Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1476

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن عبد الله بن المبارك المخرمي ثنا يحيى بن آدم ثنا زهير عن أبي إسحاق عن عبد الله بن أبي بصير عن أبيه قال : قدمت المدينة فلقيت أبي بن كعب فقلت : يا أبا المنذر حدثني أعجب حديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : صلى لنا - أو صلى بنا - رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الفجر ثم التفت فقال : أشاهد فلان ؟ قلنا : لا ولم يشهد الصلاة قال : أشاهد فلان ؟ قلنا : لا ولم يشهد الصلاة فقال : إن اثقل الصلاة على المنافقين صلاة العشاء وصلاة الفجر ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا إن صف المقدم على مثل صف الملائكة ولو تعلمون فضيلته لابتدرتموه وإن صلاتك مع رجل أربى من صلاتك وحدك وصلاتك مع رجلين أربى من صلاتك مع رجل وما كان أكثر فهو أحب إلى الله قال أبو بكر : ورواه شعبة و الثوري عن أبي إسحاق عن عبد الله بن بصير عن أبي بن كعب ولم يقولا : عن أبيه

" حضرت ابو بصیر بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا تو میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور عرض کی : اے ابو منڈر مجھے کوئی ایسی پسندیدہ ترین حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو۔ تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز فجر پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوکر پوچھا: کیا فلاں شخص موجود ہے؟ ہم نے جواب دیا: نہیں، اور وہ نما میں حاضر نہیں ہوا تھا۔ آپ نے پوچھا: کیا فلاں شخص حاضر ہوا ہے؟ ہم نے جواب دیا: نہیں، اور وہ نما ز میں حاضر نہیں ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: بلاشبہ منافقین پر سب سے بھاری نماز، نمازِ عشاء اور نمازِ فجر ہے۔ اور اگر وہ ان دونوں کے اجروثواب کو جان لیں تو وہ ان میں ضرور حاضر ہوں اگرچہ انہیں گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے، بے شک پہلی صف فرشتوں کی صف جیسی (فضیلت والی) ہے۔ اور اگر تمہیں اس کی فضیلت معلوم ہوجائے تو تم اس کے لیے دوڑتے ہوئے آؤ۔ اور یقیناً تمہاری ایک ساتھی کے ساتھ نماز تمہارے اکیلے کی نماز سے بہتر ہے۔ اور تمہارا دو آدمیوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا ایک آدمی کے ساتھ مل کرنماز پڑھنے سے افضل و بہتر ہے۔ اور جو نماز زیادہ تعداد والی ہوگی تو وہ اللہ تعالیٰ کو اتنی ہی زیادہ محبوب ہوگی۔"

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← أَعْجَبَ حَدِيثٍ ← قدمت المدينة فلقيت أبي بن كعب فقلت يا أبا المنذر ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1476

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1477

أنا أبو طاهر ثنا أبو بكر ناه بندار نا يحيى بن سعيد و محمد بن جعفر عن شعبة قال سمعت أبا إسحاق قال سمعت عبد الله بن أبي بصير يحدث عن أبي بن كعب قال : صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصبح فقال : أشاهد فلان فذكر الحديث وقال : وما كان أكثر فهو أحب إلى الله عز وجل

" سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی اور پوچھا کیا فلاں آدمی حاضر ہے؟ آگے بقیہ حدیث بیان کی جس کے آخر میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (نماز میں) جتنے آدمی زیادہ ہوں گے اتنی ہی اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہوگی۔"

الْحَدِيثَ. ← اَشَاھِدٌ فُلَانٌ؟ ← صلى رسول الله الصبح ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ← أَبَا إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← يحيى بن سعيد و محمد بن جعفر ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ بُنْدَارٌ، ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1477

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1478

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا علي بن سهل الرملي بخبر غريب غريب نا زيد بن أبي الزرقاء عن سفيان عن عبد الرحمن ابن عابس عن ابن أبي ليلى عن ابن أم مكتوم قال : يا رسول الله ! إن المدينة كثيرة الهوام والسباع قال : تسمع حي على الصلاة حي على الفلاح ؟ قلت : نعم قال : فحي هلا

" حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! بلاشبہ مدینہ منورہ میں زہریلے کیڑے مکوڑے اور درندے بکثرت ہیں ( تو کیا مجھے جماعت چھوڑنے کی رخصت ہے) آپ نے پوچھا: کیا تم حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ اورحَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ(آؤ نماز کی طرف ، دوڑہ کامیابی کی طرف) کی آواز سنتے ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: تو پھر (نماز باجماعت میں) حاضر ہوا کرو۔"

ابن أم مكتوم ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عبد الرحمن ابن عابس ← سُفْيَانَ، ← زيد بن أبي الزرقاء ← علي بن سهل الرملي بخبر غريب غريب ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1478

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1479

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا عيسى بن أبي حرب نا يحيى بن أبي بكير نا أبو جعفر الرازي ثنا حصين بن عبد الرحمن عن عبد الله بن شداد عن ابن أم مكتوم : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم استقبل الناس في صلاة العشاء فقال : لقد هممت أن آتي هؤلاء الذين يتخلفون عن هذه الصلاة فأحرق عليهم بيوتهم فقام ابن أم مكتوم فقال : يا رسول الله لقد علمت ما بي وليس لي قائد قال : أتسمع الإقامة ؟ قال : نعم قال : فاحضرها ولم يرخص له قال أبو بكر : هذه اللفظة : وليس لي قائد فيها اختصار أراد - علمي - وليس قائد يلازمني كخبر أبي رزين عن ابن أم مكتوم

" حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز عشاء کے وقت لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں اس نماز سے پیچھے رہنے والے لوگوں کے پاس جاؤں اور ان کے گھروں کو جلادوں۔ تو حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کو یقیناً میری تکلیف اور عذر کا علم ہے اور میرا کوئی راہنما بھی نہیں ہے۔ آپ نے پوچھا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: تو پھر اس میں حاضر ہوا کرو۔" اور آپ نے انہیں رخصت نہ دی۔" امام ابو بکرؒ فرماتے ہیں: " میرا کوئی راہنما نہیں ہے۔" اس لفظ میں اختصار ہے۔ میرے علم کے مطابق ان کا ارادہ یہ تھا کہ میرا مستقل راہنما کوئی نہیں ہے۔ جیسا کہ ابورزین کی روایت میں ہے (جو درج ذیل ہے)۔"

ابن أم مكتوم ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أبو جعفر الرازي ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← عيسى بن أبي حرب ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1479

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1480

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه نصر بن مرزوق ثنا أسد ثنا شيبان أبو معاوية عن عاصم بن أبي النجود عن أبي رزين عن ابن أم مكتوم أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه محمد بن الحسن بن تسنيم نا محمد - يعني ابن بكر - أخبرنا حماد بن سلمة عن عاصم عن أبي رزين عن عبد الله بن أم مكتوم قال : قلت : يا رسول الله إني شيخ ضرير البصر شاسع الدار ولي قائد فلا يلازمني فهل لي من رخصة ؟ قال : تسمع النداء ؟ قال : نعم قال : ما أجد لك من رخصة

" جناب ابورزین حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: "میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! بے شک میں ایک نابینا بوڑھا شخص ہوں، میرا گھر بھی دور ہے۔ اور میرا ایک رہنما ہے جو مستقل میرے پاس نہیں ہوتا، تو کیا میرے لیے (نماز باجماعت میں حاضر نہ ہونے کی) رخصت ہے؟ آپ نے پوچھا: کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! تو آپ نے فرمایا: میں تیرے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا۔"

قُلْتُ ← عبد الله بن أم مكتوم ← اَبِیْ رَزَینٍ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← محمد يعني ابن بكر ← أبو بكر ناه محمد بن الحسن بن تسنيم ← أَبُو طَاهِرٍ، ← ابن أم مكتوم ← اَبِیْ رَزَینٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← شيبان أبو معاوية ← أسد ← أبو بكر ناه نصر بن مرزوق ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1480

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1481

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا عبد الجبار بن العلاء نا سفيان حدثني أبو الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة و ابن عجلان وغيره قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لقد هممت أن آمر فتياني فيقوموا الصلاة وآمر فتيانا فيتخلفوا إلى رجال يتخلفون عن الصلاة فيحرقون عليهم بيوتهم ولو علم أحدهم أنه يدعى إلى عظم إلى ثريد أي لأجاب

" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنے نوجوان کو نماز کھڑی کرنے کا حکم دوں اور کچھ نوجوانوں کو حکم دوں کہ وہ نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے پاس جائیں اور انہین ان کے گھروں سمیت جلادیں۔ اگر ان میں سے کسی شخص کو معلوم ہوجائے کہ وہ گوشت کی ایک ہڈی یا ثرید کھانے کی دعوت کی طرف بلایا جا رہا ہے تو وہ ضرور قبول کرتا (اور حاضر ہوتا)"

أبي هريرة و ابن عجلان وغيره ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1481

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1482

قال أبو بكر : أما خبر ابن عجلان الذي أرسله ابن عيينة فإنما رواه ابن عجلان عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم : عن النبي صلى الله عليه وسلم أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه بندار حدثني صفوان و أبو عاصم قالا ثنا ابن عجلان فذكر الحديث

" امام صاحب نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔"

الْحَدِيثَ. ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← صفوان و أبو عاصم ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ بُنْدَارٌ، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1482

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1483

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا سلم بن جنادة نا وكيع عن المسعودي عن علي بن الأقمر عن أبي الأحوص عن عبد الله قال : لقد رأيتنا وما يتخلف عنها إلا منافق بين نفاقه ولقد رأيتنا وأن الرجل ليهادي بين رجلين حتى يقام في الصف

" حضرت عبدا للہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے خود کو اس حال میں دیکھا کہ نماز باجماعت سے پیچھے صرف واضح اور کھلے نفاق والا شخص ہی رہتا تھا اور ہم نے خود کو اس حال میں بھی دیکھا کہ ایک (بیمار) شخص کو دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر چلایا جاتا حتیٰ کہ اسے صف میں لا کر کھڑا کر دیا جاتا۔"

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ← الْمَسْعُودِيِّ ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1483

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1484

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا عبد الله بن سعيد الأشج نا ابن نمير عن الأعمش وثنا سلم بن جنادة نا أبو معاوية نا الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن أثقل الصلاة على المنافقين صلاة العشاء الآخرة والفجر ولو يعلمون ما فيها لأتوها ولو حبوا وإني لأهم أن آمر بالصلاة فتقام ثم آمر رجلا فيصلي ثم آخذ حزم النار فأحرق على أناس يتخلفون عن الصلاة بيوتهم هذا حديث ابن نمير وفي حديث أبي معاوية قال : لقد هممت وقال : ثم آمر رجلا فيصلي بالناس ثم أنطلق معي برجال معهم حزم من حطب إلى قوم لا يشهدون الصلاة فأحرق عليهم بيوتهم بالنار

" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک منافقوں پر سب سے بھاری نماز عشاء اور نماز فجر ہیں۔ اور اگر انہیں معلوم ہوجائے کہ ان میں کتنا اجرو ثواب ہے تو وہ ان میں ضرور حاضر ہوں اگرچہ انہیں گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ بے شک میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں نماز پڑھنے کا حکم دوں تو وہ کھڑی کر دی جائے، پھر میں ایک آدمی کو جماعت کرانے کا حکم دوں، اور میں ایندھن کے ڈھیر لے کر نماز باجماعت سے پیچھے رہنے والوں کو ان کے گھروں سمیت جلادوں۔" یہ ابن نمیر کی حدیث ہے اور ابو معاویہ کی حدیث کے الفاظ ہیں: میں نے ارادہ کیا ہے؟ اور فرمایا: " پھر میں ایک آدمی کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے، پھر میں کچھ لوگوں کو جن کے پاس ایندھن کے ڈھیر ہوں انہیں اپنے ساتھ لے کر نماز سے پیچھے رہنے والوں کے پاس جاؤں اور میں ان پر ان کے گھروں کو آگ سے جلا دوں۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← الْأَعْمَشِ؛ وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1484

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1485

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن الوليد نا عبد الوهاب - يعني الثقفي - قال سمعت يحيى بن سعيد يقول سمعت نافعا يحدث أن عبد الله بن عمر كان يقول : كنا إذا فقدنا الإنسان في صلاة العشاء الآخرة والصبح أسأنا به الظن

" حضرت عبدا للہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم کسی شخص کو نماز عشاء اور نماز فجر میں موجود نہ پاتے تو ہم اس کے بارے میں برا گمان کرتے (کہ وہ منافق ہو گیا ہے)"۔

كنا إذا فقدنا الإنسان في صلاة العشاء الآخرة والصبح أسأنا به الظن ← أن عبد الله بن عمر كان ← نَافِعًا ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ -يَعْنِي الثَّقَفِيَّ- ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1485

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1486

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا موسى بن عبد الرحمن المسروقي ثنا أبو أسامة حدثني زائدة بن قدامة عن السائب بن حبيش الكلاعي ح وثنا علي بن مسلم ثنا عبد الصمد نا زائدة بن قدامة نا السائب بن حبيش الكلاعي عن معدان بن أبي طلحة اليعمري قال : قال أبو الدرداء : أين مسكنك ؟ قلت : قرية دون حمص قال أبو الدرداء سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : ما من ثلاثة نفر في قرية ولا بدو فلا تقام فيهم الصلاة إلا استحوذ عليهم الشيطان فعليك بالجماعة فإنما يأكل الذئب القاصية وقال المسروقي : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال : إن الذئب يأخذ القاصية

" جناب معدان بن ابی طلحہ یعمری بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا: تمہارا گھر کہاں ہے؟ میں نے جواب دیا کہ حمص سے پہلے ایک بستی میں ہے۔ حضرت ابودراء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: " جس بستی اور گاؤں میں بھی تین شخص موجود ہوں پھر وہاں نماز (باجماعت) قائم نہ کی جائے تو شیطان ان پر غالب آجاتا ہے۔ لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑ لو۔ کیونکہ بھیڑیا دور اور تنہا ہونے والی بھیڑ کو کھا جاتا ہے۔" جناب مسروقی کی روایت میں ہے۔ "رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک بھیڑیا دور اور تنہا ہونے والی بھیڑ (بکری) کو پکڑ لیتا ہے۔"

مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ← السائب بن حبيش الكلاعي ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ*، ← السائب بن حبيش الكلاعي ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1486

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1487

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن العلاء بن كريب بخبر غريب غريب ثنا قبيصة ثنا ورقاء بن عمر عن منصور عن سالم بن أبي الجعد عن جابر عن عبد الله قال : وثبت رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخلنا عليه فوجدناه جالسا في حجرة له بين يديه غرفة قال : فصلى جالسا ن فقمنا خلفه فصلينا فلما قضى الصلاة قال : إذا صليت جالسا فصلوا جلوسا وإذا صليت قائما صلوا قياما ولا تقوموا كما تقوم فارس لجباريها وملوكها

" حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ٹانگ (تکلیف یا درد کی وجہ سے چلنے پھرنے سے) رک گئی تو ہم آپ کے پاس (تیمارداری کے لیے) گئے ۔ ہم نے آپ کو بالا خانے کے سامنے آپ کے حجرہ مبارک میں بیٹھے ہوئے پایا۔ فرماتے ہیں: پھر آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھی۔ جب آپ نے نماز مکمل کی تو فرمایا: جب میں بیٹھ کر نماز پڑھاؤں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھا کرو، اور جب میں کھڑے ہوکر نماز پڑھاؤں تو تم بھی کھڑے ہوکر نماز پڑھا کرو، اور تم (میرےگرد) اس طرح کھڑے نہ ہواکرو جس طرح فارسی لوگ اپنے سرداروں اور بادشاہوں کے لیے (دست بستہ) کھڑے ہوتے ہیں۔"

عَبْدُ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، ← قَبِيصَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1487

chevron_left Previous
1…858687…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals