صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1211
ثنا بندار ثنا محمد ثنا شعبة عن أبي إسحاق قال سمعت عاصم بن ضمرة قال : سألت عليا عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر هذا الحديث قال أبو بكر : ففي هذا لخبر خبر علي بن أبي طالب قد صلى من النهار ركعتين مرتين فأما ذكر الأربع قبل الظهر والأربع قبل العصر فهذه من الألفاظ المجملة التي دلت عليه الأخبار المفسرة فدل خبر ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم صلاة الليل والنهار مثنى مثنى وأن كل ما صلى النبي صلى الله عليه وسلم في النهار من التطوع فإنما صلاهن مثنى مثنى على ما خبر أنها صلاة النهار والليل جميعا ولو ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه صلى من النهار أربعا بتسليمة بالنهار وبين أن يسلم في كل ركعتين وقوله في خبر علي : ويفصل بين كل ركعتين بالتسليم على الملائكة المقربين ومن تبعهم من المؤمنين فهذه اللفظة تحتمل معنيين أحدهما أنه كان يفصل بن كل ركعتين بتشهد إذ في التشهد التسليم على الملائكة ومن تبعهم من المسلمين وهذا معنى يبعد والثاني أنه كان يفصل بين كل ركعتين بالتسليم الذي هو فصل بين هاتين الركعتين وبين ما بعدهما من الصلاة وهذا هو المفهوم من المخاطبة لأن العلماء لا يطلقون اسم الفصل بالتشهد من غير سلام يفصل بين الركعتين وبين ما بعدهما ومحال من جهة الفقه أن يقال : يصلي الظهر أربعا يفصل بينهما بسلام أو العصر أربعا يفصل بينهما بسلام أو المغرب ثلاثا يفصل بينهما بسلام أو العشاء أربعا يفصل بينهما بسلام وإنما يجب أن يصلي المرء الظهر والعصر والعشاء كل واحد منهن أربعة موصولة لا مفصولة وكذلك المغرب يجب أن يصلى ثلاثا موصولة لا مفصولة ويجب أن يفرق بين الوصل وبين الفصل والعلماء من جهة الفقه لا يعلمون الفصل بالتشهد من غير تسليم يكون خارجا من الصلاة ثم يبدأ فيما بعدها ولو كان التشهد يكون فصلا بين الركعتين وبينما بعد لجاز لمصل إذا تشهد في كل صلاة يجوز أن يتطوع بعدها أن يقوم فبل أن يسلم فيبدأ في التطوع على العمد وكذلك كان يجوز له أن يتطوع من الليل بعشر ركعات وأكثر بتسليمة واحدة يتشهد في كل ركعتين ولو كان التشهد فصلا بين ما مضى وبين ما بعده من الصلاة وهذا خلاف مذهب مخالفينا من العراقيين
جناب عاصم بن ضمرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ سے رسول اللہﷺ کی (نفل) نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے یہ حدیث بیان کی ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : اس روایت میں حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے خبر دی کہ آپ نے دن کے وقت دو مرتبہ دودو رکعات ادا فرمائی ہیں۔جبکہ ظہر سے پہلے چار رکعات اور عصر سے پہلے چار رکعات کا ذکر مجمل الفاظ میں ہے جن کی تفسیر اور وضاحت مفسر روایات سے ہوتی ہے ۔چنانچہ حضرت ابن عمرؓ کی حدیث جو وہ نبیہ اکرم سے بیان کرتے ہیں کہ دن اور رات کی نماز دودو رکعات کر کے ادا کی جائے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی اکرم ﷺ دن کے وقت جو نفل نماز بھی ادا کی وہ آپ نے دو رکعات ہی ادا کیں ہیں ۔جیسا کہ انہوں نے بتایا کہ رات اور دن دونوں کی نماز دو دو رکعات ہیں ۔اگر نبی کریم ﷺ سے یہ ثابت ہو جائے کہ آپ نے دن کے وقت چار رکعات نفل نماز ایک سلام کے ساتھ ادا کی ہے تو پھر ہمارے نزدیک جائز اور مباح اختلاف کی قسم سے ہو گا۔ لہذا آدمی کو اختیار ہو گا کہ وہ دن کے وقت چار رکعات نفل ایک ہی کے ساتھ ادا کر لے یا ہر دو رکعات کے بعد سلام پھیر لیے۔حضرت علی کی حدیث کے یہ الفاظ ، آپ ہر دو رکعات میں اللہ کے مقرب فرشتوں اور ان کے پیرو کار مومنوں پر سلام بھیج کر فاصلہ کرتے۔تو اس کے دو معانی ہیں : پہلا معانی یہ ہے کہ آپ دو رکعت کے بعد تشہد بیٹھ کر فاسلہ کرتے تھے، کیو نکہ تشہد میں بھی فرشتوں اور ان کے تا بعدار مسلمانوں پر سلام بھیجا جاتا ہے ، تو یہ معنی مراد لینا بعید ہے اور دوسرا معنی یہ ہے کہ آپ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیر کر فاصلہ کرتے تھے اور یہ سلام پہلی دو رکعات کے اور ان کے بعد والی نماز میں فاسلہ اور جدائی ہوتی ۔ اور یہ معنی مفہوم مخا طب ہے(یعنی روایت سے سمجھا جانے والا مہفوم و معنی)کیونکہ علمائے کرام صرف تشہد کے ساتھ ، سلام پھیرے بغیر فاصلہ کرنے کو فاصلہ اور جدائی کا نام نہیں دیتے کہ جس کے ساتھ پہلی دو رکعات اور ان کی بعد والی نماز کے درمیان فاصلہ کیا جائے اور فقہی نقطہ نظر سے یہ بھی کہنا محال اور ناممکن ہے کہ آپ ظہر کی چار رکعات ادا کرتے اور ان کے درمیان سلام پھیر کر فا صلہ کرتے یا آپ مغرب کی تین رکعات میں سلام پھیر کر فاصلہ کرتے یا آپ عشا کی چار رکعات میں سلام کے ساتھ فاسلہ اور جدائی کرتے۔ بلا شبہ نمازی کے لیے نماز ظہر ، عصر اور عشا کی چار رکعات ملا کر پڑھنا واجب ہے ۔ اسی طرح مغرب کی نماز بھی ان میں جدائی اور فاصلہ کیے بغیر (تمام رکعات ) ملا کر پڑھنا واجب ہے اور یہ بھی واجب ہے کہ فصل اوروصل (ملا کر پڑھنا ) میں فرق کیا جائے ۔ علمائے کرام فقہی اعتبار سے بغیر سلام پھیرے صرف تشہد کے ساتھ فصل (فاصلہ کرنے ) کو نہیں جانتے کہ اس فاصلے کے ساتھ نمازی نماز سے نکل جائے پھر اس کے بعد والی نماز شروع کر دے ، اگر صرف تشہد پہلی دو رکعت اور بعد والی نماز کے درمیان فاصلہ ہوتا پھر نمازی کے لیے جائز ہونا چاہیے کہ جب وہ کسی بھی نماز میں تشہد بیٹھ لے تو اس کے بعد نفل نماز پڑھ لے ۔ یہ کہ وہ سلام پھیرنے سے پہلے ہی کھڑا ہو جائے اور عملا نفل نماز شروع کر دے ۔ اسی طرح اس کے لیے یہ بھی جائز ہو گا وہ رات کے وقت دس رکعات یا اس سے زائد نفل نماز ایک سلام سے ادا کر لے ۔ اور ہر دو ر رکعت کے بعد تشہد بیٹھ جائے ، اگر تشہد کو گذشتہ اور آئندہ نماز کے درمیان فاصلہ تسلیم کیا جائے ۔ جبکہ یہ بات ہمارے مخالفین عراقی علما کے مذہب کے بھی خلاف ہے۔
هَذَا الْحَدِيثَ ← صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ← سألت عليا ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← بُنْدَارٌ
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1211
