۔"

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ وَجَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَضْرَمِيُّ، ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs · Hadith 146

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الوُضُو ءِ وَسُنَنَہِ · حديث 147

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، -يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ-، نَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ الرَّحْبَةَ بَعْدَمَا صَلَّى الْفَجْرَ، ثُمَّ قَالَ لِغُلَامٍ لَهُ: ائْتُونِي بِطَهُورٍ. فَجَاءَهُ الْغُلَامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ. قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: وَنَحْنُ جُلُوسٌ نَنْظُرُ إِلَيْهِ. فَأَخَذَ بِيَمِينِهِ الْإِنَاءَ فَأَكْفَأَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ الْإِنَاءَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، فَعَلَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: كُلُّ ذَلِكَ لَا يُدْخِلُ يَدَهُ الْإِنَاءَ حَتَّى يَغْسِلَهَا مَرَّاتٍ. ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى الْإِنَاءَ فَمَلَأَ فَمَهُ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ. ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ. ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا الْمَاءُ، ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا أَوْ جَمِيعًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى، فَغَسَلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى، فَغَسَلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِيَدِهِ الْيُسْرَى. ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَمَلَأَ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ شَرِبَ مِنْهُ. ثُمَّ قَالَ: هَذَا طُهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهَذَا طُهُورُهُ.

"حضرت عبدخیر ؒ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ نما ز فجر ادا کرن کے بعد ( مسجد کے ) صحن میں داخل ہوئے ، پھر اپنے غلام سے کہا: میرے لیے وضو کا پانی لاؤ، تو غلام ایک برتن لایا جس میں پانی تھا اور ایک طست ( ہاتھ وغیرہ دھونے کا برتن جیسےتھال ) لایا ۔ عبدخیر کہتے ہیں: ہم بیٹھے ان کی طر ف دیکھ رہے تھے ، تو انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ سے برتن پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلا ، پھر اپنے ہاتھوں کو دھویا ، پھر برتن اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑا اور اپنے بائیں ہاتھ پر پانی بہایا، اس طرح تین بار کیا ۔ عبدخیر کہتے ہیں: انہوں نے ہر بار اپنا ہاتھ برتن میں نہیں ڈالا حتی کہ اسے کئی با ردھو لیا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا ( چلو سے ) اپنا منہ بھرا ، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے بائیں ہاتھ سے تین بار ناک جھاڑی ، پھر تین بار اپنا بایا ں ہاتھ کہنی سمیت تین بار دھویا پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا حتی کہ وہ پانی میں ڈوب گیا، پھر اسے اٹھایا اور اسے پر لگے ہوئے پانی کو بائیں ہاتھ پر لگایا ، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے سر کا مسح کیا ، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا ، پھر اپنے دائیں پاؤں پر پانی بہایا اور اسے بائیں ہاتھ سے تین بار دھویا ، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں قدم پر پانی بہایا اور اسے بائیں ہاتھ سے تین بار دھویا ، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں قدم پر پانی بہایا اور اسے بائیں ہاتھ سے تین بار دھویا ، پھر اپنا دایاں ہاتھ پانی میں ڈالا اور اسے پانی سے بھرا ، پھر اسے پی لیا، پھر فرمایا:"یہ نبی ﷺ کے وضو کا طریقہ ہے ، جو شخص اللہ کے نبی ﷺ کے وضو کے طریقے کو دیکھنا پسند کرتا ہے تو یہ آپ کے وضو کا طریقہ ہے ۔"

عبد خير ← خالد بن علقمة الهمداني ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs · Hadith 147

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الوُضُو ءِ وَسُنَنَہِ · حديث 148

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، نَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ فَغَرَفَ غَرْفَةً، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى، وَغَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى، وَغَرَفَ غَرْفَةً فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَبَاطِنَ أُذُنَيْهِ وَظَاهِرَهُمَا، وَأَدْخَلَ أُصْبَعَيْهِ فِيهِمَا، وَغَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَغَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى.

"حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے ایک چلو پانی لیا ( اور اس سے ) کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر ایک چلو لیا تو اس سے اپنا چہرہ مبارک دھویا ، پھر ایک چلو لیا تو اس سے اپنا دایاں ہاتھ دھویا ، ایک اور چلو لیا تو اپنا بایاں ہاتھ دھویا ، اور ایک اور چلو لیا تو سر کا مسح کیا اور اپن کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصے کا مسح کیا اور اپنی انگلیاں ان میں داخل کیں ، پھر ایک چلو لے کر اپنا دایاں پاؤں دھویا اور ایک اور چلو سے اپنا بایاں پاؤں دھویا۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs · Hadith 148

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الوُضُو ءِ وَسُنَنَہِ · حديث 149

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ؛ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ؛ قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْهَادِ (1) -وَهُوَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ- عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَتَوَضَّأَ، فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيَاشِيمِهِ".

"حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:"جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے بیدار ہو کر وضو کرے تو اسے چاہیے کہ تین بار ناک جھاڑے کیونکہ شیطان اس کے نتھنوں میں رات گزارتا ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ الْهَادِ -وَهُوَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ- ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ← صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ؛ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs · Hadith 149

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الوُضُو ءِ وَسُنَنَہِ · حديث 150

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الزَّعْفَرَانِيُّ، وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ [24 - أ] وَإِسْحَاقُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ سِنَانٍ الْمَدَائِنِيُّ، وَرِزْقُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى وَجَمَاعَةُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ. قَالَ: "أَسْبِغِ الْوُضُوءَ، وَخَلِّلِ الْأَصَابِعَ، وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا".

"حضرت لقیط بن صبرہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! مجھے وضو کے متعلق بتائیے ۔ آپ نے فرمایا: مکمل وضو کرو ، انگلیوں کا خلال کرو ، اور اگر روزے کی حالت میں نہ ہو تو ناک میں خوب اچھی طرح پانی چڑھاؤ۔"

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← رِزْقُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى وَجَمَاعَةُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ سِنَانٍ الْمَدَائِنِيُّ، ← الزَّعْفَرَانِيُّ، وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs · Hadith 150

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الوُضُو ءِ وَسُنَنَہِ · حديث 151

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ: عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ؛ أَنَّهُ تَوَضَّأَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا، وَرِجْلَيْهِ ثَلَاثًا وَخَلَّلَ لِحْيَتِهِ، وَأَصَابِعَ الرِّجْلَيْنِ. وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ.

"جناب شقیق بن سلمہ عثمان بن عفان ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنا چہرہ تین مرتبہ دھویا اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا اور تین مرتبہ کلی کی ، اور اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصے کامسح کیا ، اور اپنے پاؤں تین بار دھوئے ، اور اپنی داڑھی کا خلال کیا ، اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کیا ، اور فرمایا:"میں نے اسی طرح رسول اللہﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔"

شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs · Hadith 151

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الوُضُو ءِ وَسُنَنَہِ · حديث 152

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ-، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا (1)، وَمَسَحَ بِأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَخَلَّلَ أَصَابِعَهُ، وَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ حِينَ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا. وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَلَ كَمَا رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ. قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَذَكَرَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ. وَلَا أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: عَامِرُ بْنُ شَقِيقٍ هَذَا، هُوَ ابْنُ حَمْزَةَ الْأَسَدِيُّ، وَشَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ هُوَ أَبُو وَائِلٍ.

"حضرت شقیق بن سلمہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان ؓ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے اپنے ہاتھ تین با ردھوئے ، کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ تین بار دھویا ، اور اپنے کانوں کے اندرونی و بیرونی حصے کا مسح کیا، اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھوئے اور انگلیوں کا خلال کیا ، اور فرمایا:"میں نے رسول اللہﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔"عبدالرحمان کہتے ہیں :اور ان (استاد اسرائیل) نے دونوں ہاتھوں کہنیوں سمیت"دھونے کا ذکر کیا ہے مگر میں نہیں جانتا کہ کیسے بیان کیا ہے ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں :"عامر بن شقیق ، ابن حمزہ اسدی نہ کہ ابن شقیق بن سلمہ ہیں، اور شقیق بن سلمہ ابووائل ہیں۔"

شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ-، ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs · Hadith 152

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الوُضُو ءِ وَسُنَنَہِ · حديث 153

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ عَلَيَّ بَيْتِيَ وَقَدْ بَالَ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَجِئْنَاهُ بِقَعْبٍ يَأْخُذُ الْمُدَّ أَوْ قَرِيبَهُ، حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ. فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ! أَلَا أَتَوَضَّأُ لَكَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقُلْتُ: بَلَى، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي. قَالَ: فَوُضِعَ لَهُ إِنَاءٌ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَمِينِهِ -يَعْنِي الْمَاءَ- فَصَكَّ بِهَا وَجْهَهُ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

"حضرت عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی ؓ میرے پاس میرے گھر تشریف لائے ، اور وہ پیشاب کرچکے تھے ، تو انہوں نے پانی منگوایا، ہم آپ کے پاس ایک بڑا پیالہ لے کرآئے جس میں ایک مد یا اس کے قریب پانی سماتا ہے ۔ وہ آپ کے سامنے رکھا گیا پھر فرمایا:"اے ابن عباس! کیا میں تمہارے لیے رسول اللہﷺ کا وضو نہ کروں؟ میں نے عرض کی:"میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، ضرور کیجیے ۔"کہتے ہیں : تو آپ کےلیے (وضو کرنے والا ) برتن رکھا گیا تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر اسے جھاڑا ، پھر اپنے دائیں ہاتھ میں"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللهِ الْخَوْلاَنِيِّ ← محمد بن طلحة بن يزيد بن ركانة ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs · Hadith 153

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals