Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1211

ثنا بندار ثنا محمد ثنا شعبة عن أبي إسحاق قال سمعت عاصم بن ضمرة قال : سألت عليا عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر هذا الحديث قال أبو بكر : ففي هذا لخبر خبر علي بن أبي طالب قد صلى من النهار ركعتين مرتين فأما ذكر الأربع قبل الظهر والأربع قبل العصر فهذه من الألفاظ المجملة التي دلت عليه الأخبار المفسرة فدل خبر ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم صلاة الليل والنهار مثنى مثنى وأن كل ما صلى النبي صلى الله عليه وسلم في النهار من التطوع فإنما صلاهن مثنى مثنى على ما خبر أنها صلاة النهار والليل جميعا ولو ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه صلى من النهار أربعا بتسليمة بالنهار وبين أن يسلم في كل ركعتين وقوله في خبر علي : ويفصل بين كل ركعتين بالتسليم على الملائكة المقربين ومن تبعهم من المؤمنين فهذه اللفظة تحتمل معنيين أحدهما أنه كان يفصل بن كل ركعتين بتشهد إذ في التشهد التسليم على الملائكة ومن تبعهم من المسلمين وهذا معنى يبعد والثاني أنه كان يفصل بين كل ركعتين بالتسليم الذي هو فصل بين هاتين الركعتين وبين ما بعدهما من الصلاة وهذا هو المفهوم من المخاطبة لأن العلماء لا يطلقون اسم الفصل بالتشهد من غير سلام يفصل بين الركعتين وبين ما بعدهما ومحال من جهة الفقه أن يقال : يصلي الظهر أربعا يفصل بينهما بسلام أو العصر أربعا يفصل بينهما بسلام أو المغرب ثلاثا يفصل بينهما بسلام أو العشاء أربعا يفصل بينهما بسلام وإنما يجب أن يصلي المرء الظهر والعصر والعشاء كل واحد منهن أربعة موصولة لا مفصولة وكذلك المغرب يجب أن يصلى ثلاثا موصولة لا مفصولة ويجب أن يفرق بين الوصل وبين الفصل والعلماء من جهة الفقه لا يعلمون الفصل بالتشهد من غير تسليم يكون خارجا من الصلاة ثم يبدأ فيما بعدها ولو كان التشهد يكون فصلا بين الركعتين وبينما بعد لجاز لمصل إذا تشهد في كل صلاة يجوز أن يتطوع بعدها أن يقوم فبل أن يسلم فيبدأ في التطوع على العمد وكذلك كان يجوز له أن يتطوع من الليل بعشر ركعات وأكثر بتسليمة واحدة يتشهد في كل ركعتين ولو كان التشهد فصلا بين ما مضى وبين ما بعده من الصلاة وهذا خلاف مذهب مخالفينا من العراقيين

جناب عاصم بن ضمرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ سے رسول اللہﷺ کی (نفل) نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے یہ حدیث بیان کی ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : اس روایت میں حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے خبر دی کہ آپ نے دن کے وقت دو مرتبہ دودو رکعات ادا فرمائی ہیں۔جبکہ ظہر سے پہلے چار رکعات اور عصر سے پہلے چار رکعات کا ذکر مجمل الفاظ میں ہے جن کی تفسیر اور وضاحت مفسر روایات سے ہوتی ہے ۔چنانچہ حضرت ابن عمرؓ کی حدیث جو وہ نبیہ اکرم سے بیان کرتے ہیں کہ دن اور رات کی نماز دودو رکعات کر کے ادا کی جائے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی اکرم ﷺ دن کے وقت جو نفل نماز بھی ادا کی وہ آپ نے دو رکعات ہی ادا کیں ہیں ۔جیسا کہ انہوں نے بتایا کہ رات اور دن دونوں کی نماز دو دو رکعات ہیں ۔اگر نبی کریم ﷺ سے یہ ثابت ہو جائے کہ آپ نے دن کے وقت چار رکعات نفل نماز ایک سلام کے ساتھ ادا کی ہے تو پھر ہمارے نزدیک جائز اور مباح اختلاف کی قسم سے ہو گا۔ لہذا آدمی کو اختیار ہو گا کہ وہ دن کے وقت چار رکعات نفل ایک ہی کے ساتھ ادا کر لے یا ہر دو رکعات کے بعد سلام پھیر لیے۔حضرت علی کی حدیث کے یہ الفاظ ، آپ ہر دو رکعات میں اللہ کے مقرب فرشتوں اور ان کے پیرو کار مومنوں پر سلام بھیج کر فاصلہ کرتے۔تو اس کے دو معانی ہیں : پہلا معانی یہ ہے کہ آپ دو رکعت کے بعد تشہد بیٹھ کر فاسلہ کرتے تھے، کیو نکہ تشہد میں بھی فرشتوں اور ان کے تا بعدار مسلمانوں پر سلام بھیجا جاتا ہے ، تو یہ معنی مراد لینا بعید ہے اور دوسرا معنی یہ ہے کہ آپ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیر کر فاصلہ کرتے تھے اور یہ سلام پہلی دو رکعات کے اور ان کے بعد والی نماز میں فاسلہ اور جدائی ہوتی ۔ اور یہ معنی مفہوم مخا طب ہے(یعنی روایت سے سمجھا جانے والا مہفوم و معنی)کیونکہ علمائے کرام صرف تشہد کے ساتھ ، سلام پھیرے بغیر فاصلہ کرنے کو فاصلہ اور جدائی کا نام نہیں دیتے کہ جس کے ساتھ پہلی دو رکعات اور ان کی بعد والی نماز کے درمیان فاصلہ کیا جائے اور فقہی نقطہ نظر سے یہ بھی کہنا محال اور ناممکن ہے کہ آپ ظہر کی چار رکعات ادا کرتے اور ان کے درمیان سلام پھیر کر فا صلہ کرتے یا آپ مغرب کی تین رکعات میں سلام پھیر کر فاصلہ کرتے یا آپ عشا کی چار رکعات میں سلام کے ساتھ فاسلہ اور جدائی کرتے۔ بلا شبہ نمازی کے لیے نماز ظہر ، عصر اور عشا کی چار رکعات ملا کر پڑھنا واجب ہے ۔ اسی طرح مغرب کی نماز بھی ان میں جدائی اور فاصلہ کیے بغیر (تمام رکعات ) ملا کر پڑھنا واجب ہے اور یہ بھی واجب ہے کہ فصل اوروصل (ملا کر پڑھنا ) میں فرق کیا جائے ۔ علمائے کرام فقہی اعتبار سے بغیر سلام پھیرے صرف تشہد کے ساتھ فصل (فاصلہ کرنے ) کو نہیں جانتے کہ اس فاصلے کے ساتھ نمازی نماز سے نکل جائے پھر اس کے بعد والی نماز شروع کر دے ، اگر صرف تشہد پہلی دو رکعت اور بعد والی نماز کے درمیان فاصلہ ہوتا پھر نمازی کے لیے جائز ہونا چاہیے کہ جب وہ کسی بھی نماز میں تشہد بیٹھ لے تو اس کے بعد نفل نماز پڑھ لے ۔ یہ کہ وہ سلام پھیرنے سے پہلے ہی کھڑا ہو جائے اور عملا نفل نماز شروع کر دے ۔ اسی طرح اس کے لیے یہ بھی جائز ہو گا وہ رات کے وقت دس رکعات یا اس سے زائد نفل نماز ایک سلام سے ادا کر لے ۔ اور ہر دو ر رکعت کے بعد تشہد بیٹھ جائے ، اگر تشہد کو گذشتہ اور آئندہ نماز کے درمیان فاصلہ تسلیم کیا جائے ۔ جبکہ یہ بات ہمارے مخالفین عراقی علما کے مذہب کے بھی خلاف ہے۔

هَذَا الْحَدِيثَ ← صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ← سألت عليا ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1211

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 967

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، نَا قُرَّةُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، بِمِثْلِ ذَلِكَ [107 - أ].

" حضرت ابن عباس ؓ سے مذکورہ بالا روایت کی طرح روایت مروی ہے۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، بِمِثْلِ ذَلِكَ أ]. ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← قُرَّۃَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 967

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 968

جَائِزٌ كَمَا فَعَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ جَائِزٌ لَهُ الْجَمْعُ بَيْنَهُمَا وَإِنْ كَانَ نَازِلًا لَمْ يَجِدَّ بِهِ السَّيْرُ، كَمَا فَعَلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَلَمْ يَقُلِ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّ الْجَمْعَ بَيْنَهُمَا غَيْرُ جَائِزٍ إِذَا لَمْ يَجِدَّ بِهِ السَّيْرُ، لَا أثرًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، وَلَا مُخْبِرًا عَنْ نَفْسِهِ.

" حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ تبوک والے سال ( غزوہ تبوک کے موقع پر ) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ( جہاد کے لیے) نکلے تو رسول اللہ ﷺ ( دوران سفر ) ظہر اور عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں موخر کیپھر آپ (خیمے سے ) باہر تشریف لائے اور ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی ادا کیں ، پھر آپ ( خیمے ) کے اندر تشریف لے گئے، پھر باہر تشریف لائے اور مغرب اور عشا ء نمازیں جمع کر کے پڑھیں ۔ پھر آپ نے فرمایا : بے شک کل تم تبوک کے چشمے پر پہنچ جاو گے، ان شاء اللہ ، اور تم وہاں چاشت کے وقت ہی پہنچ سکو گے۔ تو جو شخص چشمے پر پہنچ جائے وہ میرے پہنچنے تک اس میں سے پانی بالکل نہ لے۔ کہتے ہیں : " جب ہم چشمے پر پہنچے تو دوع آدمی ہم میں سے پہلے وہاں پہنچ چکے تھے جبکہ چشمہ ایک تسمے کی طرح تھوڑا تھوڑا چل رہا تھا ۔ رسو اللہ ﷺ نے ان دونوں سے پو چھا : " کیا تم نے چشمے سے کچھ پانی لیا ہے ؟ تو دونوں نے کہا : جی ہاں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے خﷺب سخت سست کہا ۔ پھر صحابہ کرام نے چشمے سے اپنے ہاتھوں کے ساتھ تھوڑا تھوڑا پانی اپنے چلووں میں لیا حتی کہ تھوڑا سا پانی جمع ہو گیا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس پانی سے اپنا چہرہ اور دست مبارک دھوئے، پھر اس پانی کو چشمے میں ڈال دیا تو چشمہ جاری ہو گیا اور بھرپور پانی بہنے لگا۔ پس لوگوں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : " اے معاذ ! اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو تم اس علاقے کو باغات ( اور آبادی ) سے بھرپور دیکھو گے۔" امام ابو بکر فرماتے ہیں : اس حدیث سے واضح ہو گیا اور ثابت ہو گیا کہ نبی کریم ﷺ نے ظہر اور عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے ادا کیں ہیں حا لانکہ آپ اپنے سفر مین ایک جگہ پڑاو ڈالے ہوئے تھے اور دونوں نمازوں کو جمع کرتے وقت سفر جاری نہیں تھا ۔ کیونکہ حضرت معاذ ؓ کا یہ فرمانا : " آپ نے ایک دن نماز موخر کی پھر آپ باہر تشریف لائےاور ظہر اور عسر کی نمازیں اکٹھی ادا کیں ، پھر آپ ( خیمے ) میں داخل ہو گئے، پھر آپ باہر تشریف لائے اور مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے ادا کیں ۔" اس سے یہ واضح ہوا کہ ان دو اوقات میں آپ سوار ہو کر چل نہیں رہے تھے جن میں مغرب و عشاء اور ظہر و عصر کی نمازیں جمع کر کے ادا فرمائی تھیں اور حضرت ابن عمر ؓ کی یہ حدیث کہ : " نبی کریم ﷺ کو جب سفر کی جلدی ہوتی تو دو نمازیں جمع کر لیتے تھے ۔" حضرت معاذ ؓ کی اس حدیث کے مخالف نہیں ہے کیونکہ ابن عمر ؓ نے نبی کریم ﷺ کو دو نمازیں جمع کرتے ہوئے دیکھا جبکہ آپ کو سفر میں جلدی تھی تو انہوں نے جیسے نبی کریم ﷺ کو عمل کرتے ہوئے دیکھا ویسے ہی بیان کر دیا۔ اور معاذ ؓ نے نبی کریم ﷺ کو دو نمازیں جمع کر کے پڑھتے ہوئے دیکھا جبکہ آپ ایک قیام گاہ میں ٹھہرے ہوئے تھے اور سفر نہیں کر رہے تھے، تو انہوں نے جیسے نبی کریم ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ، ویسے ہی اس کی خبر دے دی۔ لہٰذ اجب مسافر کو جلدی ہو تو دو نمازیں جمع کر کے پڑھنا جائز ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے کیا ۔ اس طرح اس کی لیے کسی منزل پر قیام کے دوران سفر کی جلدی کے بغیر بھی دو نمازیں جمع کرنا جائز ہے، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے کیا ۔ " حضرت ابن عمر ؓ نے یہ نہیں کہا کہ جب مسافر کو سفر میں جلدی نہ ہو تو اس کی لیے دو نمازوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے انہوں نے یہ بات نہ تو نبی اکرم ﷺ سے نقل کی ہے اور نہ اپنی طرف سے کہی ہے۔"

جَائِزٌ كَمَا فَعَلَهُ النَّبِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 968

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 969

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، مِثْلَ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ: يَعْنِي: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَجَّلَ بِهِ السَّيْرُ يَوْمًا جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَإِذَا أَرَادَ السَّفَرَ لَيْلَةً جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ إِلَى أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا، وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ.

" جناب ابن شہاب ، حضرت انس بن مالک ؓ سے علی بن حسین کی حدیث کی طرح روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو جب دن کے وقت جلدی سفر کرنا ہوتا تو آپ نماز ظہر اور عصر کو جمع کر لیتے، اور جب آپ رات کے وقت کے سفر کا ارادہ کرتے تو نماز مغرب اور عشاء کو جمع کر لیتے۔ آپ ظہر کی نماز کو عصر کے پہلے وقت تک موخر کر لیتے پھر دونوں کو جمع کر لیتے، اور مغرب کی نماز کو موخر کر کے شفق غائب ہونے پر مغرب و عشاءکو جمع کر کے ادا کر لیتے۔"

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، مِثْلَ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ: يَعْنِي: ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، ← جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 969

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 970

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَا: ثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَحَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ وَمُسَاحِقِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: فَغَابَتِ الشَّمْسُ، فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: الصَّلَاةُ، قَالَ: فَسَارَ، فَقِيلَ لَهُ: الصَّلَاةُ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجَّلَ بِهِ السَّيْرُ أَخَّرَ هَذِهِ الصَّلَاةَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُؤَخِّرَهَا. قَالَ: فَسِرْنَا حَتَّى نِصْفِ اللَّيْلِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ اللَّيْلِ. قَالَ: فَنَزَلَ [107 - ب] فَصَلَّاهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ، وَخَبَرِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، مَا بَانَ وَثَبَتَ أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي وَقْتِ الْعَصْرِ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ بَعْدَ غَيْبُوبَةِ الشَّفَقِ جَائِزٌ، لَا عَلَى مَا قَالَ بَعْضُ الْعِرَاقِيِّينَ إِنَّ الْجَمْعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَنْ يُصَلِّي الظُّهْرَ فِي آخِرِ وَقْتِهَا وَالْعَصْرَ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا، وَالْمَغْرِبَ فِي آخِرِ وَقْتِهَا قَبْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّفَقِ، وَكُلَّ صَلَاةٍ فِي حَضَرٍ وَسَفَرٍ عِنْدَهُمْ جَائِزٌ أَنْ يُصَلِّي عَلَى مَا فَسَّرُوا الْجَمْعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، إِذْ جَائِزٌ عِنْدَهُمْ لِلْمُقِيمِ أَنْ يُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا إِنْ أَحَبَّ فِي آخِرِ وَقْتِهَا وَإِنْ شَاءَ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا.

" حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ میں حجرت عبد اللہ بن عمر ، حفص بن عاصم اور مساحق بن عمرو کے ساتھ تھا ، تو سورج غروب ہو گیا ، حضرت ابن عمر سے عرض کی گءین کہ نماز ادا کر لیں ، تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کو جب سفر میں جلدی ہوتی تھی تو آپ اس نماز کو موخر کر لیتے تھے اور میرا ارادہ بھی اسے تاخیر سے پڑھنے کا ہے ۔ کہتے ہیں لہٰذا ہم آدھی رات یا آدھی کے قریب تک چلتے رہے ، پھر وہ سواری ست اترے اور نماز پڑھی۔ " امام ابو بکر فرماتے ہیں : " اس حدیث اور ابن شہاب کی حضرت انس ؓ کی حدیث سے واضح اور ثابت ہو گیا ہے کہ نماز ظہر اور عصر کو عصر کے وقت جمع کرنا اور نماز مغرب اور عشاء کو عشاء کے وقت میں سورج کی سر خی غائب ہونے کے بعد جمع کر کے پڑھنا جائز ہے۔ نہ کہ اس طریقے سے جمع کرنا جیسا کہ بعض عراقی فقہاء نے کہا ہے کہ نماز ظہر اور عصر کو جمع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ظہر کو اس کے آخری وقت میں ادا کرے اور عصر کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرے ۔ اور نماز مغرب کو اس کے آخری وقت میں شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھےاور ان کے نزدیک سفرو حضر میں دو نمازوں کو جمع کر کے اس طریقے کے مطابق ادا کرنا جائز ہے کیونکہ ان کے نزدیک مقیم شخص کی لیے جائز ہے کہ وہ ساری نمازیں اگر چاہے تو ان کے آخری وقت میں ادا کر لے اور اگر چاہے تو ان کے اول وقت میں ادا کر لے۔"

نَافِعٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 970

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 971

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ثَمَانِيًا وَسَبْعًا جَمِيعًا، قُلْتُ: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ، قَالَ: وَهُوَ مُقِيمٌ مِنْ غَيْرِ سَفَرٍ وَلَا خَوْفٍ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْمَخْزُومِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ: بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ. وَقَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرَجَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِهِ. وَهَكَذَا حَدَّثَنَا بِهِ عَبْدُ الْجَبَّارِ مَرَّةً.

" حضر ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ میں آٹھ رکعات ( ظہر و عصر) اور سات رکعات ( مغرب و عشاء) جمع کر کے پڑھی ہیں ۔ میں نے عرض کی : آپ نے ایسا کیوں کیا ۔ انہوں نے فرمایا : آپ نے چاہا کہ آپکی امت تنگی اور مشقت میں نہ پڑجائے۔ " حالانکہ آپ ( مدینہ منورہ ) میں قیام پذیر تھے، سفر اور خوف کی حالت میں نہیں تھے۔" جناب سفیان کی روایت میں بھی یہ الفاظ ہیں کہ آپ خوف اور سفر کی حالت میں نہیں تھے۔ جناب سعید بن جبیر کہتے ہیں : میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا: " آپ نے اس طرح نمازوں کو ( جمع ) کیوں کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : " آپ نے چاہا کہ آپ کی امت کا کوئی شخص تنگی اور تکلیف محسوس نہ کرے۔" جناب عبد الجبار نے بھی ہمیں اسی طرح ایک روایت بیان کی تھی۔

بِهِ عَبْدُ الْجَبَّارِ مَرَّةً. ← أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرَجَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِهِ. وَهَكَذَا ← سَعِيدٌ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ ← فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ. ← سفيان بمثله ← المخزومي ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← وَهُوَ مُقِيمٌ مِنْ غَيْرِ سَفَرٍ وَلَا خَوْفٍ. ← أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ ← صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ بِالْمَدِينَةِ ثَمَانِيًا وَسَبْعًا جَمِيعًا، قُلْتُ: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 971

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 972

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ. قَالَ مَالِكٌ: أَرَى ذَلِكَ كَانَ فِي مَطَرٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَخْتَلِفِ الْعُلَمَاءُ كُلُّهُمْ أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ فِي غَيْرِ الْمَطَرِ غَيْرُ جَائِزٍ (1)، فَعَلِمْنَا وَاسْتَيْقَنَّا أَنَّ الْعُلَمَاءَ لَا يُجْمِعُونَ أَنَّهُ جَمَعَ فِي الْحَضَرِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ، لَمْ يَحِلَّ لِمُسْلِمٍ عَلِمَ صِحَّةَ هَذَا الْخَبَرِ أَنْ يَحْظُرَ الْجَمْعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ، فَمَنْ يَنْقِلُ (1) فِي رَفْعِ هَذَا الْخَبَرِ بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ وَلَا مَطَرٍ، ثُمَّ يَزْعُمُ أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ عَلَى مَا جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا غَيْرُ جَائِزٍ، فَهَذَا جَهْلٌ وَإِغْفَالٌ، غَيْرُ جَائِزٍ لِعَالِمٍ أَنْ يَقُولَهُ.

" حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز ظہر اور عصر کو جمع کر کے پرھا، اور مغرب اور عشاء کو جمع کر کے ادا کیا ، بغیر کسی خوف اور سفر کے۔" امام مالک رحمۃ اللہ رلیہ فرماتے ہیں : " میرے خیال میں آپ نے اس طرح ( نمازوں کو جمع کرنا ) بارش کی حالت میں کیا تھا ۔" امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : " تمام علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قصر میں بغیر بارش کے دو نمازوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے، لہٰذا ہمیں معلوم ہے اور یقین ہے کہ علمائے کرام نبی اکرم ﷺ سے صحیح سند سے منقول حدیث کے خلاف نیز اس کی معارض بھی کوئی روایت نہ ہو ، اکٹھے نہیں ہو سکتے اور علمائے حجاز کا اس پر اتفاق ہے کہ بارش میں دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے ۔ لہٰذا ہم نے نبی اکرم ﷺ کے حضرن میں دو نمازوں کو جمع کرنے کی تاویل اس معنی میں کی ہے جس میں مسلمانوں کا اتفاق نہیں ہے۔ کیونکہ نا ممکن ہے کہ مسلمانوں کا اتفاق نبی کریم ﷺ کی حدیث کے خلاف ہو جائے حالنکہ اس حدیث کے خلاف نبی اکرم ﷺ کی کوئی حدیث بھی مروی نہ ہو ۔ اور وہ روایت جو اہل عراق نے بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں بغیر ٖخوف اور بارش کے دو نمازوں کو جمع کیا ہے تو وہ غلط اور سہو ہے اور تمام مسلمانوں کے قول کے مخالف ہے اور اگر نبی اکرم ﷺ سے یہ حدیث ثابت ہو جائے کہ آپ نے حضر میں بغیر کسی خوف اور بارش کے دو نمازوں کو جمع کیا ہے تو جو مسلمان اس حدیث کی صحت کے بارے میں جان لے، اس لیے حلا و جائز نہیں کہ وہ حضر میں بغیر کسی خوف اور بارش کے دو نمازوں کو جمع کرنا ممنوع قرار دے۔ لہٰذا جو شخص یہ مرفوع حدیث بیان کرے کہ نبی اکرم ﷺ نے بغیر کسی خوف ، سفر اور بارش کے دو نمازوں کو جمع کیا ہے پھر وہ یہ دعوی کرے کہ نبی کریم ﷺ کے دو نمازوں کو جمع کرنے کے طریقی کے مطابق دو نمازیں جمع کرنا جائز نہیں ہے تو یہ جہالت اور غفلت ہے، کسی عالم کو زیب نہیں دیتا کہ ایسی بات کہے۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي الزبير المكي ← ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 972

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 973

وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ بِدِمِشْقَ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ قَالَ (2): أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، [108 - أ] ثَنَا أَبُو مُوسَى بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا [سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ] (3)، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى جَمْعٍ أَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ آخِرُ النَّاسِ حَتَّى أَقَامَ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ.

" حضرت اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ عرفات سے لوٹا، جب آپ مزدلفہ پہنچے تو آپ نے اذان اور اقامت کہلوائی، پھر مغرب کی نماز ادا کی، پھر آخری آدامی کے ( اپنی سواری کو ) کھولنے سے پہلے ہی اقامت ہو گئی تو آپ نے عشاء کی نماز پڑھائی۔"

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← كُرَيْبٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← أَبُو مُوسَى بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، أ] ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ بِدِمِشْقَ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 973

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 974

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ "حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى كَانَ هَوى مِنَ اللَّيْلِ" قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ (1). وَفِي الْخَبَرِ: أَنَّهُ أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَقَامَ الْعِشَاءَ.

" امام ابو بکر فرماتے ہیں : " اس بارے میں حضرت عبد الرحمٰن بن ابی خدری کی اپنے والد گرامی سے یہ روایت ہے : " ہمیں خندق والے دن نماز سے روک دیا گیا حتی کہ رات ہو گئی۔ " میں نے یہ حدیث ایک اور مقام پر بیان کر دی ہے ( دیکھیے حدیث نمبر ۹۹۶)۔ اور اس حدیث میں یہ الفاظ ہیں : " آپ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز ظہر کی اقامت کہی ( وہ ادا کی گئی ) پھر انہوں نے عصر کی اقامت کہی( تو وہ پڑھی گئی ) پھر انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، پھر انہوں نے عشا ءکی اقامت کہی ( تو وہ ادا کی گئی)۔ "

أَبِيهِ "حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ ← أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 974

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 975

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، ثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ (2)، عَنْ حَمْزَةَ الضَّبِّيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ. قُلْتُ: وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ.

" حجرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب کسی منزل پر پڑاو ڈالتے تو وہاں سے ظہر کی نماز پڑھ کر روانہ ہوتے۔ ( حمزہ کہتے ہیں ) میں نے عرض کی: اگرچہ نصف النہار ( دوپہر ) کا وقت ہوتا ؟ انہوں نے فرمایا : ( یعنی انس ؓ نے ) ( ہاں ) اگرچہ دوپہر کا وقت بھی ہوتا ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حَمْزَةَ الضَّبِّيِّ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 975

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1212

وقد روى شعبة بن الحجاج عن عبد ربه بن سعيد عن أنس بن أبي أنس عن عبد الله بن نافع بن العمياء عن عبد الله بن الحارث بن نوفل عن الطلب بن أبي وداعة : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : الصلاة مثنى مثنى و تشهد في كل ركعتين و تبائس و تمسكن و تقنع يديك وتقول : اللهم اللهم فمن لم يفعل فهو خداج حدثناه علي بن خشرم أخبرنا عيسى عن شعبة عن عبد ربه بن سعيد

حضرت مطب بن ابی وداعہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : نماز دو دو رکعات ہے۔ہر دو رکعت کے بعد تشہد (اللہ تعالی کے سامنے) اپنی فقیری ،مسکنت کا اظہار کرنا ہے اور تو عاجزی کے ساتھ اپنے ہاتھ اٹھا کر اور کہہ: اے میرے اللہ : اے میرے اللہ (یعنی دعا مانگ)! جس نے یہ کام نہ کیے تو ہ ناقص ہے ۔

الطلب بن أبي وداعة ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← عبد الله بن نافع بن العمياء ← أنس بن أبي أنس ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← وقد روى شعبة بن الحجاج

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1212

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1213

وخالف الليث بن سعد شعبة في إسناد هذا الخبرفرواه الليث عن عبد ربه عن عمران بن أبي أنيس عن عبد اللهبن نافع بن العمياء عن ربيعة بن الحارث عن الفضل بن عباس : عن النبي صلى الله عليه وسلم حدثناه يونس بن عبد الأعلى ثنا يحيى - يعني ابن عبد الله بن بكير - ثنا الليث فإن ثبت هذا الخبر فهذه اللفظة : الصلاة مثنى مثنى مثل خبر ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم وفي هذا لخبر زيادة شرح ذكر رفع اليدين ليقول : اللهم اللهم وفي خبر الليث قال : ترفعهما إلى ربك تستقبل بهما وجهك وتقول : يا رب يا رب ورفع اليدين في التشهد قبل التسليم ليس من ستة الصلاة وهذا دال على أنه إنما أمره برفع اليدين والدعاء والمسألة بعد التسليم من المثنى فأما الخبر الذي احتج به بعض الناس من الأربع قبل الظهر أن النبي صلى الله عليه وسلم صلاهن بتسليمة فإنه روى بإسناد لا يحتج بمثله من له معرفة برواية الأخبار

جناب لیث بن سعد نے اس حدیث کی سند میں امام شعبہ کی ،مخالفت کی ہے ۔ چنانچہ لیث نے روایت عبدربہ کی سند سے حضرت فضل بن عبا سؓ سے مرفوعا بیان کی ہے ، جبکہ امام بن شعبہ نے عبدربہ کی سند سے حدیث مطلب بن ابی وداعہ سے بیان کی ہے لٰہذا اگر یہ حدیث ثابت ہو جائے تو اس یہ الفاظ نماز دو دو رکعات ہے۔ حضرت ابن عمرؓ کی مرفوع حدیث کے الفاظ کی مثل ہیں ۔ کہ رات اور دن کی نماز دو دو رکعات ہے اور اس حد یث میں مزید شرح اور وضاحت آگئ ہے اور اس میں دعا کرتے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے ۔ اور لیث کی روایت میں ہے ۔ تو ان دونوں ہاتھوں کو اپنے رب کی طرف بلند کر ان کا رخ اپنے چہرے کی طرف کر کے یہ کہہ: اے میرے رب، اے میرے رب،، نیز تشہد میں سلام پھیرنے سے پہلے ہاتھ اٹھانا یہ نماز کی سنت نہیں ہے۔اور اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے نمازی کو ہاتھ اٹھانے ،دعا کرنے اور رب تعالی سے مانگنے کا حکم دو رکعت سے سلام پھیرنے کے بعد کے لیے دیا ہے ۔رہی وہ حدیث کہ جس سے بعض لوگوں نے دلیل لی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر سے پہلے چار رکعات ایک ہی سلام کے ساتھ ادا فرمائی ہیں تو وہ ایسی (ضعیف و کمزور) سند سے مروی ہے کہ روایت حدیث کی معرفت رکھنے والا کوئی عالم اس جیسی روایت سے دلیل نہیں لیتا ۔

يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ: ← ربيعة بن الحارث ← عبد الله بن نافع بن العمياء ← عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أُنَيْسٍ ← عَبْدِ رَبِّهِ ← وخالف الليث بن سعد شعبة في إسناد هذا الخبرفرواه الليث

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1213

chevron_left Previous
1…626364…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals